استخارے

جاوید چوہدری  جمعرات 20 اکتوبر 2016
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

چین کی جیلوں میں اس وقت پندرہ لاکھ قیدی تھے‘ یہ لوگ ریاست پر بوجھ تھے‘ حکومت انھیں مفت رہائش‘ کھانا اور کپڑے بھی دیتی تھی اور ان کی حفاظت‘ بجلی‘ پانی اور گیس پر بھی اربوں یوآن خرچ کرتی تھی‘ گویا یہ لوگ طفیلی کیڑے تھے‘ یہ اگر رہا کر دیے جاتے تو یہ پورے ملک کو بیمار کر دیتے اور یہ اگر جیلوں میں رہتے تو ریاستی خزانے پر بوجھ بن جاتے‘ چین نے ان طفیلی کیڑوں کا دلچسپ حل نکالا‘ حکومت نے لاؤ گائی (Laogai) کے نام سے جیل ریفارمز شروع کیں‘ یہ منصوبہ ’’ریفارمز تھرو لیبر‘‘ بھی کہلاتا ہے۔

چینی حکومت نے قیدیوں کو مختلف ہنر سکھائے اور پھر مجرموں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا‘ چھوٹے جرائم میں محبوس قیدیوں کو ملک کے اندر مختلف سرکاری ترقیاتی اسکیموں پر لگا دیا گیا‘ حکومت قیدیوں کو سائیٹس پر بیرکس‘ بستر‘ لباس اور خوراک فراہم کرتی ہے‘ یہ لوگ قید کی مدت ختم ہونے تک ان سائیٹس پر کام کرتے ہیں‘یہ قیدی جب سزا پوری کر لیتے ہیں تو حکومت انھیں رہا کر دیتی ہے‘ حکومت درمیانے جرائم میں ملوث قیدیوں کو ملک کی مختلف کمپنیوں کے حوالے کر دیتی ہے۔

یہ کمپنیاں ان کی خوراک‘ لباس‘ رہائش اور نگرانی کی ذمے دار ہوتی ہیں‘ حکومت ان کمپنیوں کے ساتھ معاوضہ طے کرتی ہے‘ یہ معاوضہ حکومت کے اکاؤنٹ میں براہ راست جمع کرا دیا جاتا ہے‘ حکومت یہ رقم جیلوں‘ عدالتی کارروائیوں اور پولیس پر خرچ کرتی ہے اور پیچھے رہ گئے سنگین جرائم میں ملوث قیدی تو حکومت ان قیدیوں کو بیرون ملک بھجوا دیتی ہے‘ کیسے؟ ہم اس سوال کے جواب سے پہلے ذرا سی بیک گراؤنڈ میں جائیں گے۔

چین اس وقت افریقہ‘ سری لنکا‘ مالدیپ‘ سینٹرل ایشیا‘ لاطینی امریکا‘ بھارت اور ساؤتھ پیسیفک جزائر میں بے شمار میگا پراجیکٹ کر رہا ہے‘ چینی کمپنیاں پاکستان میں بھی تین درجن منصوبوں پر کام کر رہی ہیں‘ پاک چین اقتصادی راہ داری بھی ان منصوبوں میں شامل ہے‘ پاکستان میں 45 برسوں میں 25 ارب ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جب کہ چین یہاں 15 برسوں میں 46 ارب ڈالر خرچ کرے گا ‘ یہ چین کی ایک ملک میں سرمایہ کاری ہے‘ آپ اس سے سینٹرل ایشیا‘ افریقہ‘ سارک ممالک اور لاطینی امریکا میں چینی سرمایہ کاری کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں‘ یہ سرمایہ کاری مستقبل میں مزید بڑھے گی۔

کیوں؟ کیونکہ چین کی اقتصادی پالیسی تیسرے فیز میں داخل ہو چکی ہے‘ چین نے پہلے فیز میں اپنے لوگوں کو ہنر مند بنایا‘ دوسرے فیز میں ملک کو فیکٹری بنا کر پوری دنیا کو مصنوعات سپلائی کرنا شروع کیں اور یہ اب تیسرے فیز میں دنیا کی اہم جغرافیائی گزر گاہوں پر کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے یوں ہنرمندی‘ صنعت کاری اور راہ داری دنیا کے تینوں بڑے شعبے چین کے ہاتھ میں چلے جائیں گے‘ چین اس کے بعد چوتھا فیز شروع کرے گا‘ یہ چوتھے فیز میں دنیا کی تمام منڈیاں‘ ہول سیلزمارکیٹیں‘ شاپنگ سینٹرز اور ریٹیلرز شاپس اپنے ہاتھ میں لے گا جس کے بعد مصنوعات کی تیاری سے لے کر فروخت تک پوری زنجیر چین کے ہاتھ میں آ جائے گی اور دنیا اس کی محتاج ہو جائے گی‘ آپ آج بھی ریسرچ کر لیں۔

آپ کو چینی سرمایہ کار دنیا کے تمام بڑے ممالک کے بڑے شہروں کی منڈیوں پر قابض نظر آئیں گے‘ یہ قبضہ چوتھے فیز کی ابتدائی تیاریاں ہیں‘ یہ لوگ بڑی مارکیٹوں کے بعد چھوٹے ملکوں کی منڈیوں کی طرف آئیں گے اور پھر ان تمام منڈیوں کو آپس میں جوڑ کر اپنی اجارہ داری قائم کر لیں گے‘ چین 2049ء میں آزادی کی صد سالہ تقریبات منائے گا‘ یہ خود کو اس وقت دنیا کی واحد اقتصادی سپر پاور ڈکلیئر کرے گا لیکن یہ منصوبہ 2049ء تک مکمل ہوگا‘ ہم سرِدست اس 2016ء میں ہیں جس میں چین دنیا کی اہم اقتصادی راہ داریوں پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے اور ان اہم راہداریوں میں سے ایک راہ داری پاکستان سے بھی گزرے گی۔

ہم اب آتے ہیں ’’کیسے‘‘ کے جواب کی طرف‘ دنیا کوچین کے ان اہم منصوبوں میں بے شمار ماہرین نظر آتے ہیں‘ ان ماہرین کا ایک حصہ ان قیدیوں پر مشتمل ہے جنھیں چینی لاؤگائی اسکیم کے تحت ٹرینڈ کر رہے ہیں‘ حکومت قیدیوں کے سفری کاغذات بناتی ہے اور انھیں دوسرے ممالک کے چینی منصوبوں میں کھپا دیتی ہے یوں یہ قیدی دوسرے ملکوں کا راشن کھاتے ہیں‘ دوسرے ملکوں کا لباس پہنتے ہیں‘ دوسرے ملکوں کی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں‘ ہفتے میں سات دن کام کرتے ہیں اور ان کا معاوضہ چینی حکومت کے اکاؤنٹ میں چلا جاتا ہے‘ حکومت ان کی حفاظت‘ طبی معائنے اور جیل عملے کے اخراجات سے بھی بچ جاتی ہے‘ یورپ اور امریکا چین کی اس پالیسی کے مخالف ہیں۔

امریکا نے 2016ء میں چین کی تین بڑی کمپنیوں کی مصنوعات پر پابندی لگا دی‘ یہ کمپنیاں قیدیوں سے مصنوعات تیار کرا رہی تھیں لیکن میں چین کی لاؤ گائی اسکیم کا حامی ہوں‘ میں سمجھتا ہوں یہ ظلم کے اوپر مہا ظلم ہے کہ ایک شخص جرم کے بعد ریاست کا داماد بن جائے اور ریاست اسے دس بیس سال تک مفت رہائش‘ کھانا‘ طبی سہولتیں اور لباس بھی فراہم کرے اور اس کی حفاظت پر لاکھوں روپے بھی خرچ کرے‘ یہ جیل جیل اور یہ قید قید تو نہ ہوئی‘ پکنک ہوئی چنانچہ چین کا فیصلہ درست ہے‘ یہ قیدیوں کو ٹرینڈ کرتا ہے‘ ان کو کام پر لگاتا ہے‘ اپنے قیدیوں کے اخراجات دوسرے ممالک سے وصول کرتا ہے اور معاوضہ بھی لیتا ہے اور یہ رقم بعد ازاں جیلوں‘ پولیس اور عدالتوں پر خرچ ہو جاتی ہے۔

یہ عین عقل مندی ہے‘ ہم جیسے ملکوں کو بھی اس عقل مندی سے سیکھنا چاہیے‘ آپ کسی دن پاکستان کی پولیس‘ عدالت اور جیلوں کا تجزیہ کر لیں آپ سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے‘پاکستان میں ٹوٹل 3000 تھانے ہیں‘ ملک میں روزانہ اوسطاً 20 ہزار ایف آئی آرز اور شکایات درج ہوتی ہیں‘ عدالتوں میں 17 لاکھ کیس زیر التواء ہیں‘ ملک میں 87 جیلیں ہیں‘ ان جیلوں میں ڈیڑھ لاکھ قیدی بند ہیں‘ حکومت کو ہر سال جیلوں‘ عدالتی کارروائیوں اور تھانوں پر اربوں روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں‘ آپ قیدیوں کو دیکھیں‘یہ کتنے مزے میں ہیں؟ یہ جرم کرتے ہیں اور دس پندرہ سال کے لیے سرکار کے مہمان بن جاتے ہیں‘ حکومت انھیں گرم اور ٹھنڈا پانی بھی دیتی ہے‘ انھیں ہیٹر اور پنکھا بھی فراہم کرتی ہے۔

تین وقت مفت کھانا بھی دیتی ہے اور ان کے لباس‘ بستر اور ادویات کا بندوبست بھی کرتی ہے‘ملک میں یہ سہولتیں آزاد شہریوں کو دستیاب نہیں ہیں‘ کیا یہ پاکستان جیسے غریب ملک سے زیادتی نہیں؟ہماری حکومت قیدیوں کو چین کی طرح کام کیوں نہیں سکھاتی؟ یہ انھیں کام سکھائے اور سڑکوں‘ نہروں اور ڈیمز کی کھدائی پر لگا دے‘ ان سے ریلوے کی پٹڑیاں بچھوائے‘ ان سے مصنوعات کی پیکنگ کروائے اور ان سے چولستان اور تھر کے صحراؤں کو قابل کاشت بنوائے‘ یہ انھیں ایل او سی کی حفاظت اور مورچوں کی کھدائی پر ہی لگا دے‘ یہ ان سے افغانستان کی سرحد پر باڑ ہی لگوا لے۔

آپ ان کے بازوؤں پر ٹریکر لگائیں اور انھیں کام پر لگا دیں‘ یہ ملک کا اثاثہ بن جائیں گے‘ گلف کی ریاستوں کو بھی اونٹ‘ گائے اور مرغی کے فارمز میں ورکرز کی ضرورت ہوتی ہے‘ آپ گلف کے ممالک کے ساتھ ایگریمنٹ کریں‘ فارمز کے ٹھیکے لیں اور قیدیوں کو فارمز پر لگا دیں اور دنیا کو تیل اور گیس کی تلاش کے لیے بھی ورکرز کی ضرورت ہے‘ آپ قیدیوں کو آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کی ٹریننگ دیں اور انھیں ملک اور بیرون ملک کھپا دیں‘ آپ بھی چین کی طرح ان سرکاری دامادوں سے اربوں ڈالر کما لیں گے۔

ہماری حکومتوں کو یہ کام کرنے چاہئیں لیکن یہ نئے آرمی چیف کے لیے استخارے کروا رہی ہیں‘حکومت 18 اکتوبر تک نئے آرمی چیف کا اعلان کرنا چاہتی تھی لیکن استخارہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ نہ ہو سکا جس کے بعد حکومت نئے مخمصے کا شکار ہو گئی‘ سپریم کورٹ آج سے پانامہ لیکس کے خلاف درخواستوں کی سماعت شروع کر رہی ہے‘ عمران خان کے وکلاء سپریم کورٹ سے استدعا کر سکتے ہیں‘ وزیراعظم میاں نواز شریف پر کرپشن کے الزامات ہیں چنانچہ عدالت انھیں فیصلے تک اہم تقرریوں سے روک دے۔

سپریم کورٹ کے پاس اختیارات موجود ہیں‘ یہ سٹے آرڈر جاری کر سکتی ہے جس کے بعد وزیراعظم آرمی چیف سمیت کوئی اہم تقرری نہیں کر سکیں گے یوں حکومت کی بند گلی مزید تنگ ہو جائے گی‘ حکومت کوشش کے باوجود سرل المیڈا کے بحران سے بھی نہیں نکل پا رہی‘ یہ بحران بھی کسی نہ کسی کو لے کر ڈوبے گا‘ کراچی میں بھی گورنر عشرت العباد اور مصطفی کمال میں لڑائی شروع ہوچکی ہے۔

یہ لڑائی ایک ادارے کے دوشعبوں کی جنگ ہے اور یہ جنگ بھی حکومت کو نقصان پہنچائے گی چنانچہ میاں نواز شریف لاؤ گائی جیسی اسکیمیں بنانے کے بجائے ڈگڈگیوں اور ان ڈگڈگیوں پر ناچنے والے ریچھوں سے بچنے کی کوشش میں مصروف ہیں‘ ان کی ساری توانائیاں پانامہ پر خرچ ہو رہی ہیں جب کہ عوام حیرت سے دائیں بائیں دیکھتے ہیں اور پھر پوچھتے ہیں اصل کام کون کرے گا‘ ملک کون چلائے گا؟ عوام کو ان سوالوں کے جواب کون دے گا؟ حکومت کو ان جوابات کے لیے بھی جلد ہی استخارے کی ضرورت پڑ جائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔