نئے آرمی چیف، اپنے پیش روکی راہ اپنائیں گے؟

غلام محی الدین  منگل 29 نومبر 2016
نئی  عسکری قیادت آج اپنے اختیارات سنبھال رہی ہے، جو پاکستان کے آئین کی رو سے اُسے 26 نومبر کو وزیر اعظم نے تفویض کیے ہیں۔: فوٹو : فائل

نئی عسکری قیادت آج اپنے اختیارات سنبھال رہی ہے، جو پاکستان کے آئین کی رو سے اُسے 26 نومبر کو وزیر اعظم نے تفویض کیے ہیں۔: فوٹو : فائل

 اسلام آباد:  پاکستان کی عسکری تاریخ میں آج 29 نومبر 2016 کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے، جو آنے والے دنوں کی متعدد اور مختلف جہتوں کا تعین کرے گا۔ان میں سرفہرست ملک کی سالمیت،خطے میں پاکستان کا وقار اور کردار نہایت اہمیت کے حامل ہوں گے۔

اس کے بعد ملک کے اندر دہشت گردی کا قلع قمع، ملک کو لاحق اندرونی اور بیرونی خطرات کے علاوہ پڑوسی ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات شامل ہیں۔ نئی  عسکری قیادت آج اپنے اختیارات سنبھال رہی ہے، جو پاکستان کے آئین کی رو سے اُسے 26 نومبر کو وزیر اعظم نے تفویض کیے ہیں۔ وزیر اعظم نے آئینی طریقۂ کار کے تحت اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے 26 نومبر 2016 کی شام کو پیش کیے جانے والے پانچ ناموں میں سے لیفٹیننٹ جنرل قمرجاوید باجوہ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر انہیں پاک فوج کا نیا سربراہ اور جنرل زبیر حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقررکیا ہے۔

اِس کام کے لیے وزیرِ اعظم کا دفتر، وزارتِ دفاع کے ذریعے جی ایچ کیو سے سینیئر جرنیلوں کے ناموں کی فہرست طلب کرتا ہے۔ اِس کے بعد فوجی اور سول خفیہ اداروں سے ان ناموں کی ساکھ کے بارے میں رپورٹ مانگی جاتی ہے۔ وزیرِ اعظم پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ ریٹائر ہونے والے فوجی سربراہ سے ان کے جانشین کے بارے میں رائے طلب کرے۔ اگر طلب کر بھی لے تو ضروری نہیں کہ تجویز کردہ نام ہی کو نیا آرمی چیف بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم اِس معاملے میں اپنے وزرا اور مشیروں سے بھی مشاورت کرسکتا ہے۔

پاک فوج کا اگلا سربراہ کون ہوگا؟ اس سوال کا جواب آج سب کو معلوم ہوچکا ہے اور آج سبک دوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نئے آرمی چیف کو ایک باوقار تقریب میں کمان سونپیں گے۔

سوال یہ اٹھتا رہا کہ نیا میرِ عساکر، سبک دوش ہونے والے جرنیل کی پالیسیوں کو جاری رکھے گا؟۔ یہ پالیسیاں کیا تھیں اور لوگ ان کے متعلق فکر مند کیوں تھے؟۔ اس بارے میں میڈیا کے اندر ایک طویل بحث پہلے بھی ہوتی رہی ہے اور آج کے بعد اس بحث میں کئی حوالوں سے نئے سوالات بھی شامل ہو جائیں گے۔ یہ سارے سوال جنرل راحیل شریف کی جانب سے کیے گئے اقدامات کے پس منظر سے جنم لیں گے اور ممکنہ پیش منظر کی وضاحت کریں گے۔

نئے آرمی چیف کے پیش رو نے، جس تحمل،بردباری اور وسیع القلبی کا مظاہرہ کیاتھا، اُس کی ضرورت بہر حال موجود رہے گی کیوں کہ سول قیادت کی سیاسی بصیرت اور تربیت کسی طے شدہ نصاب کے تحت نہیں ہوا کرتی، برسوں کی ریاضت کے بعد سیاست کے باغ میں دانش کے پھل پھول کھلتے ہیں جب کہ عسکری میدان میں ایک خاص نوع کی دانش ایک طے شدہ نصاب اور قواعد وضوابط کے تحت شروع سے آخر تک جاری رہتی ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ فوج ایک نرسری ہے اور اس کے سب پودوں کی آب یاری کا بہترین انتظام وانصرام ہوتا ہے تو غلط نہ ہو گا جب کہ سیاست اور خاص طور پر پاکستانی سیاست خود رو پودوں کی طرح حالات و واقعات کے بطن سے جنم لیتی ہے۔ اس لیے ملٹری اور سول دانش میں ایک واضح فرق ہمیشہ سے قائم رہا ہے۔ دانش کے اس فرق کی وجہ سے متعدد بار تضاد بھی محسوس ہوتا ہے لیکن جنرل راحیل شریف نے اپنے تدبر کے باعث اس پر سے پردہ نہیں اُٹھنے دیا تھا۔

دونوں نئے آرمی چیفس کی تقرریوں کے بعد جس طرح کاردعمل سامنے آیا ہے، وہ خاصا خوش آئیند ہے، امید کی جا سکتی ہے کہ پاکستان کی سالمیت اور ترقی کے نئے باب کھلیں گے اور دنیا میں پاکستان کامثبت تاثر مزید تقویت پکڑے گا۔

نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا تعلق انفرنٹری بلوچ رجمنٹ سے ہے، ان سے قبل جنرل یحییٰ خان، جنرل اسلم بیگ اور جنرل اشفاق پرویز کیانی کا تعلق بھی بلوچ رجمنٹ سے ہی تھا۔یہ اس رجمنٹ کے چوتھے آفیسر ہیں، جو آرمی چیف کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ چیف آف دی آرمی اسٹاف کے پرنسپل اسٹاف آفیسر بھی رہے اور آج کل جی ایچ کیو میں انسپکٹر جنرل آف دی ٹریننگ اینڈ ایویلیو ایشن کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس سے قبل وہ اقوامِ متحدہ کے تحت کانگو میں پاک فوج کے امن مشن کی قیادت بھی کرچکے ہیں جب کہ انفنٹری اسکول کوئٹہ میں کمانڈانٹ اور X کور میں کور کمانڈر کے عہدوں پر فائز رہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ کے پاس جی ایچ کیو میں انسپکٹرجنرل آف ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن کا جو عہدہ تھا۔ یہ وہی عہدہ ہے جو سبک دوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے پاس تھا۔جنرل قمر آرمی کی سب سے بڑی دسویں کور کو کمانڈ کرچکے ہیں، جو کنٹرول لائن کے علاقے کی ذمہ داری سنبھالتی ہے۔لیفٹننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں معاملات کو سنبھالنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔بطور میجر جنرل انہوں نے فورس کمانڈ ناردرن ایریاز کی سربراہی کی اور انفنٹری اسکول کوئٹہ کے کمانڈنٹ بھی رہے جب کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی مقرر کیے جانے والے جنرل زبیر حیات چیف آف جنرل اسٹاف، جی او سی سیالکوٹ، ڈی جی اسٹریٹجک پلاننگ ڈویژن اور اسٹاف ڈیوٹیز ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ رہے۔

جنرل زبیرحیات کاتعلق بھی فوجی گھرانے سے ہے، ان کے والد میجر جنرل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، ان کے ایک بھائی لیفٹیننٹ جنرل عمرحیات پاکستان آرڈننس فیکٹری واہ کینٹ کے چیئرمین ہیں جب کہ دوسرے بھائی میجر جنرل احمد محمود حیات آئی ایس آئی میں ذمے داریاں سر انجام دے رہے ہیں۔ جنرل زبیر محمودحیات کا تعلق آرٹلری سے رہا۔ تھری اسٹار جنرل کی حیثیت سے وہ ماضی میں اسٹریٹجک پلانز ڈویژن (ایس پی ڈی) کے ڈائریکٹر جنرل رہے جو این سی اے کا سیکریٹریٹ ہے، جس کے پاس جوہری فورسز اور اثاثوں کا مکمل اختیار ہوتا ہے۔ جنرل زبیر حیات بہاولپور کے کور کمانڈر بھی رہے۔

پاک فوج کے سینیئر افسروں کی فہرست بہت حد تک واضح تھی، چیف آف جنرل اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات سینیئر ترین افسر تھے اور ان کے بعد کور کمانڈر ملتان، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد، پھر کور کمانڈر بہاولپور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے اور ان کے بعد انسپکٹرجنرل ٹریننگ اینڈ ایویلیوایشن لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ تھے جب کہ پانچواں نام گوجرانوالہ کے کور کمانڈر اکرام الحق کا تھا۔

جنرل زبیر اور جنرل اشفاق ندیم کے درمیان میں دو اور جنرلز بھی تھے، ایک ہیوی انڈسٹریل کمپلیکس ٹیکسلا کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین اور دوسرے ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل نجیب اللہ خان ہیں۔ یہ دونوں افسر آرمی چیف کے عہدے کے لیے تکنیکی طور پر اہل نہیں تھے کیوں کہ انہوں نے کسی کور کی کمانڈ نہیں کی۔ اسی طرح لیفٹیننٹ جنرل مقصود احمد جو اس وقت اقوام متحدہ میں ملٹری ایڈوائیزر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، وہ پہلے ہی توسیع پر ہیں۔

پہلے نمبر پر چار جنرل آرمی چیف کے عہدے پر ترقی پانے کے اہل تھے۔ ان سب کا تعلق پاکستان ملٹری اکیڈمی کے باسٹھویں لانگ کورس سے تھا۔اس صورتحال نے وزیر اعظم نواز شریف کو موقع فراہم کیا کہ وہ بغیر کسی اکھاڑپچھاڑ کے نئے آرمی چیف کا تقرر کرسکیں مگر ان چاروں جنرلز کا فوج میں ارتقائی سفر ایک دوسرے سے مختلف تھا۔ جنرل مشرف کے بعد آرمی کے تمام فور اسٹار جرنیل، جن میں جنرل طارق مجید، جنرل خالد شمیم وائیں، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل راشد محمود اور جنرل راحیل شریف شامل ہیں، ان تمام کا تعلق انفینٹری سے ہی تھا۔

جنرل پرویز مشرف آخری فور اسٹار جنرل تھے، جن کا تعلق آرٹلری سے تھا۔تاریخی اعتبار سے آخری چودہ فور اسٹار جرنیلوں میں سے 9 نے چیف آف جنرل اسٹاف کی حیثیت سے فرائض انجام دیے تھے، جو آرمی چیف کے بعد فوج کا معتبر ترین عہدہ ہوتا ہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ بھی آج ہی خالی ہورہا ہے۔

یہ عہدہ اگلے چیف آف آرمی اسٹاف کے تقرر میں پیچیدگی پیدا کرسکتا تھا مگر وزیر اعظم نے تدبر سے کام لیا اور دونوں عہدوں پر ایک ساتھ تعیناتیاں کر دیں۔اصولی طور پر سی جے سی ایس سی کا عہدہ تینوں مسلح افواج کے سینیئر ترین فور اسٹار جنرل کو ملنا چاہیے تاہم نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) کے قیام کے بعد سے آرمی کو اس عہدے کے لیے فوقیت حاصل ہے کیوں کہ جوہری کمانڈ اور اسٹریٹجک اثاثوں کا کنٹرول آرمی ہی سنبھالتی ہے۔سی جے سی ایس سی، این سی اے کی ڈیپلائمنٹ کمیٹی کا ڈپٹی چیئرمین بھی ہوتا ہے جب کہ وزیر اعظم اس کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس عہدے پر سینیئرموسٹ جنرل کو ہی تعینات کیا جاتا ہے۔اسی لیے اب تک حکومت نے کسی جونیئر جنرل کو سی جے سی ایس سی مقرر کرکے سینیارٹی کی تربیت کو برقرار رکھا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔