حکومت نے رقیہ بلڈنگ کے مکینوں کو بے آسرا چھوڑدیا

اسٹاف رپورٹر  منگل 29 نومبر 2016
برنس روڈ پر رقیہ بلڈنگ کے مکینوں نے متبادل رہائش کے لیے دھرنا دیا ہوا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

برنس روڈ پر رقیہ بلڈنگ کے مکینوں نے متبادل رہائش کے لیے دھرنا دیا ہوا ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

 کراچی:  پاکستان چوک مخدوش عمارت رقیہ منزل کے مکینوں نے ڈیڑھ لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان چوک پر احتجاجاً دھرنا دے کر سڑک کو ٹریفک کیلیے بلاک کردیا اور پر احتجاج شروع کردیا۔

مکینوں کا کہنا ہے کہ انھیں مکان کے بدلے مکان چاہیے اور جب تک ان کیلیے کسی دوسری جگہ رہائش بندوبست نہیں کیا جاتا اس وقت تک اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے،ان کا کہنا ہے کہ وہ اس جگہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے انھیں کچھ بھی ہوجائے، احتجاجی مظاہرین کا کہنا ہے ان کے پاس اتنی رقم نہیں ہے کہ وہ کسی دوسری جگہ پر اپنی رہائش کا بندوبست کر سکیں پاکستان چوک ٹریفک جام کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او آرام باغ پولیس کی بھاری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے اور اس دوران ایس ایچ او آرام باغ اور یو سی چیئرمین قیصر کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی۔

ایچ او آرام باغ نے یوسی چیئرمین کو کہا کہ آپ بیچ میں نہ آئیں مجھے پتہ ہے کہ کس طرح سڑک کو ٹریفک کے لیے کھلوانا ہے جس کے بعد ایس ایچ او آرام باغ نے احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کر کے سڑک کو ٹریفک بحال کردیا جبکہ علاقہ مکین مذکورہ عمارت کے قریب موجود ہیں اور اپنا احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، دوسری جانب آرام باغ پولیس کا کہنا ہے کہ عمارت میں رہائش پذیر تمام مکینوں کو عمارت سے نکال لیا گیا ہے ایک خاتون عمارت میں اب بھی عمارت میں موجود ہے جسے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔