ٹارزن کی واپسی

ڈاکٹر منصور نورانی  بدھ 30 نومبر 2016
mnoorani08@gmail.com

[email protected]

آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اچانک خود ساختہ جلاوطنی اختیارکرتے ہوئے دبئی چلے گئے۔ جانے سے پہلے اُنہوں نے جوشِ خطابت میںکچھ ایسی تقریریں کر ڈالیں جن کے بعد وہ خود اپنے جملوں کی تاب نہ لا سکے اور انھیں بیرون ملک جانا پڑا۔

شعلہ بیانی اورآتش فشانی کے ایسے جوہر دکھائے کہ سننے والے حیران وششدر رہ گئے۔کسی کا نام لیے بغیر ہی اشاروں اورکنایوں میں اُنہوں نے اپنے دل کی ساری بھڑاس نکال لی۔ ’’ہمیں نہ چھیڑو، ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے، آپ کو صرف تین سال رہنا ہے، ہمیں ہمیشہ کے لیے رہنا ہے‘‘ یہ جارحانہ الفاظ کس کے لیے کہے گئے تھے، قوم اچھی طرح جانتی ہے، مگر پھر کیا ہوا، یہ بظاہر دلیر اورنڈردکھائی دینے والا لیڈر دبئی چلا گیا اور اُس وقت تک واپس آنے کا اعلان نہیں کیا جب تک کہ حالات سازگار نہ ہوگئے۔

نجی ٹی وی چینل کو ایک انٹرویو میں اُنہوں نے اپنی اِس جز وقتی پسپائی کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ ’’سیاسی ٹائمنگ‘‘ کے تحت اختیارکیا جانے والاایک کامیاب حربہ قراردیا۔وہ کہتے ہیں میں نے یہ سب کچھ پہلے بھی دیکھا ہے، یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں۔غالباً اُن کا اشارہ اپنے سابقہ دورِاقتدار میںمیموگیٹ والے اسکینڈل سے تھا، جس کے بعد وہ اِسی طرح تقریباً ایک ماہ کے لیے ایوانِ صدر سے نکل کر دیارِغیر میں جا بسے تھے۔ سیاسی زندگی میں مجبوراً اور طوعاً وکرہاً اُٹھائے جانے والے اپنے ہرہزیمت خوردہ اقدام کو سیاسی ٹائمنگ کے مطابق ایک درست اور صحیح فیصلہ ہمارے ہاں سیاستدانوں کا چلن ہے۔ آصف زرداری پاکستانی سیاست میں ماہر، زیرک اور دانا تصور کیے جاتے ہیں۔

’’ایک زرداری سب پر بھاری‘‘ کا سلوگن کوئی یونہی ازراہِ مذاق نہیں بنایا گیا تھا۔اُن کی سیاسی بصیرت، دور اندیشی اورمعاملہ فہمی کے تو ہمارے یہاں سبھی لوگ معترف اورقائل ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی ناگہانی شہادت کے بعد جس طرح حالات کے رخ کو اپنی حکومت کے حق میں موڑ دیا وہ اُنہی کی ذہانت اورمہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔2008ء سے پہلے کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ آصف علی زرداری اِس ملک کی ِ صدارت پر بھی فائز ہوسکتے ہیں، لیکن اُنہوں نے بڑی دانشمندی اوردوراندیشی کامظاہرہ کرتے ہوئے اُس وقت کے مضبوط اورطاقتور صدر مملکت جنرل پرویز مشرف کو بڑی خوبی کے ساتھ چلتا کیا اور خود اُس منصب پر برا جمان ہوگئے۔

آرمی چیف کے عہدے کے لیے کسی دوسرے نئے جنرل کے انتخاب کوظہور پذیر ہوتا دیکھ کر اور 29 نومبرکے بعد کے حالات کو خود کے لیے انتہائی موزوں اورسازگارخیال کرتے ہوئے اُنہوں نے اب اپنی واپسی اور ملکی سیاست میں ایک بار پھر فعال کردار ادا کرنے کا عندیہ بھی دے ڈالا ہے۔ اُن کے اِس فیصلے کو دیکھتے ہوئے یہ بات کسی حد تک درست اور صحیح معلوم ہوتی ہے کہ اگرجنرل راحیل شریف کو ایکسٹینشن مل جاتی تو شاید وہ اگلے دوتین سالوں تک واپس وطن نہ لوٹتے۔ ایسی صورت میں اُن کی واپسی غیر معینہ مدت کے لیے پھر کھٹائی میں پڑسکتی تھی۔

اپنے دور میں سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویزکیانی کو ایکسٹینشن دینے کے اپنے عمل کی توجیح وہ کچھ اِس طرح پیش کرتے ہیں کہ میں نے اُس وقت یہ فیصلہ خود کو اور پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کے لیے کیا تھا، مگر آج اُن کی نظر میں آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینا شاید ایک غیر مناسب اور غیر دانشمندانہ فیصلہ ہوگا، مگر ساتھ ہی ساتھ وہ اِسے وزیرِاعظم کی صوابدید پر بھی چھوڑکریہ تاثر دینا بھی چاہتے ہیں کہ اِس سلسلے میں اُن کی کوئی ذاتی خواہش اور رائے نہیں ہے۔

دبئی سے واپس آکر سیاست میں وہ کیا کردار ادا کریں گے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا، لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ اِس بارنئے آرمی چیف اور اِسٹبلشمنٹ سے الجھنے کی بجائے نوازحکومت کی گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کریں گے۔ویسے بھی الیکشن اب قریب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اور پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کے لیے کچھ زیادہ مخالفانہ اورجارحانہ سیاست کا رخ اختیارکرنا پڑے گا۔ تبھی جاکر وہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے مد مقابل کھڑا ہوپائے گی۔کارکردگی کے میدان میں تو پاکستان پیپلزپارٹی اِن دونوں پارٹیوں کے مقابلے میں فی الحال بہت پیچھے ہے۔اُسے جس صوبے میں حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا گیا تھا اُس صوبے کی حالت انتہائی مخدوش اوردگرگوں ہے۔

اپنی اِس ناکامی اور نااہلی کے سوال کو اُس ٹی وی انٹرویو میں وہ یہ کہہ کرگول مول کرگئے کہ ’’ آپ مجھے پنجاب کا بجٹ دیدیں اور سندھ کا بجٹ پنجاب کو ۔ پھر دیکھیے کس طرح سندھ میں ترقیاتی کام ہوتے ہیں‘‘ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ بجٹ اورفنڈز صوبوں کی آبادی اور رقبے کے مطابق مقررکیے جاتے ہیں۔ پنجاب کی آبادی ملک کی کل آبادی کا 55فیصد ہے۔

اِسی لحاظ سے اُس کے پاس فنڈز بھی زیادہ ہیں۔ سندھ حکومت کو اپنے ترقیاتی کاموں کے لیے جتنے فنڈز دستیاب ہیں اگر اُن کا استعمال صحیح طرح سے ہوجائے تویہ صوبہ بھی باقی صوبوں کی مانند ترقی وخوشحالی کا سفر شروع کرسکتا ہے، مگر بات صرف ایمانداری اور عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار خلوصِ نیت کی ہے۔

پیپلز پارٹی وفاق میں جب کبھی برسرِاقتدار رہی تب بھی اِس صوبے کے غریب عوام کے حالات نہیں بدلے۔ 2008 سے 2013 تک مکمل پانچ سال حکومت کرنے کے بعد بھی اُس کی جھولی میں کارکردگی کاکوئی اچھا ریکارڈ موجود میں ہے۔ اِسی لیے وہ ایسے بہانے طراشنے میں سرگرداں دکھائی دیتی ہے جن سے سندھ کے عوام میںاحساسِ محرومی اوروفاق کی جانب سے ناانصافی کرنے کا تاثر پیدا ہوپائے۔

اب چونکہ آصف علی زرداری نے وطن واپسی کا ارادہ کرہی لیا ہے تو اُنہیں چاہیے کہ حالات کی نزاکت اور نئے الیکشن کی آمد کا خیال رکھتے ہوئے پارٹی کو نئے سرے سے منظم اور متحرک کریں۔کرپشن اور نااہلی جیسی خرابیوں کا علاج تلاش کریں اور صرف کارکردگی کی بنیاد پرلوگوں سے حق حاکمیت کی استدعا کریں۔وہ جب تک صوبہ سندھ سے مفلسی، جہالت اور غربت کا خاتمہ کرنے کی کوششیں نہیں کریں گے ۔ اُسے جدید اورترقی یافتہ نہیں بنائیں گے سارے ملک کے عوام اُن کی باتوں پرکوئی اعتبار نہیں کریں گے۔ مدِ مقابل کوئی مضبوط سیاسی حریف یا جماعت نہ ہونے کی وجہ سے سندھ کی حد تک تو اُنہیں دوبارہ حکومت کرنے کا موقع مل جائے گا لیکن سارے پاکستان میںحکمرانی کرنے کا شوق ہرگز پورا نہیں ہوپائے گا۔

اُنہیں چاہیے کہ پارٹی کی صفوں سے کرپٹ لوگوں کو فارغ کریں اور بھٹوکے نام پر سیاست کرنے کی بجائے خود اپنے زورِ بازو پر الیکشن لڑنے کی کوششیں کریں۔پارٹی نے اب تک صرف اپنے شہیدوں کی کمائی کھائی ہے۔گھڑی خدا بخش لاڑکانہ میں ہر سال دو برسیاں منا کر اور اُس میں منافرت اور اشتعال انگیز تقریریں کرکے بدلتے زمانے کی ضرورتوں اور جدید تقاضوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا۔ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور ہم ابھی تک عہدِ گم گشتہ کی یادوں میں زندگی گذار نے کے عادی بنے ہوئے ہیں۔ ہمارے عوام اب ترقی اور خوشحالی چاہتے ہیں۔اُنہیں ہم کب تک ذوالفقارعلی بھٹو اور بی بی کے قصے سنا سنا کراور نعرے لگا لگا کر بیوقوف بناتے رہیں گے۔کیا الیکشن جیتنے کے لیے پارٹی کو پھر اک نئے شہیدکی ضرورت ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔