غیر ذمے داری کا عذاب

شہلا اعجاز  جمعرات 1 دسمبر 2016
 shehla_ajaz@yahoo.com

[email protected]

یہ واقعہ ہمیں کسی نے سنایا۔ گزشتہ ماہ  کی بات ہے لاہور جانا ہوا۔ سردیوں کے موسم میں سردی تو نہ تھی البتہ گرمی بھی نہ تھی خوشگواری کی فضا قائم تھی۔ البتہ لاہور میں معمول کے مطابق لوگوں کے رویے بھی اچھے تھے۔ اسکول کی چھٹی ہوئی تو سوچا کہ اپنے میزبان کے لیے کچھ کام ہی کرلیا جائے بچیوں کو اسکول سے پک کرنے کا سوچا کہ بچے بھی خوش ہوجائیں گے۔

اسکول پہنچے تو ہاتھ میں شناختی آلہ (اسکینر) لیے گارڈ نے کچھ تشویش سے پوچھا۔ جی کس سے ملنا ہے۔ وہ بچیوں کو لینے آئے ہیں ایک بچی ون میں پڑھتی ہے اور دوسری تیسری میں، ایک کا نام یہ ہے اور دوسری کا نام یہ ہے۔ اچھا جی۔ گارڈ نے اوپر سے نیچے تفتیشی انداز سے دیکھا۔ تو پھر میں کیا کروں۔ ارے بھئی بچیوں کو بھیجو۔ دیکھیے جی یہ اصول کے خلاف ہے۔ میں بچے آپ کے حوالے نہیں کرسکتا۔ ارے کیوں بھئی! میں ان کا انکل ہوں۔ کراچی سے آیا ہوں۔ آپ کی بات بالکل درست ہے میں بھی بچیوں  کا ماما ہوسکتا ہوں۔ چاچا ہوسکتا ہوں۔ حالانکہ میں تو ان کا پڑوسی ہوں۔ اور ہوسکتا ہے دوسرے محلے میں رہتا ہوں یا جان پہچان کا ہوں آپ براہ کرم ان کی مدر کو بھیجیں چاہے آپ ان کے ساتھ آکر لے جائیں، لیکن یہ زیادتی ہے۔

انگریزی میں جتنا غصہ کرسکتے تھے کرلیا۔ پر وہ گارڈ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ میں آپ کے بچے گھر پہنچا دوں گی آپ فکر نہ کریں جی۔ اسکول کی ماسی نے فوراً اپنی خدمات پیش کردیں۔ اوکے پھر تم گھر آکر مجھ سے ضرور ملاقات کرنا۔ ارے کیا ہم بچے اٹھانے والے ہیں۔ جلتے بھنتے چلے گئے گھر لوٹے تو بتایا گیا کہ دراصل بچیوں کو اسکول سے پک کرنے والوں میں بچیوں کی ماں نے صرف اپنا نام لکھوایا ہے اس لیے وہاں سے اجازت نہ ملی ابھی گھر میں گفتگو چل ہی رہی تھی کہ اسکول سے فون آگیا۔ اوہو…سوری سوری دراصل گھر میں مہمان آئے ہوئے ہیں مصروفیات میں خیال نہیں رہا۔ جی ہاں کراچی سے میرے مہمان آئے ہوئے ہیں۔ اچھا میں اپنے بھانجے کو بھیجتی ہوں وہ صبح اکثر اسکول ڈراپ کرتا ہے۔ اچھا ، نہیں اوکے میں خود اس کے ساتھ ہی آتی ہوں۔ اور یوں مجبوراً ہانپتے کانپتے والدہ کو ہی جانا پڑا۔

سارے واقعے میں ایک بات نے ہمیں بہت اپیل کیا   وہ تھی’’ ذمے داری۔‘‘ جس ذمے داری سے ایک کم تعلیم یافتہ گارڈ نے اپنا فرض ادا کیا اور اچھے بھلے شکل و صورت کے معقول انگریزی میں غصہ کرتے صاحب سے ذرا بھی متاثر نہ ہوا اور بچیوں کی سپردگی ان کو نہ کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر وہ صاحب حقیقتاً فراڈ ہوتے اور کسی طرح بچیاں وصول کرلیتے تو ان کی گمشدگی میں کیا صرف گارڈ مورد الزام ٹھہرایا جاتا یا پورے اسکول کا عملہ۔ کیا اسکول کی پرنسپل سے لے کر کلاس ٹیچر کو بھی تفتیش میں شامل نہیں کیا جاتا لیکن گارڈ کی ذمے داری نے بہت سے مسائل سے اپنے ادارے کو بچالیا یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ اگر انسان اپنی ذمے داریاں پورے دھیان اور ایمان داری سے نبھائے تو ادارے محفوظ اور مضبوط ہوسکتے ہیں۔

پچھلے کچھ عرصے سے ہمارے ملک میں اداروں میں سیکیورٹی کے معاملات میں خاصے ایشوز سامنے آئے ہیں ذرا سی غفلت ذرا سی لاپرواہی کسی بھی بڑے واقعے یا دہشت گردی کی وجہ بن سکتی ہے۔ ہر روز میں معمول کے مطابق مشکل سے مشکل کام کر جانے والے اس طرح کے گرداب میں پھنس سکتے ہیں۔ مثلاً ذرا سی اونگھ یا بے توجہی سے کسی بری سوچ یا برے ارادے والے کو اپنے ناپاک منصوبے کو ادا کرنے میں موقع مل سکتا ہے اور ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔

بس اسی دن اس گیٹ پر سیکیورٹی نہ تھی، اسی وقت گارڈ اٹھ کرگیا تھا، بس اسی وقت کوئی پھیری والا آیا تھا، بس وہ ایک وقت وہ ایک غیر ذمے داری سے برتا گیا پل۔ بہت سی انسانی جانوں کو بھینٹ چڑھا دیتا ہے پولیس ٹریننگ سینٹر کوئٹہ میں سیکیورٹی کو بہتر کرنے کے حوالے سے درخواست دی گئی دیواریں کچی تھیں ان دیواروں کو پکا کرنے میں کتنا وقت صرف ہوتا کتنی لاگت لگتی لیکن اس تھوڑے سے وقت اور تھوڑی سی لاگت کے بدلے کتنی جانیں گئیں جن کی ٹریننگ پر سرکار کا خاصا پیسہ صرف ہوا تھا۔ کیا ان 62 جانوں کا کوئی متبادل ہوسکتا ہے؟ فوری طور پر شکایتوں اور درخواستوں پر کام نہ کرنا ایک سرکاری فریضہ بن چکا ہے ہم اہم کو غیر اہم اور غیر اہم کو اہم سمجھ کر کام کرتے چلے جاتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ اہم بھی اہم اور غیر اہم بھی اہم ہے اس کی کیا وجہ ہے۔

ایک وقت تھا جب پڑوس سے مددکی درخواست کی گئی تھی درخواست قبول ہوئی نہ ہوئی یہ ہم جیسے نابلد کیا جانیں البتہ کشمیر کے ایشو میں جتنی دشواریاں اونچی ہوتی گئیں ۔ اس نے عالمی سطح پر واضح کردیا کہ یہ تھپک تھپک کر سلا دینے والا ایشو نہیں رہا لیکن جس طرح سے بھارتی ’’را‘‘ کے ایجنٹوں کے پھندے پاکستانی حدود میں پکڑے جا رہے ہیں۔ اس سے واضح ہو رہا ہے کہ اہم اور غیر اہم کے بیچ اب کوئی خلا نہیں رہا صرف یہی نہیں سی پیک کے تحت ہونے والی ترقیوں کی اسکیمیں بہت سے بڑے ہاتھیوں کی نیندیں اڑا رہی ہیں لہٰذا کسی بھی جانب سے ذرا سی بھی غفلت ہمارے لیے ایک بہت بڑے نقصان کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ سنتے ہی آئے ہیں کہ اداروں کو مضبوط بنایا جائے لیکن جس کو ذرا سی بھی دشواری پیش آئی ہے ایک نئی ترمیم کے ساتھ اپنے لیے راستے کو سہل بنا لیتا ہے جس کی وجہ سے ادارے مضبوط تو نہیں ہوتے البتہ ان میں پیچیدگیاں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔

کسی بھی ادارے کو دیکھ لیں ایک کے بعد ایک ادارہ اس پیچیدگی کا شکار نظر آتا ہے لیکن ذمے داری سے غفلت پھر سینہ تان کر سامنے کھڑی ہوجاتی ہے کہ اس میں کرپشن، دہشت گردی یا سازش کسی کا بھی ٹانکا نہیں جڑتا مثلاً کراچی میں حالیہ ٹرینوں کے ہونے والے حادثے میں جہاں اتنی ساری ہلاکتوں کا سانحہ قوم کو برداشت کرنا پڑا وہیں ڈرائیور اور اسسٹنٹ ڈرائیور کی غیر ذمے داری کی سزا پوری ریلوے سروس کو سرکاری طور پر جو ہوئی وہ ہوئی پر بددعاؤں،  اور طعنے تشنے جو ان کی جھولی میں گرے، اسے اکیلے سعد رفیق  کتنا سمیٹ سکیں کہ نہ تو اس میں دہشت گردی کی بو ہے نہ کرپشن اور نہ ہی سازش کا جال۔ بس غیر ذمے داری غفلت اور لاپرواہی۔ گڈانی میں جہاز میں آگ بھڑکنے پر کتنی جانوں کا ضیاع ہوا۔ وجہ پھر وہی غفلت لاپرواہی ہے، اس بات پر توجہ ہی نہیں دی گئی کہ اس اسکریپ جہاز میں پہلے سے ہی کافی مقدار میں خوردنی تیل موجود ہے۔

اس بڑے حادثے کی خبریں کتنے دنوں تک چلتی رہیں اور جو معصوم مظلوم افراد براہ راست اس حادثے سے متاثر ہوئے اور جن کی زندگیاں تلف ہوئیں اس میں ان کا کیا قصور؟ کہ اس میں ویلڈنگ کرنے والا اجازت دینے والا ٹھیکیدار ہی نظر آتے ہیں لیکن ان دونوں کے ساتھ اور کتنی زندگیاں لاپرواہی اور غفلت کی نظر ہوئیں۔ جہاز اڑانے والے روز… ہر دوسرے روز جہاز اڑاتے ہیں۔ ٹرین ڈرائیور بھی ہر روز ٹرین چلاتے ہیں، بس ڈرائیور، ٹیکسی ڈرائیور، انجینئر، ڈاکٹر، اساتذہ، مزدور سب ذمے دار ہر روز اپنے کام انجام دیتے ہیں پیسے حاصل کرنے کے لیے تاکہ خود اور اپنے گھر والوں کا پیٹ پال سکیں۔ یہ ذمے داری تو ادا کرنا ہی ہے لیکن اگر اسے توجہ، دل جمعی اور لگن سے انجام دیں تو کتنا ہی اچھا ہو کہ غفلت اور غیر ذمے داری کا کوئی بھی پل اسے ہم سے چھین کر ہمیں ظالموں کی صف میں کھڑا کردینے میں ذرا دیر نہیں لگاتا بات صرف سوچ کی ہے۔ اسے بدل کر دیکھیں نیا پاکستان تو ہم سے ہی ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔