دہشت گرد ایک بار پھر سرگرم

ایڈیٹوریل  منگل 29 نومبر 2016
 : فوٹو : فائل

: فوٹو : فائل

دہشت گرد و شرپسند عناصر ایک بار پھر متحرک ہوتے محسوس ہورہے ہیں۔ کہیں فرقہ وارانہ وارداتوں میں شدت آرہی ہے تو کہیں دہشت گرد عناصر اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل اور ریاست کو دباؤ میں لانے کی خاطر کارروائیاں انجام دے رہے ہیں۔

اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ ہفتے کو ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے سے پاکستان میں تیل اور گیس کا سروے کرنے والی پولینڈ کی کمپنی کے 6پاکستانی کارکنوں کو اغوا کرلیا گیا ہے۔ اس سے پیشتر ماضی میں بھی دہشت گرد عناصر کی جانب سے غیرملکی کمپنیوں میں کام کرنے والے مقامی اہلکاروں اور غیر ملکیوں کے اغوا اور ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔ دہشت گردوں کی جانب سے غیر ملکی کمپنیوں کے اہلکاروں اور غیر ملکیوں کے اغوا کا مقصد حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے مطالبات منوانا ہوسکتا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم نے ذمے داری قبول نہیں کی ہے لیکن قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک ہوکر ان عناصر کی سرکوبی کرنا ہوگی جو ریاست کے امن کے درپے ہیں۔ادھر بلوچستان کے علاقہ چاغی میں سیکیورٹی فورسز نے دہشتگردی کا بڑ منصوبہ ناکام بنایا اور بڑی تعداد میں اسلحہ برآمد کرلیا۔ دوسری جانب ملک کے معاشی حب کراچی میں جہاں ’روزمرہ ٹارگٹ کلنگ‘ کے واقعات پھر سے شروع ہوگئے ہیں، وہاں فرقہ وارانہ ٹارگٹڈ کارروائیاں اور قانون کے رکھوالوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کراچی آپریشن کے کامیاب ثمرات اور ایک عرصہ قیام امن کے بعد شہر کے حالات کا ایک بار خراب ہونا قابل تشویش اور شہری حلقوں میں بے چینی پھیلانے کا باعث ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں میں اتوار کی شب آدھے گھنٹے کے دوران فائرنگ اور پرتشد واقعات میں ایئرپورٹ ٹریفک پولیس کے ڈی ایس پی فیض علی شگری سمیت 4 افراد کا قتل اور مقتول ڈی ایس پی کا ڈرائیور زخمی ہوگیا، جب کہ یونیورسٹی روڈ پر بھی دہشت گردوں نے ٹریفک ایس ڈی پی او گلبرگ ظفر رضوی کی سرکاری موبائل پر فائرنگ کی تاہم وہ محفوظ رہے۔ پولیس ذرایع کا کہنا ہے کہ دونوں ڈی ایس پیز پر فائرنگ فرقہ وارانہ ٹارگٹڈ کارروائیاں لگتی ہیں۔ حالیہ واقعات میں فائرنگ سے ڈی ایس پی سمیت 4افراد کا قتل افسوسناک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فوراً مستعد ہونا ہوگا تاکہ کراچی سمیت ملک کے امن و امان کا تحفظ کیا جاسکے۔ دہشت گردوں کی سرکوبی وقت کا تقاضا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔