پاکستان کیخلاف سیریز میں فتح، کیویز کا 30 سالہ انتظار ختم

اسپورٹس ڈیسک  بدھ 30 نومبر 2016
کرائسٹ چرچ ٹیسٹ 1996 میں 135کی اوپننگ شراکت کے باوجود گرین کیپس 208تک محدود رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

کرائسٹ چرچ ٹیسٹ 1996 میں 135کی اوپننگ شراکت کے باوجود گرین کیپس 208تک محدود رہے تھے۔ فوٹو: اے ایف پی

ہیملٹن:  کیویز نے پاکستان کیخلاف سیریز فتح کا30سالہ انتظار ختم کر لیا،مہمان ٹیم کو 3 برس میں پہلی بار مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں شکست ہوئی، تاریخ میں تیسری مرتبہ سنچری اوپننگ شراکت کے باوجود 10وکٹیں 100سے کم رنز کے عوض گنوا دیں۔

تفصیلات کے مطابق ہیلمٹن ٹیسٹ میں فتح کیساتھ نیوزی لینڈ نے پاکستان کیخلاف30سالہ سیریز ناکامیوں کا سلسلہ ختم کردیا ہے، ٹیم نے آخری بار 1985میں حریف سے سیریز جیتی تھی،اسکے بعد 7میں شکست کا سامنا کیا جبکہ 5ڈرا ہوئیں، گرین کیپس 2014میں سری لنکا کے بعد کوئی سیریز ہارے ہیں، ٹیم کو 3سال میں پہلی بار مسلسل تیسرے ٹیسٹ میں شکست ہوئی،اس سے قبل دورئہ جنوبی افریقہ میں تمام تینوں میچز میں ناکامی ملی تھی،رواں برس یواے ای میں ویسٹ انڈیز کے بعد نیوزی لینڈ میں دونوں ٹیسٹ میں مات ہوئی، پاکستان نے اپنی تاریخ میں تیسری بار سنچری اوپننگ شراکت کے باوجود 10وکٹیں 100سے کم رنز کے عوض گنوائیں۔

اس سے قبل ڈھاکا ٹیسٹ 1962میں اوپنرز نے 122کا آغاز فراہم کیا لیکن پوری ٹیم216 پر ڈھیر ہوگئی تھی، کرائسٹ چرچ ٹیسٹ 1996 میں 135کی اوپننگ شراکت کے باوجود گرین کیپس 208تک محدود رہے تھے، مجموعی طور پرعالمی ٹیسٹ کرکٹ میں 5واں موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ایک ہی سیشن میں8یا زیادہ وکٹیں گنوائیں، پانچوں بار اس طرح کی تباہی گذشتہ 4ماہ میں ہوئی۔

بنگلہ دیش کیخلاف میچ کے دوران انگلینڈ کے تمام 10بیٹسمین ایک ہی سیشن میں پویلین لوٹ گئے تھے،آسٹریلیا نے سری لنکا کے مقابل 9 اورپروٹیز سے میچ میں8نقصان اٹھائے، نیوزی لینڈ نے گذشتہ دورئہ بھارت میں9وکٹیں گنوا دی تھیں۔نیوزی لینڈ کیخلاف پاکستان کے نمبر 4سے 6تک کے بیٹسمینوں نے کم ترین اوسط 11.25کا منفی ریکارڈ بنا دیا،سب نے مل کر صرف 135رنز بنائے،اوپنرز اظہر علی اور سمیع اسلم نے گیندوں کے لحاظ دوسری بڑی شراکت قائم کی، دونوں نے 360 گیندیں کھیلیں، اس سے قبل انھوں نے ویسٹ انڈیز کیخلاف دبئی میں 407گیندوں کا سامنا کیا تھا، سمیع اسلم ایک سال میں 2بار نروس نائنٹیز کا شکار ہونیوالے دوسرے پاکستانی بیٹسمین بنے، انضمام 1995میں اس بدقسمتی کا شکار ہوئے تھے،نوجوان بیٹسمین نے رواں سال ملکی کرکٹرز میں سب سے زیادہ 6مرتبہ 50یا اس سے زائد رنز بنائے ہیں، بدقسمتی سے کسی ایک کو بھی وہ سنچری میں تبدیل نہیں کرسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔