پناہ گاہ

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 20 اکتوبر 2016
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

برطانوی پریس کے مطابق روس نے امریکا کی طرف سے ممکنہ جوہری حملے سے تحفظ کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ تیار کر لی ہے، جس میں 12 ملین افراد پناہ لے سکتے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر 12 ملین افراد جوہری حملے سے محفوظ ہوجائیں گے تو باقی آبادی کا تحفظ کس طرح ہوگا؟

یوکرین کے مسئلے پر اختلاف کی وجہ سے امریکا نے روس پرجو پابندیاں لگائی ہیں۔ اس کے خلاف روسی صدر ولادی میرپوتن  نے امریکا سے نیوکلیئر توانائی و تحقیقاتی معاہدہ ملتوی کردیا ہے۔ روسی صدر نے روس اور امریکا کے درمیان پلاٹینیم کو ناکارہ بنانے کے معاہدے کو ملتوی کرنے کے حوالے سے بھی ایک قرارداد پر دستخط کر دیے ہیں۔

روس ماضی کی ایک سپر طاقت ہے اور امریکا موجودہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے۔ اس حوالے سے ان دونوں ملکوں کی یہ اخلاقی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ دنیا میں آباد 7 ارب انسانوں کے تحفظ اور خوشحالی کو اپنا فرض سمجھیں لیکن ہو یہ رہا ہے کہ یہ دونوں بڑے ملک کسی نہ کسی حوالے سے برسر پیکار رہتے ہیں، کرہ ارض پر بسنے والے 7 ارب انسانوں کو ان  بڑے ملکوں نے یرغمال بنارکھا ہے۔ دنیا میں جوہری ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخیرے ان دونوں ملکوں کی تحویل میں ہیں اور اگر خدانخواستہ ان دونوں ملکوں کے درمیان موجود اختلافات جنگ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں توکیا اس امکان کو روکا جاسکتا ہے کہ اس قسم کی جنگوں میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوں گے؟

امریکا اور روس چین سمیت دنیا کے کئی ملکوں نے شمالی کوریا کے ایٹمی تجربوں کی مذمت کی ہے اور اس حوالے سے مغربی ملکوں نے شمالی کوریا پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان اختلافات موجود ہیں اور ان اختلافات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا خطرہ ہے اور اگر جنگ ہوئی تو اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جانے کا خطرہ ہے۔

اسرائیل ایک بڑے ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کا مالک ہے۔ اسرائیل اور عرب ملکوں کے درمیان شدید اختلافات موجود ہیں ماضی میں ان دو طاقتوں کے درمیان خوفناک جنگیں ہوتی رہی ہیں۔ ان جنگوں میں اسرائیل نے عربوں کے کئی علاقوں پر قبضہ کیا تھا۔ گولان کا پہاڑی علاقہ اب بھی اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ آبادی رقبے اور وسائل کے حوالے سے عرب ملک اسرائیل سے بہت بڑی حیثیت رکھتے ہیں لیکن فوجی طاقت خصوصاً ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کو پوری عرب دنیا پر برتری حاصل ہے۔

ایران نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی برتری کا مقابلہ کرنے کے لیے ایٹمی ہتھیار تیارکرنے کے ایک پروگرام پر عملدرآمد شروع کیا تو اس کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں نے اس قدر سخت اقتصادی پابندیاں لگا دیں کہ اس کی معیشت تباہی کے کنارے پر پہنچ گئی اور آخرکار ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام سے دستبردار ہونا پڑا۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کشمیر کے مسئلے پر تین تباہ کن جنگیں لڑی جا چکی ہیں اور آج کل مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا عالم یہ ہے کہ دونوں ملک  ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں اور لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے بلکہ لائن آف کنٹرول کے قریب کی آبادیوں کو ان کی جگہ سے اندرونی علاقوں میں منتقل کردیا گیا ہے۔

دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں اور اس خطرے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہوئی تو اس میں ایٹمی ہتھیار استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس خطرے کا امکان یوں ہے کہ پاکستان روایتی فوجی طاقت کے حوالے سے بھارت سے کمزور ملک ہے دونوں ملکوں کی فوجی طاقت میں 5-1 کا تناسب بتایا جاتا ہے۔ اس صورتحال میں اگر دونوں ملکوں کے درمیان خدانخواستہ جنگ چھڑ جاتی ہے تو کیا یہ جنگ ایٹمی جنگ میں نہیں بدل سکتی؟

روس اور امریکا کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کرنے کا معاہدہ موجود ہے جس پر انتہائی سست رفتاری سے عمل ہو رہا ہے اور اس معاہدے پر عملدرآمد ہوتا بھی ہے تو دونوں ملکوں کو معاہدے کے مطابق ایک مخصوص تعداد میں جوہری ہتھیار رکھنے کا حق حاصل ہوگا اور یہ مخصوص تعداد اتنی ہوگی کہ اس کے استعمال سے دنیا کئی بار تباہ ہوسکتی ہے۔

1945 میں دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا نے جاپان کے دو شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر آج کے ایٹم بموں سے بہت کم طاقت والے صرف دو بم استعمال کیے تھے جس کے نقصان کے اندازے سے انسانوں کی روح فنا ہوجاتی ہے۔ اس پس منظر میں اگر آج کی دنیا میں موجود ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے کا اندازہ کیا جائے تو احساس ہوتا ہے کہ کرہ ارض ایٹمی ہتھیاروں کے ڈھیر پرکھڑا ہوا ہے اور کسی بھی احمقانہ غلطی پر کرہ ارض کے 7 ارب انسانوں کی جانیں داؤ پر لگ سکتی ہیں۔

دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ غربت ہے دنیا کے 80 فیصد انسان دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کررہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ ساری دنیا کے ملکوں کا دفاعی بجٹ ہے اور اس دفاعی بجٹ پر خرچ ہونے والے کھربوں ڈالر اگر دنیا سے غربت کے خاتمے پر استعمال کیے جائیں تو غربت کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن نہ روس کو غربت کی فکر ہے نہ امریکا کو غربت سے کوئی پریشانی ہے کیونکہ نہ صرف روس اور امریکا بلکہ ساری دنیا پر اس سرمایہ دارانہ نظام کی حکمرانی ہے جسے کھربوں ڈالر کے ہتھیار بنانے اور بیچنے کی ضرورت ہے اس کے لیے جنگوں اور علاقائی جنگوں کا ماحول درکار ہے۔

روس نے ایک پناہ گاہ بناکر اپنے 12 ملین شہریوں کے تحفظ کا اہتمام کرلیا ہے لیکن باقی  روسی آبادی کا کیا ہوگا؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ دنیا کے حکمران سرمایہ دارانہ نظام کے سہولت کار ہیں ان کی جگہ جب تک آفاقی وژن رکھنے والے لوگ نہیں لیں گے اس وقت تک کرہ ارض بارود کا ڈھیر بنا رہے گا اور 7 ارب انسان غیر محفوظ رہیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔