ہوش مندی، بس ہوش مندی!

علی احمد ڈھلوں  بدھ 19 اکتوبر 2016
آج سیکڑوں مسائل سے نظریں چراتے حکمران اندرونی خلفشار کا شکار نظر آتے ہیں۔ فوٹو: فائل

آج سیکڑوں مسائل سے نظریں چراتے حکمران اندرونی خلفشار کا شکار نظر آتے ہیں۔ فوٹو: فائل

گزشتہ چند ماہ سے اقتدار اور سیاست کا مطلع ’’ابر آلود‘‘ ہے۔ پانامہ و دیگر مسائل کو لے کر نہ تو عمران ہی پیچھے ہٹ رہے ہیں اور نہ ہی حکمران جامہ’’تلاشی‘‘ دینے پر تیار ہیں ۔ عجیب ماحول بنا ہوا ہے۔ غیر یقینی کی صورتحال میںعوام ذہنی مریض بن چکے ہیں۔ بے یقینی کی گہری دُھند نے حکمرانوں کے چہروں کو فکرمند کردیا ہے ۔ اورہر سو تذبذب کے بگولے دھمالیںڈال رہے ہیں۔ مقفل کواڑوں اور بند دریچوں پر ’’نادیدہ ہاتھ‘‘ دستک دے رہے اورکل تک خود کو محفوظ سمجھنے والے کونے کھدروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔

کپتان اور اس کی ٹیم مرنے مارنے پر تلے بیٹھے ہیں جب کہ حکمران بھی اپنی انا کی جنگ میں پاکستان کو ’’فتح ‘‘کر نے میں لگے ہوئے ہیں۔ 2نومبر کو اسلام آباد بند ہوگا یا نہیں، حکومت عمران خان کو گرفتار کرے گی یا نہیں، عمران خان کے دھرنوں کو بکھیرنے کے لیے حکومت طاقت کا استعمال کرے گی یا نہیں، اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کرے گی یا نہیں لیکن یہ ضرور طے ہے کہ سیاستدانوںو حکمرانوں کے اس کھیل میں عوام کو محاذ آرائی کی آخر کوئی نہ کوئی قیمت تو اداکرنا تھی! بے یقینی ، بد حواسی اور بدامنی کی کونپل شاخِ سالمیت پر پھوٹ چکی ہے۔

وہ جا رہا ہے کوئی شب غم گزار کے

موجودہ حکمرانوں کے لیے یہ دھرنے وغیرہ کوئی نیا تجربہ نہیں ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے ماضی کر جھرونکوں میں جھانکیںتو پتہ چلتا ہے کہ نوازشریف کو جب پہلے دور حکومت میں ہٹایا گیا تو مبینہ طور پر کہا جاتا ہے کہ اس کے لیے کاکڑ فارمولا استعمال ہوا تھاجس میں بے نظیر بھٹو اسٹیبلشمنٹ کے اشارے پر لانگ مارچ کر رہی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کی نواز شریف سے مخالفت اس وقت شروع ہوئی جب انھوں نے آصف نواز جنجوعہ کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا۔ جنوری 1993 کے پہلے ہفتے میں آصف نواز جنجوعہ کے انتقال سے میاں نواز شریف کچھ دباؤ میں آئے ۔ اُن پر کچھ الزامات لگے ۔ آصف نواز جنجوعہ کی وفات پر تحقیقاتی کمیشن بنا ۔ اُن کی اہلیہ نے کچھ الزامات حکومت کے عہدیداروں پر لگائے۔

یہ سارا کچھ بھی صدر اور وزیراعظم کے درمیان ابھرنے والی محاذ آرائی کا ہی نتیجہ تھا۔نوازشریف کی حکومت کے سپریم کورٹ سے بحال ہونے کے باوجود صدر اور وزیراعظم کے تعلقات درست نہ ہو سکے۔اس منظرنامے پر بے نظیر بھٹو بھی ایک بڑے کردار کی حیثیت سے موجود تھیں جنہوںنے 16 جولائی 1993 کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا تھا۔ لانگ مارچ کی تیاریاں پنجاب کی سطح پر ہی نظر آتی تھیں۔ بے نظیر بھٹو نے لانگ مارچ کا ایک بھی قدم نہیں اٹھایا تھا کہ اسلام آباد سے بلاوا آ گیا۔ خصوصی ہیلی کاپٹر انھیں لے کر اسلام آباد پہنچا۔ وحید کاکڑ اور اُن کے ساتھیوں نے اُن سے ملاقات کی اور پوچھا، بی بی آپ کیا چاہتی ہیں۔ بے نظیر کا جواب تھا نئے انتخابات۔  اس طرح یہ لانگ مارچ ختم ہو گیا۔

کاکڑ فارمولا طاقتور لاگو ہوگیا۔ آج بھی سیاست کا منظرنامہ سازشوں سے بھرپور ہے۔ اب بھی اگر 2014 کے دھرنے کی طرح اسلام آبادکے حالات خراب کیے گئے تو غیر جمہوری قوتیں فائدہ اُٹھا سکتی ہیں اور یہ بھی غور کرنے کی بات ہے کہ جب عالمی سطح پر دھڑے بندیاں عروج پر ہیں اور پوری دنیا ’’گریٹ گیمز‘‘ میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے تو ایسے میں پاکستان کی لیڈر شپ عوام کی چند لاشوں پر سیاست کرنے جارہی ہے ۔  میں نے جیسے پہلے کہا کہ میں عمران خان کی لیڈر شپ کا فین ہوں کیوں کہ وہ عوام کو گھروں سے نکالنے کا ہنر جانتے ہیں اور ماہر جلسہ جلوس سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ پاکستان کے ناقص سسٹم کے بنے ہوئے سیاستدانوں کی چالوں سے بے خبر رہتے ہیں اور عین وقت پر مار کھا جاتے ہیں۔

گویا انسانی حقوق کی آزادی اور بحالی نام ہے،، انھیں قومی خزانہ کو دونوںہاتھوں سے لوٹنے کی ’’آزادی‘‘ دینے کا ۔ اگر یہ ’’آزادی‘‘ سلب کر لی جائے تو انھیں وطنِ عزیز کی سلامتی ’’معرض ِخطر‘‘ میں دکھائی دینے لگتی ہے۔ شاید انھی کے بارے میں کسی خوش گو شاعر نے کہا تھا:

ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے

مجھے آج عمرا ن خان سے بھی یہی شکوہ ہے کہ وہ  کارکنوں کو سڑکوں پر آنے کی کال صرف اس وقت دیتے ہیں،جب  انھیں سیاسی قد میں اضافہ چاہیے ہوتا  ہے۔

اکثر سیاستدانوں کی سیاست کا خمیر مفادات، مراعات اور سہولیات کی مٹی سے اٹھایا گیا ہے۔بلند بام، بلند نام اور بلند مقام سیاستدانوں کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ اپنے جملہ اہل و عیال کے ہمراہ کسی ایسی کچی آبادی، بستی،گاؤں، گراں، یا گوٹھ میں جہاں ابھی سڑک، بجلی،گیس ،ٹیلیفون، نکاسی آب اور فراہمیٔ آب کی سہو لیات موجود نہ ہوں، وہاں کے مکینوں کے ساتھ ایک ماہ بسر کرکے دکھادیں ،وہ خوراک کھائیں جو وہاں کے عوام کھاتے ہیں، جوہڑوں کا وہی پانی نوشِ جاں فرمائیں جو ان کے مکین عشروں سے پینے پرمجبور ہیں، وہی پوشاک زیب تن کریں،جو وہاں کے حضرات و خواتین سردوگرم موسموں کی چیرہ دستیوں میں پہنتے ہیں اور انھی کٹیاؤں میں رہیں، جہاں ان آبادیوں کے باسی برسہا برس سے رہائش پذیر ہیں، ایک ماہ کوئی زیادہ مدت تو نہیں، اگریہ مدت وہ ان بستیوں، آبادیوں، گوٹھوں اور گراؤں میں خالص عوامی انداز میں ہنسی خوشی گزار دیں،بیمار نہ پڑیں ، ہونٹوںپر حرفِ شکایت نہ لائیںاور ان کے چہروں پر مسکراہٹ کھلی اور سجی رہے تو یقین کیجیے! عوام ان کو تاحیات صدارت اور وزارتِ عظمیٰ کی مسند کا حقدار ٹہراکر ہر عام انتخابات میں کامیاب کروائیں گے ۔

آج سیکڑوں مسائل سے نظریں چراتے حکمران اندرونی خلفشار کا شکار نظر آتے ہیں تو ایسے میں عوام کہاں کھڑے ہیں،کسی کو پروا نہیں ہے ۔ کپتان کی جانب سے ایسے وقت میں اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کیا جا چکا ہے جب جنوبی ایشیا میں نئی دھڑے بندیاں سر اٹھا رہی ہیں اور اس مشکل گھڑی میں چین سیاستدانوں کی جنگ بھارت سے لڑ کر دوستی کا حق ادا کر رہا ہے۔

ترقی پذیر ممالک کی تنظیم برکس کا سالانہ سربراہی اجلاس بھارتی ریاست گووا میں ختم ہو گیا اور پانچ ممالک کی کانفرنس نے مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کر دیا۔جس میں دہشت گردی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم مودی چاہتے تھے کہ پاکستان کا نام بھی دہشت گرد ملکوں کی صف میں شامل ہو جائے نہ صرف چین بلکہ روس نے بھی پاکستان کی بھرپور مدد کی۔ ایسے میں حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ عمران خان کے مطالبات پر کان دھریں اور مل جل کر مسائل کا حل نکالیں ناکہ ایک دوسرے کے لیے ایسے حالات پیدا کردیں کہ لاشوں کے گرنے کا انتظار کیا جائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔