ایک ’’خطرناک‘‘ مگر یادگار تقریر

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 30 نومبر 2016
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

قارئین سوچ رہے ہونگے کہ یہ خطرناک تقریر، جس کا عنوان میں ذکر ہے شائد بھٹو صاحب نے یواین او میں کی ہوگی۔ یا پھر یہ کسی پیشہ ورمولوی یا ذاکر کی آگ لگادینے والی تقریر ہوگی۔نہیں آپ کاقیاس درست نہیں ہے۔اس تقریر نے آگ نہیں لگائی دلوں کو شگفتگی اور تازگی بخشی جس سے سامعین زعفران کی فصل بن گئے۔ یہ تقریر آج سے پندرہ سال قبل نا چیز نے لاہور میں اولڈ راوینزایسوسی ایشن کے سالانہ عشائیے میں کی تھی۔

اکتوبر 1999میں جنرل مشرّف نے حکومت پر قبضہ کیا تو اپنے پیشرو ڈکٹیٹر کے سارے SOPsپر عمل کرنا شروع کردیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر جج صاحبان نے اس کے غیرآئینی اقدام کو جائز قرار دینے سے انکار کیا تواس نے PCO کی تلوار  سے عدلیہ کے اُٹھے ہوئے سر قلم کردیے باقیماندہ نے خود ہی سرجھکادیے۔ پھر اُسی طرح ایک جعلی سا ریفرنڈم منعقد کرایا، جس میں بے ضمیر افسروں کے ذریعے ڈبے بھروائے گئے۔

اس ڈرامے میں عوام نے تو بالکل ساتھ نہ دیا مگر عدالت اور سیاست کے شادے اور شیدے آمر کے پٹھوبن گئے۔ ووٹ دینے کے لیے عوام بالکل نہیں آئے مگر افسر شاہی نے فوجی آمر کو اپنی ’’کارکردگی‘‘ اس طرح دکھائی کہ کہیں نتیجہ 99%کہیں 100%اور کہیں اس سے بھی زیادہ دکھادیا۔ اس شرمناک ڈرامے کے چند روز بعد اولڈ راوینزایسوسی ایشن کا سالانہ عشائیہ تھااور حسب روایت لاہور کے سب سے بڑے ہوٹل کا سب سے بڑا ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا جس میں ہر طبقہ ء فکر کے معروف افرادشریک تھے۔

اولڈ راوینزایسوسی ایشن گورنمنٹ کالج لاہور کے سابق طلباء و طالبات کی تنظیم ہے جسکی صدارت کی مشعل جناب وسیم سجاد اور چیف جسٹس شاہ صاحب سے ہوتی ہوئی اب جناب ایس ایم ظفر کو منتقل ہوچکی ہے اس کا جنرل سیکریٹری شہباز احمدشیخ جیسا بے لوث شخص ہے جسکی محنت لگن اور اپنی مادرِعلمی سے عشق کی بدولت بڑی اعلیٰ معیار کی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ سالانہ عشائیے میں اسٹیج پر صدر اور سیکریٹری کے علاوہ پانچ شخصیات کو بٹھایا جاتا ہے، وہی اس تقریب کے مہمان مقرر ہوتے ہیں۔

ربع صدی قبل ان پانچ مقررین میں راقم کا نام شامل کیا گیاجو ابھی تک چل رہا ہے، کئی سال پہلے شہباز شیخ نے اپنے استقبالیہ خطاب کے فوراً بعد راقم کو تقریر کے لیے بلایا تو ناچیزنے سنجیدہ اور خشک تقریر کے بجائے ہلکے پھلکے انداز میں باتیں کیں جس سے سامعین بھی محظوظ ہوئے اور اگلے مقررین کے لیے ایک trendبھی سیٹ ہوگیا۔ بس پچھلے پچیس سالوں سے یہی ریت چلی آرہی ہے، ہر بار تقریب کے خاتمے پر لوگ بڑی محبّت سے ملتے ہیں، داد بھی دیتے ہیں اور تعارفی کارڈ بھی۔ دور آمریت میں جب خوف کی فضاء ہو توتخلیق کے معیار میں اضافہ ہوتا ہے اور طنز و مزاح کی فصل بھی خوب پھلتی پھولتی ہے۔

ریفرنڈم کے فوراً بعد ہونے والے اولڈ راوینز کے سالانہ عشائیے میں راقم کا نام پکارا گیا تو مائیک پر آکر اسطرح آغاز کیا ’’خواتین و حضرات میں آج کے ڈنر کی دعوت دینے کے لیے کچھ دوستوں کے گھر پہنچا تو کوئی بھی گھر پر نہ ملا‘‘، پولیس کے ایک ضلع سربراہ کے گھرسے اس کے اردلی نے بتایا کہ ’’صاحب کے بازوؤں میں کھلیاں پڑگئی  ہیں مالش کروانے گئے ہیں‘‘۔ میں نے پوچھا وہ کیسے پڑگئیں؟ کہنے لگا’’جی ریفرنڈم میں سارا دن مہریں جو لگاتے رہے تھے‘‘۔

ایک دوست ڈپٹی کمشنرتھا اس کے گھر رابطہ کیا توبھابھی نے بتایا’’ بھائی آپ کے دوست ساری رات ٹکور کرواتے رہے مگر بازوؤں کے درد میں افاقہ نہیں ہو‘‘  میں نے پوچھا بھابھی ہوا کیا؟ کہنے لگیں ’’بھائی ریفرنڈم میں اوپر سے حکم تھا رزلٹ 99%آنا چاہیے، پولنگ اسٹیشن پر بندے تو آئے نہیں،  انھیں خود ہی پانچ چھ گھنٹے مہریں لگانی پڑیں جس سے ان کے بازو شل ہوگئے ہیں‘‘۔ ایک دوست بریگیڈئیرہیں۔

ان کی بیگم کے ساتھ مکالمے کا بھی ذکر ہوا ۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس ارشاد عرف شادا کی شخصیّت اور کارکردگی پر بھی تبصرہ ہوا پھر یہ بھی ذکر ہواکہ ان نتائج نے عالمِ برزخ میں جنرل ضیاء کو چونکا دیا جنہوں نے اپنے ساتھیوں جنرل جیلانی اور فضلِ حق سے گلہ کیا کہ یہ ہمارا جونئیر مشرّف ہم سے کیسے بازی لے گیا، انکاجواب بھی دلچسپ تھا۔ تقریر ختم ہوگئی مگر سامعین کے قہقہے اور تالیاں کئی منٹ تک ختم نہ ہوئیں۔اس کے بعدجناب ایس ایم ظفر نے کہا کہ ریفرنڈم پر اس شگفتہ تقریرسے بہتر تبصرہ ممکن نہیں ہے۔

سامعین میں بیٹھے ہوئے سینئر افسر اور صوبائی محکموں کے سیکریٹری پہلے دائیں بائیں دیکھتے اور پھر خوب ہنستے مگر دوسرے سامعین کھل کر قہقہے لگاتے رہے۔مقررین میں موجودہ کابینہ کے ایک وزیر بھی تھے جنہوں نے بڑی محتاط سی تقریر کی اور یہ بھی کہا کہ ’’لگتا ہے چیمہ صاحب نے ملک چھوڑنے کا ارادہ کرلیا ہے‘‘۔

چونکہ اسوقت مشرّف کا اقتدار نصف النہار پر تھا کوئی اس کے بارے میں بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا اس لیے اس تقریر سے نہ صرف سامعین کا بلکہ عوام کا بھی کتھارس ہوا۔ اس رات جب میں ہوٹل سے نکلا تو میری جیب میں مختلف خواتین و حضرات کے دیے ہوئے سو سے زیادہ کارڈ تھے۔ تقریب کے خاتمے پر کچھ دوستوں نے ازراہِ ہمدردی آگے پیچھے ہوجانے کا مشورہ بھی دیاتاکہ ایجنسیاں اٹھا نہ لیں۔ میں نے کہا اﷲمالک اور محافظ ہے۔دوسرے روز اس تقریر کا اخبارات میں بھی چرچا رہا۔ بی بی سی نے اس کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ’’ لاہور کی ایک تقریب میںتقریر کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے ریفرنڈم کی دھجیاں اڑا دیں‘‘۔ جناب مجید نظامی نے اسے “Speech of the year”قرار دیا۔ ہر محفل میں اس کا ذکررہا۔

دراصل تقریر کا طنز عوام کے جذبات کا مظہر تھا اس لیے عام لوگ اس کا ذکر کرتے ہوئے  enjoyبھی کرتے تھے اور آمریّت کے خلاف اپنا غبار بھی نکالتے تھے۔ بہت سے نوجوان افسروں کو تو تقریر کے کئی پیرے زبانی یاد ہوگئے تھے۔ خیر کچھ روز تو خیریّت سے گزر گئے مگر پھر وہی ہوا جسکا خدشہ تھا۔ ناچیز کو پہلا نوٹس وزارتِ داخلہ کیطرف سے موصول ہوا (کیونکہ اسوقت میں نیشنل پولیس اکیڈیمی میں تعینات تھا جسے بدقسمتی سے وزارتِ داخلہ کا ماتحت ادارہ بنادیا گیا ہے) اور دوسرا شوکاز نوٹس اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کیطرف سے ملا کہ’’ تم نے جو مارشل لاء اور ریفرنڈم کا مذاق اڑایا ہے سات روز میں جواب دو کہ کیوں نہ تمہارے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے‘‘۔

اُسوقت کے سیکریٹری داخلہ عبدالرشید خان صاحب نے ( جو ایک نیک نام افسر تھے ) مجھے بلوایا اور بتایا کہ حکمرانوں کو تقریر پر بہت غصّہ ہے۔ ساتھ ہی ہمدردانہ مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ تقریر سے انکار کردیا جائے‘‘۔ میں نے کہا ’’سر! میں ایک دو روز میں نوٹس کا تحریری جواب دے دونگا‘‘ کہنے لگے ٹھیک ہے۔ پھر مجھ سے ہمدردانہ انداز میں کہنے لگے کہ ’’آپ بڑے اچھے آفیسر ہیں اور ابھی جواں سال ہیںآپ کو نوکری سے نکال دیا گیاتو یہ بڑی ٹریجیڈی ہوگی۔ اس لیے denialوالا راستہ ہی بہتر ہے‘‘۔ دوروز بعد میں اپنا تحریری جواب لے کر سیکریٹری داخلہ کے پاس پہنچ گیا۔

رشید خان صاحب نے پڑھکر میری طرف دیکھا اور کسی قدر ناراضی سے کہا’’توآپ نے الزام تسلیم کرلیا ہے، آپ نے ایک ہمدردانہ مشورہ نہیں ماناجو آپ کو بچانے میں مدد کر سکتا تھا‘‘ میں نے کہا ’’ سرسیکڑوں لوگوں نے تقریرسنی تھی میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا کہ میں نوکری بچانے کے لیے جھوٹ بولوں اور کہوں کہ میں نے یہ باتیں نہیں کیں‘‘۔ پھر سیکریٹری صاحب میرا جواب پڑھتے ہوئے کہنے لگے کہ’’ حکومت آپکو سزا دینا چاہتی ہے مگر آپ اُلٹا حکومت کی مدد کرنے والے افسروں کو سزا دینے کا مطالبہ کررہے ہیں‘‘  میں نے کہا ’’سر! بالکل! میں نے یہی لکھّا ہے کہ سول سرونٹس کو وہی کرنا چاہیے جو بانیء پاکستان نے انھیںہدایات دی ہیں۔

انھیں ہر قیمت پر غیرجانبدار رہنا چاہیے اور حکومت کے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کردینا چاہیے۔ جس افسرنے بھی ڈبے بھرنے یا بھروانے کا کام کیا ہے چاہے وہ ایس پی ہے یا آئی جی، ڈی سی او ہے یا چیف سیکریٹری، سب نے ملکی قانون اور قائدؒ کی واضح ہدایات کی خلاف ورزی کی ہے ان سب کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ یہ بات کہنے پر مجھے سزا ملتی ہے تو قبول ہے‘‘ خان صاحب میری بات سُننے کے بعد کہنے لگے ’’اگر بیوروکریسی قائداعظمؒ کی ہدایات پر عمل کرنا شروع کردے تو سارے مسئلے ہی ختم ہوجائیں‘‘۔ حکومت کی ناراضی کے پیشِ نظر میرے گھر والے میرے لیے کسی متبادل کیرئیر کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے لگے تھے۔

مگر قدرت کو کچھ اور منظور تھا اور شائد اس نے ابھی ناچیز سے کچھ اور کام لینا تھے۔ ریفرنڈم بہت بدنام ہوگیااور اُس پر ہر طرف سے سخت تنقید ہورہی تھی اس لیے (بعد میں معلوم ہوا کہ )جب یہ تقریر اوپر ڈسکس ہوئی تو حکمرانوں سے کہا گیا کہ اگر ریفرنڈم پر تنقید کے باعث اس افسر کے خلاف کارروائی کی گئی تو حکومت اور زیادہ بدنام ہوگی  ۔لہٰذا جابر حکمران راقم کے خلاف کارروائی سے ٹل گیا جس کے با عث ناچیز کو خیبر پختونخوا  اور پنجاب کے اہم ترین علاقوں میں عوام کو تحفّظ اور انصاف فراہم کرنے اور کچھ قومی اداروں کو درست کرنے کا موقع ملتارہا۔ بلاشبہ اصل اور مستقل بادشاہت صرف اور صرف خدائے بزرگ و برتر ہی کی ہے۔ حکمران ہے اک وہی باقی بتانِ آزری۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔