کیوں پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا؟

سید معظم حئی  بدھ 19 اکتوبر 2016
کیا پاکستان میں کبھی انصاف ہوگا اوپر سے نیچے تک؟۔ فوٹو: فائل

کیا پاکستان میں کبھی انصاف ہوگا اوپر سے نیچے تک؟۔ فوٹو: فائل

صرف ایک لمحے کو فرض کر لیجیے کہ کسی طرح سب کچھ بدل جاتا ہے، ہمارا صنعتی شعبہ تنزلی سے ترقی شروع کر دیتا ہے، برآمدات گھٹنے کے بجائے بڑھنے لگتی ہیں، قرضے چڑھنے کے بجائے اترنے لگتے ہیں، حکومتی مراعات یافتہ فرینڈز آف ہندوستان سی پیک کا کالاباغ ڈیم بنانے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہماری معاشی ترقی کی شرح دگنی ہو جاتی ہے بلکہ دو ہندسوں یعنی 10 فی صد سے بھی بڑھ جاتی ہے تب بھی ہم سب کچھ کر رہے ہوںگے سوائے ترقی کے۔ یہی حقیقت ہے، ہم کچھ بھی کہہ لیں، ہم کچھ بھی کر لیں، پاکستان کبھی ترقی نہیں کر سکتا، جبتک ہم ترقی کی بنیادی آفاقی ازلی وابدی لازمی شرط پوری نہ کر لیں۔

پھلتی پھولتی معیشت، میرٹ پر روزگار کے وسیع پیمانے، نلوں سے آتا پینے کے قابل پانی، ملاوٹ سے پاک غذا اور دوائیں صحت اور صفائی سب کے لیے بلا تعطل بجلی، یہ ترقی کی نشانیاں ہیں ترقی کا پیمانہ نہیں۔ ترقی کا حتمی پیمانہ جہاں نظرآئے گا وہیں یہ ساری نشانیاں بھی دکھائی دیںگی اور ترقی کا حتمی پیمانہ وہاں دیکھنے کو ملے گا جہاں ایک عام مسلمان افریقی شخص کا بیٹا باراک حسین اوباما امریکا کا صدر، ایک عام ٹیچر کی بیٹی انجیلا مرکل جرمنی کی چانسلر اور تو اور ایک عام بس ڈرائیورکا بیٹا صادق خان لندن کا منتخب میئر بن جائے۔ ذرا سوچیے کہ صادق خان جس کے دادا نے 1947ء کی تقسیم کے بعد ہندوستان کے اس علاقے کو ہجرت کی جو پاکستان بن گیا۔ وہ اگر پاکستان میں ہوتا تو کیا کرتا؟ خوش قسمت تھا کہ اس کے والدین نے ایک اور ہجرت کا فیصلہ کیا۔

ایک عام اور خاص شخص کے لیے ترقی اورخوشحالی کے یکساں مواقعے صرف ان معاشروں میں ممکن ہیں جہاں قانون اور انصاف ایک عام اور خاص شخص کے لیے یکساں ہوں۔ یہ ترقی کا وہ حتمی پیمانہ ہے جس کی عدم موجودگی میں نہ کوئی قوم پنپ سکی ہے نہ پنپ سکے گی۔ یہ خدائے ذوالجلال کا وہ اصول ہے جسے خداوند کریم کے آخری نبیؐ نے یوں بیان فرمایا کہ وہ قومیں برباد ہوئیں جو اپنے کمزوروں کو سزا دیتیں اور طاقتوروں کو معاف کر دیا کرتی تھیں۔ اس فرمان نبویؐ کی روشنی میں کیا پاکستان ترقی کر سکتا ہے پاکستان کی جہاں طاقتور کے لیے کوئی قانون نہیں اور کمزور کے لیے انصاف نہیں، نہیں کر سکتا کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔

آپ 70 سال کا حال اٹھا کر دیکھ لیں کہ پاکستان اور اس کا معاشرہ کہاں سے کہاں پہنچ گئے ہیں جہاں کبھی برائیوں پر لوگ منہ چھپاتے تھے آج اکڑ کرگھومتے ہیں۔ بدترین لوگ اونچے اونچے عہدوں پر بیٹھتے ہیں، سب ان کی خوشامد کرتے ہیں۔ ملک تباہ حال ہے، سندھ کھنڈر بن گیا ہے اورکراچی دنیا کا چھٹا سب سے بد ترین ناقابل رہائش شہر اور لوٹ مار ہے کہ تھمنے کا نام نہیں لیتی۔ اگر اس ملک میں انصاف ہوتا تو یوں ہوتا؟ جی نہیں کچھ اور ہی ہوتا اور اچھا ہوتا مثلاً انصاف ہوتا تو الیکشن چوری نہ ہوتے اور جمہوریت اصلی ہوتی بے داغ اور اجلی۔ انصاف ہوتا تو این آر او، پلی باریگن، افہام و تفہیم، مفاہمت اور مک مکا، رشوت، کمیشن، چوری اور غبن نہ ہوتے اور ملک پرکھربوں کے قرضے، قوم پر غربت اور معیشت پر مردنی نہ چھائی ہوتی۔

انصاف ہوتا تو سوئس اکاؤنٹس، آف شورکمپنیاں، لندن، دبئی، نیو یارک میں جائیدادیں نہ ہوتیں اور ملک کے دفاع کے لیے پیسہ خوب ہوتا انصاف ہوتا تو بھتہ نہ ہوتا اور کاروبار پھیلتے روزگار بڑھتا، انصاف ہوتا تو کوٹہ سسٹم، تعصب اور سفارش نہ ہوتے، میرٹ ہوتی اور اشتہاری گڈ گورننس کے بجائے اصلی گڈ گورننس ہوتی، انصاف ہوتا تو کاروکاری، وڈیرہ ہاری نہ ہوتے غریب کی خوشحالی ہوتی، انصاف ہوتا تو نعرے نہیں کام ہوتا، انصاف ہوتا تو ہیرا پھیری نہ ہوتی، سڑکیں ٹوٹتیں نہ پانی بِکتا، انصاف ہوتا تو بینکوں کا چند ہزار کا مقروض نہیں اربوں کھا جانے والا جیل میں ہوتا، انصاف ہوتا تو سڑکوں پر ٹریفک چلتا احتجاج نہ ہوتا انصاف ہوتا تو VIP پروٹوکول نہ ہوتا ہر شہری کی عزت ہوتی، چور سروں پر نہ سوار ہوتے سب کے۔ انصاف ہوتا تو یہ ملک مسائلستان نہ ہوتا پاکستان ہوتا سچ مچ کا اصلی پاکستان۔

کیا پاکستان میں کبھی انصاف ہوگا اوپر سے نیچے تک؟ مشکل بلکہ تقریباً ناممکن ہے کیوںکہ اوپر سے نیچے تک ہم انصاف چاہتے ہی نہیں۔ عدالتیں انصاف نہیں کرسکتیں جب تک معاشرے حق کا ساتھ نہ دیں۔ ہم دیتے ہیں حق کا ساتھ؟ نہیں اوپر سے نیچے تک نہیں۔ ہمارے فوجی ڈکٹیٹر ملک توڑ دیں، ملک کو فرقہ واریت، انتہا پسندی، اسلحے اور منشیات میں ڈبودیں،اپنے اقتدار کے لیے کرپشن اور جرائم کی حفاظت کے لیے ’’قانون‘‘ بنائیں۔ ان کے ادارے انھیں انصاف سے بالاتر رکھتے ہیں، حق کا نہیں ان کا ساتھ دیتے ہیں۔

ہمارے سیاست دان، حکمران بادشاہ بن بیٹھیں، اقربا پروری سے ادارے تباہ کر دیں، خوشامد کو میرٹ کا درجہ دے دیں، قومی خزانے کو خاندانی ملکیت بنا لیں، اربوں، کھربوں لوٹ کر دنیا بھر میں اکاؤنٹ، کاروبار اور جائیدادیں بنا لیں ۔ ان کی سیاسی جماعتیں انھیں انصاف سے بالاتر رکھتی ہیں حق کا نہیں ان کا ساتھ دیتی ہیں ہمارے بڑے بڑے مذہبی رہنما پلاٹ، پرمٹ لیتے بیرون ملک دورے کرتے اور کرپٹ کی حمایت کرپشن کی حفاظت کرتے ہیں ان کے پیروکار انھیں انصاف سے بالاتر رکھتے ہیں، حق کا نہیں ان کا ساتھ دیتے ہیں، ہمارے کچھ وکلا، پولیس، جج حضرات اور عام لوگوں کی ٹھکائی کر دیں، ہمارے کچھ ڈاکٹر مجرمانہ غفلت سے انسانی جانوں سے کھیلیں، ہمارے کچھ دکاندار خواتین سے بد تمیزی کریں، چوری کا چاہے سامان بیچیں۔

ہمارے اداروں جیسے پاکستان ریلوے، پی آئی اے، پاکستان اسٹیل وغیرہ کی مزدور یونینز کے کچھ ارکان ان اداروں کو کام چوری اور بد عنوانی سے کھوکھلا کر دیں، ہمارے سرکاری اداروں کے لاکھوں کے اسٹاف میں سے ایسے بھی ہوں جو لوگوں کو راحت کے بجائے اذیت پہنچائیں۔ ان سب کی نمایندہ تنظیمیں انھیں انصاف سے بالاتر رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیتی ہیں، حق کا نہیں ان کا ساتھ دیتی ہیں۔ یہاں تک کہ اگر بڑے شہروں کے بڑے اسکولوں میں کہیں کوئی ٹیچر بے چاری کسی طالب علم کو اس کی بڑی سے بڑی بد تمیزی پر چھوٹی سی چھوٹی بھی سزا دے دے تو والدین اسی سے معافی منگواتے ہیں۔

’’بچے‘‘ کو کچھ نہیں کہتے اسے انصاف سے بالاتر رکھتے ہیں، حق کا نہیں اپنے بد تمیز بچے کا ساتھ دیتے ہیں۔ تو جناب جہاں بڑے ترین قومی اداروں، سیاسی جماعتوں، مذہبی گروہوں، پیشہ ورانہ تنظیموں سے لے کر معاشرے کی بنیادی اور چھوٹی ترین اکائی یعنی اپنی فیملی تک کوئی حق کا ساتھ دینے کو تیار نہ ہو وہاں کیا انصاف آئے گا؟ کہاں سے آئے گا؟ کیسے آئے گا؟ انصاف نہیں آئے گا تو ترقی نہیں آئے گی تنزلی چلتی جائے گی۔ ہم کچھ بھی کہہ لیں، کچھ بھی کرلیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔