سروں کی فصل

حسین مسرت  بدھ 19 اکتوبر 2016
عورت اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کرتی ہے تو صدیوں سے مروج روایات اپنے مضبوط قلعے ٹوٹتے دیکھ کر ان کو بچانے کے لیے کوشاں ہوجاتی ہیں۔ فوٹو: فائل

عورت اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کرتی ہے تو صدیوں سے مروج روایات اپنے مضبوط قلعے ٹوٹتے دیکھ کر ان کو بچانے کے لیے کوشاں ہوجاتی ہیں۔ فوٹو: فائل

اس نے دروازہ زور سے کھولا۔ وہ سر جھکائے اپنا کام کر رہی تھی، اس نے ایک ہاتھ سے پکڑ کر اسے کھینچا اور دھکا دے کر کرسی سے اٹھایا، ’’اٹھو…نکلو!‘‘ آواز میں تحکم تھا، دوسرے ہاتھ سے کمرے کا دروازہ کھولا اور چند دوسرے افراد بھی دندناتے ہوئے کمرے میں داخل ہوگئے، پہلے بندے نے کہا۔

’’اٹھاؤ… چلو! آج بچنے نہ پائے‘‘۔ ہاتھ میں پکڑے پسٹل سے اسے مارا اور دیکھتے ہی دیکھتے سب کے ہاتھ اس اکیلی عورت پر اٹھنے لگے۔ اسے گھسیٹتے ہوئے کمرے سے باہر نکالا۔ گھسٹنے سے اس کے کپڑے پھٹ گئے پسٹل اور بندوقوں کے بٹ لگنے سے چوٹیں بھی آئیں۔ دوپٹہ گرا، چپل بھی وہیں گر گئی۔ صبح 7:30 بجے تک یہ حملہ جاری رہا اور پولیس بے خبر رہی۔

یہ منظر کسی گاؤں دیہات کے گھر کا معلوم ہوتا ہے، جہاں عورتیں اس قسم کے سلوک کا سامنا کرتی رہتی ہیں اور اس قسم کے وحشیانہ تشدد کو گھریلو معاملہ کہہ کر دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ اندوہناک واقعہ کسی ان پڑھ غریب عورت کے ساتھ پیش نہیں آیا۔ یہ واقعہ ضلع خیرپور کے تعلقہ ٹھری میرواہ کی ایک ڈاکٹر کے ساتھ پیش آیا تھا، جوکہ اپنا ذاتی میڈیکل سینٹرل چلا رہی ہے۔ جس میں او پی ڈی کے ساتھ ساتھ ڈلیوری کیسز اور آپریشن کی سہولت بھی موجود ہے۔ ذرایع کہتے ہیں کہ جب اسپتال پر صبح سویرے حملہ ہوا تو اسٹاف بھی موجود تھا، وہ سارے واقعے کے چشم دید گواہ ہیں۔

’’انھوں نے میرے مریضوں کو بھی کمروں سے نکال دیا۔ جن کے آپریشن ہونے والے تھے ان کو بھی نکالا۔ اسٹاف کو ہراساں کیا۔ میرے کمرے سے سارا سامان زیورات، نقد رقم، کاغذات سب کچھ لے گئے۔ 15 دن ہوگئے ہیں، کوئی فریاد سننے والا نہیں ہے۔ میری بہت بے عزتی ہوئی ہے۔ مجھے میرے اسٹاف کے سامنے زد و کوب کیا گیا۔ میرے مریض دیکھتے رہے‘‘۔ بات کرتی جا رہی تھی، روتی جا رہی تھی۔

’’ڈاکٹر صاحبہ یہ آپ کی بے عزتی نہیں ہے، مجرم تو وہ ہے جس نے آپ پر تشدد کیا۔ آپ کی عزت اور حیثیت کسی مرد کی زبان اور ہاتھوں میں تو نہیں‘‘۔ میں نے اسے کہا، لیکن مجھے اپنے ہی الفاظ کھوکھلے اور جھوٹے سے لگے، کیونکہ اس کا درد ان معمولی الفاظ کے مرہم سے گہرا تھا۔

3 اکتوبر 2016ء کو یہ واقعہ پیش آیا۔ بقول ڈاکٹر صاحبہ کے یہ منصوبے کے تحت کیا گیا تھا اور پولیس کو پتہ تھا کہ یہ واقعہ ہونے والا ہے۔ زخمی حالت میں ڈاکٹر صاحبہ تھانے پہنچیں لیکن ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ سنا ہے کسی بااثر نے روک دیا تھا۔ دوسرے دن ڈاکٹر صاحبہ نے وکیل سے رابطہ کرکے کورٹ کے ذریعے ایف آئی آر درج کروائی۔ واقعے کا افسوسناک پہلو یہ ہے کہ دن دہاڑے لوگ ایک میڈیکل سینٹر پر حملہ کرکے سیل کردیتے ہیں، اور پولیس خاموش تماشائی بن جاتی ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے محترمہ نفیسہ شاہ سے بھی کسی طرح رابطہ کرنے کی کوشش کی اور ان تک اپنی شکایت پہنچادی۔ لیکن شاید یہ معاملہ اور زیادہ گہری جڑیں رکھتا تھا۔

یہ سماج اور اس کی روایتیں اب اتنی کمزور ہوگئی ہیں کہ ایک عورت کو تحفظ دینا تو دور کی بات اس کو قانونی طور پر اپنا حق استعمال کرنے کا حق بھی نہیں دیتیں۔ عورت کی سماجی حیثیت اور وقار جس کے دعوے اور دعوے دار بہت نظر آتے ہیں، ہر کوئی اپنے خاندان کی عزت اور وقار کا بوجھ عورت کے کاندھوں پر رکھ دیتا ہے، لیکن عملی طور پر یہ باتیں نظر نہیں آتیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے کافی حقیقتیں کھل کر سامنے آرہی ہیں۔

٭ عورت کی سماجی حیثیت کیا ہے؟

٭ تحفظ اور سماجی بے بسی کی حد کیا ہے؟

٭ جرائم کی پشت پناہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کردار۔

٭ قانون کا اپنے حق کے لیے استعمال کرنا۔

آج کا سماج تو پڑھی لکھی عورت کے لیے بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کے والد بھی ڈاکٹر ہیں اور شوہر بھی ڈاکٹر ہیں۔ ڈاکٹر گلشاد کلہوڑو نے اپنی محنت کی کمائی سے میڈیکل سینٹر قائم کیا۔ شادی کو 11 سال کا عرصہ گزر گیا۔ شوہر جسمانی تشدد کرتا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے خلع کا مقدمہ دائر کردیا اور اس حق کا استعمال کرنا اس کا جرم بن گیا۔ سماج کو تو روتی بسورتی مظلوم عورت دیکھنے کی عادت ہوگئی ہے۔ بولڈ، بولتی ہوئی عورت کہاں برداشت ہوتی ہے۔ غصہ کرنے کا حق بھی مرد کو ہے۔ جذبات کا اظہار بھی صرف مرد کرسکتا ہے۔

ہر قسم کے حق کا استعمال بھی مرد کا ہی کام ہے۔ یہ کام عورتوں کے کرنے کے نہیں ہیں۔ اب خلع لینا بھی ڈاکٹر کا جرم بن چکا ہے۔ تشدد سے انکار اور تشدد کو نہ برداشت کرنا جرم بنا۔ اور تو اور شوہر پر مارپیٹ کا مقدمہ بھی دائر کردیا اور میڈیا پر بھی سب کو بتا دیا کہ اس پر ظلم ہوا ہے۔ اب ان سب جرائم کی مرتکب عورت، عورتوں کی تنظیموں سے مدد مانگ رہی ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کر رہی ہے کہ اس کا میڈیکل سینٹرل کھلوادیں، غیر قانونی قبضہ ختم کروادیں۔ علاقے کے اسمبلی ممبرز کو بھی کہہ رہی ہے کہ مدد کریں۔ لیکن اس معاملے میں ہمارا سماج اور اس کے سارے ادارے بڑے بااصول ہیں۔ ایک تو عورت اور پھر ایسی عورت جس کے کاندھوں پر سماجی روایتیں توڑنے کا جرم ہو، اس کی مدد کون کرسکتا ہے۔ اگر وہ علاقے کے چار بڑوں کے پاس جاتی، اپنی ملکیت سے دستبردار ہوتی، تو یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔

ڈاکٹر صاحبہ معذرت کہ ہم آپ کی مدد نہیں کرسکتے۔ آپ پولیس والے بھی صحیح کہتے ہیں کہ دن دہاڑے ہتھیار لے کر فائرنگ کرکے کسی ادارے پر حملہ کرنا، توڑ پھوڑ کرنا، عورت کو اغوا کرنے کی کوشش کرنا، اس کے مریضوں اور اسٹاف کے سامنے اسے گھسیٹنا، یہ سب دہشتگردی میں شامل ہی نہیں ہے، اس کی ایف آئی آر دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج نہیں ہوسکتی۔ بہت خوب، پھر یہی ہوا کہ دہشتگردی کا ایکٹ نہیں لگایا گیا اور بس حراسمنٹ اور اغوا کی کوشش کی ایف آئی آر کورٹ کے ذریعے کٹوادی گئی۔ اب کورٹ جانے کورٹ کا کام جانے۔ کب باری آئے گی، کب فیصلہ ہوگا؟ ڈاکٹر صاحبہ کتنا انتظار کریں گی۔ ہوسکتا ہے تھک ہار کر ایک اور میڈیکل سینٹر کھول لیں۔ یہ واقعات صرف واقعات نہیں، یہ جلتے ہوئے انگارے ہیں، جو ہم پر برس پڑے ہیں۔ ہمارے پاس ہماری عورتوں کے تحفظ کے قانون موجود ہیں، اب ہماری خواتین ان قوانین سے آگاہ بھی ہو رہی ہیں اور یہی چیز فرسودہ روایات کو ردعمل کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔

اصل میں ایسے واقعات ایک طرح کی مزاحمت ظاہر کرتے ہیں، عورت اپنے حقوق کے لیے مزاحمت کرتی ہے تو صدیوں سے مروج روایات اپنے مضبوط قلعے ٹوٹتے دیکھ کر ان کو بچانے کے لیے کوشاں ہوجاتی ہیں۔ سماجی عمل چلتا رہتا ہے۔ سماج زندہ ہے یہ ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا روایتیں اور قوانین تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔یہ پدرشاہی بھی تبدیل ضرور ہوگی۔ اب اچھے سماج اور سماجی ادارے اپنے اندر کا زہر اگلتے رہیں۔ آج کی عورت مزاحمت کے میدان میں پیچھے نہیں ہٹ رہی۔

جب عورتیں تشدد کے خلاف کھڑی ہوتی ہیں تو پھر ہر الزام برداشت کرنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں وہ حقوق پر کمپرومائز نہیں کرتیں۔ اصل میں عورت پر کیچڑ اچھالنا کردار کشی کرنا، اسے زد و کوب کرنا مردوں کی سماجی تنہائی کی دلیل ہے۔ جاتی ہوئی حاکمیت کے تاج کا آخری ٹکڑا سنبھالنے کی سعی ہے۔ اب ڈاکٹر صاحبہ پر بھی اگلا پریشر فیصلہ کروانے کا ہی پڑے گا۔ تاکہ وہ ان فرسودہ روایات کی اجارہ داری قبول کرلے اور جائیداد کے کچھ حصے سے دستبردار ہوجائے۔

معاشی طور پر مستحکم عورت کو برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر صاحبہ کی جنگ طول پکڑ سکتی ہے، جس میں مشکلات بھی بہت ہیں۔ لیکن چلنا ہمارا کام ۔ یہ ادارے یہ سماج یہ نظام یہ سیاست یہ سیاسی مہرے آخر کب تک نظرانداز کریں گے۔ کتنے سر کاٹیں گے۔ ہم سروں کی فصل تیار کیے بیٹھے ہیں۔ اب کاٹنے والے کم پڑ جائیں گے۔ ڈاکٹر صاحبہ اور اس جیسی عورتیں جو جرم کو جرم کہنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، ایک نہ ایک دن ضرور انصاف تک پہنچیں گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔