ایم کیو ایم لندن کے ندیم نصرت سے ایک مکالمہ

مزمل سہروردی  جمعرات 1 دسمبر 2016
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

ایم کیو ایم لندن کیا ہے۔ یہ بھی کوئی اہم سوال نہیں۔ ایم کیو ایم لندن ایک حقیقت ہے۔ حقیقت سے منہ موڑنے سے حقیقت ختم نہیں ہو جاتی۔ اس لیے میرے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ ایم کیو ایم لندن کیا سوچ رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے۔ لاہور بیٹھ کر میڈیا کی خبروں سے تو یہی اندازہ لگتا ہے کہ ایم کیو ایم لندن ملک دشمن اور ملک  توڑنے کی سازش کر رہی ہے۔ لیکن کیا یہ مان لینا کافی ہے۔ اسی مقصد کے لیے لندن کے اس مختصر قیام کے دوران میں نے ایم کیو ایم لندن کے ذمے داران سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ ندیم نصرت صاحب سے رابطہ ہو گیا۔ اور ایم کیو ایم لندن سیکریٹریٹ میں ملنے کا پروگرام طے ہو گیا۔وہاں مصطفی عزیز آبادی اور واسع جلیل سے بھی لمبی گفتگو ہو گئی۔

میرا سوال سادہ تھا کہ کیا ایم کیو ایم لندن ملک توڑنا چاہتی ہے۔ بھارت کے کسی ایجنڈہ پر کام کر رہی ہے۔ ندیم نصرت دھیمے لہجہ میں بات کرنے والے انسان ہیں۔ کہنے لگے ملک توڑنے والی تحریکیں تو مزاحمتی تحریکیں ہوتی ہیں۔وہ فوج سے لڑتی ہیں۔ پہلے دن سے یہ واضح کرتی ہیں کہ ہمارا ایجنڈہ کیا ہے۔ ہم تو ایسا نہیں کر رہے۔خالصتان، کشمیر اور قوم پرست بلوچوں کی تحریکیں سب آپ کے سامنے ہیں۔

کیا کراچی میں رینجرز نے جتنے بھی چھاپے مارے ہیں کسی ایک جگہ بھی مزاحمت ہوئی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ہمارے ہزاروں کارکن گرفتار ہوئے ہیں لیکن کیا کسی ایک نے بھی گرفتاری کے وقت مزاحمت کی۔ رینجرز پر فائرنگ کی۔ مزاحمت کی۔ سب نے آرام سے گرفتاری دی ہے اور پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق انصاف کے حصول کی جدوجہد کی ہے۔کیا کراچی میں کوئی سول وار ہو رہی ہے، نہیں، تو پھر یہ سوال کیسا۔ کیا کسی ایک کارکن نے بھی ریاستی جبر کے خلاف یہ کہا ہے کہ ہم پاکستان کے آئین و قانون کو نہیں مانتے۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ 1992ء کے آپریشن کے کئی سال بعد جسے اسٹبلشمنٹ کے کارندوں کی جانب سے یہ مان لیا گیا ہے کہ جناح پور کا ڈرامہ جعلی تھا۔ نقشے جعلی تھے۔ اب بھی مان لیا جائے گا۔ نہ ہم تب پاکستان کو توڑنے کی سازش کر رہے تھے اور نہ اب کر رہے ہیں۔ہمارے کسی بھی کارکن نے ریاست کے خلاف کوئی بندوق نہیں اٹھائی ہوئی۔ ہمارے کارکن اپنے گھروں سے گرفتار ہو رہے ہیں۔ کوئی پہاڑوں سے نہیں پکڑا جا رہا۔

میں نے کہا جرائم پیشہ افراد کی سرپرستی ۔ کراچی کا امن۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ یک طرفہ پراپیگنڈہ کی نظر سے میرے ساتھ مکالمہ کریں گے تو میں کیا کر سکتا ہوں۔ ایک مثال لے لیں کراچی کے مشہور پولیس افسر راؤ انوار نے تین کارکن گرفتار کیے اور کہا کہ یہ را کے یجنٹ ہیں، انھوں نے بھارت میں ٹریننگ حاصل کی ہے۔بہت بڑی پریس کانفرنس ہوئی۔ پورے ملک میں شور مچ گیا۔ لیکن کیا کوئی صحافی یہ اسٹوری کرنے کو تیار ہے کہ وہ تین را کے ایجنٹ آج کہاں ہیں۔ میں نے کہا کہاں ہیں۔ تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے وہ پاک سر زمین پارٹی کے شانہ بشانہ ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے ساتھ ہیں۔

عدالتوں نے انھیں عدم ثبوت کی بناء پر بری کر دیا۔ وہ اب را کے ایجنٹ نہیں ہیں۔ وہ پاکستانی ہیں لیکن آپ نے ان کی وجہ سے مجھے را کا ایجنٹ قرار دیا اور میں ابھی تک ایجنٹ ہوں۔ اگر وہ بے قصور ثابت ہو گئے ہیں تو میں بھی تو بے قصور ثابت ہو گیا ہوں۔ لیکن شائد جب تک میں بھی پاک سرزمین پارٹی جوائن نہیں کروں گا مجھے بھی معافی نہیں ملے گی۔ میرے خیال میں ندیم نصرت اور ایم کیو ایم لندن کا اس حد تک مطالبہ تو جائز ہے کہ ان کا میڈیا ٹرائل کے بجائے عدالتی ٹرائل ہونا چاہیے۔ نظام انصاف کو اپنا کام کرنا چاہیے۔ اور اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے الزامات عدالت میں ثابت نہیں کر سکتے تو میڈیا ٹرائل بھی کوئی سود مند حکمت عملی نہیں ہے۔ اس سے تلخیاں اور نفرتیں بڑھتی ہیں۔ شائد نظام انصاف کی کمزوری کا فائدہ ایم کیو ایم لندن کو ہو رہا ہے کہ ان کا مقدمہ مضبوط ہو رہا ہے۔

میں نے کہا کہ اگلے انتخابات کی کیا حکمت عملی ہے۔ کہنے لگے میدان خالی نہیں چھوڑیں گے۔ الطاف حسین کے امیدوا ر کسی نہ کسی شکل میں میدان میں ہو نگے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سوال پر مسکرائے۔ کہنے لگے ان کا اور پاک سرزمین پارٹی کا کیس مختلف ہے۔جہاں تک ایم کیو ایم پاکستان کا تعلق ہے توآپ اسے ق لیگ سمجھ سکتے ہیں۔ہمیں اپنے کچھ ساتھیوں کی مجبوریوں کا بھی اندازہ ہے۔ جس طرح پنجاب کی جماعت ن لیگ کی اسٹبلشمنٹ سے لڑائی ہوئی تو راتوں رات ق لیگ بن گئی۔ پیپلزپارٹی کی اسٹبلشمنٹ سے لڑائی ہوئی تو راتوں رات جتوئی صاحب نے جماعت بنا لی اور بڑے بڑے نام اس جماعت میں چلے گئے ۔

اسی طرح ایم کیو ایم پاکستان بھی بن گئی ہے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ کریں، نہ ووٹ بینک ق لیگ کے پاس تھا، نہ جتوئی صاحب کے پاس تھا اور نہ ہی اب ایم کیو ایم پاکستان کے پاس ہوگا۔ دھڑے بن سکتے ہیں۔ لیکن ووٹ بینک نہیں بٹ سکتا۔ اگر نواز شریف کے ووٹ بینک کی طاقت نے ق لیگ کو سیاسی طور پر ختم کر دیا۔ اور بھٹو کے ووٹ بینک کی طاقت نے اس کے غداروں کو سیاسی طور پر ختم کر دیا۔

تو اگر الطاف حسین کا ووٹ بینک بھی ایسا ہی کر دے گا تو اس میں حیرانی والی کون سی بات ہے۔ ہماری دفعہ آپ اس فلسفہ کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔اگر ووٹ بینک الطاف حسین کا ہے تو اگلے انتخابات میں ثابت ہو جائے گا۔ بات ووٹ بینک کی ہے۔ ہم نے کل بھی ثابت کیا تھا کہ ہمارا ووٹ بینک ہی ہماری طاقت ہے اور ہم کل پھر یہ ثابت کریں  گے۔ میں نے پوچھا کہ جب مجبوریوں کا اندازہ ہے تو واپس لے لیں گے۔ تو وہ پہلے خاموش رہے۔ اورپھر کہنے لگے ہم ماضی میں بھی واپس لیتے رہے ہیں۔ یہ بھی کوئی نئی بات نہیں ہو گی۔ نواز شریف نے بھی کچھ ق لیگ والے واپس لیے ہیں۔ اور بے نظیر نے بھی لوگ واپس لیے ۔ سیاسی جماعتوں میں ایسا ہوتا رہتا ہے۔

میں نے کہا لوگ آپ کے خوف سے آپ کوووٹ دیتے ہیں۔ وہ مسکرائے اور کہنے لگے کہ اگر ضیاء الحق کے کوڑوں اور جیلوں کا خوف، بھٹو کی پھانسی پیپلزپارٹی کا ووٹ بینک نہیں توڑ سکی۔ مشرف کی سختیوں کا خوف نواز شریف کی جلا وطنی، نواز شریف کا ووٹ بینک نہیں توڑ سکی۔ غداری کے الزام ولی خان کی سیاست نہیں ختم کر سکے۔

تو ہماری دفعہ آپ اس سیاسی فلسفہ کو کیوں نہیں مانتے۔ کہ اسٹبلشمنٹ افراد کو توڑ سکتی ہے ووٹ بینک کو نہیں توڑ سکتی۔پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اسٹبلشمنٹ سے لڑائی میں ووٹ بینک مضبوط ہو تا ہے کمزور نہیں ہوتا۔ 1992 کے آپریشن کے بعد بھی ہمارا ووٹ بینک قائم رہا۔ ہماری دفعہ آپ درمیان میں خوف کو لے آتے ہیں۔ ندیم نصرت کا تجزیہ ہے کہ اس وقت اطاف حسین کا ووٹ بینک بلند ترین سطح پر ہے۔ اسی لیے پاک سرزمین اور ایم کیو ایم پاکستان کوئی ضمنی انتخاب لڑنے کی جرات نہیں کر رہے۔عمران خان بھی کراچی میں حمایت کھو چکے ہیں اس لیے ایک ہی سیاسی حقیقت ہے اور وہ الطاف حسین ہیں۔

پاکستان مخالف نعروں پر واسع جلیل کا موقف ہے کہ اس کے بعد الطاف حسین نے معافی مانگ لی ہے۔ اور کئی مرتبہ پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا ہے۔ چند دن پہلے ایم کیو ایم لندن کے دفتر میں لیکچر میں بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا گیا ہے۔ معافی بھی ایک سے زیادہ مرتبہ مانگ چکے ہیں۔ لیکن بات ختم نہیں ہو رہی۔

عشرت العباد کے حوالہ سے سوال کے جواب میں بھی ندیم نصرت کا موقف تھا کہ نائن زیرو پر چھاپہ کے بعد ہم چاہتے تھے کہ عشرت العباد احتجاجاً استعفیٰ دے دیں۔ یہ ایم کیو ایم کی سیاسی ضرورت تھی کہ وہ استعفیٰ دے دیتے۔لیکن انھوں نے انکار کر دیا۔ بس یہی اختلاف ہے۔ اس سے نہ زیادہ ہے اور نہ کم۔

میں نے یہ کالم کیوں لکھا ہے۔ یہ بھی ایک سوال ہو سکتا ہے۔ لیکن تصویر کا دوسرا رخ غلط ہے یا صحیح جاننا ہمارا حق ہے۔میں نے تصویر کا دوسرا رخ جاننے کی کوشش میں ندیم نصرت سے طویل گفتگو کی اور یہ کالم لکھا ہے۔ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔