چیمپئنز ٹرافی، شائقین پاک بھارت میچ کے ٹکٹس پر ٹوٹ پڑے

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 20 اکتوبر 2016
مجموعی 15 میں سے 11 میچز کے کم از کم ایک شرح قیمت کے ٹکٹوں کیلیے قرعہ اندازی ہوگی۔ فوٹو؛ فائل

مجموعی 15 میں سے 11 میچز کے کم از کم ایک شرح قیمت کے ٹکٹوں کیلیے قرعہ اندازی ہوگی۔ فوٹو؛ فائل

دبئی: آئندہ برس انگلینڈ میں شیڈول چیمپئنز ٹرافی میں پاک، بھارت میچ کے ٹکٹس پر شائقین ٹوٹ پڑے، آئی سی سی کواس حوالے سے سب سے زیادہ درخواستیں موصول ہوئی ہیں، ایونٹ کیلیے مجموعی طور پر4 لاکھ 17 ہزار ٹکٹوں کی درخواستیں سامنے آئیں، 15 میں سے 11 میچز کی ٹکٹوں کیلیے حکام کو زائد درخواستیں ملیں، لہٰذا فیصلہ قرعہ اندازی کے ذریعے ہوگا، باقی ٹکٹیں27 اکتوبر کو دوپہر 2 بجے سے فروخت کیلیے پیش کردی جائیں گی، کونسل نے شائقین کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی مایوسی سے بچنے کیلیے ٹکٹیں آفیشل ذرائع سے ہی حاصل کریں۔

تفصیلات کے مطابق چیمپئنز ٹرافی ٹکٹس کیلیے آئی سی سی کو60 ممالک سے 417,000 ٹکٹس درخواستیں موصول ہوئیں، زیادہ تر لوگوں نے پاکستان اور بھارت میچ کے ٹکٹ طلب کیے ہیں، انگلینڈ بمقابلہ آسٹریلیا میچ اور فائنل میں بھی لوگوں نے خاصی دلچسپی دکھائی ہے، ان میچز کی ہر شرح قیمت میں حکام کو زائد درخواستیں ملیں۔

میزبان اور بنگلہ دیش کے افتتاحی میچ جبکہ بھارت اور جنوبی افریقہ مقابلے میں بھی شائقین نے گرمجوشی ظاہر کی، منصفانہ تقسیم کیلیے زائد درخواستیں موصول ہونیوالے میچز کی ٹکٹس قرعہ اندازی کے ذریعے فروخت کی جائیں گی، مجموعی 15 میں سے 11 میچز کے کم از کم ایک شرح قیمت کے ٹکٹوں کیلیے قرعہ اندازی ہوگی، کامیاب شائقین کو بذریعہ ای میل آگاہی دی جائے گی۔

ری سیل ٹکٹ آئندہ برس فروری میں شائقین کو پیش کیے جائیں گے، جمعرات 27 اکتوبر سے بذریعہ ای میل پہلے آئیے اور پہلے پایے کی بنیاد پر باقی میچز کے ٹکٹ بھی فروخت کیے جائیں گے، ایونٹ کا آغاز اوول میں یکم جون کو ہوگا جبکہ فائنل 18 جون کو شیڈول ہے، کارڈف کو سیمی فائنلز سمیت چار میچز کی میزبانی سونپی گئی ہے، اس میں پاک، بھارت معرکے کے علاوہ انگلینڈ اور آسٹریلیا کا میچ بھی شامل ہے۔

آئی سی سی چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ رچرڈسن نے کہا کہ ہمیں شائقین کے شاندار ردعمل کو دیکھ کر خوشی ہوئی ، اس میں برطانیہ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے لوگوں نے حصہ لیا،ہر میچ میں شائقین کی دلچسپی چیمپئنز ٹرافی فارمیٹ کی مقبولیت کو ظاہر کرتی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔