حکومتی مدت کے اختتام تک لوڈشیڈنگ تاریخ کا حصہ بن جائے گی، وزیراعظم

ویب ڈیسک  منگل 29 نومبر 2016
وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ فوٹو؛ فائل

وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی کے جاری منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔ فوٹو؛ فائل

 اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف نے كہا ہے كہ موجودہ حكومت كی مدت كے اختتام تك بجلی كی پیداوار کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار كافی حد تك كم ہو جائے گا اور لوڈ شیڈنگ تاریخ كا حصہ بن جائے گی۔

وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں بجلی كے جاری منصوبوں، صاف توانائی كے منصوبوں، كوئلے سے بجلی پیدا كرنے كے منصوبوں، پن بجلی اور ایل این جی پاور پلانٹس سمیت مختلف منصوبوں پر كام كی رفتار كا جائزہ لیا گیا جن سے 2017 كے دوران اور مارچ 2018 سے پہلے تك قومی گرڈ میں نمایاں بجلی شامل ہو جائے گی، اجلاس میں ملك میں بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں، بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے اور صنعتی شعبے كی ترقی كے تناظر میں توانائی كی بڑھتی ہوئی ضروریات كو پورا كرنے كے لیے بجلی كی پیداوار كے مستقبل كے منصوبوں پر بھی غور كیا گیا۔

اجلاس میں بجلی كی تقسیم كے نظام كو بہتر بنانے كے لیے نئی ٹرانسمیشن لائنوں كی تنصیب كے كام كی صورتحال پر بھی غور كیا گیا۔ اجلاس كو بتایا گیا كہ صارفین كو بجلی كی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے كے لیے بجلی كی تقسیم كے نظام میں حائل ركاوٹیں دور كی جا رہی ہیں۔

وزیراعظم نواز شریف نے وزارت پانی و بجلی كے حكام كے كام كو سراہتے ہوئے کہا كہ موجودہ حكومت كی مدت كے اختتام تك بجلی پیدا كرنے کے لیے مہنگے ایندھن پر انحصار كافی حد تك كم ہو جائے گا۔ انہوں نے كہا كہ جب موجودہ حكومت برسراقتدار آئی تو اس وقت ملك كو توانائی كے بحران كا سامنا تھا، آج صورتحال میں نمایاں بہتری ہے، اس وقت صنعتی شعبے کے لیے كوئی لوڈ شیڈنگ نہیں كی جا رہی جب كہ شہری اور دیہی علاقوں كے لیے لوڈ شیڈنگ میں نمایاں اور بتدریج كمی ہوئی ہے، توانائی كے شعبے میں ہماری بھرپور اصلاحات اور انرجی مكس كی تقسیم كے ذریعے اضافی بجلی كی پیداوار کے لیے كوششوں سے ملك كی مستقبل كی توانائی كی ضروریات پوری كرنے میں مدد ملے گی۔

وزیراعظم نے كہا كہ موجودہ حكومت كی كوششوں كو عالمی سطح پر بھی بھرپور انداز میں تسلیم كیا گیا ہے، موجودہ حكومت كو یہ اعزاز حاصل ہے كہ اس نے گزشتہ 20 سالوں كے مقابلے میں زیادہ پیداواری گنجائش كے منصوبوں پر كام شروع كیا ہے۔ اجلاس كو بتایا گیا كہ گردشی قرضے كو ایك سطح پر محدود كر دیا گیا ہے، وصولیوں كی صورتحال تسلی بخش ہے اور لائن لاسز میں كمی ہوئی ہے۔ اجلاس كو مزید بتایا گیا كہ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لائنوں كے منصوبوں پر كام جاری ہے۔

وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ موجودہ حكومت شروع دن سے توانائی كے بحران كے حل اور قومی گرڈ میں اضافی بجلی شامل كرنے پر توجہ مركوز كیے ہوئے ہے اور ہم عوام كو سستی بجلی كی فراہمی كے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات پر خوشی ہے كہ ہم كامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں اور انشاءاﷲ لوڈ شیڈنگ تاریخ كا حصہ بن جائے گی، آئندہ نسلوں كو پائیدار اور بلا تعطل بجلی كی فراہمی یقینی بنانے كے لیے مائیكرو اور بڑی سطح پر بجلی كی پیداوار كے منصوبوں پر كام جاری رہے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔