بی پی ایل، فکسنگ الزامات پر پلیئرز و آفیشلز دست و گریبان

اسپورٹس ڈیسک  جمعرات 1 دسمبر 2016
دیگر لیگز میں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں لیکن جہاں تک بی پی ایل کا تعلق ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہورہا، مشفیق۔ فوٹو: فائل

دیگر لیگز میں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں لیکن جہاں تک بی پی ایل کا تعلق ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہورہا، مشفیق۔ فوٹو: فائل

ڈھاکا:  فکسنگ الزامات پر بنگلہ دیش پریمیئر لیگ میں کھلاڑی و آفیشلزآپس میں ہی ’’دست و گریبان‘‘ ہونے لگے، بریسال بلز کے برانڈ ایمبیسڈر گلوکار آصف اکبر کو اپنی ہی ٹیم کی ’دال‘ کالی دکھائی دینے لگی، انھوں نے بورڈ اور اینٹی کرپشن یونٹ سے تحقیقات کا مطالبہ کردیا، کپتان مشفیق الرحیم کرپشن کے الزام پر بھڑک اٹھے، انھوں نے کہاکہ  مجھے شک ہے کہ الزامات عائد کرتے ہوئے آصف ہوش میں تھے، ان کے الفاظ انتہائی شرمناک ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بنگلہ دیش پریمیئر لیگ پر ایک بار پھر فکسنگ کے سائے گہرے ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، پہلے رنگپور رائیڈرز کے ایک کھلاڑی جوپیٹر گھوش نے اپنی ہی ٹیم کے منیجر سانور پر فکسنگ کیلیے اکسانے کا الزام لگایا جس پر دونوں کوہی ایونٹ سے باہر کیا جاچکا ہے،اب بریسال بلز کے برانڈ ایمبیسڈر گلوکار آصف اکبر نے بھی اپنی ہی ٹیم پر فکسنگ الزامات عائد کردیے۔

آصف اکبر نے فیس بک پیج پر بریسال بلز کے کچھ کھلاڑیوں پر شکوک ظاہر کیے، آصف نے اننگز کے آخری چار اوورز میں بیٹسمینوں کے رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے انھیں دھوکا دہی کا مرتکب قرار دیا، اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی شواہد نہیں تاہم انھوں نے بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ اور اس کے اینٹی کرپشن یونٹ پر زور دیاکہ وہ اس معاملے کا جائزہ لیں۔

دوسری جانب ان الزامات پر بریسال بلز کے کپتان مشفیق الرحیم غصے سے بھڑک اٹھے، انھوں نے کہا کہ جب میں نے یہ سب کچھ پڑھا تو مجھے اپنی آنکھوں پریقین نہیں آیا، وہ ہمارے ملک کے سیلیبریٹی اور پڑھے لکھے انسان ہیں اس کے باوجود ان کے الفاظ انتہائی شرمناک تھے، میں ان سے پوچھوں گا کہ انھیں کس مقامی اور غیرملکی پلیئر کے فکسنگ میںملوث ہونے کا شبہ ہے، مجھے شک ہے کہ انھوں نے یہ سب باتیں ہوش و حواس میں کی ہوں،  کوئی مخبوط الحواس شخص ہی اس طرح کی باتیں لکھ سکتا ہے۔

مشفیق نے مزید کہا کہ دیگر لیگز میں اس طرح کی چیزیں ہوتی ہیں لیکن جہاں تک بی پی ایل کا تعلق ہے اس میں ایسا کچھ نہیں ہورہا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔