ٹیلی کام فاؤنڈیشن میں اعلیٰ عہدیدار کی ڈگری جعلی؟

خصوصی رپورٹر  جمعرات 20 اکتوبر 2016
وجہ پاک ڈیٹا کام میں بے قاعدگیوں کی انکوائری دبانا ہے، ذرائع، اسناد جعلی نہیں، محمد ریاض۔ فوٹو: فائل

وجہ پاک ڈیٹا کام میں بے قاعدگیوں کی انکوائری دبانا ہے، ذرائع، اسناد جعلی نہیں، محمد ریاض۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماتحت ادارے ٹیلی کام فاؤنڈیشن میں جعلی ڈگریوںکے حامل ملازمین کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے قائم مقام جنرل منیجرمحمد ریاض کی اپنی بی بی اے کی ڈگری مشکوک ہے اور اسی ڈگری کی بنیاد پر انہیں نہ صرف قائم مقام جنرل منیجر ایڈمن کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی ان پر بہت سی نوازشات کی گئی ہیں اور انہیں جی ایم ایڈمن کے ساتھ جنرل منیجر پروجیکٹس، جنرل منیجر آؤٹ سائیڈ پلانٹ ساؤتھ اسلام آباد کے علاوہ بلڈنگ ایڈمنسٹریٹر کے چارج بھی دے رکھے ہیں جو خلاف ضابطہ ہے۔

ذرائع کے مطابق انجینئرز سمیت مطلوبہ اہلیت کے لیے موجود دیگر افسران کے باوجود مذکورہ افسر کو 4 قائم مقام عہدوں کا چارج دینے کی بنیادی وجہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے ادارے پاک ڈیٹا کام میں کروڑوں روپے کی بے قاعدگیوں و بدعنوانیوں کی انکوائری کو دبانا ہے، وہ ٹیلی کام فاؤنڈیشن اور اس کے ذیلی اداروں میں ہونے والی بے قاعدگیوں سے متعلق معاملات کی فائلوں کو دبا رہے ہیں تاہم اس بارے میںجب قائم مقام جنرل منیجر ایڈمن محمد ریاض سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ 2011-12 میں بھی ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کی گئی تھی اور اس وقت 149 ملازمین کی ڈگریوں کی تصدیق کرائی گئی، اس کے بعد ایف آئی اے نے بھی ان کی ڈگریوں کی تصدیق کی ہے ، ان کی بی بی اے کی ڈگری سمیت دیگر اسناد وڈگریاں اصلی ہیں، وہ اپنی ڈگریاں میڈیا کے سامنے بھی پیش کرنے کو تیار ہیں۔

اس بارے میں جب ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے امور کی دیکھ بھال کرنے والے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ایم ڈی آفتاب احمد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے قائم مقام ایم ڈی کا چارج نہیں بلکہ انھیں اس کے روزمرہ امور دیکھنے کی ذمے داری سونپی گئی ہے اور توقع ہے کہ جلد نیا ایم ڈی ٹیلی کام فاؤنڈیشن تعینات ہوجائے گا اور وہ چارج سنبھال کر ٹیلی کام فاؤنڈیشن کے مذکورہ بالا معاملات دیکھیں گے اور کوئی پالیسی سطح کا فیصلہ کریں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔