خالصتان تحریک کے سربراہ کا جیل سے فرار

ایڈیٹوریل  منگل 29 نومبر 2016
۔ فوٹو: فائل

۔ فوٹو: فائل

بھارتی ریاست پنجاب کے ضلع پٹیالہ میں جیل پر نامعلوم افراد نے حملہ کرکے علیحدگی پسند خالصتان تحریک کے سربراہ ہرمیندر سنگھ منٹو سمیت چھ قیدیوں کو چھڑا لیا اور فرار ہو گئے۔ نائب وزیراعلیٰ مشرقی پنجاب سکھبیر سنگھ نے اپنی حکومت کی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے واقعہ میں پاکستان کے ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا، ڈی جی جیل سمیت 4افسران کو فرائض میں غفلت برتنے پر معطل کر دیا گیا اور مفروروں کی اطلاع دینے والے کے لیے 25لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا۔

47سالہ ہرمیندر سنگھ منٹو پر بھارتی پنجاب کے مختلف علاقوں میں دس سے زائد دہشت گرد حملوں میں ملوث ہونے اور خالصتان کی آزادی کے لیے سرگرم سکھ جنگجوؤں کی مالی اعانت کرنے کے الزامات ہیں‘ 2008ء میں ان کے خلاف سکھوں کے متنازعہ گرو رام رحیم سنگھ پر قاتلانہ حملے اور 2010ء میں بھارتی فضائیہ کے ہلواڑہ بیس سے ہتھیار لوٹنے کے بھی الزامات عائد کیے گئے۔

ہرمیندر سنگھ 90کی دہائی کے وسط میں خالصتان کی آزادی کی تحریک میں سرگرم ہوئے اور خالصتان لبریشن فورس میں شامل ہو گئے‘ وہ ایک طویل عرصہ بیرون ملک روپوش رہے‘ 2014ء میں بھارت اچانک واپس آنے پر پنجاب پولیس نے ہرمیندر سنگھ کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا۔ اس وقت بھارت کی مختلف ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں جن میں مشرقی پنجاب میں چلنے والی خالصتان تحریک بھی شامل ہے‘ خالصتان لبریشن فورس کی بنیاد 1986ء میں ارور سنگھ اور سکھویندر سنگھ ببر نے رکھی تھی‘ بعض حلقوں کے مطابق اس وقت بھارتی پنجاب میں خالصتان کی آزادی کے لیے چار تنظیمیں سرگرم ہیں۔

اندرا گاندھی کے دور حکومت میں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالا نے خالصتان تحریک میں شدت پیدا کردی اور دربار صاحب سے آزادی کا اعلان کر دیا جس پر بھارتی حکومت نے دربار صاحب پر حملہ کر کے بھنڈرانوالہ اور ان کے ساتھیوں کو ہلاک کر دیا جس پر وقتی طور پر خالصتان تحریک کمزور پڑ گئی۔ دربار صاحب پر حملے کے انتقام میں بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی اپنے سکھ محافظ کے ہاتھوں ماری گئیں۔ خالصتان لبریشن فورس کو دبانے کے لیے بھارتی حکومت ظلم و ستم کا ہر حربہ استعمال کر رہی ہے‘ اگرچہ بظاہر خالصتان تحریک کی قوت دکھائی نہیں دیتی لیکن ہرمیندر منٹو کو جس طرح جیل سے فرار کرایا گیا‘ اس سے لگتا ہے کہ خالصتان تحریک زیرزمین رہ کر کام کر رہی ہے۔

بھارت کے پالیسی ساز جیل کے واقعے کو بھی پاکستان کی طرف موڑنے کی کوشش کریں گے جیسے انھوں نے اڑی واقعہ کو پاکستان سے جوڑا حالانکہ خالصتان تحریک ہو یا کشمیریوں کی جدوجہد آزادی ان سب کا تعلق بھارتی مرکزی حکومت کی ناانصافیوں سے ہے‘ خالصتان اور کشمیریوں کی تحریک ہی نہیں بلکہ نکسل باڑی بھی بھارتی فوج سے لڑ رہے ہیں اور آسام میں  بھی علیحدگی کی تحریک موجود ہے‘ بھارت کے اقتدار پر قابض کٹر ہندو ذہنیت سکھوں کی بات سننے پر تیار ہے اور نہ کشمیریوں کو حقوق دے رہی ہے‘ بھارتی پنجاب کا دہلی سرکار سے پرانا مطالبہ ہے کہ چندی گڑھ اس کے حوالے کیا جائے لیکن یہ شہر آج بھی ہریانہ اور پنجاب کا مشترکہ دارالحکومت ہے۔

پنڈت نہرو کی اسکیم کے تحت پنجاب کو تقسیم کیا گیا اور یہاں ہریانہ اور ہماچل پردیش کی ریاستیں بنا دی گئیں‘ پھر خالصتان تحریک کو دبانے کے لیے دربار صاحب پر چڑھائی کی گئی اور وہاں سنت جرنیل سنگھ بھنڈرانوالہ اور ان کے ساتھیوں کا قتل عام ہوا‘ پھر اندرا گاندھی کے قتل کے بعد دہلی میں کئی ہزار سکھ قتل کر دیے گئے‘ یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے خالصتان تحریک زندہ ہے لیکن نابھہ کے واقعہ میں بھی بھارتی حکومت‘ وہاں کی انتہا پسند تنظیمیں اور میڈیا شرارت سے باز نہیں آئیں گے اور پاکستان کی طرف انگلی اٹھائیں گے۔

جہاں تک خالصتان لبریشن فورس کے سربراہ ہرمیندر سنگھ کے جیل سے فرار کا تعلق ہے تو خالصتان آزادی تحریک کے حمایتی کئی سکھ رہنماؤں نے سوشل میڈیا پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ ہرمیندر سنگھ اور ان کے ساتھیوں کو جعلی مقابلے میں مار دیا جائے گا لہٰذا خالصتان تحریک کو ختم کرنے کے لیے جیل توڑنے کا ڈرامہ رچایا گیا۔ بہرحال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو ‘پاکستان کو بھارت کی شرارتوں کا سفارتی سطح پر موثر جواب دینے کے لیے اپنی پوری تیاری رکھنی چاہیے۔

بھارت میں برسراقتدار مودی حکومت کی پالیسیوں سے عوام نالاں ہیں ‘مودی حکومت اپنی پالیسیوں کی ناکامی سے عوام اور اپوزیشن کی نظریں ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف نفرت کے جذبات ابھار رہی ہے۔ بھارتی میڈیا بھی اس کام میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ کنٹرول لائن پر آئے روز ہونے والی اشتعال انگیزیاں بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے لہٰذا پاکستان کو بھارت کے پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے موثر حکمت عملی تیارکرنی چاہیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔