نوازشریف اگر بے گناہ ہوتے تو اسمبلی میں ثابت کرتے، عمران خان

ویب ڈیسک  جمعرات 1 دسمبر 2016
نواز شریف کی والدہ کے پاس پیسے ہی نہیں  وہ کیسے رائیونڈ محل کا خرچہ چلاتی ہیں، عمران خان۔ ایکسپریس/ مدثر راجہ

نواز شریف کی والدہ کے پاس پیسے ہی نہیں وہ کیسے رائیونڈ محل کا خرچہ چلاتی ہیں، عمران خان۔ ایکسپریس/ مدثر راجہ

بنی گالہ: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عمران خان کا کہنا ہے کہ نوازشریف اگر بے گناہ ہوتے تو اسمبلی میں ثابت کرتے لیکن اب پاناما کیس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا۔

بنی گالہ میں پریس کانفرنس میں چئیر مین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ نوازشریف اگر بے گناہ ہوتے تو اسمبلی میں ثابت کرتے انہیں بار بار تقاریر کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ایک جھوٹ چھپانے کے لیے یہ بار بار جھوٹ بول رہے ہیں، یہاں جھوٹ کی داستان شروع ہوئی اور ایک کے بعد ایک جھوٹ بولا گیا، ان کو پتا ہے کہ ان کے پاس کوئی منی ٹریل نہیں تھی، ٹرسٹ ڈیڈ بھی فراڈ نکلی ہے کیونکہ دستاویزات میں ثبوت ہی نہیں کہ پیسہ کیسے باہر گیا لہذا نقل کرنے کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے اور جب اتنا جھوٹ بولا جائے گا تو غلطی تو ہوگی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ بھی نواز شریف کو پاناما لیکس سے نہیں بچاسکتے، عمران خان

عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں بولا کہ ہمارے پاس دستاویزموجود ہیں اور یہ بھی جھوٹ تھا کیونکہ وزیراعظم کی اسمبلی کی تقریر الگ ہے اور قطری شہزادے کا بیان الگ، اسحاق ڈار کی باہر اربوں روپے کی جائیدادیں ہیں لیکن جب نواز شریف کی اپنی جائیداد باہر ہے تو کون ان سے پوچھے گا، انہوں نے پیٹرول کی قیمت بڑھادی ہے جس کا پیسہ عوام اداکریں گے اور یہ منی لانڈرنگ سے باہر بھجوادیں گے، طاقت ور اور پیسہ والوں کے لیے فائدہ ہیں لیکن غریب پر بوجھ ڈالا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کرپشن کاپیسہ کوئی اپنےنام پر نہیں رکھتا اور نواز شریف نے ٹھیک کہا تھا کہ جو کرپشن کرتا ہے وہ پیسہ اپنے نام پر نہیں رکھتا، ان کا جو رہن سہن ہے، یہ شہزادے اور شہزادیوں کی طرح رہتے ہیں، ان کے پاس پیسہ کہاں سے آتا ہے، وزیراعظم کی والدہ کے پیسے ہی نہیں وہ کیسے رائیونڈ محل کاخرچہ چلاتی ہیں، یہ پیسہ پاکستان سے منی لانڈرنگ سے گیا جو نواز شریف نے اپنے بچوں کے نام پر لگایا۔

عمران خان نے کہا کہ ٹیکس کے تین اسکیمیں دینے کے باوجود کوئی ٹیکس اکٹھا نہیں ہوا جب کہ ایف بی آر کا کام ہے کہ طاقتور کو بھی ٹیکس نہ دینے پر عدالت لے جائے تاہم پانامہ کیس ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرے گا کہ ملک کس سمت میں جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔