اسرائیل نے اذان پر پابندی لگائی تو سنگین نتائج بھگتے گا، ترکی

آئی این پی  جمعرات 1 دسمبر 2016
اس قسم کی کوششوں سے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں کوصدمہ پہنچے گا، استبول میں سمپوزیم سے خطاب۔ فوٹو؛ فائل

اس قسم کی کوششوں سے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں کوصدمہ پہنچے گا، استبول میں سمپوزیم سے خطاب۔ فوٹو؛ فائل

استنبول:  ترک صدر رجب طیب اردوان نے اسرائیل کو وارننگ دی ہے کہ اگر اس نے اذان دینے پر پابندی لگائی تو سنگین نتائج برآمد ہونگے۔

ترک میڈیا کے مطابق گزشتہ روز استنبول میں منعقدہ بین الاپارلیمانی القدس پلیٹ فارم سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل میں اذان پر پابندی لگانے کی بحث انتہائی خطرناک ہے اس موضوع پر بحث کرنا عقل و منطق کے منافی ہے۔ انھوں نے اس طرف توجہ دلائی کہ دین، عقائد اور آزادی کی پامالی کرنے والے اس بحث و مباحثے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، گزشتہ روز اسرائیل کے صدر کے ساتھ ٹیلیفون پر بات چیت کے دوران میں نے انھیں اس موضوع کی حساسیت سے آگاہ کیا تھا، مجھے یقین ہے اسرائیلی پارلیمنٹ اس بارے میں دانشمندانہ فیصلہ کریگی۔

اس قسم کی کوششوں سے نہ صرف فلسطینیوں بلکہ تمام مسلمانوں کو صدمہ پہنچے گا ، ملک میں نئے بحران پیدا کرنے کے بجائے امن کے قیام کیلیے کوششیں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کو 1967 کی سرحدوں کو بنیاد بناتے ہوئے اور آزاد فلسطینی مملکت کوجس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہے قائم کرنے سے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔