پٹرول ، ڈیزل مہنگا کیوں؟

ایڈیٹوریل  جمعرات 1 دسمبر 2016
، فوٹو؛ فائل

، فوٹو؛ فائل

عوامی ریلیف کے نام پرحکومت نے پٹرول اورہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ کردیا ہے، وفاقی وزیرخزانہ کے بقول حکومت عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی غرض سے صرف دسمبرکے مہینے میں چار ارب روپے کا خسارہ برداشت کرے گی۔ عوام ہی ایسی معصوم مخلوق ہے، جس کی فلاح کے نام پر سارے کام حکومتیں کرتی ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں جیسے اضافہ ہوتا ہے، ہمارے یہاں روزمرہ استعمال کی اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں۔ایک جملہ رائج ہوچکا ہے، پٹرول کی قیمت بڑھ گئی ہے۔

کوئی پوچھے کہ کیاتانگہ اور گدھاگاڑی بھی پٹرول سے چلتے ہیں، جوکرائے بڑھا دیے ہیں، لیکن جس تناسب سے عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں گزشتہ عرصے میں کم ہوئیں،اس کا تو عوام کو قطعاً ریلیف نہیں دیا گیا، جو پٹرول پچاس، پچپن روپے ملنا چاہیے تھا وہ ٹیکسزکی شرح میں اضافہ کرکے ستر روپے لیٹر تک فروخت ہوتا رہا ۔جب کمی نہ ہوئی تو ریلیف کیسا؟ تازہ ترین خبر کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کی اطلاعات کے بعد دنیا بھر میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

آسٹریا کے شہر ویانا میں اوپیک ممالک کے وزرائے توانائی کی ملاقات کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً سات فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یعنی اگلے ماہ ایک اور مہنگائی بم کے لیے عوام تیار رہیں۔گزشتہ روز کہا گیا کہ اوگرا نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں زیادہ بڑھانے کی سمری بھجوائی تھی تاہم وزارت خزانہ نے وزیراعظم کی منظوری سے مطلوبہ رقم سے کم کی منظوری دی ، سمری مکمل رد کی جاتی تو بات تھی۔ دراصل حکومت کو اپنا ٹیکس نیٹ ورک بڑھانا چاہیے ناکہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈالا جائے ۔ لاکھوں صنعت کار، تاجر اور طبقہ اشرافیہ کے افراد ٹیکس ادا نہیں کرتے، ان سے ٹیکس حکومت لے، ٹیکس نظام میں اصلاح کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔