مسائل سے چھٹکارے کا منصوبہ مگر …

سعد اللہ جان برق  جمعرات 20 اکتوبر 2016
barq@email.com

[email protected]

ایک بڑا ہی نایاب، ثواب درحساب اور ہم خرما و ہم ثواب قسم کا آئیڈیا دماغ میں آیا تھا جس سے ہمارا اپنا اور بہت سو کا بھلا ہو جاتا یوں کہئے کہ ثواب دارین والا معاملہ تھا ایک تیر اور کئی شکار بھی کہہ سکتے ہیں، صرف بہتوں کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام نہال ہو جاتے، سارے دکھ درد دور ہو جاتے لیکن ایک ’’اڑچن‘‘ آڑے آگئی۔

اڑچن اسکیم میں نہیں تھی بلکہ اگر اسکیم خیر و خیریت سے کامیاب ہو جاتی تو اس کے بعد آنے والی تھی، اسکیم تو بالکل سولہ آنے بے عیب و بے خطا تھی لیکن بعد میں آنے والی اڑچن نہایت خوف ناک تھی اس لیے چھوڑنا پڑا، وہ کسی نے کہا کہ چھری اگر سونے کی بھی ہو تو اپنے پیٹ میں بھونکنے کی تو نہیں ہوتی

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا
اگر اور جیتے رہتے تو کچھ اور  ہوتا

بے صبرے نہ ہوجائیے، ساری اسکیم مع تفصیلات و جزیات کے ہم آپ کو بتا دیں لیکن ذرا طبیعت کو سنبھلنے تو دیجیے ہمارا کتنا نقصان ہو گیا ہے کروڑ پتی بننے کا زرین موقع ہاتھ سے نکل چکا ہے تو کچھ سوگ وغیرہ تو بنتا ہی ہے لیکن داد دیجیے ہماری قربانی کی کہ ہم نے صرف پاکستان کے عوام کی بھلائی کو فوقیت دی اور کروڑ پتی ہوتے ہوتے رہ گئے

قسمت کی خوبی دیکھئے ٹوٹی کہاں کمند
دو چار ہاتھ جب کہ لب بام رہ گئے

ہوا یوں کہ ایک دن ہم اپنی مستقل شریک زندگی مفلسی کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ آخر اتنے نکمے نکھٹو ہم کیوں ہیں کہ پاکستان جیسے دولت خیز اور زرخیر ملک میں چاروں طرف گنگائیں بہہ رہی ہیں اور ہماری قسمت میں صرف چاٹنا لکھا ہے، کل کے لمڈے آکر کہاں سے کہاں نکل گئے اور ہم اسی ’’ادنیٰ‘‘ میں پڑے ہوئے ہیں۔ ’’ادنیٰ‘‘ ہمارے زمانے میں اسکول کے اس مرحلے کو کہتے تھے جسے آج کل کچی یا کچی پکی یا نرسری کہتے ہیں، حالانکہ ہم چہارم تک پہنچ گئے تھے لیکن ایک دکاندار جو راستے میں تھا اس کی نظر میں اسی کچی میں تھے۔

ہوتا یوں تھا کہ جب بھی ہم اس کی دکان سے کچھ لیتے یا وہ فارغ ہوتا تو پوچھتا … ایک دونا … ہم ’’دو‘‘ کہہ دیتے، پھر وہ کہتا دو دونے ہم چار کہہ دیتے، اس طرح ہم جواب میں جو بھی عدد بتاتے وہ اسی عدد کا دونا پوچھتا آخر سلسلہ ہندسوں کی حدود سے نکل جاتا تو ہم لاچار ہو جاتے، اس پر قہقہہ مار کر کہتا … تم تو ابھی تک اسی کچی میں ہو، جس طرح ہم اس دکاندار کے خیال میں کچی سے کبھی نہیں نکلے تھے، اسی طرح زندگی میں بھی کبھی مفلسی کی کچی سے نہیں نکل پائے، اپنی اس کچی کو لے کر ایک دن سوچا کہ کیوں نہ پٹڑی بدل لی جائے، ابھی تک تو ہم ’’قلم گوئد کہ من شاہ جہانم‘‘ کا بے حاصل و بے ثمر الاپ رہے تھے اور بندوق پر قلم کی جھوٹی برتری کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔

ذرا قلم کے بجائے دوسرے آپشن کو استعمال کر کے دیکھا جائے کیوں کہ دیکھ اور سن رہے ہیں کہ مفلسی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کا یہ بڑا ہی تیر بہدف نسخہ ہے، ظاہر بندوق کا انتخاب تو ہم نے کر لیا اب اسے استعمال کیسے کیا جائے، مطلب یہ کہ شکار ڈھونڈنے کا مسئلہ تھا جو تھوڑے سے غور و خوض کے بعد حل ہو گیا، یوں کہئے کہ غالب کی طرح غیب سے ’’مضامین‘‘ خیال میں آنے لگے، ہم نے سوچا بلکہ حساب لگایا کہ پاکستان کے عوام لگ بھگ بیس کروڑ ہیں اگر ان سے ایک روپیہ فی نفر چندہ جمع کریں تو سیدھے سادے بیس کروڑ ہو جائیں گے۔

ایک روپیہ تو تقریباً ہر کوئی ادا کر سکتا ہے بلکہ ان میں سے کم از کم دو چار لاکھ تو ایسے بھی ہوں گے کہ ہماری اسکیم سن کر خوشی سے اچھل پڑیں گے اور زیادہ بھی دے دیں گے، لیکن اس اضافی آمدن کو ہم نے ضروری سامان یعنی ایک بے خطا قسم کی کلاشن کوف یا اے کے فار ٹی سیون، ایک تیز رفتار گاڑی ایک مستعد ڈرائیور اور آٹھ دس پیٹیاں کارتوسوں کے لیے رکھلیں، اب آپ سوچیں گے کہ پاکستان کے لوگ کس بات سے پریشان ہیں؟ مسائل سے؟ جو ویسے تو ہزاروں ہیں لیکن مسائل کی وہ مرغیاں زیادہ سے زیادہ ہزار دو ہزار ہوں گی۔

چلیے تین ہزار کر لیجیے جو سارے مسائل کی ماں ہیں جنھیں آپ انگریزی میں ’’مدر پرابلم‘‘ یا مین پرابلم کہہ سکتے ہیں، بس اتنا سنانا ہی تو کام تھا کہ ہم گاڑی میں بیٹھتے کلاشن کوف لوڈ کرتے اور شہر بھر پھرتے ہوئے چن چن کر ان ’’مسائل‘‘ میں ایک ایک دو دو گولیاں تقسیم کرتے، پورے ملک میں ’’مسائل‘‘ ڈھونڈے اور پھر گولی مارنے کے لیے تو آٹھ دس بھی کافی ہیں لیکن ہم نے ایک مہینہ رکھ لیا کیوں کہ کچھ ’’مسائل‘‘ کے یہاں وہاں ہونے یا بیرون ملک جانے کے بھی امکانات ہو سکتے تھے اور آج کل تو کچھ ’’مسائل‘‘ نے اپنے اردگرد کانٹا تار یا زندہ انسانوں کی باڑھ لگانے کا فیشن بھی اپنایا ہوا ہے لیکن ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ یہ محض دکھاوا اور رائج الوقت فیشن ہے ورنہ بوقت ضرورت یہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ جاتا جب لاد چلتا ہے بنجارہ

اپنے ’’انجام‘‘ سے مفر کس کو
تیر پر اڑ کے بھی نشانے لگے

مطلب یہ کہ کل ایک مہینے کا کام تھا پاکستان کے عوام کو دانت کے درد یعنی ’’مسائل‘‘ سے نجات مل جاتی اور ہم بیس کروڑ لے کر مفلسی کی ایسی کی تیسی کر دیتے، لیکن یہ سب کچھ کر چکنے کے بعد اچانک ذہن میں اچانک وہ کم بخت خیال نا جانے کہاں سے آ کودا، وہ کم بخت، تیرہ بخت اور حد درجہ سخت سخت خیال یہ تھا کہ پاکستان میں ویسے بھی مزار پرستی عام ہے اور اگر صاحب مزار یا صاحبہ مزار کے ساتھ کسی نہ کسی اینگل سے ’’شہادت‘‘ کا اضافی مرتبہ بھی ہو تو وارثین کے وارے نیارے ہو جاتے، آپ نے دیکھا ہی ہو گا کہ ایسی کوئی پارٹی یا جماعت نہیں ہے جس کے پاس کیش کرنے کے لیے کوئی مزار نہ ہو، بلکہ اکثر کے پاس تو دو دو مزار بھی ہیں اور تیسرے کے لیے ’’شہید‘‘ تیار کر رہے ہیں۔

شاید آپ سوچ رہے ہوں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے پاس تو کوئی مزار نہیں ہے تو آپ غلطی پر ہیں ان کے پاس بھی دو مزار ہیں ایک ’’تبدیلی‘‘ کا جو کے پی کے میں مرجع خلائق ہے اور ایک نیا پاکستان جو بنی گالہ کے ایک ٹیلے پر واقع ہے بلکہ عمران خان کو اس مرتبے پر فائز کرنے کے لیے تگ و دو کی جا رہی ہے، چنانچہ ہم نے سوچا اور بالکل بروقت اور بجا سوچا کہ اس طرح تو ’’مسائل‘‘ کو شہید کر کے ہم بے چارے عوام پر دہرا عذاب مسلط کر دیں گے کیوں کہ شہادت کے لیے کوئی خاص کوالی فیکشن تو مقرر نہیں ہے، صرف عقیدت مندوں اور مجاورین کا ہونا ضروری ہے اور وہ اس ملک میں ایک ڈھونڈو ہزار مل جاتے ہیں اس لیے ہم نے اس نہایت ہی نفع آور اور ثمر بار منصوبے کو تیاگ دیا کہ

تاب نظارہ نہیں آئینہ کیا دیکھنے دوں
اور بن جائیں گے تصویر جو حیراں ہوں گے

ایسا ایک طریقہ تو ہے کہ مسائل بھی حل ہوں اور مزار شریف بھی نہ بنیں بلکہ وہ بڑا مہنگا ہے امریکیوں نے اسامہ بن لادن کے سلسلے میں یہ طریقہ استعمال کیا تھا لیکن وہ ہم جیسے اماشما کے بس میں نہیں ہے، اس کے لیے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کی ضرورت ہو گی جس پر بے پناہ خرچہ آتا ہے اور ہم پاکستان کے بے چارے عوام کو زیادہ زیر بار نہیں کرنا چاہتے حالاں کہ ہمیں ایک سو ایک فیصد ان پر بھروسہ ہے کہ وہ اس کے لیے بھی تیار ہو جائیں گے کیوں کہ ’’مسائل‘‘ نے ان کو جس حال پر پہنچایا ہے کہ پشتو کہاوت کے مطابق جب موت آتی ہو تو انسان ’’بخار‘ کے لیے خوشی خوشی راضی ہو جاتا ہے بلکہ اس میں ایک اور پرابلم بھی پیش آسکتی ہے ’’مسائل‘‘ کو دور سے نشانہ بنانا تو آسان ہے لیکن پھر مسائل کی لاشوں کو ڈھو کر کیفر کردار تک پہنچانا قطعی ممکن نہیں ہے۔

ہم وہ آدمی کہاں سے لائیں گے جو اتنی بدبو دار اور بھاری لاشوں کو ڈھونے بلکہ چھونے پر تیار ہو جائیں گے، اس لیے فی الحال مسائل کے اس شافی حل کو ملتوی کیا جاتا ہے کہ بے چارے عوام کو برباد کرنے کے لیے موجودہ مزارات بھی کافی سے زیادہ ہیں اگر کچھ اور بھی بن گئے تو؟ اگر اس سے کوئی بہتر منصوبہ ذہن میں مسائل سے چھٹکارے کا آگیا تو ہم کریں نہ کریں ہم فوراً آپ سے شیئر کر لیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔