پاک افغان آبی مسئلہ

جمیل مرغز  بدھ 30 نومبر 2016

پاکستان کا جغرافیہ ‘قدرتی طور پر ‘بہت خوبصورتی سے ترتیب شدہ ہے۔شمال میں ہر طرف‘برف سے ڈھکے‘ دنیا کی بلند ترین پہاڑ ‘گلیشئر‘پانی کے چشمے اور دریا ‘جنوب میں‘ سال میں تین چار فصلیں اگانے کی صلاحیت والی‘ وسیع و عریض ‘زرخیز زمین اور میدان ‘لیکن اس کے لیے پانی چاہیے ا ور پانی شمال میں ہے۔ ہمارے پانی کے زیادہ منبع‘شمال میں کشمیر اور افغانستان میں ہیں‘ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے تحت ‘دریائے ستلج‘ بیاس اور راوی ہندوستان کے حصے میں آئے اور دریائے سندھ ‘جہلم اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے۔

افغانستان سے دریائے کابل اور دریائے کنڑ کے علاوہ بھی کئی ندی نالے اور چھوٹے دریاؤں کا پانی پاکستان میں آتا ہے ‘پاکستان ان دریاؤں یا ندی نالوں کی زیریں سمت میں واقع ہے ‘اس لحاظ سے پاکستان (Low Riparian)اور ہندوستان اور افغانستان (Upper Riparian)کے زمرے میں آتے ہیں۔ہندوستان کا موڈ خراب ہو تو‘ وہ چناب اور جہلم کے دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکیاں دیتا ہے ۔پاکستان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ یہاں پر پانی کے عظیم ذخیرے موجود ہیں‘ اباسین کا زیادہ پانی پاکستان کے اندر سے آتا ہے‘ صرف تھوڑا پانی لداخ سے آتا ہے ۔

اسی طرح دریائے سوات ‘دریائے سواں‘دریائے دوڑ‘دریائے کنہار ‘دریائے گومل‘ دریائے دیر‘ دریائے پنچ کوڑہ‘ دریائے چترال کے علاوہ بہت سے دریا اور ندی نالے‘ پاکستان کے شمال میں واقع گلیشیرز اور پہاڑوں کے علاوہ برسات کی بارشوں سے بھی‘بے اندازہ پانی آتا ہے ‘لیکن ہمارے پاس ‘قدرت کے اس عظیم تحفے کو ذخیرہ کرنے کا کوئی بندوبست نہیں‘ہم تربیلہ کے بعد ان پانیوں کے لیے کوئی ڈیم نہ بنا سکے اور یہ سارا پانی سمندر میں جاکر ضایع ہو جاتا ہے۔اس لیے روزانہ مودی صاحب ‘پانی بند کرنے کی دھمکیاں دیتے ہیں۔اگر وہ پانی بند بھی نہ کرے ‘تب بھی یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارا ذخیرہ شدہ پانی اب کم پڑ رہا ہے۔ہر فصل کے موقع پر صوبوں کے درمیان ‘ارسا میدان جنگ بنا ہوتا ہے۔

وہ محاورہ ہمارے اوپر فٹ آتا ہے کہ ’’آسمان سے گرا‘ کھجور میں اٹکا ‘‘۔دوراندیش لوگ بار بار زور دے رہے تھے کہ ‘پانی کے بڑے ڈیم بنائیں ‘اس سے بجلی اور پانی ‘دونوں کی کمی کا مسئلہ حل ہوجائے گا ‘لیکن پاکستان کے کسی بھی حکومت کے کان پر جوں نہیں رینگی‘ کمیشن مافیا کے زیر اثر‘ بس کوئلے اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کے مہنگے منصوبے‘  IPPکے ذریعے یا پبلک سیکٹر میں لگائے گئے ۔اب تک ہندوستان سے شکایت تھی کہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے‘ ڈیم بناکر ہمارا پانی روک رہا ہے اب تو خیر سے افغانستان بھی ترقی کرچکا ہے اور اپنے دریاؤں پر ڈیم بنا رہا ہے۔

جس سے پھر ہمیں مسائل کا سامنا ہوگا۔اس بارے میں مختلف رپورٹوں اور خبروں کی بنیاد پر یہ کالم حاضر ہے۔اخباری اطلاعات کے مطابق ‘افغانستان اپنے ملک میں دریائے کابل پر بجلی بنانے والے12 ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے ‘اے جی این عباسی کمیٹی نے 2003 میں افغانستان کے ساتھ پانی کی تقسیم کا معاہدہ کرنے کی سفارش کی تھی ‘ایک اور خبرکے مطابق پاکستان کی وزارت پانی و بجلی‘ نے افغانستان کے ساتھ پانی کا معاہدہ کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے ‘افغانستان سے دریائے کابل پرمختلف ڈیم بنانے کی مصدقہ خبروں کے بعد وزارت میں اس موضوع پر کئی اعلیٰ سطح اجلاس ہو چکے ہیں۔

افغانستان سے پانی دریائے کابل کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ‘جہاں تک افغانستان کے ساتھ پانی کے معاہدے کا تعلق ہے ‘تو اس بارے میں ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ عالمی بینک نے اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی سے کہا ہے‘ کہ وہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے پانی کا ڈیٹا جمع کرنے میں مددکرے ‘کیونکہ یہ اعداد وشمار دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے استعمال ہوں گے۔

حکومت پاکستان عالمی بینک کے ذریعے ‘افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں تھی ‘دونوں ممالک محسوس کرتے ہیں کہ ان کے درمیان ‘افغانستان سے پاکستان آنے والے دریائے کابل اور دریائے کنڑ اور اس کے معاون دریاؤں کی پانی کی تقسیم کے بارے میں معاہدہ ہونا چائیے ‘پاکستان نے‘ 9ستمبر 2003کو چیئرمین فلڈ کمیشن کی سربراہی میں نو ممبروں پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی ہے ‘اس کمیٹی کے ذمے یہ کام تھا کہ وہ تین مہینے کے اندر پانی کی تقسیم کے معاہدے کا ڈرافٹ تیار کرے لیکن یہ کام مکمل نہ ہوسکا‘ کیونکہ افغان حکومت نے تعاون نہیں کیا ‘حکومت پاکستان کا کہنا تھا۔

’’اس کمیٹی نے ایک عبوری رپورٹ تیار کی ‘جس کے مطابق‘ 17MAFپانی ہرسال دریائے کابل کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوتا ہے ‘موجودہ حالات میں ‘افغانستان دریائے کابل کے پانی سے 12000ایکڑ اراضی سیراب کرتا ہے‘ رپورٹ کے مطابق ‘افغان حکومت نے ‘پانی کے معاہدے کے ڈرافٹ کی تیاری کے لیے ‘مطلوبہ اعداد و شمار مہیا نہیں کیے۔عبوری رپورٹ میں مزید کہا گیاہے کہ‘خیر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتیں بھی ‘کابل ‘کیتور ‘ٹوچی اور گومل دریاؤں سمیت افغانستان سے ان کے صوبوں میں ‘مختلف جگہوں سے آنے والے پانی کے مقدار کے بارے میں تفصیل دینے میں ناکام رہی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ‘حکومتی افسر نے کہا کہ‘ افغانستان اور ہندوستان کی برطانوی حکومت کے درمیان 1921 میں ایک معاہدہ ہوا تھا لیکن ’موجودہ حالات کے مطابق‘ پانی کی تقسیم کے معاہدے کے لیے اس میں کافی تفصیل موجود نہیں ہے ‘ پھر بھی پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے ساتھ پانی کے معاہدے کے عمل کو تیز کرنا چائیے ‘تاکہ اس کے پانی کے حقوق کا‘اے جی این قاضی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں ‘ ہمیشہ کے لیے فیصلہ ہوجائے۔

اب‘ جب کہ ہندوستان‘ سے پاکستان کے خراب‘ تعلقات کے علاوہ ملک میں پانی کی کمی ہو رہی ہے‘ افغانستان کی ضرورتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔ حکومت پاکستان کو اس سنجیدہ مسئلے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے ورنہ خطرہ ہے کہ پاکستان کی زرخیز زمین کہیں بنجر نہ ہوجائے ‘ایک طرف پانی سمندر میں جا رہا ہے اور دوسری طرف ٹیوب ویلوں کی وجہ سے زیر زمین پانی بھی ختم ہو رہا ہے۔راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کی ایک رپورٹ کے مطابق ‘اس علاقے میں 250فٹ کی گہرائی میں ‘مکمل ہونے والے ٹیوب ویل اب 600فٹ سے بھی گہرے‘ جاکر مکمل ہوتے ہیں۔ کتنی ستم ظریفی ہے کہ جنرل مشرف نے غازی بھروتا کے افتتاح کے موقع پر ‘2003میں بھاشا ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا تھا ۔اس پر آج تک کام شروع نہ ہو سکا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔