ٹیکسٹائل برآمدات کو سہارا دینے کیلیے ایکشن پلان پر عمل شروع

احتشام مفتی  جمعرات 1 دسمبر 2016
ٹاول مینوفیکچررزایسوسی ایشن کی پریزینٹیشن کے جواب میں آرڈی کلیمزکی تفصیلات،برآمدی صنعتوں کیلیے خصوصی ٹیرف کا میکنزم بھی طلب
فوٹو: رائٹرز/فائل

ٹاول مینوفیکچررزایسوسی ایشن کی پریزینٹیشن کے جواب میں آرڈی کلیمزکی تفصیلات،برآمدی صنعتوں کیلیے خصوصی ٹیرف کا میکنزم بھی طلب فوٹو: رائٹرز/فائل

 کراچی: پاکستان کی گرتی ہوئی برآمدات کی وجہ سے ٹیکسٹائل سیکٹر کی اہمیت بڑھ گئی ہے، حکومت نے تجارتی خسارے پر قابو پانے کے لیے ملکی برآمدات میں سب سے زیادہ حصے کی حامل ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بین الاقوامی مسابقت آسان بنانے کے لیے خصوصی ایکشن پلان پرعمل درآمد شروع کردیا ہے جس کے پہلے مرحلے میں ٹیکسٹائل سیکٹر کو درپیش بنیادی مسائل کے حل باالخصوص بجلی گیس کی فراہمی اور پیداواری لاگت میں کمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کافیصلہ کیا جائے گا۔

ذرائع نے ’’ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ وفاقی وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری اس سلسلے میں متحرک ہوگئی ہے۔ واضح رہے کہ چند ہفتے قبل وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل کی شعبہ ٹیکسٹائل کی تمام نمائندہ تنظیموں سے اجلاسوں میں ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کی وجوہات اورخطے کے حریف ممالک کے ساتھ مسابقت میں درپیش مسائل سے آگہی کے بعد انہیں حل کرانے کے لیے تمام متعلقہ وفاقی وزارتوں اور صوبائی حکومت سے رابطے کرلیے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل حسن اقبال کی جانب سے وفاقی سیکریٹری پانی وبجلی کو بھیجے گئے مکتوب میں کہا گیا ہے کہ وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش نئے پاورکنکشنز کے اجرا کے لیے اقدامات کی ہدایات جاری کرے تاکہ ٹیکسٹائل سیکٹر کی پیداواری سرگرمیاں تیزرفتار ہوسکیں اور وہ خطے کے حریف ممالک کے ساتھ مسابقت کے قابل ہوسکیں۔

وفاقی سیکریٹری پٹرولیم وقدرتی وسائل کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ وہ ٹیکسٹائل سیکٹر کے لیے نئے گیس کنکشنز پرعائد پابندی فی الفور ختم کرتے ہوئے ہر اتوار کو گیس لوڈشیڈنگ پروگرام معطل اور لوگیس پریشر جیسے مسائل کا خاتمہ کروائے تاکہ ٹیکسٹائل مصنوعات کے برآمدی آرڈروں کی بروقت تکمیل وترسیل ممکن ہوسکے۔

کراچی کی صنعتوں کے لیے پانی کی عدم دستیابی کی بڑھتی ہوئی شکایات پر وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل نے چیف سیکریٹری سندھ کو ارسال کردہ خط میں کہا ہے کہ مختلف فورمز میں اس بات کی تسلسل سے شکایت کی جارہی ہے کہ کراچی کی صنعتیں پانی کی سہولت سے محروم ہیں جس کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کی کاروباری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے اور برآمدی مصنوعات کی قیمتیں حریف ممالک سے زائد ہورہی ہیں لہذا حکومت سندھ کراچی کی صنعتوں کو درپیش پانی کے مسائل کو مستقل بنیادوں پر حل کرنے کیلیے موثر میکنزم ترتیب دے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل انڈسٹری نے ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کی جانب سے ٹیکسٹائل برآمدات میں کمی کی وجوہات پر تفصیلی پریزینٹیشن کے جواب میں ٹی ایم اے سے بھی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے زیر التوا کلیموں کی تفصیلات طلب کرلی ہیں جبکہ ٹیکسٹائل کی برآمدی صنعتوں کیلیے خصوصی پاوراینڈ گیس ٹیرف متعارف کرانے کا میکنزم بھی طلب کرلیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی سیکریٹری ٹیکسٹائل نے ٹیکسٹائل سمیت دیگر پانچ برآمدی شعبوں کی زیروریٹنگ سہولت سے متعلق ایس آراو491 میں پیکیجنگ میٹیریل پر سیلزٹیکس کے خاتمے کے مطالبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے ایف بی آر کو فوری طور پر جائزہ لیتے ہوئے اس پر نظرثانی کے احکامات جاری کردیے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔