شریف سے شریف تک

اقبال خورشید  منگل 29 نومبر 2016

گو جاڑا کچھ دُور ہے، مگر شہر کی شاموں میں خنکی ہمکنے لگی ہے۔

ہفتے کی صبح فیڈل کاسترو امرہوا۔ چے گویرا، جس کی بابت مارکیز نے کہا تھا:’’ہاں، میں اس پر ہزار سال تک، لاکھوں صفحات لکھ سکتا ہوں‘‘، وہ چے گویرا، عظمت کی بلند ترین چوٹی پر برسوں سے اپنے دوست کا منتظر تھا۔ اِدھر گرم پانیوں تک جانے والا راستہ خطے میں نیا، پرقوت اتحاد جنم دینے کو ہے۔ میاں صاحب نئے آرمی چیف کی تعیناتی کا مشکل ترین مرحلہ خوش اسلوبی سے نمٹا چکے ، اور اب اقتصادی راہداری کے محفوظ حصار میں ہیں۔ خان کا امتحان مزید کٹھن ہوگیا کہ روس اب چین کا ہاتھ تھامے اِس سمت آتا ہے۔

ماضی کی عظیم عالمی طاقت، جو جغرافیائی اعتبار سے ہماری فطری اتحادی تھی، مگر جس سے امریکی خوشنودی کے لیے ہم نے دشمنی مول لی ، اور جہاد کے نام پر اپنی زمینوں پر انتہاپسندی کے بیج بو دیے ۔۔۔وہ طاقت ایک بار پھر ہماری سمت متوجہ ہوئی ہے۔ گرم پانیوں میں جادو ہے۔ ایک طویل پتھریلی سڑک عالمی اہمیت اختیار کر گئی۔ بھارت کی بوکھلاہٹ پانی بند کرنے کی دھمکیوں سے عیاں ہوگئی۔ وہ خسارے میں ہے۔ میاں صاحب خوش قسمت ہیں۔ اس سڑک کی برکت نے مشکل میں آسانی پیدا کی۔ دھرنے ، احتجاج، یہاں تک کہ پاکستان کے مقبول ترین آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا معاملہ بھی حل ہوا۔

جان لو، غیب کا علم صرف خدا کو۔ ہمیں خبر نہیں کل کیا ہوگا۔ عدالت کیا فیصلہ کرے، وقت کی بساط پر کون سا کھیل کھیلا جائے، قدرت کیا اشارہ کرے۔ نہیں، ہم نہیں جانتے، لیکن اگر معروضی حالات کا جائزہ لیا جائے، حقائق کی دنیا میں رہتے ہوئے تجزیہ کیا جائے، تو یہ واضح نظر آتا ہے کہ سڑکیں میاں صاحب کو بھاتی ہیں، وہ ان کی مقبولیت بڑھاتی ہیں، قوت دیتی ہیں۔ اور آج پھر ایک سڑک، پاک چین اقتصادی راہداری۔۔۔ جس میں اکلوتے ترقی یافتہ مسلم ملک ترکی کو بھی دلچسپی، میاں صاحب کو دشوار گزار گھاٹیوں سے بہ حفاظت نکال لائی ہے۔ مخالفین کمر کس لیں۔ انھیں پوری طاقت صرف کرنی ہوگی، تمام چالیں چلنی ہوں گی، ورنہ طے ہے کہ 2018 کے انتخابات ن لیگ کے نام رہیں گے۔ فتح میاں صاحب کے قدم چومے گی۔

گو جاڑا کچھ دُور، مگر شہر میں عشق ہمکنے لگا ہے۔۔۔ادھر کراچی پریس کلب کے باہر ایک بستر لگا ہے۔وہ ایک ادھیڑ عمر شخص کا ٹھکانا ہے۔ بستر کے گرد پوسٹرز لگے ہیں، جو خبر دیتے ہیں کہ یہ شخص اپنا مطالبہ پورا ہونے تک بھوک ہڑتال پر ہے۔ اور اُس کا مطالبہ کیا ہے؟ جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں توسیع۔۔۔وہ ادھیڑ عمر شخص، جو کئی روز سے ادھر پڑا ہے، جو رات گرم لحاف خود پر ڈال لیتا ہے، اُسے اب تک خبر ہوچکی ہوگی کہ اسے بستر باندھنا ہوگا۔

بادل ناخواستہ ہی سہی، اپنے مطالبے سے دست بردار ہونا ہوگا کہ اِس نسل کے مقبول ترین سپہ سالار کا، اُس لیڈر کا،جس کی محبت سے لاکھوں دل لبریز تھے، جس کے شہر شہر پوسٹر آویزاں ہوئے، پوسٹرز۔۔۔ جن میں نہ صرف یہ تقاضا کیا گیا کہ ’’جانے کی باتیں جانے دو‘‘ ، بلکہ یہ مطالبہ بھی تھا کہ ’’اب آجاؤ‘‘۔۔۔لیڈر، جس کی تصاویر کونہ صرف روشن خیال سیاست داں ضمنی انتخابات میں اپنے پمفلٹ میں شامل کرتے، بلکہ مذہبی تنظیمیں بھی اپنے بینزر پرنمایاں جگہ دیتیں، جس کا چہرہ ہزاروں گاڑیوں کی بیک ونڈ اسکرین جگ مگایا، اس لیڈر کا۔۔۔اس ہر دل عزیز آرمی چیف کا عہد تمام ہوا۔۔۔ بوڑھے کو، جس نے کراچی پریس کلب کے باہر بستر لگا رکھا ہے، بادل ناخواستہ ہی سہی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنی ہوگی۔

جنرل راحیل شریف اپنے تین سالہ دور میں ہمارے قبیلے کے۔۔۔ کالم نویس، تجزیہ کار اور اینکر حضرات کے پسندیدہ ترین موضوع تھے۔ خود کو عقل کل سمجھنے والی اِس مخلوق نے نہ صرف اپنی تحریروں اور پروگراموں میں آرمی چیف کو اپنے بیش قیمت مشوروں سے نوازا، بلکہ آگے بڑھ کر مطالبات بھی کیے۔ بیش تر مطالبات کا تعلق کرپٹ سیاست دانوں کو فوری سبق سکھانے اور نظام کی بساط لپیٹنے سے ہوتا۔ آسان الفاظ میں کہا جائے تو ٹی وی چینلز سے اُنھیں مسلسل مارشل لا لگانے کے دعوت دی جاتی رہی۔ میڈیا سے تعلق ہونے کے باوجود، اور کبھی کبھار شدید خواہش کے باوجود ہم نے کبھی جنرل راحیل شریف پر قلم نہیں اٹھایا۔ انتظار کیا۔ اور جب اُن کا جانا ٹھہر گیا، تب سوشل میڈیا پر انھیں مخاطب کیا۔ لکھا: ’’مارشل لا کا جتنا شدید تقاضا آپ سے کیا گیا تھا، شاید ہی کسی سالار اعظم سے کیا گیا ہو، مگر اپنی بے پناہ مقبولیت کے باوجود آپ نے ایسا نہیں کیا۔ شکریہ راحیل شریف۔‘‘

ہمارے ہاں چڑھتے سورج کی پوجا کی جاتی ہے، جونہی سورج غروب ہوا، ہم نئے دیوتاؤں کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔ پرویز مشرف کی رخصتی کے بعد سابق فوجی افسران پر تنقید کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اُس کا دائرہ وسیع سے وسیع ہوتا جارہا ہے۔ یہ بات امکانی ہے کہ مستقبل میں جب جنرل راحیل شریف کے دور کا تجزیہ ہو، تو سوالات اٹھائے جائیں، آرمی چیف کے عہدے کو Glorify کرنے کا اعتراض ہو، لیکن جب ہم مڑ کر دیکھتے ہیں، ماضی کا حال سے موازنہ کرتے ہیں، تو ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ عسکری قیادت کے اقدامات اور فیصلوں نے اندرونی چیلنجز کا نہ صرف مقابلہ کیا، بلکہ کئی محاذوں پر ریاست مخالف قوتوں پر کاری ضرب لگائی۔

خودکش دھماکے اور دہشت گردی کے واقعات گو ختم نہیں ہوئے، مگر اُن میں واضح کمی آئی۔ کراچی آپریشن کے ناقدین موجود، مگر یہ بھی سچ کہ آج کا کراچی 2013 کے کراچی کے مقابلے میں پرامن اور اقتصادی طور پر مضبوط ہے۔ مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ کمزور ہوئے۔ کرپٹ سیاست داں، وہ جو خدا کے لہجے میں بات کیا کرتے تھے، زیر عتاب آئے۔ اس پورے معاملے میں عسکری قیادت، بالخصوص جنرل راحیل شریف کا کردار کلیدی تھا۔

ہمارے ہاں آنے والوں کی شان میں قصیدے پڑھنے، جانے والوں کی ذات میں خامیاں تلاش کرنے کی ریت ہے، مگر یہ تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں کہ جنرل راحیل شریف کو جو پاکستان ملا تھا، وہ اُس سے بہتر پاکستان چھوڑ کر جارہے ہیں۔۔۔جاڑا دُور ہے، فیڈل امر ہوا، پریس کلب کے باہر ایک بستر لگا ہے، ایک دلیر سپہ سالار رخصت ہوگیا، اب میاں صاحب ایک مضبوط حصار میں ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔