ایم کیو ایم پر پابندی لگا دیں

جاوید چوہدری  جمعرات 1 دسمبر 2016
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

یہ 1846ء کا سال تھا‘ کراچی ممبئی (پرانا نام بمبئی) کا حصہ ہوتا تھا‘ گورنر ممبئی پورے سندھ کے معاملات بھی دیکھتا تھا‘ کراچی شہر میں اچانک ہیضے کی وباء پھوٹ پڑی‘ انگریز سرکار کو محسوس ہوا یہ وباء اگر کراچی تک محدود نہ ہوئی تو یہ چند دنوں میں ممبئی پہنچ جائے گی اور وہاں سے پورے ملک میں پھیل جائے گی‘ گورنر نے کراچی میں بورڈ بنا دیا‘ یہ بورڈ صرف ہیضے کے کنٹرول تک محدود تھا‘ بورڈ نے جلد ہی وباء پر قابو پا لیا لیکن حکومت کو محسوس ہوا یہ وباء کراچی کے سماجی مسائل کی وجہ سے پھیلی اور ہم نے اگر یہ مسائل حل نہ کیے تو ہیضہ زیادہ قوت کے ساتھ واپس آئے گا اور یہ ممبئی تک تباہی پھیلا دے گا چنانچہ حکومت نے ان مسائل کے مستقل تدارک کے لیے ہیضہ کنٹرول بورڈ کو 1852ء میں کراچی میونسپل کمیشن میں تبدیل کر دیا‘یہ کمیشن 1853ء میں میونسپل کمیٹی میں بدل گیا اور یہاں سے موجودہ پاکستان کے علاقے میں بلدیاتی اداروں کی شروعات ہو گئی۔

کراچی کو صدی کے آخر تک بلدیہ کی عمارت کی ضرورت پڑ گئی‘ اس وقت لارڈ سینٹ برسٹ جی ممبئی کا گورنر تھا‘ لارڈ سینٹ نے آرکی ٹیکٹ جیمز ایس سی ویونیس کو کراچی بھجوا دیا‘ جیمز اسکاٹش تھا‘ وہ ایڈنبرا کا رہنے والا تھا‘ وہ کراچی آیا اور اس نے بندر روڈ پر چھوٹا سا ایڈنبرا بنانے کا فیصلہ کیا‘ گورنر نے 14 دسمبر 1895ء کو سنگ بنیاد رکھ دیا‘ چیف انجینئر میشا ملی کو نگرانی کا فریضہ سونپا گیا‘ عمارت 1915ء میں مکمل ہوئی لیکن انگریز سرکار نے محسوس کیا یہ عمارت مستقبل میں چھوٹی پڑ جائے گی چنانچہ سٹرکچر کو بڑا کرنے کا فیصلہ کیا گیا‘ یہ ذمے داری ایگزیکٹو انجینئر جہانگیر این سیٹھ کو سونپی گئی‘ جہانگیر سیٹھ نے 5 نومبر 1927ء کو کام مکمل کر دیا‘ منصوبے پر کل 17 لاکھ 75 ہزار روپے خرچ ہوئے‘ یہ 31 دسمبر 1930ء کو لوکل گورنمنٹ کے حوالے کر دی گئی اور یہ عمارت بعد ازاں بلدیہ کراچی کہلائی۔

میں 27 نومبر 2016ء کو اس شاندار عمارت میں داخل ہوا‘ یہ واقعی کراچی میں ایک چھوٹا سا ایڈنبرا ہے‘ وہی پیلا پتھر‘ وہی سرخ چھتیں‘ وہی بیل ٹاور‘ وہی گنبد‘ وہی اونچی کھڑکیاں‘ وہی طویل برآمدے‘ وہی طویل جھروکے‘ وہی اونچی چھت‘ وہی شاہانہ سیڑھیاں اور وہی ہوا کی آمدورفت کا قدیم اسکاٹش بندوبست‘ یہ عمارت‘ عمارت کم اور جادوگری زیادہ ہے اور جو شخص اس جادوگری میں پاؤں رکھ دیتا ہے وہ مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے‘ آپ کمال دیکھئے انگریز نے یہ عمارت 1915ء میں بنائی تھی۔

کراچی میں اس وقت درجن سے زیادہ گاڑیاں نہیں تھیں لیکن بنانے والوں نے اس وقت بھی عمارت میں دو سو گاڑیوں کی پارکنگ کا بندوبست کیا‘ کونسل ہال میں 57نشستیں لگائی گئیں لیکن ہال میں اتنی گنجائش رکھی گئی کہ آج وہاں 308 سیٹیں ہیں مگر اس کے باوجود ہال کی شان و شوکت قائم ہے‘ یہ عمارت ایم اے جناح روڈ پر واقع ہے‘ یہ شاہراہ پاکستان بننے سے پہلے بندر روڈ کہلاتی تھی‘ یہ سڑک گرومندر سے شروع ہوتی ہے اور نیٹی جیٹی پر ختم ہوتی ہے‘آج اس سڑک کو بنے سو سال ہو چکے ہیں‘ اس دوران دنیا میں دو عالمی جنگیں ہوئیں‘ انگریز واپس چلے گئے‘ ہندوستان سات آزاد ملکوں میں تقسیم ہو گیا‘ سیکڑوں زلزلے‘ سیلاب اور طوفان آئے لیکن آج تک اس سڑک کو مرمت کی ضرورت نہیں پڑی‘ یہ آج بھی اسی طرح قائم ہے جس طرح انگریز نے بنائی تھی‘ بلدیہ کراچی کی شان بھی سو سال گزرنے کے باوجود سلامت ہے‘ ہم نے عمارت میں جہاں جہاں بے ایمانی کے داغ لگائے وہ حصے خراب ہو چکے ہیں لیکن جہاں ہمارے ہاتھ نہیں پہنچے عمارت کے وہ حصے آج بھی عظمت رفتہ کی آواز ہیں۔

وہ آج بھی جیمز ویوینس کی صناعی کی قسم کھا رہے ہیں‘ آپ انگریزوں اور اپنے آپ میں فرق دیکھئے‘ وہ جانتے تھے یہ ان کا ملک نہیں اور وہ کبھی نہ کبھی اس دیس سے نکال دیے جائیں گے لیکن انھوں نے اس کے باوجود ایسی پائیدار اور شاندار عمارتیں بنائیں جو سو سال بعد بھی سلامت ہیں جب کہ ہم لوگ یہ جانتے ہیں یہ ملک ہمارا ہے‘ ہماری ہڈیاں تک اسی مٹی کی کھاد بنیں گی لیکن ہم قبریں بھی ایسی بناتے ہیں جو کفن میلا ہونے سے پہلے ڈھے جاتی ہیں‘ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ شاید یہ نیتوں کا فتور ہے اور یہ فتور ہمیں کراچی کی ہر سڑک‘ ہر گلی میں نظر آتا ہے۔

یہ شہر کبھی پاکستانیوں کی ماں ہوتا تھا‘ ملک کا کوئی بھی شہری کسی بھی جگہ سے اٹھ کر کراچی آ جاتا تھا اور یہ شہر اسے ماں کی طرح سینے سے لگا لیتا تھا لیکن ہم نے اس ماں کو مار ڈالا‘ کراچی نے ستر سال پورے ملک کو پالا لیکن ہم نے ناخلف اولاد کی طرح اس شہر کو گلیوں میں رول دیا‘ یہ درست ہے کراچی کو خرابی‘ گندگی اور جرائم کا گڑھ بنانے میں ایم کیو ایم (سابق) کا بہت بڑا ہاتھ تھا‘ یہ ٹارگٹ کلنگ‘ اغواء برائے تاوان‘ بھتہ خوری اور غنڈہ گردی میں ملوث رہی لیکن سوال یہ ہے کیا صرف ایم کیو ایم اکیلی اس کی ذمے دار ہے؟ جی نہیں کراچی کو ہر اس گروپ‘ ہر اس پارٹی اور ہر اس خاندان نے لوٹا جسے اس شہر نے پناہ‘ رزق اور اقتدار دیا چنانچہ کراچی کی بربادی کے پرچم تلے سب ایک ہیں۔

میں 27 نومبر کی دوپہر بلدیہ کراچی کی اسکاٹش عمارت میں داخل ہوا‘ کراچی کے نئے میئر وسیم اختر نے مجھے ’’ویل کم‘‘ کیا‘ وہ میئر کے دفتر میں میئر کی کرسی پر بیٹھے تھے‘ میں تین گھنٹے ان کے ساتھ رہا‘ ہم دفتر میں بھی بیٹھے‘ ہم نے بلدیہ کراچی کی عمارت بھی دیکھی اور ہم اس ہال میں بھی گئے جس میں 85 برس سے اس شہر کی قسمت کے فیصلے ہو رہے ہیں اور ہم ڈاکٹر فاروق ستار کے اس چھوٹے سے گھر میں بھی گئے جس میں اس وقت سندھ کی دوسری اور ملک کی چوتھی بڑی جماعت کا عارضی دفتر ہے۔

بلدیہ کراچی سے ایم کیو ایم کے عارضی دفتر تک غیر یقینی کے ڈھیر لگے تھے‘ پاکستان کا سب سے بڑا میئر شہر کے لیے پریشان تھا‘ وہ کراچی کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے پاس اختیارات اور فنڈز نہیں ہیں‘ اختیارات پر صوبائی حکومت بیٹھی ہے‘ کیوں؟ پورا ملک جانتا ہے پیپلز پارٹی کسی قیمت پر ہیرے کی اس کان کو ہاتھ سے نہیں نکلنے دے گی‘ کراچی شہر میں روزانہ سو ارب روپے نکلتے اور داخل ہوتے ہیں‘ حکومت اتنا بڑا ’’منی باکس‘‘ کسی دوسرے کے حوالے نہیں کرسکتی۔ پاکستان مسلم لیگ ن ایم کیو ایم کو سپورٹ کر سکتی ہے لیکن پانامہ کیس عدالت میں ہے‘ یہ اس نازک وقت میں جب عمران خان پوری طاقت کے ساتھ حکومت پر دھاوا بول رہے ہیں یہ پاکستان پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر مایوس نہیں کر سکتے اور پیچھے رہ گئے عسکری ادارے‘ یہ البتہ ایم کیو ایم کو کیک کا اتنا حصہ دے سکتے ہیں جس سے یہ ’’سروائیو‘‘ کر سکے لیکن یہ اس پارٹی پر مکمل اعتماد کے لیے تیار نہیں ہیں جس کے بانی الطاف حسین ہیں چنانچہ کراچی بری طرح مسائل کا شکار ہے‘ یہ شہر روزانہ لاکھوں ٹن کچرا پیدا کرتا ہے۔

یہ کچرا چھ برس سے اٹھایا نہیں گیا اور یہ اب پالوشن بن کر لوگوں کے پھیپھڑوں اور معدوں میں جا رہا ہے‘ شہر کی سڑکوں‘ اسپتالوں اور اسکولوں کی حالت خوفناک ہے ‘ شہر اسٹریٹ کرائم کا دارالحکومت بھی بن چکا ہے‘ مجھے محسوس ہوا ایم کیو ایم پاکستان کراچی کی حالت پر غم زدہ ہے‘ یہ ماضی کے گناہوں کے داغ بھی دھونا چاہتی ہے اور یہ خود کو اردو بولنے والے پرامن شہریوں کی پرامن جماعت بھی ثابت کرنا چاہتی ہے چنانچہ میرا خیال ہے ان لوگوں کو ایک موقع ملنا چاہیے‘ رینجرز کو نائین زیرو اور خورشید میموریل ہال ان لوگوں کے حوالے کر دینا چاہیے تاکہ یہ اپنا دفتر کھول سکیں‘ ان کے گرفتار کارکنوں کو بھی عدالتوں میں پیش کر دیا جائے یا پھر رہا کر دیا جائے‘ کراچی کے لوگوں نے وسیم اختر کو میئر منتخب کیا ہے‘ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن یہ شہر کے قانونی میئر ہیں اور انھیں میئرشپ کا موقع ملنا چاہیے۔

صوبائی حکومت کو بھی انھیں اختیارات اور فنڈز دینے چاہئیں‘ یہ لوگ کام کرنا چاہتے ہیں‘ انھیں کام سے روکنا زیادتی ہے‘ ان لوگوں کو بلاوجہ مقدمات میںالجھانا بھی غلط ہے‘ یہ لوگ مجرم ہیں تو انھیں سزا دیں اور یہ اگر بے گناہ ہیں تو آپ انھیں کام کرنے دیں‘آپ خود فیصلہ کیجیے میئر 40 جھوٹے سچے مقدموں کے ساتھ کام کیسے کرے گا؟ اور آخری درخواست‘ نئے آرمی چیف آ چکے ہیں‘ یہ ایم کیو ایم کی لیڈر شپ سے ملاقات کریں‘ یہ ان کی بات بھی سن لیں‘ ہو سکتا ہے یہ غلط نہ ہوں اور آپ اگر یہ نہیں کرنا چاہتے‘ آپ اگر انھیں ذرا سی بھی گنجائش نہیں دینا چاہتے تو پھر آپ ایم کیو ایم پر پابندی لگا دیں‘ آپ اسے بین کر دیں تا کہ بانسریاں پیدا کرنے والے بانس ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں‘ قصہ ہی تمام ہو جائے‘ مطالبے بچیں اور نہ ہی مطالبے کرنے والے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔