کیا سیاسی جماعتوں کی اصلاح ممکن ہے؟

جبار قریشی  بدھ 30 نومبر 2016
 jabbar01@gmail.com

[email protected]

ہندوستان کی سابق وزیراعظم اندرا گاندھی نے آسٹریلیا کے ایک ٹی وی پروگرام کو ایک انٹرویو دیا۔ ان سے سوال کیا گیا کہ آپ 1966ء سے حکومت میں ہیں، کیا آپ پسند کریں گی کہ آپ مزید دس سال تک حکومت میں رہیں۔

یہ سوال سن کر اندرا گاندھی نے کہا کہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ میری زندگی کتنی سخت ہے تو وہ مجھ سے اس قسم کا سوال کرنے کا تصور بھی دل میں نہیں لائے گا۔
(حوالہ:ہندوستان ٹائم: 22 اکتوبر 1975)

یہ حقیقت ہے کہ حکومت کے منصب پر فائز ہونا کانٹوں کا بستر ہوتا ہے، لیکن اگر مزاج میں جاہ پسندی ہو، لوگوں کی نگاہوں کا مرکز بننے کی تڑپ، اخبارات اور میڈیا میں اپنے آپ کو خبروں میں دیکھنے کی بے پناہ خواہش، آمرانہ سوچ کے ساتھ ذمے داری کا احساس بھی نہ ہو تو اس سے پرکشش کوئی منصب نہیں، ہمارے یہاں یہی صورتحال ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے یہاں اقتدار ایک میوزیکل چیئر بنا ہوا ہے۔ جسے اقتدار ملا وہ مطمئن اور جسے نہ ملا وہ ماہیٔ بے آب اور بے قرار دکھائی دیتا ہے۔ اس میوزیکل چیئر کی وجہ سے ملک میں کبھی سیاسی استحکام میسر نہ آ سکا۔ اس سیاسی عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ سیاسی جماعتوں کا غیر جمہوری انداز میں وجود میں آنا ہے اکثر جماعتیں ایک فرد یا خاندان کے گرد گھومتی دکھائی دیتی ہیں۔

دنیا میں دستور یہ ہے کہ پہلے سیاسی جماعت بنتی ہے اور پھر رہنما کا انتخاب ہوتا ہے ہم اس طریقہ سیاست کو فرسودہ طریقہ سمجھتے ہیں ہم نے اس کے برعکس دنیا میں ایک جدید طریقہ متعارف کرایا ہے۔ ہمارے یہاں دستور یہ ہے کہ پہلے ایک شخص اپنے آپ کو لیڈر متعارف کراتا ہے اور پھر ایک سیاسی جماعت بنانے کا اعلان کرتا ہے۔ کیونکہ یہ جماعت اس فرد واحد کی تخلیق ہوتی ہے اس لیے وہی اس جماعت کا مختیار کل ہوتا ہے۔ ی

عنی اس جماعت کے تمام جملہ حقوق (تمام حقوق و اختیارات) اس کے حق میں محفوظ ہوتے ہیں جماعت میں انتخابات کا کوئی تصور نہیں ہوتا بلکہ نامزدگیاں ہوتی ہیں۔ جماعت جسے چاہے اپنا عہدیدار بنا دے اور جسے چاہے عہدے سے ہٹا دے۔ سیاسی جماعت اس فرد واحد کی جاگیر ہوتی ہے اور اسی تصور کے ساتھ چلائی جاتی ہے۔ اس طرز سیاست نے ہمارے سیاسی نظام میں شخصیت پرستی، چاپلوسی اور موروثیت جیسے تین بڑے سیاسی امراض پیدا کیے ہیں ہمیں اس پر غور کرنا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ ہمارے یہاں مضبوط اور منظم سیاسی جماعتیں کیوں وجود میں نہ آسکیں۔ اس کی بڑی وجہ ملک میں بار بار آمرانہ حکومتوں کا قیام رہا ہے۔ جس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو کام کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع میسر نہ آسکا۔ آمرانہ حکومتوں کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ کوئی سیاسی جماعت منظم نہ ہونے پائے جو ان کو چیلنج کرے۔ لہٰذا جب جب ملک میں مارشل لا لگتا ہے تو اسے سول پارٹنرزکی حمایت (ضرورت) ہوتی ہے۔ نتیجہ سیاسی جماعتوں میں شامل ممبران بالخصوص موقع پرستوں کو دعوت دی جاتی ہے کہ تم ہماری حمایت کرو، ہم تمہیں وزیر بنا دیں گے، سفیر بنا دیں گے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں موقع پرستی کا عالم یہ ہو کہ رہنما (لیڈر) اپنے ہزاروں پیروکاروں کے ساتھ ایک جماعت سے دوسری جماعت میں چلے جاتے ہوں (ہمارے ملک کے سوا دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا) سوچیے اس ملک میں کتنے فیصد لوگ ایسے ہوں گے جو اس قسم کی پیشکش کو قبول نہیں کریں گے، اس بات کو سمجھنے کے لیے کسی کا افلاطون ہونا ضروری نہیں۔ اس صورتحال نے ہماری سیاسی جماعتوں کو ہمیشہ سے کمزور سے کمزور تر کیا ہے۔

سیاست میں مذہب کی مداخلت نے بھی ہمارے سیاسی نظام میں بہت سے مسائل کو جنم دیا ہے۔ سیاست میں فیصلے حالات کے تناظر میں ہوتے ہیں، جس میں اختلاف رائے اور سمجھوتہ بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مذہب کو جب سیاسی تصور کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے تو اس میں عقیدہ شامل ہو جاتا ہے۔ عقیدے میں اختلاف رائے اور سمجھوتے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی یعنی ناممکن ہوتا ہے، جس کی وجہ سے تضادات سامنے آتے ہیں سیاسی نظام کو چلانے میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں سیاسی مسائل کو جب ماضی کے تناظر میں حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاشرہ جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔

نہ ہی خدا ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

یہ ایک نکتہ نظر ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، اس ضمن میں ہمارے یہاں دو انتہا پسندانہ سوچیں رائج ہیں۔ ایک سوچ کمال اتاترک والی ہے اور دوسری اسامہ بن لادن والی۔ میرے نزدیک یہ دونوں سوچیں غلط ہیں اس ضمن میں ہمیں اعتدال پسندی کی راہ اپنانی چاہیے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی صوبہ لسانی اور نسلی تضادات کا شکار نظر آتا ہے، تو کوئی فرقہ واریت کے نظریات کی لپیٹ میں ہے۔

کہیں قبائلی سیاست کا دور دورہ ہے، تو کہیں کئی دہائیوں سے موقع پرستی، سرمایہ کی سیاست اور برادری ازم کا راج ہے۔ ان تمام خرابیوں کے باوجود ہمیں سمجھنا ہو گا کہ یہ تمام خرابیاں کسی بھی وجہ سے ہوں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے اور اپنی اصلاح کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ جو قوتیں سیاسی جماعتوں پر اعتماد نہیں کرتیں اور پس پردہ ان کی راہ میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں ان قوتوں کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ جب کسی ملک میں سیاسی جماعتوں کو ملک کے سیاسی نظام سے باہر کیا جاتا ہے اور انھیں قابل نفرت بنایا جاتا ہے تو اس صورت میں معاشرے میں سیاسی خلا پیدا ہوتا ہے۔

اس سیاسی خلا کی بدولت ملک میں مختلف مافیا، جہادی تنظیمیں، لسانی گروہ اور غیر سیاسی عناصر کو فروغ پانے کا موقع ملتا ہے پھر یہ عناصر پروان چڑھتے ہیں جو ملک کی سلامتی کے لیے خطرناک ہوتے ہیں ہمارے یہاں سیاست سے لوگوں کی عدم دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ اکثر لوگ جب اپنا تعارف کراتے ہیں تو کہتے ہیں کہ میرا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، گویا دوسروں کی نظر میں وہ برائیوں سے پاک ہو جاتے ہیں جب کہ غیر سیاسی سوچ کا مفہوم یہ ہے کہ آپ اجتماعی سوچ سے عاری ایک خودغرض انسان ہیں، جو لوگ سیاستدانوں کوگالیاں دیتے ہیں انھیں اس بات کو سمجھنا ہوگا کہ ہمارے مسائل اس لیے ہیں کہ منصوبہ بندی میں میری اور آپ کی آواز شامل نہیں ہے جب ہم مل کر سیاسی نظام میں حصہ لیں گے تو پھر ہی ہمارے مسائل حل ہونگے۔ اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے سیاست اور سیاست دانوں سے نفرت کے رویے کو تبدیل کرکے مثبت سوچ اپنانی ہوگی۔

اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی احتراماً عرض کروں گا کہ وہ عوام کے سامنے رول ماڈل بن کر سامنے آئیں اور اپنی زندگی میں اس مقولے کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر بادشاہ باغ کا ایک پھل توڑے گا تو اس کی فوج پورا باغ اجاڑ دے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔