ایڈز کا مرض احتیاطی تدابیر کا متقاضی

ایڈیٹوریل  جمعرات 1 دسمبر 2016
۔ فوٹو: فائل

۔ فوٹو: فائل

صدر مملکت پاکستان ممنون حسین نے ایڈز کے عالمی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں ملک سے ایچ آئی وی (ایڈز) کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے سرکاری اداروں، سول سوسائٹی، مخیر حضرات، ترقیاتی پارٹنرز اور این جی اوز پر زور دیا ہے کہ وہ کام کاج کی جگہوں اور کمیونٹیز میں ایچ آئی وی کے حوالے سے پائی جانے والی منفی سوچ کو دور کریں اور پاکستان و دنیا کو 2030ء تک ایڈز سے پاک بنانے میں مدد کریں۔ بلاشبہ ایڈز کا مرض ہلاکت خیز ہے لیکن معاشرے میں اس حوالے سے جو منفی نظریات گردش کررہے ہیں ۔

اس کے تناظر میں ایچ آئی وی متاثرہ شخص کے ساتھ معاشرتی رویہ نہایت فرسودہ ہے جو اسے مزید تنہائی کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ایڈز چھوت کی بیماری نہیں، اس لیے مریض کے ساتھ خصوصی رویہ اسے نفسیاتی امراض میں مبتلا کرسکتا ہے۔

دنیا میں ہر سال بہت بڑی تعداد میں افراد ایچ آئی وی کا شکار ہوجاتے ہیں، پاکستان کو بھی کئی ایسے عوامل کی بناء پر اس بیماری کے چیلنج کا سامنا ہے جو ماضی میں دیگر ممالک میں ایڈز کی وبا کا باعث بنے ہیں۔ ایڈز سے بچاؤ کے سلسلے میں احتیاطی تدابیر ہی سب سے موثر حل ہے۔ غیر محفوظ اور غیر تصدیق شدہ خون کے انتقال، عوامی حجام خانوں میں استعمال شدہ بلیڈ کا استعمال، غیر صحتمند جنسی رجحانات ایڈز کے پھیلاؤ کا باعث ہیں جن سے حد درجہ بچاؤ کی ضرورت ہے۔

نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کی طرف سے زد پذیر گروپوں کی خصوصی نگہداشت کے ساتھ اس بیماری سے بچاؤ اور علاج پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ہمہ جہت حکمت عملی اختیار کی جارہی ہے جو کہ قابل ستائش ہے۔ صائب ہوگا کہ عوام کو ایڈز سے بچاؤ اور احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کے لیے باقاعدہ مہم چلائی جائے۔ ایڈز جیسے مہلک مرض کو اسی صورت اپنے ملک میں شکست دی جاسکتی ہے۔۔۔۔۔۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔