بھارتی جنگی جنون ‘ بھارت باز آجا!

ڈاکٹر محمد طیب خان سنگھانوی  جمعرات 20 اکتوبر 2016
drtayyabsinghanvi100@gmail.com

[email protected]

بھارت کا جوجنگی وایٹمی جنون پاگل پن کی انتہا کو پہنچ گیا ہے وہ اگر خدانخواستہ کسی بڑی جنگ کی صورت اختیارکرگیا تو پھر یہ دونوں ممالک کے ساتھ پوری دنیا پر بھی اس کے خطرناک اثرات ہوں گے۔ دنیا میں اور بھی ایٹمی ممالک ہیں جن کی وجہ سے پوری دنیا ایٹمی یرغمال بن چکی ہے۔ اس کرہ ارض پر انسان نے خطرناک ارتقائی سامان جمع کرلیا ہے، جیسے جارحیت اور رسم پرستی کی طرح موروثی رجحان اور رہبروں کی اطاعت اورغیرملکیوں سے معاندانہ رویہ وغیرہ۔ اس طرز عمل نے ہماری بقا کو خطرے سے دوچارکردیا ہے۔

ہر سوچنے سمجھنے والا شخص ایٹمی جنگ سے خوف کھاتا ہے اور پھر بھی ہر تکنیکی ریاست اس کی منصوبہ بندی کرتی ہے، ہر ایک جانتا ہے کہ یہ پاگل پن ہے اور اس کے باوجود ہر قوم کے پاس اس کا عذر موجود ہے۔ یہ عذر خواہی کا ایک بڑا بے کیف سلسلہ ہے۔ مثال کے طور پر جرمن ایٹم بم کی تیاری پر دوسری جنگ عظیم کے آغاز سے ہی کام کررہے تھے لہٰذا امریکیوں کو جرمنوں کے مقابلے میں پہل کرنا پڑی۔ جب امریکیوں نے ایٹم بم بنایا تو روسی کیوں پیچھے رہتے؟ اور پھر برطانیہ، فرانس، چین، اسرائیل، بھارت، پاکستان، جنوبی اور شمالی کوریا غرض اکیسویں صدی کے آغاز تک کئی اقوام نے ایٹمی ہتھیار جمع کرلیے ہیں۔

ہندوستان کی تقسیم کے نتیجے میں پانچ مسلم اکثریتی علاقے پاکستان کے حصے میں آئے جس کے بموجب کشمیر بھی پاکستان کو ملنا چاہیے تھا۔ کشمیر کا مہاراجہ ہری سنگھ بھی ایسا ہی سمجھتا تھا مگر ہندوستان نے برطانوی حکومت پر اپنے گہرے اثر و رسوخ کی بدولت پاکستان کے ساتھ کشمیر کا الحاق نہیں ہونے دیا۔ ناچار کشمیریوں نے اکتوبر 1947ء میں پہلی مرتبہ اپنے حق کی خاطر ہتھیار اٹھائے اور مہاراجا کے سپاہیوں کو للکارا اور دارالحکومت سری نگر کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور صرف چند دنوں میں مظفر آباد کے علاقے پر قبضہ کر لیا اور 24 اکتوبر 1947ء کو آزاد کشمیرکے نام سے اپنی حکومت قائم کرلی، حالات کو بگڑتا دیکھ کر مہاراجا 25 اکتوبر 1947ء کو جموں بھاگ گیا کیونکہ اس کے خلاف اٹھنے والی تحریک روز بہ روز طاقت پکڑتی جا رہی تھی۔

جموں پہنچ کر اس نے بھارت سے رابطہ کیا اور فوجی مدد مانگ لی جو بھارت کی جانب سے دوسرے ہی دن 27 اکتوبر سے فراہم ہونی شروع ہوگئی اس مدد کے نتیجے میں مہاراجا نے بھارت سے الحاق کا نام نہاد معاہدہ بھی کرلیا مگر یکم نومبر 1947ء کو قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات میں، واضح کر دیا کہ ’’کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق جائز نہیں ہے کیونکہ اس کی بنیاد دھوکا دہی اور تشدد پر رکھی گئی ہے‘‘ بہرحال حریت پسندوں نے بھارتی مداخلت کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور ریاست کا ایک تہائی حصہ آزاد کرانے میں کامیاب رہے۔

بھارت حریت پسندوں کی جدوجہد آزادی سے اس قدرخوفزدہ ہوا کہ اس نے اقوام متحدہ سے کشمیر میں رائے شماری کرانے کا وعدہ کرکے یکم جنوری 1949ء میں جنگ بندی کرالی لیکن بھارت نے وعدہ خلافی کی اور وعدے کی تکمیل کے برعکس کشمیر پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں لگ گیا اور اپنے آئین میں بذریعہ دفعہ 370 کشمیر کی ریاست کو امتیازی حیثیت دے دی اور ریاست پر اپنی گرفت مستحکم ہونے کے بعد اس نے اس دفعہ کے ذریعے کشمیر کو امتیازی حیثیت دینے والی شق اپنے آئین سے خارج کردی اور یکم اگست 1953ء کو ریاست کے وزیراعلیٰ شیخ عبداللہ کو جیل میں ڈال دیا، جہاں انھیں پانچ سال تک قید رکھا گیا۔

بھارت نے مزید برآں کشمیر کو متنازع علاقہ مانتے رہنے سے انکار کردیا اور اسے اپنا اٹوٹ انگ قرار دے دیا تب سے کشمیری حریت پسندوں کا مقابلہ کشمیرکے مہاراجا کے بجائے ہندوستان سے شروع ہوگیا لیکن ہندوستان کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو کی 2 نومبر 1947ء کی تقریر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔

اس تقریر میں نہرو نے کہا تھا ’’ہم یہ واضح کرچکے ہیں کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ حتمی طور پرکشمیر کے عوام ہی کریں گے، ہم نہ صرف جموں اور کشمیر بلکہ تمام دنیا سے یہ وعدہ کرچکے ہیں اور مہا راجا نے اس کی حمایت کی ہے، ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور نہ ہٹیں گے، جب امن و امان بحال ہوجائے تو ہم عالمی نگرانی میں، جیسے اقوام متحدہ، ریفرنڈم کرانے کے لیے تیار ہیں، ہم چاہتے ہیں یہ شفاف اور منصفانہ ریفرنس ہو اور ہمیں ان کا فیصلہ قبول ہوگا۔‘‘ لیکن بھارت نے اپنے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو کی تقریر کے برعکس کیا۔

اس نے مہا راجا کے ساتھ سازش کرکے نہ صرف کشمیر پر قبضہ کرلیا بلکہ ہولناک ظلم و بربریت کی تاریخ رقم کر رکھی ہے اور مسلسل کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے ۔ 1965ء کی جنگ اسی وجہ سے ہوئی جس میں بھارت نے ہزیمت اٹھائی، اس کی بحریہ کا ہیڈ کوارٹر دوارکا تباہ ہوگیا، پھر اسے اپنی استطاعت سے بڑی فوج بنانی پڑی، سیاچن اورکارگل کے محاذ کھولنے اور ایٹم بم بنانے پڑے، بھارت اگر رائے شماری کرادے تو اپنی ہولناک اور بیش قیمت جنگی و دفاعی تیاریوں سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔

بھارت کو 2 جولائی 1972ء میں طے پانے والے شملہ معاہدے کی روشنی میں تمام تنازعات کو نمٹانے، مسئلہ کشمیرکے حتمی حل اور پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنانا چاہیے لیکن ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافی کی بدولت مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ اور گمبھیر ہوتا جا رہا ہے اور وہاں مظالم کی جو بھیانک تاریخ رقم ہو رہی ہے۔ اس کا اقرار 19 مارچ1998ء میں مقبوضہ کشمیر کے گورنرکرشنا راؤ نے ان الفاظ میں کیا کہ ’’بھارتی افواج کشمیر میں قتل عام کی ذمے دار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہیں۔‘‘

پاکستان کے لیے کشمیر کی اہمیت صرف اس وجہ سے نہیں کہ وہاں سے پاکستانی دریاؤں کو پانی ملتا ہے بلکہ اس بنا پر ہے کہ اہل کشمیر خود پاکستان کا حصہ بننے کے دیرینہ خواہش مند ہیں۔کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور بھارت کی طرح پاکستان بھی ایک عظیم ایٹمی قوت ہے اقوام متحدہ کے علاوہ دنیا کے تمام ممالک بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہیں اور روز اول کی طرح آج بھی کشمیریوں کی تحریک آزادی جاری ہے اور حریت پسند کشمیری کسی بھی قیمت اور کسی بھی صورت میں اس سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔

ہندوستان کے لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ وہ گاندھی جی کے ’’فلسفہ عدم تشدد‘‘ کو پیش نظر رکھتے ہوئے ضد اور ہٹ دھرمی کو ترک کرکے پاکستان کی شہ رگ پر ظلم و بربریت کی تلوار چلانا اب بند کرے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق فوری طور پر حل کرے اور خطے کی بقا، سلامتی اور ترقی میں مزید رکاوٹ نہ بنے، یقینی طور پر مستقبل قریب میں اس خطے کی خوشحالی کا تمام تر انحصار بھارت کے مثبت یا منفی رویوں پر ہے۔

مودی کے ہاتھ بھارتی مسلمانوں کے خون سے رنگین ہیں، اسے اقتدار میں لانے کا مقصد بدلتے حالات کے تناظر میں پاکستان کو مسلسل دباؤ میں رکھنا ہے تاہم اکثر اسلامی اور بعض عالمی مفکرین کا مشترکہ خیال ہے کہ یہ تمام درحقیقت وہ حالات ہیں جن کا تذکرہ احادیث میں ’’غزوہ ہند‘‘ کے حوالے سے محفوظ ہے۔

بھارت میں اکھنڈ بھارت کا تصور بھارتی حکمرانوں کا مذہبی، حکومتی اور عسکری جنون و ایجنڈا ہے اور بھارتی توسیع پسندانہ عزائم کا پیش خیمہ بھی ہے اسی طرح گریٹر اسرائیل کے منصوبے کی حدود ریاست مدینہ تک وسیع ہیں۔ جب کہ قرب قیامت کے حوالے سے احادیث میں مسلمانوں کی تمام عالم پر حکمرانی ثابت شدہ روشن حقائق ہیں جن سے غیر مسلم اور ان کے بڑے تھنک ٹینک بھی شدید خوفزدہ ہیں اور خوب جانتے ہیں کہ ہو گا وہی جو مسلمانوں کا کتب میں بانی اسلامؐ کی مستقبل قریب اور قرب قیامت کی پیش گوئیوں کے حوالے سے مذکور ہے، مکتوب ہے، کفر خواہ کتنا ہی زور لگالے بالآخر جیت اسلام اور پیروکاران اسلام ہی کی ہوگی، اللہ کا مومنوں سے وعدہ ہے کہ ’’تم ہی غالب رہوگے اگر تم سچے مومن ہو‘‘ پس شرط اولین سچا مومن ہونا ہے، کیا ہم سچے مومن ہیں ؟ اگر نہیں تو اللہ اس بات پر قادر ہے کہ جلد ہی ہماری جگہ سچے مومن لاکھڑا کرے جو اس کے فرمانبردار مطلق ہوں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔