سندھ میں 40 فیصد بچے ناکافی غذا اور وزن میں کمی کے شکار

ویب ڈیسک  بدھ 19 اکتوبر 2016
سندھ میں 40 فیصد بچے اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزنی ہیں اور 73 فیصد خون یا فولاد کی کمی کے شکار ہیں۔ فوٹو: فائل

سندھ میں 40 فیصد بچے اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزنی ہیں اور 73 فیصد خون یا فولاد کی کمی کے شکار ہیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی: سندھ کے محکمہ برائے منصوبہ بندی اور ترقی کے غذائی کوآرڈینیٹر ڈاکٹر ثمر میمن کا کہنا ہےکہ پاکستان میں ہر دوسرا بچہ اپنے پورے قد پر نہیں جس کا مطلب ہے کہ شدید غذائی قلت سے اس کی معمول کی نشوونما متاثر ہوئی ہے جو آگے چل کر جسمانی اور دماغی نشوونما کو متاثر کرتی ہے۔

ڈاکٹر ثمر میمن نے سال 2011 میں قومی غذائیت کے سروے  ( این این ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سندھ میں 5 سال کم عمر کے بچے غذائی کمی کی وجہ سے بونا پن ( اسٹنٹیڈ) کے شکار ہیں، 40 فیصد اپنی عمر کے لحاظ سے کم وزنی ہیں اور 73 فیصد خون یا فولاد کی کمی کے شکار ہیں، مختصراً صوبہ سندھ کے 40 فیصد بچے بھوک اور غذائی کمی کے شکار ہیں۔

ڈاکٹر ثمر میمن نے کہا کہ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سندھ اور عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے تحت غذائیت بڑھانے کا ایک پروگرام ترتیب دیا گیا ہے جسے ( ایس یو این) کا نام دیا گیا ہے۔ ایس یو این میں غذائیت کے ماہر اسلم شاہین نے کہا کہ یہ ایک تحریک ہے جس میں حکومتی افسران، سماجی افراد، تاجر اور سائنسداں وغیرہ ملکر سندھ میں غذائیت کو بہتر بنائیں گے۔ پروگرام کے قائم مقام ملکی سربراہ اسٹیفن گلوننگ نے کہا کہ سندھ میں ہر تین میں سے دو خاندان غذائیت سے بھرپور کھانا خریدنے کی سکت نہیں رکھتا۔

اس موقع پر سندھ میں منصوبہ بندی اور ترقی کے وزیر ہزار خان بجارانی کا کہنا تھا کہ غذائی قلت دور کرنے کے لیے مختص سال 2016 اور 2017 پروگرام کے لیے ایک ارب روپے کی رقم رکھی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایس یو این پروگرام اس وقت دنیا کے 57 ممالک میں جاری ہے اور اس کی بنیاد 2010 میں رکھی گئی تھی ۔ پروگرام کے تحت ہر انسان کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ پیٹ بھر کے کھائے اور ضروری غذائی اجزا کو اپنی خوراک کا حصہ بنائے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔