محاذ آرائی نے ملکی سیاست کو بند گلی میں دھکیل دیا

شہباز انور خان  بدھ 19 اکتوبر 2016
شائد حکومت حربے کے طور پر اپوزیشن کی شرائط پر ایک سریع العمل احتساب کمیشن کے قیام کا اعلان کردے۔ فوٹو: فائل

شائد حکومت حربے کے طور پر اپوزیشن کی شرائط پر ایک سریع العمل احتساب کمیشن کے قیام کا اعلان کردے۔ فوٹو: فائل

لاہور: ملکی سیاست ایک بار پھر بند گلی کی جانب دھکیل دی گئی ہے۔ وجہ وہی ’’اجتماعِ ضِدین ‘‘ ہے۔ وزیر اعظم اپنا احتساب کروانے اور کرپشن کے الزامات سے خود کو بری کروانے پر آمادہ نہیں جبکہ کپتان اس مطالبے سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

بات بظاہر سادہ سی لگتی ہے کہ ’’ اگر وزیر اعظم کے ہاتھ صاف ہیں اور انہوں نے چوری نہیں کی تو پھر وہ تلاشی کیوں نہیں دیتے؟ جس کی کہ خود انہوں نے پارلیمنٹ میں پیشکش بھی کر رکھی ہے‘‘ لیکن حقیقت میں یہ معاملہ اس قدر سادہ بھی نہیں ہے۔ سیاست میں کائیاں میاں نوازشریف اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ تحقیقات کی صورت میں وہ بہرحال کٹہرے میں آجائیں گے اور پھر ’’ بات نکلی تو بہت دور تلک جائے گی ‘‘ والا معاملہ ہوجائے گا۔

عمران خان بھی سیاست میں اب نووارد نہیں رہے وہ بھی حالات کی سختیوں اور زمانے کے گرم و سرد چشیدہ ہوکر بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں قدرت کی طرف سے مخالفین کی جو ’’ کمزوری ‘‘ آچکی ہے وہ اسے یونہی کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔ وہ بھی خوب سمجھتے ہیں کہ اگر ’’ یہ بٹیرا ‘‘ ان کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تو پھر یہ ہاتھ ہی ملتے رہ جائیں گے۔ ان کا استدلال درست ہے کہ پاناما میں کیے جانے والے انکشافات ان کی طرف سے نہیں لگائے گئے۔

یہ وہ ’’ پتھر ‘‘ ہے جو ’’ باہر ‘‘ سے ہی پھینکا گیا ہے ’’ اندر ‘‘ سے نہیں اور پتھر پھینکنے والوں کا یہ دعویٰ ہے کہ انہوں نے محض عجلت میں یہ کام نہیں کیا اس سے پہلے پوری طرح چھان پھٹک کی گئی اور پوری تسلی و تشفی کرنے کے بعد اسے ’’ لِیک ‘‘ کیا گیا۔شائد یہی وجہ ہے کہ جن دیگر غیرملکی شخصیات کا اس میں ذکر آیا ہے ان میں سے کسی نے بھی ان الزامات کو نہیں جھٹلایا بل کہ اپنے آپ کو عوامی احتساب کے لیے پیش کیا یا سزا بھگتی۔

پاکستان کی اشرافیہ خصوصاً سیاست دانوں یا عسکری و کاروباری شخصیات کا معاملہ دوسر اہے وہ اپنے ذاتی مفادات کے لیے قومی مفادات کوقربان کرنے میں ہرگز عار ( یاتکلیف ) محسوس نہیں کرتے۔ اقتدار کے حریص اپنے اقتدار سے ہی چمٹے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اس کے لیے پورے سسٹم ہی کا بوریا بستر گول کیوں نہ ہوجائے۔ جہاں تک موجودہ حکمرانوں کا تعلق ہے انہوں نے ظاہر ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے بعد عوامی ووٹوں کی بنیاد پر ہی حکومت قائم کی اور اب اسی عوامی مینڈیٹ ہی کو ڈھال بنائے ہوئے ہیں۔

اگرچہ اس کے جواب میں یہ کہاجا سکتا ہے کہ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی تو حکومت میں الیکشن ہی کے نتیجے میں آئے تھے لیکن انہوںنے اس کے باوجود اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی صفائی کے لیے منتخب ایوان ہی سے رجوع کیا اور اس میں کسی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ لیکن اس قسم کی دلیل یا جواب کو ہمارے ہاں تسلیم کرنے کا رواج نہیں ہے ۔

اب صورت حال یہ ہے کہ عمران خان نے اسلام آباد کو بند کرنے اور حکومت کو مکمل طور پر مفلوج کرنے کے لیے2  نومبر کی حتمی تاریخ کاا علان کردیا ہے اور اب وہ اس سے پیچھے ہٹنے کو ہر گز تیار دکھائی نہیں دیتے۔ دوسری طرف حکومت نے بھی اس ’’ آفت ‘‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت عملی وضع کرنے کے لیے سوچ بچار شروع کر رکھا ہے۔ یہ تو طے ہے کہ وزیر اعظم کپتان کے مطالبے پر سر نگوں ہو کراستعفیٰ نہیں دیں گے۔ البتہ اس صورت حا ل سے عہدہ براء ہونے کے لیے ان کی حکومت مختلف آپشنز پر غور کرسکتی ہے۔

وہ کپتان کو مشکلات میں ڈالنے اور اس کی تحریک کا زور توڑنے کے لیے خیبر پختون خوا کی حکومت کو توڑنے کی کوشش کرسکتی ہے جس کے لیے اسے جمعیت علماء اسلام ، پیپلزپارٹی اور اے این پی کے علاوہ تحریک انصاف ہی کے بعض ( باغی ) ارکان صوبائی اسمبلی کی حمایت حاصل ہوسکتی ہے۔ دوسرے آپشن کے طور پر وہ موجودہ پارلیمنٹ کو ہی تحلیل کرکے عبوری حکومت کے قیام اور نئے انتخابات کا راستہ اختیار کرسکتی ہے۔ جبکہ تیسرا آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ وہ عمران خان اور ان کی جماعت کے دیگر رہنماوں کو حراست میں لے لے۔

تحریک انصاف کے کارکنوں کو اسلام آباد داخل ہونے سے بزور روک دے اور ریاستی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے اس سارے احتجاجی عمل کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرکے اسے ناکام بنادے ۔ لیکن یہ وہ آپشن ہوگا جس کے مضمرات بہرحال خطرناک بھی ہوسکتے ہیں ۔ اور معاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھ سکتے ہیں جس کے نتیجے میں کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ البتہ ان تمام آپشنز کو استعمال کرنے کی نوبت اسی وقت آسکتی ہے جب ’’ حالات جو ں کے توں ‘‘ رہیں۔ اس لیے کہ اس وقت الیکشن کمشن آف پاکستان اور سپریم کورٹ آف پاکستان میں وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلقہ درخواستیں زیر سماعت ہیں اگر ان درخواستوں پر کوئی فیصلہ 2  نومبر سے پہلے آجاتا ہے تو صورت حال بدل بھی سکتی ہے اور تناو کی کیفیت ختم بھی ہوسکتی ہے۔

بعض سیاسی حلقے ان امکانات کو بھی ظاہر کررہے ہیں کہ شائد حکومت حربے کے طور پر اپوزیشن کی شرائط پر ایک سریع العمل احتساب کمیشن کے قیام کا اعلان کردے اور وزیر اعظم اپنے ساتھ عمران خان اور دیگر مخالفین کو بھی احتساب کی لپیٹ میں لے لیں۔

اس اعلان سے شائد یہ احتجاجی تحریک ڈی فیوز ہو جائے اور حکمران اور عوام سکھ کاسانس لے سکیں۔ لیکن ظاہر ہے حکومت یہ کام پیپلزپارٹی اور جماعت اسلامی ایسی (اپنی در پردہ حلیف ) جماعتوں کی اعانت کے بغیر نہیں کرسکے گی اس لیے ہو سکتا ہے کہ حکومتی اکابرین اس ضمن میں مذکورہ جماعتوں کی قیادت سے رابطہ کرکے اس راستے کو اختیار کرنے کی اپنے تئیں کوشش بھی کریں۔ لیکن شواہد یہ بتا رہے ہیں کہ عمران خان اب مسلم لیگ ن سمیت کسی جماعت کو بھی خاطر میں نہیں لائیں گے کہ وہ اب اپنی تحریک کو نتیجہ خیز بنانے پر تلے بیٹھے ہیں۔

انہیں طاہرالقادری، چوہدری برادرا ن اور سراج الحق نے بھی جس طرح بیچ منجدھار میں لا کے چھوڑ دیا ہے اس کے بعد وہ ان جماعتوں سے بہر حال اپنے حق میں کسی خیر کی امید نہیں رکھتے۔ البتہ وہ سیاسی تجزیہ کار اور دانش ور جو اس سارے معاملے کو جمہوریت کے خلاف سازش کا نام دے کر عمران خان کے لئے لے رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں وزیر اعظم کو ’ معصوم عن الخطا‘ قرار دے رہے ہیں وہ درحقیقت عوام کو گمراہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم ایک فرد، خاندان یا حکومت کا نام تو ہو سکتا ہے سسٹم کا نام بہرحال نہیں۔

حکومت مخالفین سسٹم کو نقصان پہنچانے یا جمہوریت کو ڈی ریل کرنے کا کہہ ہی نہیں رہے اور نہ ہی ان کا یہ ہدف ہے۔ وہ تو برسر اقتدار ایک فرد کی کرپشن کے حوالے سے پوزیشن صاف کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ اور یہ کام انہیں (وقتی طور پر سہی ) اس منصب سے ہٹا کر انہی کی جماعت کے کسی دوسرے اہل شخص کو اس عہدے پر بٹھا کر بھی ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ تو جمہوریت متاثر ہوگی اور نہ ہی سسٹم کوکوئی فرق پڑے گا۔ سوال مگر یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم اس جمہوری سسٹم کے لیے اپنے اقتدار کی قربانی دیں گے؟



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔