رئیل سیکٹر کو کالا دھن سفید کرنے کی اجازت سے متعلق ترمیمی بل منظور

ارشاد انصاری  جمعرات 1 دسمبر 2016
قومی اسمبلی میں ایمنسٹی اسكیم كیلئے انكم ٹیكس آرڈیننس 2001 ترمیمی بل كی منظوری دی گئی۔ فوٹو؛ فائل

قومی اسمبلی میں ایمنسٹی اسكیم كیلئے انكم ٹیكس آرڈیننس 2001 ترمیمی بل كی منظوری دی گئی۔ فوٹو؛ فائل

 اسلام آباد: پارلیمنٹ نے رئیل اسٹیٹ سیكٹركو تین فیصد ٹیكس كی ادائیگی پر كالادھن سفید كرنے كی اجازت دینے كے حوالے سے ایمنسٹی اسكیم كیلئے انكم ٹیكس آرڈیننس 2001 ترمیمی بل كی منظوری دیدی۔

ذرائع كے مطابق قومی اسمبلی كی جانب سے منظور كیے جانے والے انكم ٹیكس ترمیمی بل میں شامل كی جانے والی نئی شق كے تحت رئیل اسٹیٹ سیكٹر میں غیر منقولہ جائیداد كی فروخت پر غیر منقولہ جائیداد كے مقرر كردہ ڈی سی ریٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو كی جانب سے نوٹیفائی كردہ ملك كے مختلف علاقوں كی غیر منقولہ جائیداد كی قیمتوں میں پائے جانے والے فرق كو 3 فیصد ٹیكس كی ادائیگی پر قانونی حیثیئت دلوائی جاسكے گی جب كہ ڈی سی ریٹ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو كی جانب سے نوٹیفائی كردہ ملك كے مختلف علاقوں كی غیر منقولہ جائیداد كی قیمتوں میں پائے جانیوالے فرق پر مبنی جس كالے دھن كو 3 فیصد ٹیكس كی ادائیگی پر سفید كروایا جائے گا، ایف بی آر كی جانب سے اس رقم كے بارے میں پوچھ گُچھ نہیں كی جائے گی اور نہ اس كے ذرائع پوچھے جائیں گے۔

بل کے ذریعے شہدا كے ورثا كو ملنے والے پلاٹس كی فروخت كو كیپٹل گین ٹیكس اور ود ہولڈنگ ٹیكس سے مُستثنٰی قراردیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا كہ وفاقی حكومت كی جانب سے بجٹ میں غیر منقولہ جائیداد پر عائد كردہ ٹیكس اور اعلان كردہ نئی ویلیو ایشن كے شہدا كے ورثا كو حكومت كی جانب سے ملنے والے پلاٹوں پر ٹیكسوں كے نفاذ كے بارے میں كنفیوژن پائی جاتی تھی جسے اب ترمیمی بل كے ذریعے دور كیا گیا ہے۔ ذرائع كا كہنا ہے كہ ایف بی آر كی جانب سے شہدا كے ورثا كو ملنے والے پلاٹس كی پہلی مرتبہ فروخت كو ود ہولڈنگ ٹیكس اور كیپیٹل گین ٹیكس سے چھوٹ حاصل ہوگی۔

ذرائع نے بتایا کہ اس ترمیمی قانون كے نافذ ہونے پر دہشت گردی كے خلاف جاری جنگ كے دوران اور دہشت گردی كی وارداتوں میں جام شہادت نوش كرنے والے شہدا كے ورثا كو حكومت كی جانب سے پیكیج كے تحت جو پلاٹس ملیں گے وہ شہدا كی بیوائیں، بیٹے یا كوئی بھی وارث اگر اسے پہلے مرتبہ فروخت كرے گا تو اس پر كیپٹل گین ٹیكس اور ود ہولڈنگ ٹیكس وصول نہیں كیا جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔