سیاسی جماعتوں نے انتخابی بگل سننا شروع کر دیا

مزمل سہروردی  منگل 29 نومبر 2016
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

نئے آنے والے آرمی چیف اور جانے والے آرمی چیف کی جانب سے وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سلیوٹ نے ملک میں جمہوریت کا منظر نامہ ہی بدل دیا ہے۔ مخدوش مستقبل والی جمہوریت کا مستقبل یک دم روشن اور تابناک نظر آنے لگ گیا ہے۔

وہ سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت جو خود جمہوری عمل کا حصہ ہوتے ہوئے بھی اس کے مستقبل کے حوالہ سے شکوک شبہات کا شکار تھیں اب دوبارہ جمہوری عمل میں یقین کرتی نظر آرہی ہیں۔ تحریک انصاف کی پارلیمنٹ میں واپسی۔ بلاول کی پارلیمنٹ میں آنے کا اعلان اور پنجاب کابینہ میں توسیع سب اسی نئے نئے یقین کامل کے شاخسانے ہیں۔

یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ سیاسی جماعتوں نے سنجیدگی سے اگلے انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ نئے آرمی چیف کی آمد کے ساتھ ہی ایسا لگ رہا ہے کہ سب کو یقین ہو گیا ہے کہ تبدیلی انتخاب سے ہی آئے گی۔ پنجاب کابینہ میں توسیع اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔

جناب میاں شہباز شریف نے تقریبا دو سال سے اس توسیع کا راستہ روکا ہوا تھا۔ لیکن اب جب کہ انتخابات کا بگل ان کے کانوں میں بھی بجنا شروع ہو گیا ہے۔ اس لیے انھوں نے نے کابینہ کی توسیع کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ میاں شہباز شریف ایک چھوٹی کابینہ کے ساتھ کام کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن شائد اب انھیں اگلے ایک سال ایک بڑی کابینہ کے ساتھ کام کرنا ہے۔

یہ میاں نواز شریف کا پرانا اسٹائل ہے وہ انتخابات کے نزدیک کابینہ میں توسیع کرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے پنجاب کابینہ میں توسیع کروائی ہے۔ پنجاب اگلے انتخابات کا میجر فوکس صوبہ ہو گا۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پنجاب میں گھمسان کی انتخابی جنگ ہو گی۔ تینوں بڑی جماعتیں اور چھوٹی سب پنجاب کو فوکس کر رہی ہیں۔اسی لیے ن لیگ نے بھی پہلے پنجاب میں صف بندی کو ٹھیک کیا ہے۔ روٹھوں کو منایا ہے ۔

اسی طرح پیپلزپارٹی کا بلاول بھٹو کو قومی اسمبلی میں لانچ کرنا اور انھیں قائد حزب اختلاف بنانے کا فیصلہ بھی ایک انتخابی فیصلہ ہے۔

پیپلزپارٹی نے بھی انتخابی بگل سن لیا ہے۔ اور انھیں سمجھ آگئی ہے کہ بلاول کو پارلیمانی سیاست سے دور رکھ کر وہ انھیں اگلے انتخابات میں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش نہیں کر سکتے۔ اس لیے بلاول نے اگر پیپلزپارٹی کی اگلی انتخابی مہم کی قیادت کرنی ہے تو انھیں پارلیمانی سیاست کے پل سے گزرنا ہو گا۔ پیپلزپارٹی کے پاس د و ہی راستے تھے یا تو آصف زرداری کوپارلیمنٹ میں لاتے یا بلاول کو۔ اور پیپلزپارٹی نے بلاول کے حق میں فیصلہ کیا ہے۔ اس طرح آصف زرداری خود بخود مائنس ہوتے جائیں گے۔ بلاول کے پارلیمنٹ میں آنے سے ان کی خود مختاری بڑھ جائے گی اور آصف زرداری کا کنٹرول کم ہو جائے گا۔ ایسی صورتحال بھی ہو جایا کرے گی جب بڑے بڑے فیصلوں کا آصف زرداری کو علم ہی نہیں ہو گا۔

بلاول کس حد تک کامیاب ہو نگے یا ناکام یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لیکن بہر حال آصف زرداری کے مقابلے میں وہ ایک بہتر چوائس ہیں۔ باقی جہاں تک پیپلزپارٹی کی پنجاب میں بحالی کا تعلق ہے تو اس ضمن میں بلاول کی کامیابی کے امکانات محدود ہیں۔ وہ ایک بند گلی میں ہیں انکلز کی سیٹوں کے بغیر بھی گزارا نہیں۔ اور یہی انکلز بحالی میں رکاوٹ ہیں۔پیپلزپارٹی کو نئی شکل دینے کے لیے اگر ان انکلز کی چھٹی کروا دی جائے تو جن سیٹوں کے جیتنے کے امکان ہیں وہ بھی چلی جائیں گی اور اگر ان کو رکھا جاء تو مزید آنے کا کوئی امکان نہیں۔ ایسے میںبلاول پنجاب میں کیا کر سکیں گے۔ تجزیہ کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ لیکن یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بلاول جیسے جیسے فعال ہو نگے عمران خان کی غلطیوں کا فائدہ انھیں ملنے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔

تحریک انصاف نے بھی الیکشن کا بگل سن لیا ہے۔ وہ یک دم پارلیمنٹ میں واپسی کے لیے اسی لیے بے قرار ہو گئی ہے۔ انھیں علم ہے کہ پارلیمنٹ سے دوری کا انتخابات میں فائدہ نہیں نقصان ہو گا۔ جس پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیا ہو گا۔ا س میں واپسی کے ووٹ کس منہ سے مانگیں گے۔ انتخابی اصلا حات کو بھی پارلیمنٹ میں فائنل ہونا ہے۔ اور اگر تحریک انصاف بائیکاٹ رکھتی ہے تو گیم سے آؤٹ ہے۔ انتخابی بگل کے بعد پارلیمنٹ سے بائیکاٹ تحریک انصاف کے لیے زہر قاتل ہے۔ جب بلاو ل پارلیمنٹ میں ہو نگے اور عمران خان نہیں ہو نگے تو بھی تحریک انصاف کو نقصان ہو گا۔ تحریک انصاف صرف پارلیمنٹ میں واپس نہیں آرہی بلکہ وہ ایک جمہوری موڈ میں بھی واپس آرہی ہے۔

جب عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ پانامہ میں انھوں نے وہ سب کچھ کر لیا ہے جو ایک سیاسی جماعت کر سکتی ہے تو شائد انھیں سمجھ آرہی ہے کہ مقدمہ عدالتی نہیں سیاسی ہے۔ اس کا عدالتی فیصلہ نہیں سیاسی فیصلہ درکار ہے۔ جس کے لیے اگلے انتخابات ہی واحد میدان اور عدالت  ہیں۔ اس لیے اب تحریک انصاف انتخابات کی تیاری کے موڈ میں آگئی ہے۔ جو یقینا ملک کی جمہوریت کے لیے خوش آیند ہے۔اب جب کہ اسٹبلشمنٹ نے میاں نواز شریف کو وزیر اعظم مان لیا ہے تو شائد تحریک انصاف کو بھی ماننا ہو گا۔

وفاقی کابینہ میں بھی توسیع ہو گی۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ پنجاب میں میاں شہباز شریف کو توسیع پر مجبور کرنے والے میاں نواز شریف مرکز میں توسیع نہ کریں۔ یہ ان کا پرانا الیکشن فارمولہ ہے۔ وہ انتخابات سے قبل سب کو خوش کرتے ہیں۔ اپنی ٹیم میں نیا جذبہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تا کہ ان کی ٹیم انتخابات لرنے کے لیے تیار ہو جائے۔ ناراض کو مناتے ہیں۔ اور چوری کھانے والوں کو چوری دیتے ہیں۔ سیاسی صف بندی میں سب کو حصہ ملنا شروع ہو جاتا۔

پنجاب اگلے انتخابات کا اصل میدان ہو گا۔پیپلزپارٹی نے ابھی تک کسی کو سندھ میں نقب نہیں لگانے دی۔ کے پی کے میں بھی صف بندی ہو چکی ہے۔ بلوچستان کا منظر نامہ بھی کوئی تبدیل نہیں۔ کراچی اہم ہے۔ لیکن وہاں اسٹبلشمنٹ کی گیم چلنی ہے۔ سب جگہ سے گزشتہ انتخابات سے ملے جلے نتائج ہی توقع ہیں۔ گزشتہ انتخابات میں پیپلزپارٹی او ر تحریک انصاف نے پنجاب پر وہ توجہ نہیں دی تھی جو انھیں دینی چاہیے تھی جس کا ن لیگ نے بھر پور فائدہ اٹھا یا تھا۔ اور پنجاب کی جیت نے ہی میاں نواز شریف کو اتنا مضبوط کر دیا کہ انھیں گرانا اتنا مشکل ہو گیا۔

اس لیے اس بار اصل میدان پنجاب میں ہی لگے گا۔ پیپلزپارٹی کی زیادہ توجہ جنوبی پنجاب میں ہو گی۔ لیکن پھر بھی اصل میدان وسطی و شمالی پنجاب میں ہی ہو گا۔ جنوبی پنجاب گزشتہ انتخاب میں بھی کچھ تقسیم ہوا تھا لیکن ا س بار جب پیپلزپارٹی بھی اپنا حصہ لے گی تو مزید تقسیم ہو جائے گا۔ لیکن وسطی پنجاب میں ابھی تک عمران خان اور نواز شریف کا ون ٹو ون مقابلہ ہے۔ دونوں کا کانٹے کا مقابلہ ہے۔ اسی لیے پنجاب کابینہ کی توسیع میں بھی یہی لگ رہا ہے کہ ن لیگ کی توجہ بھی وسطی پنجاب پر ہے۔

سیاسی جماعتوں نے یک دم انتخابی بگل سننا شروع کر دیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ بگل ابھی عوام نہیں سنائی دے رہا۔ لیکن مزے کی بات یہی ہے کہ نئی صف بندی کے بعد سب نے عوام کی طرف لوٹنا ہے۔ عوام سے بس ایک گزارش ہے کہ اس دفعہ ووٹ سوچ سمجھ کر دیں تا کہ ان سب پرانے اور نئے کھلاڑیوں کو عوام کی اہمیت کا نداذہ ہو سکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔