فلموں کی غیرملکی مارکیٹ تک رسائی کے لیے فلم میکرز سرگرم

پرویز مظہر  بدھ 19 اکتوبر 2016
جدید سنیما گھروں کو قائم رکھنے اور ان کو نقصان سے بچانے کے لیے حکمت عملی طے۔  فوٹو : فائل

جدید سنیما گھروں کو قائم رکھنے اور ان کو نقصان سے بچانے کے لیے حکمت عملی طے۔ فوٹو : فائل

کراچی: پاکستان میں نئے سنیما گھروں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے دوسری طرف بھارتی فلموں کی پاکستان میں نمائش پر پابندی کے بعد جدید سنیما گھروں کے مالکان کی تشویش میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی فلموں سے ہونے والی آمدنی سے انھیں نقصان نہیں اٹھانا پڑتا تھا لیکن پاکستانی فلموں کی نمائش سے انھیں خاطر خواہ وہ بزنس نہیں مل رہا جو ان کے اخراجات پورا کرسکے، ملکی مفاد میں سنیما مالکان نے بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی کا کڑوا گھونٹ پی لیا، یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستانی فلم میکرزاور سنیما انڈسٹری کے لوگوں نے اس بات پر غور شروع کردیا کہ پاکستانی فلموں کی غیر ممالک تک رسائی کے لیے اقدامات کیے جائیں کیونکہ حال ہی نمائش کے لیے پیش کی جانے والی پاکستانی فلموں نے برطانیہ، امریکا، کینڈا اور یو اے ای میں بھی شاندار کامیابی حاصل کی اور اچھا بزنس کیا، کیوں نہ ان ممالک کے ساتھ مشترکہ فلم سازی کا آغاز کیا جائے۔

پاکستان میں ایران، ترکی اور دیگر ممالک کے فلم میکرز نے بھی پاکستان کے ساتھ مشترکہ فلم سازی میں پہلے بھی دلچسپی کا اظہار کیا تھا ، کیونکہ ترکی اور ایرانی فلموں کے لیے پاکستان میں مارکیٹ موجود ہے ان دونوں ممالک کی فلمیں پاکستان میں سنیما انڈسٹری کی ساکھ کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرسکتی ہیں، جس پر سنجیدگی سے غور کیا جارہا ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔