ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبوضہ کشمیر پر کردارادا کرنے کی بات خوش آئند ہے، دفترخارجہ

ویب ڈیسک  جمعرات 1 دسمبر 2016
عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینا چاییے، نفیس زکریا۔  فوٹو : فائل

عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینا چاییے، نفیس زکریا۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم نواز شریف کی کال جذبہ خیر سگالی کے تحت تھی جب کہ نو منتخب امریکی صدر نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنے کی بات کی تھی جو خوش آئند ہے۔

اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو وزیر اعظم نواز شریف کی ٹیلی فون کال جذبہ خیر سگالی کے تحت تھی، دونوں ممالک کے درمیان اہم نوعیت کے تعلقات ہیں اور ہم امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو اہمیت دیتے ہیں اور ان میں اضافہ کے بھی خواہشمند ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اپنا کردار ادا کرنے کی بات کی تھی جو خوش آئند ہے۔

نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت جاری رکھے ہوئے ہے لہذا عالمی اداروں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینا چاییے، مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی جدوجہد 5 ویں ماہ میں داخل ہو چکی ہے، پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنیوا میں ہائی کمشنر اور او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں غیر جانبدارانہ کمیشن بھیجنے کی سفارش کی ہے جب کہ او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے، گزشتہ دنوں سوئٹزرلینڈ کے وفد سے سیاسی مذاکرات کا دور ہوا جس میں سوئس وفد کو کشمیر کی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امن کے قیام کے لیے جو ممکن ہوا کرے گا کیونکہ پاکستان ہمسایہ ممالک کے ساتھ پر امن تعلقات رکھنا چاہتے ہیں جب کہ پاکستان کا یہی نکتہ ہے کہ کشمیر کے معاملے پر بات چیت کی جائے لہذا  پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی کا معاملہ اٹھائیں اور اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے پاکستان نے خصوصی ایلچی بھی بھیجے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کا عمل کیو سی جی سے مختلف ہے، اس کا مخصوص ایجنڈا ہوتا ہے اور جو نکات گزشتہ کانفرنس میں زیر غور آئے تھے ان پر ہی مزید بات چیت کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کے معاملے پر عرب دنیا کے ساتھ ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے ابھی تک اسرائیل سے تعلقات قائم نہیں کیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔