کمان کی تبدیلی، اہم پیشرفت

ایڈیٹوریل  بدھ 30 نومبر 2016
مسلح افواج پر جنرل راحیل کا فخر قوم کی مشترکہ میراث ہے۔ فوٹو: فائل

مسلح افواج پر جنرل راحیل کا فخر قوم کی مشترکہ میراث ہے۔ فوٹو: فائل

نئے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی کمان سنبھال لی۔ اپنے ابتدائی بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کی صورتحال جلد بہتر ہوجائے گی، مجھ پر بھاری ذمے داری عائد ہوئی ہے، میڈیا پاک فوج کا مورال بلند رکھے ، مایوسی کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں، انھوں نے وعدہ کیا کہ میڈیا کو ساتھ لے کر چلوں گا جب کہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف جنرل راحیل شریف جی ایچ کیو میں ہونے والی تقریب میں پاک فوج کی کمان کی چھڑی جنرل قمرجاوید باجوہ کے سپرد کی جب کہ نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے جنرل راشد محمود کی جگہ گزشتہ روز اپنے عہدے کا چارج سنبھال لیا تھا۔

تبدیلی کمان کی دونوں پروقار تقریبات کو سیاسی و عسکری ہم آہنگی ملکی سالمیت کے تقاضوں اور سیاسی استحکام کے حوالوں سے جمہوریت کی سمت ایک خوش آیند پیش رفت سے تعبیر کیا جانا چاہیے ۔ سیاست دانوں نے اس تبدیلی کو خوشگوار قراردیا ہے جب کہ تبدیلی کمان کے جمہوری عمل سے ایک طرف قوم کو یک گونا اطمینان حاصل ہوا ہے ، دوسری جانب ملک کے داخلی سیاسی ماحول اور خطے کی شدت آمیز حرکیات و زمینی حقائق کے ادراک کے تناظر میں ہمہ جہتی، دور رس اور مثبت نتائج برآمد ہونے کی توقعات اور امکانات سے سیاسی افق خالی نہیں ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ جنرل راحیل شریف ملکی سلامتی اور خاص طور پر دہشتگردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کا جو غیر معمولی معیار قائم کرکے رخصت ہوئے ہیں وہ نئے آرمی چیف کے لیے مشعل راہ بھی ہے اور سٹریٹجیکل اور ٹیکٹیکل حوالہ سے ایک ولولہ انگیز عسکری سفر کی تیاری بھی۔

نئے چیف آف آرمی اسٹاف کو بھی بھارتی عزائم، افغانستان کی صورتحال، دہشگردی میں ملوث تحریک طالبان اور دیگر کالعدم تنظیموں کی ممکنہ شورش، ٹارگٹ کلنگ اور دہشتگردی کا خطرہ بھی ہوسکتا ہے، جنرل راحیل اس امتحان میں قوم کے سامنے سرخرو ہوئے، انھوں نے اپنے الوداعی خطاب میں کہا کہ دنیا کی بہترین فوج کی کمان کرنے پر فخر ہے، جنرل راحیل نے بھارت کو خبردار کیا ہے کہ وہ پاکستان کے صبر و تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے، یہ خطے کے لیے خطرناک ہوگا۔

مسلح افواج پر جنرل راحیل کا فخر قوم کی مشترکہ میراث ہے، اب اس فخر کا ورثہ نئے آرمی چیف کو منتقل ہوا ہے جنہیں لائن آف کنٹرول ، مودی سرکار کی عسکری اور جاسوسی تخریب کاری ، دہشتگردی کی مداخلت آمیز کارروائیوں سے نمٹنا ہوگا، سی پیک کے ظاہری و باطنی دشمنوں سے چوکنا رہنا ہوگا ، سابق آرمی چیف نے کراچی میں بد امنی ، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ،اغوا برائے تاوان اور گینگ وار سمیت جرائم پیشہ عناصر کے خلاف رینجرز کو اختیارات دیے، رینجرز اور پولیس کے اشتراک سے کراچی میں امن قائم ہو۔

نئے آرمی چیف کے لیے مسائل و چیلنجز بے شمار ہیں، سردست بھارت کی ایل او سی پر جارحیت کا سلسلہ جاری ہے، نام نہاد سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر سرحدی خلاف ورزیوں میں مصروف ہے، بیگناہ لوگ شہید کیے جارہے ہیں،کشمیریوں کی نئی نسل اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہے ،اور پاکستان کو اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے بھارت کو بات چیت اور مسئلہ کشمیر کے حل پر مجبور کرنا ہے جو جنگ چھیڑنے کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے۔

کشمیر کو آتش فشاں بنا کر کشمیری عوام پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرانے کا انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کررہا ہے۔نئے آرمی چیف کو نو منتخب امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کی صدارت میں پاک امریکا عسکری تعلقات کے اونٹ کی کروٹ پر کڑی نظر رکھنا ہوگی، کمان کی تبدیلی سے دنیا کو پاکستان کے نئے تشخص اور جمہوری عمل کے تسلسل میں عسکری معاونت سے ایک مثبت پیغام بھی ملا ہے، امریکا برطانیہ، چین اور دیگر ملکوں نے جنرل زبیر حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ کو مبارکباد دی ہے۔

بلاشبہ وزیراعظم نواز شریف نے نئے آرمی کی تقرری کے سلسلہ میں غیر معمولی صبر و تحمل اور قوت فیصلہ کا ثبوت دیا ہے، آرمی چیف کی دوڑ میں جتنے جنرلزلفٹیننٹ جنرل سید واجد حسین، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم احمد اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے شامل تھے وہ سب پروفیشنل ، محب وطن اور اہلیت کے اونچے مقام پر ہیں، عسکری حفظ مراتب کے لحاظ سے بلند قامت اور واجب الاحترام ہیں۔

جنرل راحیل کے بعد اب صورتحال سے نمٹنے کے لیے جنرل جاوید قمر باجوہ پر قوم کی نظریں مرکوز ہیں۔ جنرل زبیر حیات اور جنرل قمر جاوید باجوہ اپنے میرٹ، خدمات، قومی و عسکری امنگوں کی ترجمانی اور سرحدوں کی نگہبانی کے عظیم فرض سے عہدہ برآ ہونے پر چنے گئے، اور جس شخص کو بری فوج کا سربراہ بنایا گیا وہ انفینٹری بلوچ رجمنٹ کے چوتھے افسر جب کہ پاک فوج کا 16 ویں آرمی چیف ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی سیاسی روش سے الگ ہے، ہمارے سیاسی کلچر کو بھی ایک بڑے شیک اپ کی ضرورت ہے، کرپشن ملک کا سنگین مسئلہ ہے، سیاسی اسٹیک ہولڈرز دست وگریباں ہیں، پانامہ لیکس کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں جاری ہے، عوام معاشی ریلیف کو ترس رہے ہیں، ملکی ہیجانی سیاسی صورتحال کے باعث آرمی چیف کا کردار سب سے اہم اور چیلنجگ ہوگا۔انھیں عسکری اور سیاسی پیج پر پھیلائی جانے والی افسوس ناک کشمکش کو ختم کرنا ہے۔ اسی میں جمہوریت کی بقا کا راز ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔