سمندر زمین کے اوپر ہی نہیں، اندر بھی

ع۔ر  جمعرات 1 دسمبر 2016
یہ ملاوٹیں دراصل دھاتیں تھیں جو ہیرے کی تشکیل کے وقت اس کے اندر قید ہوگئی تھیں۔ فوٹو : فائل

یہ ملاوٹیں دراصل دھاتیں تھیں جو ہیرے کی تشکیل کے وقت اس کے اندر قید ہوگئی تھیں۔ فوٹو : فائل

سطح ارض کا 70 فی صد سے زائد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے ، مگر اب یہ حیران کُن انکشاف ہوا کہ ہے کہ زیر زمین بھی پانی کا سمندر موجود ہے۔ یہ آبی ذخیرہ زمین کے مرکز میں، سطح ارض سے ایک ہزار کلومیٹر کی گہرائی میں ہے۔ زمین کے مرکز میں اس وسیع و عریض سمندر کی موجودگی کا انکشاف دو نئے تحقیقی مطالعات ( اسٹڈیز) میں کیا گیا ہے۔

پہلی اسٹڈی فلوریڈا اسٹیٹ یونی ورسٹی اور برطانیہ کی ایڈنبرگ یونی ورسٹی کے سائنس دانوں نے مشترکہ طور پر کی ہے۔ اسٹڈی کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ سمندر اس سے کہیں زیادہ گہرائی میں ہے جتنا کہ پہلے خیال کیا جاتا تھا۔ سمندر میں پانی کی مقدار اگرچہ نامعلوم ہے تاہم محققین کا اندازہ ہے کہ یہ مقدار زمین کے وزن کا ڈیڑھ فی صد ہوگی۔ واضح رہے کہ تمام سمندروں کا پانی اکٹھا کرلیا جائے تو اس کا وزن زمین کے وزن کا ڈیڑھ فی صد ہوگا۔ چناں چہ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جتنا پانی زمین کی سطح کے اوپر ہے اتنا ہی اس کے اندر ہے۔

ماضی میں کی گئی اسٹڈیز میں یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ زمین کے مرکز میں اگر ذخیرۂ آب موجود ہوا تو وہ بروسائٹ نامی دھات میں قید ہوگا ۔ تاہم امریکا و برطانیہ کے محققین پر مشتمل ٹیم نے پہلی بار مرکز ارض میں سمندر کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنی زیادہ گہرائی میں ہائیڈروآکسائیڈ پر مشتمل بروسائٹ جیسی دھاتیں پانی کو اپنے اندر محفوظ نہیں رکھ سکتیں۔ مشترکہ ٹیم کے سربراہ مینک مکھرجی کہتے ہیں کہ اگلے مرحلے میں ہمیں یہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے کہ اس ذخیرۂ آب میں پانی کتنی مقدار میں موجود ہے۔

دوسری اسٹڈی الی نوائس میں واقع نارتھ ویسٹرن یونی ورسٹی سے وابستہ محققین نے کی ہے۔ تحقیق کاروں کی اس ٹیم نے برازیل میں دریائے جوائنا کے کنارے ایک ہیرا دریافت کیا تھا۔ تحقیق سے پتا چلا کہ ہیرے کی عمر نو کروڑ سال تھی اور یہ آتش فشاںکے لاوے کے ساتھ زمین کے سینے سے باہر آیا تھا۔ ہیرا صاف شفاف نہیں تھا بلکہ اس کے اندر ملاوٹیں دکھائی دے رہی تھیں۔ یہ ملاوٹیں دراصل دھاتیں تھیں جو ہیرے کی تشکیل کے وقت اس کے اندر قید ہوگئی تھیں۔ مزید تحقیق پر سائنس دانوں کو ہیرے کے اندر ہائیڈرواوکسائل آیونوں کی موجودگی کا پتا چلا جو عام طور پر پانی سے حاصل ہوتے ہیں۔

ہیرے میں موجود ملاوٹوں کی نوعیت کے پیش نظر ماہرین نے اندازہ لگایا کہ ہیرے کی تشکیل زمین کے لوئر مینٹل میں ہوئی ہے۔ لوئر مینٹل سے مراد زمین کا سطح ارض سے 650 سے 2900 کلومیٹر کی گہرائی تک کا حصہ ہے۔ ریسرچ ٹیم کے سربراہ اسٹیو جیکبسن نے اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ زیرزمین سمندر کی دریافت کرۂ ارض پر آبی چکر کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبی چکر کی وسعت اس سے کہیں زیادہ ہے جتنی کہ اب تک سمجھی جاتی رہی ہے۔

محققین کے مطابق پانی سطح ارض کے نیچے جاری ارضیاتی سرگرمیوں کو برقرر رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ یہ mantle convection کے عمل کوجاری رکھنے میں معاون ہے۔ اس عمل کے ذریعے ٹھوس چٹانیں گرم سے سرد خطوں کی جانب حرکت پذیر ہوتی ہیں۔ آتش فشاں بھی اسی عمل کے نتیجے میں بنتے ہیں جن کی تشکیل ارضیاتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی ضامن ہے۔ زمین کی گہرائیوں میں اس ذخیرۂ آب کی عدم موجودگی میں یہ عمل ممکن نہ ہوتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔