بھارتی مخالفت کے باوجود کلائمٹ چینج ایجنسی نے پاکستان کیلیے 36 ملین ڈالر کی منظوری دیدی

ویب ڈیسک  منگل 18 اکتوبر 2016
بلتورو گلیشیئر کی ایک تصویر، فوٹو: فائل

بلتورو گلیشیئر کی ایک تصویر، فوٹو: فائل

جنوبی کوریا: آب و ہوا میں تبدیلی (کلائمٹ چینج) کی بین الاقوامی فنڈنگ ایجنسی نے پاکستان کے ایک منصوبے کے لیے 3 ارب 60 کروڑ(36 ملین ڈالر) روپے کی خطیر رقم کی منظوری دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جنوبی کوریا میں واقع عالمی ادارے کی جانب سے گرین کلائمٹ فنڈ کے تحت ہونے والے اس اہم اجلاس میں بھارت کی بھرپور مخالفت کے باوجود بھی پاکستانی پروجیکٹ فنڈنگ کے لیے منظور کرلیا گیا۔ پاکستان میں وزارت برائے کلائمٹ چینج نے اقوامِ متحدہ کےترقیاتی پروگرام (یواین ڈی پی) کے تعاون سے یہ منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ اجلاس میں بورڈ کے بھارتی رکن نے پاکستان کی شدید مخالفت کرتے ہوئے یہ منصوبہ مسترد کردیا لیکن بورڈ کے دیگر 23 اراکین نے اس کی منظوری دیدی۔

اس رقم سے ایک منصوبہ شروع کیا جائے گا جس کے تحت شمالی علاقہ جات میں گلیشیئر پھٹ پڑنے کے واقعات اور ان کے بعد کے اثرات سے لوگوں اور ماحول کو بچانے کی کوشش کی جائے گی۔ اس منصوبے کے تحت براہِ راست 7 لاکھ اور بالراست 3 کروڑ لوگوں کو فائدہ پہنچے گا۔ واضح رے کہ گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا میں تبدیلی کی وجہ سے شمالی علاقہ جات کے گلیشیئر ایک جانب تیزی سے پگھل رہے ہیں تو دوسری جانب وہ اندر سے گھل رہے ہیں اور اچانک پھٹ پڑتے ہیں جس سے سیلابی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسے کئی واقعات میں اب تک قیمتی جانیں ضائع اور مالیاتی نقصان ہوچکا ہے۔ اس عمل کو گلیشیئل آؤٹ برسٹ فلڈ کہا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے 7 اور صوبہ خیبرپختونخواہ کے 5 اضلاع اس خطرے سے دوچار ہیں۔

اس رقم کو مناسب انداز میں استعمال کرکے موسمیاتی شدت اور گلیشیئر کے خطرات کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ موسمیات کی جانب سے سیلابوں سے قبل ازوقت خبردار کرنے والا نظام بنانے بھی قائم کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ گرین کلائمٹ فنڈ میں اس بار 10 منصوبوں کی منظوری دی گئی ہے جن کی مجموعی لاگت 800 ملین ڈالر ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔