ایسے جوتے جنہیں کھا کر مزا آجائے

ویب ڈیسک  منگل 29 نومبر 2016
چھبیس ہزار پاکستانی روپوں جتنی قیمت والے یہ جوتے خصوصی ڈبے میں پیک کرکے بھیجے جائیں گے۔ (فوٹو: فائل)

چھبیس ہزار پاکستانی روپوں جتنی قیمت والے یہ جوتے خصوصی ڈبے میں پیک کرکے بھیجے جائیں گے۔ (فوٹو: فائل)

اوساکا: جاپان میں ایسے جوتے بھی فروخت کئے جارہے ہیں جنہیں ہر کوئی مزے لے کر کھانا چاہتا ہے کیونکہ یہ جوتے چاکلیٹ سے بنے ہوئے ہیں۔

اوساکا، جاپان کے ریہگا رائل ہوٹل میں ’لی ایکلات چاکلیٹ بوتیک‘ کے ذہین ماسٹر شیف، موتوہیرو اوکائی نے یہ جوتے اس انداز سے تیار کئے ہیں کہ اپنے تلووں سے لے کر فیتوں تک، دیکھنے میں یہ چمڑے سے بنے ہوئے اصلی جوتے لگتے ہیں؛ لیکن ایسا ہر گز نہیں۔

موتوہیرو اوکائی نے چاکلیٹ پر اپنی خصوصی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ جوتے تیار کئے ہیں جن میں سے ہر ایک کی لمبائی 10.2 انچ ہے جبکہ یہ مکمل طور پر چاکلیٹ سے بنائے گئے ہیں۔

یہ جوتے تین رنگوں میں دستیاب ہیں: ڈارک براؤن، لائٹ براؤن اور ریڈ براؤن (سرخی مائل بھورا)؛ جبکہ انہیں چمڑے جیسے اصلی جوتوں کی آخری شکل دینے کےلئے بہت زیادہ مہارت اور صبر آزما مرحلے سے گزارنا ضروری ہوتا ہے جس میں غلطی کا امکان بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔

اسی مہارت اور مشقت کی وجہ سے یہ چاکلیٹی جوتے بہت مہنگے بھی ہیں اور ان کے ہر جوڑے کی قیمت 29160 ین (تقریباً 26000 پاکستانی روپے) ہے۔ البتہ ان کے ہر ڈبے میں جوتوں کے علاوہ جوتے پہننے میں مدد دینے والا شو ہارن اور شو کریم کا ایک جار بھی رکھے گئے ہیں؛ اور یہ سب کے سب چاکلیٹ ہی سے بنے ہوئے ہیں۔

اگر آپ شوق رکھتے ہیں اور یہ مہنگے چاکلیٹی جوتے خریدنا بھی چاہتے ہیں تو آپ کو تیار رہنا ہوگا کیونکہ ان جوتوں کے صرف 9 جوڑے تیار کئے جارہے ہیں جو ’’جنٹل مینز ریڈیئنس‘‘ سے ’’پہلے آئیے، پہلے پائیے‘‘ کی بنیاد پر 20 جنوری سے 7 فروری تک فروخت کئے جائیں گے اور کامیاب خریداروں کو 7 سے 14 فروری کے دوران، یعنی ویلنٹائنز ڈے تک سپلائی کردیئے جائیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔