تجھے کیا ملے گا…!

سید نور اظہر جعفری  منگل 29 نومبر 2016

ادھار کے دس سے نقدکے پانچ اچھے، یہ یا اس طرح کی بات ہم اپنے بڑوں سے سنتے رہے تھے اور سمجھ میں ذرا مشکل ہی سے بات آتی تھی کہ بھئی جب دس مل رہے ہیں تو پانچ کیوں لیے جائیں، تھوڑا انتظار کرلیا جائے دس ہی لیے جائیں۔یہ بات اب ہماری سمجھ میں آتی ہے جب ہم ہر طرف ’’ادھار‘‘ ’’ادھار‘ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ دیکھتے ہیں۔ مہذب دنیا کا مطلب ’’یہودی راج‘‘ ہی ہوتا ہے کیوںکہ بنیا اور یہودی کہا جاتا تھا کہ حساب کتاب کے ’’ماہرین‘‘ میں شمار ہوتے تھے اور کس ’’کاریگر‘‘ سے ’’اصل‘‘ کو ’’باقی‘‘ رکھتے ہوئے ’’سود‘‘ کو ’’اصل‘‘ سے دس گنا زیادہ وصول کرکے بھی ’’نیک نام‘‘ اور ’’ہمدرد‘‘ رہتے تھے اور لوگ ’’لالہ جی‘‘ کے گن گاتے اور ’’جے جے کار‘‘ کرتے تھے۔

شیکسپیئر کے ڈرامے میں ’’یہودی‘‘ کا کردار تو آپ دیکھ چکے ہیں یہ ایک ایسی ’’ذہنیت‘‘ تھی جو اب ان کی میراث نہیں ہے بلکہ اب ساری دنیا اس پر عمل کررہی ہے اور اس کے سلسلے میں ’’ورلڈ بینک‘‘ قائم کردیاگیا ہے۔ جسے ’’ورلڈ سود بینک‘‘ کہنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیوںکہ اسے Interest کا جامہ پہناکر قانونی شکل دے دی گئی ہے اور پوری دنیا یہ انٹرسٹ ادا کررہی ہے، کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی صورت میں ’’خمیازہ بھگتنا‘‘ اردو میں جو مستعمل تھا اور ہے وہ بھی معاملات کا انٹرسٹ ہی ہے قومیں غلام ہوگئیں ۔’’قرض‘‘ کے چکر میں اور قوموں کو زوال ہوا ’’قرض‘‘ کی وجہ سے برصغیر کی ریاستوں کا حال اورکہانی کبھی آپ پڑھ لیں اور آپ کو عبرت ناک حالات نظر آئیںگے۔ یہ علاقہ آج اور زیادہ خوشحال، مستحکم اور ایک دوسرے سے جڑا ہوا رہتا اگر اس علاقے میں ان قوموں کے قدم نہ پہنچتے جو اپنے ساتھ ’’قرض‘‘ کا مرض ساتھ لائے اور اس علاقے کو اجاڑ دیا۔ بقول غالب:

قرض کی پیتے تھے مئے اور سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن

تو قوموں کی فاقہ مستی کو رنگ تو لانا ہی تھا اورجہاں جہاں دربار تھے چھوٹے یا بڑے وہ آہستہ آہستہ اپنے اللے تلے اخراجات کی وجہ سے مقروض ہوتے گئے اور پھر دربار پر سربراہ کی گرفت کم سے کم ہوتی گئی اور لالہ جی یا دوسری قوموں کے قرض فراہم کرنے والوں کی اجارہ داری قائم ہوگئی اور یوں وہ دربار جن کا دبدبہ دیدنی تھا خواب فراموش ہوگئے اور وہ نہ رہے جن کے رہنے سے بہت کچھ رہا ہوا تھا کہ :

غیرت نام تھا جس کا

گئی تیمور کے گھر سے

بادشاہت کے بعد سیاست کے بادشاہ میدان میں آئے۔ یہ خاندانی بادشاہت کے علاوہ سیاسی بادشاہت کا دور تھا جو جب سے شروع ہوا تو آج تک چلا آتا ہے ہمارے یہاں ایک اصطلاح یا مسئلہ خلافت کا بھی ہے جو اب داعش کی صورت اختیار کرچکا ہے اس کی وضاحت ضروری نہیں ہے۔ بچہ بچہ اس سے واقف ہے، طالبان اور داعش یہی تو دو لفظ ہیں جن سے دنیا واقف ہے۔

دہشت گردی کی تاریخ تو بہت پرانی ہے، فلسطین اور کشمیر تو آج کی بات ہے کل کیا ہوا تھا، دو عالمی جنگیں کس نے لڑی تھیں کس کے خلاف لڑی تھیں اور ان کا کیا انجام ہوا تھا۔ دنیا کے پر امن خطوں کی بندربانٹ کس نے کی تھی جو ایک صدی کے بعد اس تسلط سے آزاد ہوئے اورکچھ تو ایسے آزاد ہوئے کہ جیسے آزاد ہی نہیں ہوئے۔انھیں اس طرح لوٹا کھسوٹا گیا کہ آج تک اپنے پیروں پر کھڑے نہ ہوسکے ہیں نہ ہونے دیا جائے گا۔ افریقا آپ کے سامنے ہے۔ کیا کیا ہے دنیا نے افریقہ کے لیے؟ سوائے زبانی جمع خرچ کے۔ افریقا کے سارے وسائل کو حاصل کرلیا گیا، اب وہ خالی کان ہے خالی کان اور خالی دکان کسی بھی کام کی نہیں ہوتیں۔ غلامی کا کاروبار کس نے کیا تھا ان کا سرپرست کون تھا وہ کون سی قوم تھی جس نے زندہ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کے ساتھ باندھا تھا یہ تاریخ ہے اسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

انسان کے ساتھ انسانوں نے ہی ظلم کیے ہیں کوئی بھی واقعہ لے لیں ذمے دار انسان ہی نکلیں گے۔ کیا آپ کے خیال میں غلامی کی رسم ختم ہوگئی ہے؟ جی نہیں اس کے زاویے بدل گئے ہیں پہلے فرد غلام ہوتے تھے اب قومیں غلام ہوتی ہیں اور اس طرح غلام ہوتی ہیں کہ اس غلامی پر فخر بھی محسوس کرتی ہیں۔

کسی مثال کے دینے کی ضرورت تو جب پیش آئے جب آپ میری بات سمجھ نہ رہے ہوں بات واضح ہے اور آپ کی سمجھ میں آرہی ہے ایک آدمی ایک ووٹ بظاہر یہ بہت اچھا لگتا ہے مگر اس وقت درست ہے جب ایسا آئیڈیل نظام بھی ہو کہ ایک ووٹ سے فرق پڑتا ہو ان قوموں نے جنھوں نے مل کر دنیا کو تباہ کیا تھا اور کر رہے ہیں اپنے لیے یہ نظام پسند کرلیا ہے اس پر عمل کررہے ہیں یہ سچا نظام ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کا نظام تھا کہاں سے کس طرح تو مشاورت اور فیصلے عالم عرب نے ہی شروع کیے تھے اور تلواروں کے بغیر فیصلے کن لوگوں نے کیے تاریخ ان سے واقف ہے اگر لوگ نام نہیں لینا چاہتے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، حقائق کو مسخ تو کرسکتے ہیں ختم نہیں کرسکتے جب بھی ریت ہٹائی جائے گی پرانے شہر اور نوادرات بر آمد ہوجائیں گے جو اپنی سچائی کا خود ثبوت ہوں گے۔

یہ جھوٹ کا بازار جو دنیا بھر میں قائم ہے اور ہم اس سے الگ نہیں کب تک ایک دن چیزیں سامنے آجائیںگی سب کچھ ظاہر ہوجائے گا۔ دنیا دیکھ لے گی۔ دنیا جائے عبرت ہے یہ بات ہم سے ہم سے زیادہ کون جان سکتا ہے گزشتہ چوتھائی صدی میں کون کون نام ور بے نشان نہیں ہوا قیصر وکسریٰ کہاں ہیں، لیبیا کی شہنشاہیت، مصر کی بادشاہت، عراق کی شہنشاہیت کیا ہوئی افغانستان کی کیا حالت ہوگئی کہ جہاں سے حملہ آور برصغیر پر حکمرانی کرنے آئے تھے حملہ اور اب بھی آتے ہیں مگر کون ہیں دہشت گرد، حقیقی دہشت گرد Planted دہشت گرد۔

ادھار سے بات شروع کی تھی ہم نے اور عرض کیا تھا کہ نقد کے پانچ ادھار کے دس سے اچھے ہیں۔ یہ بات اب ہمارے حکمرانوں کو سمجھ لینی چاہیے یہ عوامی حکمران جو عوام کے نہیں بلکہ Manipulated Votes کے ذریعے حکمران بنتے ہیں، سیاسی بادشاہ ہیں اور اس بادشاہت کے مزے لوٹ رہے ہیں اولاد کے بھی دم خم کم نہیں ہیں۔ سیاسی بادشاہت کے بھی اب خان وادے قائم ہوگئے ہیں اور باپ کے بعد یا ماں کے بعد بیٹے کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے یعنی عوام کو بے فکر رہنا چاہیے اقتدار کے فوائد جو عوامی کہلاتا ہے گٹر کے ڈھکن تک نہیں لگواسکے گا اور آپ کی حالت زار سے آپ کی اولاد کی حالت زار دیکھنے والی ہوگی یہ غلامی کا نیا طریقہ ہے کوئی نام لکھوںگا تو الزام آئے گا یہ برادری سسٹم کیا ہے؟

یعنی غلامی ہے کیوںکہ اگر مقصد کے بغیر عبادت بھی کی جائے تو شاید وہ قبول نہ ہو نیت اور ارادہ ضروری ہے یہاں ادھار لے لے کر قوم کو قرض کی زنجیروں میں جکڑ کر وہ پرائے دیس سدھار جائیںگے جو ہمارے لیے پرایا دیس ہے عوام کے لیے ان کے لیے نہیں کیوںکہ آپ کو کیا پتا کہ ان سرکردہ لوگوں کے پاس کس کس ملک کی شہریت اور کہاں کہاں اثاثے ہیں کچھ تو سامنے ہیں بہت کچھ سامنے نہیں ہے اور بہت لوگوں کا سامنے نہیں ہے کچا چٹھا جب آئے گا تو حیرت سے منہ کھلے رہ جائیںگے قرض اور ادھار کے یہ سوداگر آپ کا سودا کرکے کہیں اور کاروبار کرنے چلے جائیںگے جو لوگ برادری سسٹم پر اچھا کام کررہے ہیں وہ لائق تحسین ہیں مگر اس بت کو بھی توڑنا ضروری ہے۔ تب کہلائے گا کہ:

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔