اراکین اسمبلی کے اثاثوں کی چھان بین

ایڈیٹوریل  بدھ 19 اکتوبر 2016
  فوٹو: فائل

فوٹو: فائل

سچ ہے کہ ہمارے ملک میں نظام کے حوالے سے آدھا تتیر، آدھا بیٹر والا معاملہ رہا ہے، پاکستان کی کل عمر کے نصف توآمریت کے مہیب سائے میں گزری، باقی جمہوریت کا پودا جب بھی پروان چڑھنے لگا تواسے کاٹ دیا گیا۔

دنیا بھر میں بہترین نظام جمہوریت کا مانا جاتا ہے، شکر ہے کہ ملک میں جمہوریت کا تسلسل ہے تو نظام میں بھی بہتری آرہی ہے۔ انتخابی عمل کی تمام تر ذمے داری الیکشن کمیشن آف پاکستان پر ہے، گوکہ پاکستان میں یہ ادارہ ابھی اتنا مضبوط اور فعال نہیں ہے کہ وہ دیگر جمہوری ممالک کی طرح طاقتور فیصلے کرسکے، لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن کی جانب سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اراکین پارلیمنٹ اورصوبائی اسمبلی کے اثاثوں کی تفصیلات کی چھان بین کے لیے کمیشن پولیٹیکل فنانس ونگ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا آڈٹ فرم کی خدمات بھی حاصل کرسکے گا۔

عوامی نمایندگی ایکٹ کی شق کے تحت الیکشن کمیشن کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف کارروائی کا اختیار بھی رکھتا ہے، جو رکنیت معطلی سے متعلق ہے۔ پاکستان بھر میں یہ تاثرعام پایا جاتا ہے کہ اراکین اسمبلی چاہے ان کا تعلق کسی بھی سیاسی جماعت سے ہو وہ اپنے اثاثے جو ظاہرکرتے ہیں وہ انتہائی قلیل ہوتے ہیں جب کہ اصل میں اس سے کئی سوگنا حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔

یہ امر انتہائی بددیانتی کے زمرے میں آتا ہے، کہ آپ جھوٹ بول کر ٹیکس بچائیں، اثاثے چھپانے کی علت میں مبتلا ہوں تو بطور عوامی نمایندہ اور لیڈرکس حیثیت سے ایوان کے ممبر بنے بیٹھے ہیں۔ عوامی نمایندوں کو تو رول ماڈل ہونا چاہیے تاکہ اس کے مثبت اثرات عوام پر پڑیں، لیکن ہو ایسا رہا ہے کہ ایک نمایندہ ارب پتی ہے اور یہ بات عوام الناس بھی جانتے ہیں لیکن جب وہ اپنے اثاثوں کی تفصیلات لکھ کر الیکشن کمیشن میں جمع کرواتا ہے تو وہ ایک متوسط طبقے کے فرد سے زیادہ ’’غریب‘‘ نکلتا ہے۔

ابھی پانامہ لیکس کے حوالے سے جو صورتحال پیش آئی ہے، پھر الزامات در الزامات کی سیاست بھی عروج پر ہے۔ ان تمام برائیوں کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ الیکشن کمیشن ایسے مثبت اور دور رس فیصلے کرے اور بلاامتیاز تمام اراکین اسمبلی کے خلاف اس ضمن میں کارروائی کرے تاکہ دیانت اور امانت کے اصولوں کو فروغ حاصل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر سرکاری محکمے کسی سیاسی دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے درست انداز میں کام کریں توکرپشن کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔