پاکستان میں 5 کروڑ 30 لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور

نمائندہ ایکسپریس / آئی این پی  جمعرات 1 دسمبر 2016
سرکاری ملازمین کیلیے ہاؤسنگ بلڈنگ ایڈوانس کی مد میں کم سے کم 50 لاکھ روپے مقرر کرنیکی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ فوٹو: فائل

سرکاری ملازمین کیلیے ہاؤسنگ بلڈنگ ایڈوانس کی مد میں کم سے کم 50 لاکھ روپے مقرر کرنیکی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: قومی اسمبلی میں حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد 5 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ہے جو مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہے۔

آئی این پی کے مطابق گزشتہ روز وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی جانب سے قومی اسمبلی میں جمع کرائے گئے تحریری جواب میں کے مطابق ملک کی 29.50 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے جو کہ تقریباً53 ملین افراد بنتے ہیں، اگر کوئی فرد ہر ماہ 3 ہزار 30 روپے سے کم آمدن رکھتا ہو تو وہ خط غربت سے نیچے تصور ہوتا ہے۔ محصولات وصولی میں 62 فیصد اضافہ ہوا، سرکاری ملازمین کیلیے ہاؤسنگ بلڈنگ ایڈوانس کی مد میں کم سے کم 50 لاکھ روپے مقرر کرنیکی کوئی تجویز زیر غور نہیں، کم تنخواہ والوں کو اگر اتنی رقم دی جائے تو اس کی ریکوری مشکل ہے۔

وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک میں فوجداری انصاف کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے اسٹڈی جاری ہے، عبوری رپورٹ جلد سامنے آجائے گی، ای میل یا فیکس کے ذریعے ایف آئی آر درج نہیں کی جا سکتی، افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے پالیسی موجود نہیں، سندھ میں پاک بھارت سرحد پر دیوار تعمیر کرنیکی کوئی تجویز نہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔