بھارتی فلمی صنعت میں پاکستان مخالف گروپ کو مزاحمت کا سامنا

قیصر افتخار  منگل 18 اکتوبر 2016
دونوں ملکوں کے حلقے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کو معمول پرلانے کے لیے کوشاں ۔  فوٹو : فائل

دونوں ملکوں کے حلقے پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش کو معمول پرلانے کے لیے کوشاں ۔ فوٹو : فائل

پاکستان اوربھارت کے درمیان تعلقات اکثرغیرمستحکم ہی رہتے ہیں۔ کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کے علاوہ بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کی جماعت شیوسینا اپنا ’’ سودا ‘‘ بیچنے کیلئے بھی پاکستانیوں اورخصوصاً مسلمانوں کونشانہ بناتی رہتی ہے یا پھرمظاہرے کرکے بلاوجہ تنقید کرتی دکھائی دیتی ہے۔

دونوں ملکوں کے تعلقات میں کچھ عرصہ امن رہتا ہے لیکن پھرسوچی سمجھی سازش کے تحت پاکستان کی ساکھ کونقصان پہنچانے کیلئے حالات میںبگاڑ پیدا کیا جاتا ہے جہاں تک بات جنگ کی ہے توبھارتی حکومت اورفوج یہ بات اچھی طرح سمجھتی ہے کہ پاکستانی فوج کا شماردنیا کی ان افواج میں ہوتا ہے جو کسی بھی بڑے سے بڑے دشمن کو مات دے سکتی ہے۔ اسی لئے توبھارتی حکمران اورفوجی قیادت صرف دھمکیاں دے کرکام چلاتے ہیں۔

موجودہ حالات میں جہاں بھارت کی طرف سے انٹرنیشنل میڈیا میں پاکستان کے امیج کوبگاڑنے کی کوشش زوروں پرہے، وہیں بھارت میں پاکستانی فنکاروں کے کام کرنے پرپابندی اورخاص طورپربولی وڈ میں ریلیزکے قریب وہ فلمیں جن میں پاکستانی فنکاروں نے کام کیا ہے کی نمائش کوروکنے کی سرگرمیوں نے بھارت کا اصل چہرہ بے نقاب کردیا ہے۔ اب نا صرف بھارتی میڈیا بلکہ انٹرنیشنل میڈیا بھی اس پرشدید تنقید کرتا دکھائی دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ بولی وڈ کے بہت سے فلمی ستاروں نے بھی بھارتی حکومت اورانتہا پسند ہندؤوں کی اس اقدام کی کھل کرمخالفت کی ہے اوراس کی وجہ سے انہیں بہت سی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑرہاہے لیکن اس کے باوجود اس تحریک میں بولی وڈ کے مزید فنکارشامل ہورہے ہیں۔ دوسری جانب اگردیکھا جائے تو پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش روکنے کے حوالے سے تاحال حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ یہ کسی حد تک اس لئے بھی ٹھیک ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی مسئلے کا حل نہیں ہے اوراگرایسا کرنے سے تمام مسائل ٹھیک ہوسکتے ہیں توپھر بھارتی فلموں پرپابندی عائد کرنے میں دیرنہیں ہونی چاہئے۔

دیکھا جائے توپاکستانی حکومت اورسیاسی جماعتوں نے پاک، بھارت تعلقات میں اتارچڑھاؤ کے باوجود بولی وڈ فنکاروں اورتکنیکاروں کی پاکستان آمد پرمظاہرے تودورکی بات ، کبھی تنقید تک نہیں کی۔ بلکہ جوبھی یہاں آتا ہے، بہت سی سنہری یادیں ساتھ لے کر جاتا ہے۔ پوری دنیا اس بات سے واقف ہے کہ پاکستان اوراس کے باسی اپنی مہمان نوازی میں سب سے آگے رہتے ہیں۔

ان حالات میں اگربات کی جائے پاکستانی سینما انڈسٹری کی توسب سے زیادہ متاثر یہی شعبہ ہورہا ہے۔ جذبہ حب الوطنی کی وجہ سے بہت سے سینما مالکان نے بولی وڈ فلموںکی نمائش نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عرصہ دراز سے شدید بحران سے تباہ وبرباد ہوجانے والے سینما گھروںکودوبارہ آباد کرنے اور پاکستانی فلم کی سپورٹ میں سب سے اہم کردار امپورٹ قوانین کے تحت لائی جانے والی بولی وڈسٹارز کی فلموں کا ہی ہے۔ بلاشبہ اس وقت پاکستان میں اچھی اورمعیاری فلمیں بننے لگی ہیں لیکن وہ تعداد میں اس قدر کم ہیں کہ ان کے سہارے سینماانڈسٹری کوچلانا ممکن نہیں ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سینما گھروں کا ماہانہ خرچہ لاکھوں روپے ہے اوراس کوپورا کرنے کیلئے فی الوقت پاکستانی فلمیں کافی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی فلموں کی نمائش کوجاری رکھنے کیلئے خفیہ طورپرسینما مالکان اورڈسٹری بیوٹرزنے اعلیٰ سطح پرکوششیں شروع کردی ہیں۔ اس کی بڑی وجہ نئی فلموں کی عدم دستیابی ہے جس سے سینما انڈسٹری بحران کا شکارہونے لگی ہے ۔

کچھ سینما گھرپرانی فلمیں لگانے پرمجبورہوگئے ہیں تاہم ان میں سے اکثرفلمیں پہلے ہی شائقین کومتاثرکرنے میں ناکام رہی ہیں۔ دوسری طرف انڈین فلموں کے امپورٹرمستقل پابندی کے خوف سے پریشان ہیں اور اس کے لئے اسلام آباد میں بیک ڈورڈپلومیسی جاری ہے۔ دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کی وجہ سے نئی فلمیں بھی امپورٹ نہیں کی جارہیں جس سے سینما گھربری طرح متاثر ہورہے ہیں۔ عاشورہ محرم سے قبل کئی سینما گھراسی وجہ سے بند کر دیئے گئے تھے کیونکہ نمائش کے لئے فلمیں ہی نہیں تھیں۔ ڈیجیٹل سینما گھروں میں کچھ فلمیں نمائش کے لئے پیش کی گئی تھیں جبکہ پرانے سینما گھربند ہی رہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق سینما گھروں میں فلموں کی کمی کے باعث اخراجات میں لاکھوں روپے کا اضافہ ہورہا ہے اوراس صورت حال سے نمٹنے کے لئے بہت سے ملازمین کوفارغ بھی کیا جا رہا ہے۔

اب ذرا بات کرتے ہیں پاکستانی فلموں کی توگزشتہ ہفتے رائٹر وڈائریکٹرہاشم ندیم خان کی’’ عبداللہ ‘‘ کچھ سینما گھروں میں ریلیز کی گئی جس میں عمران عباس اور سعدیہ خان نے مرکزی کردارکئے ہیں۔ اس فلم میں کئی سال پہلے کوئٹہ کے نواحی علاقے خروٹ آباد میں پیش آنے والے دہشت گردی کے ایک واقعہ کوموضوع بنایا گیا ہے۔ قبل ازیں اس فلم کو دنیا کے مختلف ممالک میں ہونے والے فیسٹیولزمیں پیش کیا گیا ہے۔

کئی مقامات پرفلم کو بہت اچھا رسپانس ملا ہے۔ اس فلم کے ساتھ ساتھ اس ہفتے گزشتہ سال کی سپرہٹ فلم ’’ جوانی پھر نہیں آنی ‘‘ بھی کئی سینما گھروں میں ریلیزکی گئی ہے ، کئی ماہ پابندی کا شکار رہنے والی فلم ’’مالک‘‘ بھی کچھ سینما گھروں میں نمائش پذیرہے تاہم اکثر سینما گھروں میں اسے آخری شودیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت اس فلم کو نہیں دیکھ سکی۔ ہدایتکار انجم شہزاد کی فلم ’’ماہ میر‘‘ کوجلد ہی ریلیز کیاجائے گا، حالانکہ جب اس فلم کوپہلے ریلیز کیا گیا تھا اس وقت بھی یہ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے یہ فلم پہلے ہی ہفتے سینماگھروں سے اتار دی گئی تھی۔

زیبا بختیار کی فلم’’آپریشن 021‘‘بھی دوبارہ ریلیز کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔ زیادہ تر سینما گھروں میں عید پر ریلیز ہونے والی تینوں فلمیں ’’ زندگی کتنی حسین ہے، جانان اورایکٹران لاء ‘‘ زیرنمائش ہیں۔ اگرچہ اکثر سینما گھروں میں شائقین کی تعداد کافی کم ہے لیکن جن سینما گھروں میں ہالی وڈ کی فلمیں زیر نمائش ہیں وہاں کافی رش دیکھنے میں آرہا ہے ۔

ان حالات میں سینما مالکان اورامپورٹرز کی پریشانی بڑھتی چلی جارہی ہے۔ کیونکہ جدید سینما گھروں کے کاروبارکا انحصار بولی وڈ فلموں پر زیادہ تھا اورانہی فلموں کی وجہ سے پاکستان میں طویل عرصے بعد سینما انڈسٹری کو فروغ ملا تھا، اگردوسری جانب دیکھیں توبھارت میں فنکاروں اورتکنیکاروں کے علاوہ ڈسٹری بیوٹرز، پروڈیوسرز کی بڑی تعداد پاکستانی فنکاروںکی فلمیں ریلیز کرنے کے علاوہ اپنی فلموں کی پاکستان میںنمائش کوجاری رکھنے کے حق میں ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستان سے ملنے والے لاکھوں ڈالر ہیں، جوبھارتی کرنسی میں کروڑوں روپے بنتے ہیں۔ ویسے بھی پاکستان بھارتی فلموں کے بزنس کے حوالے سے دنیا کی تیسری بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔

ایسے میں امید ہے کہ بولی وڈ میں اینٹی پاکستان اوراینٹی فنکار ’’ ٹولے ‘‘کومنہ کی کھانی پڑے گی۔ پاکستانی فنکاروں کی فلمیں مقررہ شیڈول کے مطابق بھارت ہی نہیں دنیا بھرمیں نمائش کیلئے پیش کی جائیں گی اورآئندہ بھی پاکستانی فنکاراورگلوکاروں کی خدمات بولی وڈ فلموں کیلئے حاصل کی جاتی رہیں گی، اس میں ہمارا نہیں بلکہ بھارت کا بہت بڑا فائدہ ہے، جس کوبھارتی حکومت اوربولی وڈ والے کبھی نذرانداز نہیں کرسکتے۔n



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔