وزیراعظم کا ڈگڈگی بجانے کا اشارہ غیرسیاسی لوگوں کی طرف تھا، خورشید شاہ

ویب ڈیسک  بدھ 19 اکتوبر 2016
نوازشریف اور عمران خان ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں غیر سنجیدہ اور جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں، خورشید شاہ۔  فوٹو؛ فائل

نوازشریف اور عمران خان ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں غیر سنجیدہ اور جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں، خورشید شاہ۔ فوٹو؛ فائل

 اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ عمران خان ڈگڈگی نہیں بجارہے لہذا وزیراعظم نوازشریف کا ڈگڈگی بجانے کا اشارہ غیر سیاسی لوگوں کی طرف تھا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے اہم اجلاس کی باتیں باہر نکلنے کا ذمہ دار کون ہے، فوج کی باتیں سیکیورٹی سے متعلق ہیں وہ یہ باتیں کیسے باہر نکالے گی تاہم وہ کون سویلین شخص تھا جس نے حساس باتیں باہر نکالیں، اے پی سی کی خبر لیک ہونے کا زبیرعمر نے خود اعتراف کیا ہے، ہوسکتا ہے سیکیورٹی میٹنگ کی خبر بھی وزیراعظم میڈیا سیل کے ذریعے لیک ہوئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا ڈگڈگی بجانے کا اشارہ غیر سیاسی لوگوں کی طرف تھا کیونکہ عمران خان تو ڈگڈگی نہیں بجارہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : ہردور میں کوئی نہ کوئی ڈگڈگی بجانے والا سامنے آجاتا ہے

خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ دھرنا، جلوس اور احتجاج سیاسی حق ہے لیکن کسی علاقے کو سیل کرنا سیاسی حق نہیں یہ سیاسی جرم ہے اور اس طرح کے عمل سے عام آدمی متاثر ہو رہا ہے، تحریک انصاف نے سولو فلائٹ لی ہوئی ہے دیکھتے ہیں، نتائج کیا ہوں گےلیکن عمران خان کے احتجاج نے وزیراعظم کو مضبوط کیا ہے۔ ہمارے لئے نوازشریف اور عمران خان ایک جیسے ہیں کیونکہ دونوں غیر سنجیدہ اور جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں، نوازشریف اپنی حکمرانی سے اور عمران خان اپنے رویے سے جمہوریت کو کمزور کررہے ہیں۔

خورشید شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم بے خبر ہیں جو آلو کی 70 اور 80 روپے کی قیمت کو 25 روپے بتا رہے ہیں،انہیں پتہ نہیں ہوتا وہ کیا کہہ رہے ہیں جب کہ  کلثوم نواز آلو ٹماٹر لینے جاتی ہیں اور نہ وزیر اعظم، یہ ان کے مشیروں کا کام ہے جب کہ میں نے کہا تھا چوہدری نثار پہلے اپنے گھر کو سنبھالو۔ ان کا کہنا تھا کہ سینئر موسٹ جنرل کو چیئرمین جوائنٹ چیفس اور اس کے بعد کو آرمی چیف بنایا جائے لیکن پتا نہیں حکومت سنیارٹی پر جانے سے کیوں گھبراتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔