بیسویں صدی کے آخری انقلابی کا سفر

وسعت اللہ خان  منگل 29 نومبر 2016

آٹھ اکتوبر دو ہزار پانچ کو شمالی پاکستان اور کشمیر میں جو تباہ کن زلزلہ آیا اس کے بعد دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں آنا شروع ہو گئیں۔ان میں سب سے بڑی میڈیکل ٹیم کیوبا کی تھی۔تین سو ڈاکٹروں اور نیم طبی عملے پر مشتمل ٹیم۔ان ڈاکٹروں کو افریقہ میں جنگ و قحط سے آلودہ علاقوں میں کام کرنے کا وسیع تجربہ تھا۔عجیب ٹیم تھی۔دو حصوں میں بٹ کر چوبیس گھنٹے کام کرتی تھی۔جنریٹرز کی روشنی میں زخمیوں کے آپریشن دن رات جاری رہتے۔شائد سب سے زیادہ آپریشن اسی ٹیم نے کیے۔پھر ایک دن خاموشی سے پورا کیمپ اور سب آلات پاک فوج کو عطیہ کرکے یہ ٹیم روانہ ہوگئی۔

اس کے بعد حکومتِ کیوبا نے اعلان کیا کہ زلزلہ زدگان کے متاثر بچوں میں سے جو بھی کیوبا میں میڈیسن اور سائنس پڑھنا چاہے ہم حاضر ہیں۔یہ پیش کش مذاق میں نہیں کی گئی تھی۔کئی بچے حکومتِ کیوبا کے خرچے پر وہاں پڑھنے گئے۔

تیسری دنیا کا ایک ایسا چھوٹا سا جزیرائی ملک جو نصف صدی سے زائد عرصے سے سب سے بڑی سپر پاور سے پنجہ آزما رہا۔پھر بھی ننانوے اعشاریہ چار فیصد آبادی کو ہر طرح کی بیماریوں کے خلاف مفت طبی سہولت میسر کرنے میں کامیاب رہا۔یہ سہولت تو خود  امریکا کے شہریوں کو بھی میسر نہیں رہی۔

کیوبا براعظم جنوبی امریکا کا سب سے صحت مند اور تعلیم یافتہ ملک ہے۔باوجودیکہ ایک بھی بین الاقوامی دوا ساز کمپنی وہاں قدم نہیں جما سکی۔سب دوائیں مقامی طور پر بنتی ہیں یا اچھے دنوں میں سابق سوویت یونین اور مشرقی یورپ کے سوشلسٹ ممالک سے آتی تھیں۔ ٹراپیکل میڈیسنز پر سب سے زیادہ ریسرچ کیوبا میں ہی ہوتی ہے۔ جن ہسپانوی نژاد  اور سیاہ فام امریکیوں  کے پاس اپنے ملک میں مہنگی سائنسی تعلیم حاصل کرنے کے وسائل نہیں۔ انھیں کیوبا اپنے ہاں مفت تعلیم مکمل کرنے کے لیے مدعو کرتا رہتا ہے۔

مگر یہ چمتکار صرف سڑسٹھ برس پرانا ہے۔انیس سو انسٹھ سے پہلے کیوبا امریکا کی تفریحاتی چراگاہ تھا۔ دارلحکومت ہوانا میں یا تو چکلے تھے یا پھر جوا خانے۔ان سب کو جرائم پیشہ امریکی مافیائیں کنٹرول کرتی تھیں۔بس ایک فصل پیدا ہوتی تھی یعنی گنا۔اس سے بننے والی ساری شکر امریکی تجارتی کمپنیوں کے کنٹرول میں تھی۔ہوانا سے باہر بسنے والی اسی فیصد مقامی آبادی خطِ غربت سے نیچے تھی۔ طفیلی حکمراں ٹولہ عملاً امریکن مافیاؤں کا مقامی چہرہ تھا۔

انیس سو اڑتالیس میں ہوانا یونیورسٹی میں قانون پڑھنے کے لیے داخلہ لینے والے ایک خوشحال جاگیردارارنہ پس منظر کے نوجوان طالبِ علم  فیدل کاسترو کا خیال تھا کہ سیاسی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک کی قسمت بدلی جا سکتی ہے۔

گریجویشن کے بعد فیدل نے وکالت کی پریکٹس شروع کردی۔پھر اس نے مرکزی کانگریس کے الیکشن میں کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔مگر ایک جنرل بتستا نے پورا نظام لپیٹ کر انیس سو باون میں اقتدار پر قبضہ کر لیا۔فیدل کو بہت غصہ آیا اور اس نے اپنے جیسے چند جوشیلے نوجوان منظم کر کے ایک فوجی بارک پر حملہ کیا۔کچھ نوجوان ہلاک ہوئے۔جو پکڑے گئے ان میں فیدل اور اس کا چھوٹا بھائی راؤل بھی شامل تھا۔خصوصی عدالت میں مقدمہ چلا۔ جج نے پوچھا اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے۔فیدل نے کہا ’’ تم بری کرو نہ کرو کوئی پروا نہیں۔مجھے یقین ہے کہ تاریخ ایک دن ضرور بری کرے گی ‘‘۔ جج نے دونوں بھائیوں کو پندرہ برس کی قید سنا دی۔

دو برس بعد بتستا نے کانگریس کے لیے کنٹرولڈ انتخابات کا اعلان کیا اور سیاسی قیدیوں کو عام معافی دے دی گئی۔فیدل اور راؤل بھی جیل سے باہر آ گئے۔تب تک ان کا دل روائتی سیاسی جدو جہد سے آنے والی کسی ممکنہ تبدیلی کے فلسفے سے اچاٹ ہو چکا تھا۔چنانچہ انھوں نے میکسیکو کی راہ لی۔وہاں ارجنٹینا کے ایک نوجوان جلا وطن ڈاکٹر چی گویرا سے ملاقات ہوئی۔چی گویرا کی صحبت میں مسلح نظریاتی جدوجہد کے راستے سے متعلق دونوں کاسترو بھائیوں کو جو تھوڑا بہت ابہام تھا وہ بھی دور ہوگیا۔

پیسہ پیسہ جوڑ کر ایک پرانی کشتی خریدی گئی  اور اس کے ذریعے دنیا بدل دینے کے خواب دیکھنے والے اسی کے لگ بھگ نوجوان چی گویرا سمیت مشرقی کیوبا پہنچے اور سیارا ماسترو کی پہاڑیوں میں ایک کیمپ بنا لیا گیا۔جہاں سے امریکی کٹھ پتلی بتستا کے دستوں پر حملے شروع ہوئے۔تین برس میں کھوکھلی حکومت ہلکان ہو گئی اور یکم جنوری انیس سو انسٹھ کو بتستا اپنے ذاتی طیارے میں امریکا بھاگ گیا۔

تینتیس سالہ کاسترو اور اس کا مسلح دستہ چھینے ہوئے ٹینکوں اور ٹرکوں میں سوار جب ہوانا میں داخل ہوا تو امریکی ذرایع ابلاغ کے مطابق ایک ملین لوگ سڑک پر تھے۔ کاسترو نے جب خلقت سے خطاب  شروع کیا تو کچھ فاختائیں ہوا میں چھوڑی گئیں۔ان میں سے ایک کاسترو کے کندھے پر آ کر بیٹھ گئی اور فیدل کی پوری تقریر سنتی رہی۔ مقامی روائیت ہے کہ فاختہ صرف نجات دھندہ کے کندھے پر بیٹھتی ہے۔

کاسترو کی تقریری توپوں کا رخ بتستا کی طرف نہیں بلکہ اس کے گرو امریکا کی طرف تھا۔اس نے یہ پروا بھی نہیں کی کہ امریکا کیوبا کے جزیرے سے محض نوے میل کی دوری پر ہے۔ہوانا میں داخلے کے چار ماہ بعد کاسترو نے تمام نجی املاک بشمول امریکی اثاثے قومی ملکیت میں لے لیے۔ امریکا نے کیوبا کی چینی خریدنے سے انکار کردیا اور تیل بھی روک لیا۔سوویت یونین نے آگے بڑھ کے کیوبا کا ہاتھ تھام لیا۔چینی اٹھا لی ، تیل فراہم کرنا شروع کیا اور انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بھاری امداد کا اعلان کیا جو بڑھتے بڑھتے ایک مرحلے پر  پانچ ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ گئی۔

کیوبا نے جنوبی امریکا اور افریقہ میں سامراج مخالف تحریکوں کی کھلم کھلا مدد کا اعلان کیا اور اپنی فوج ، ڈاکٹر ، انجینیر ، فن کار ، معلم سب کچھ حاضر کر دیا۔فرانس کے خلاف الجزائر کی تحریکِ آزادی سے نیلسن منڈیلا کی افریقن نیشنل کانگریس تک سب کو امداد دی۔بعد ازاں انگولا  اور موزمبیق کو پرتگال سے آزادی حاصل کرنے کے لیے اور نمیبیا کے حریت پسندوں کی جنوبی افریقہ کی سفید فام حکومت کے خلاف پشتیبانی کی۔

فیدل کاسترو نے کیوبا پر دھڑلے سے انتالیس برس حکومت کی۔اس عرصے میں ایک کروڑ بیس لاکھ کی آبادی میں سے ایک ملین شہریوں نے امریکا کی جانب ہجرت کی۔جونہی کوئی کیوبائی باشندہ فلوریڈا کے ساحل پر پہنچتا اسے امریکی شہریت کا فارم دے دیا جاتا۔انیس سو چونسٹھ سے امریکا نے کیوبا کا مکمل معاشی بائیکاٹ کردیا اور ان بین الاقوامی کمپنیوں سے بھی تجارت کرنے سے انکار کر دیا جو کیوبا میں سرمایہ کاری پر بضد تھیں۔

آئزن ہاور سے لے کر بل کلنٹن تک کاسترو کو امریکی سی آئی اے نے قتل کروانے کے لیے چھ سو اڑ تیس چھوٹی بڑی کوششیں کیں۔آخری بڑی کوشش سن دو ہزار میں ہوئی جب کاسترو کو پانامہ میں ایک اجتماع سے خطاب کرنا تھا۔اسٹیج کے نیچے نوے کلو گرام دھماکا خیز مواد چھپانے کا منصوبہ بنایا گیا لیکن کیوبن سیکرٹ سروس ایجنٹوں نے یہ منصوبہ بھی ناکام بنا دیا۔

کیوبا میں خدمات انجام دینے والے ایک سینئر امریکی سفارتکار وین اسمتھ کے بقول نو امریکی حکومتیں کاسترو کے خاتمے کے لیے اس قدر پاگل رہیں جتنا کوئی بھیڑیا  پورے چاند کو دیکھ کر دیوانہ ہو جاتا ہے۔کسی نے فیدل سے پوچھا،’’ آپ بلٹ پروف جیکٹ کیوں نہیں پہنتے‘‘۔فیدل نے کہا، ’’ میں نے اخلاقی جیکٹ جو پہن رکھی ہے ‘‘

دو ہزار چھ میں فیدل نے علالت کے سبب خود کو ملکی معاملات سے علیحدہ کرنا شروع کردیا اور دو ہزار آٹھ میں برادرِ خورد راؤل نے پورے اختیارات سنبھال لیے۔

نیلسن منڈیلا کے جنازے پر بارک اوباما اور راؤل کاسترو نے رسمی طور پر ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور اس کے بعد پوپ فرانسس کی ڈیڑھ برس پر پھیلی خفیہ سفارت کاری کے سبب بلاخر دسمبر دو ہزار پندرہ میں واشنگٹن اور ہوانا سے بیک وقت سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان ہوا۔اس برس اپریل میں صدر اوباما نے ہوانا کا سرکاری دورہ کیا۔اٹھاسی برس میں کسی بھی امریکی صدر کا یہ پہلا دورہ تھا۔فیدل کو امریکا سے پینگیں بڑھانا اور معیشت کی محدود نجکاری کے اقدامات پسند نہیں آئے مگر انھوں نے اپنی ناپسندیدگی دبے دبے الفاظ میں ہی ظاہر کی۔

فیدل کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے ایک چھوٹے سے جزیرے کو پوری دنیا میں ایک انقلابی برانڈ بنا دیا۔پچیس نومبر کو نوے برس کی عمر میں جب انتقال ہوا تو جلا وطن کیوبائیوں کے سوا ان کا شائد ہی کوئی دشمن رہا ہو۔ نیلسن منڈیلا کے جانے کے بعد فیدل بیسویں صدی کی آخری قد آور شخصیت تھے۔سات ماہ قبل انھوں نے کیوبا کی کیمونسٹ پارٹی کی ساتویں کانگریس سے آخری خطاب کرتے ہوئے کہا۔’’ میرے تصور میں بھی نہیں تھا کہ نوے برس کا ہو جاؤں گا۔کچھ دن بعد میں بھی وہیں چلا جاؤں گا جہاں ہر ا نسان بالاخر چلا جاتا ہے۔مگر کیوبا کی انقلابی روح  پھر بھی برقرار رہے گی ‘‘…

ہاں تو میں بتا رہا تھا کہ اکتوبر دو ہزار پانچ میں جب زلزلے سے تباہ گڑھی حبیب اللہ میں کیوبا کا میڈیکل کیمپ تندہی سے متاثرین کی خدمت کر رہا تھا۔لائن میں لگی ایک مریضہ نے  پوچھا۔یہ کونسے ملک کے لوگ ہیں ؟ کسی نے بتایا کیوبا کے۔پھر مریضہ نے پوچھا یہ ملک کہاں ہے؟ اس پر میں نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک امریکا کی بالکل ناک کے نیچے ہے اور امریکا اس ملک کو پسند نہیں کرتا۔اس دیہاتی مریضہ نے کہا ’’ امریکا ایسے ہی ہر کسی کا دشمن نہیں بن جاتا۔یقیناً ان کا بادشاہ کوئی بہت اچھا کام کر رہا ہو گا ’’۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔