آئیڈیاز 2050

ظہیر اختر بیدری  جمعرات 1 دسمبر 2016
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

پچھلے دنوں کراچی میں آئیڈیاز 2016 کے نام پر پاکستانی ساختہ چھوٹے اور بڑے اسلحے کی نمائش ہوئی، جس میں ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے پچاسوں ملکوں کے سیکڑوں خریداروں نے شرکت کی اور اپنی پسند کے اسلحے کے آرڈر بُک کرائے۔ اسلحے کے حوالے سے اس قسم کی نمائشیں دنیا کے مختلف ہتھیار بنانے والے ملکوں کی طرف سے منعقد کی جاتی ہیں جس کا مقصد ہتھیاروں کی خریداری کے آرڈر لینا ہوتاہے۔

ہتھیاروں کی نمائشوں کا اہتمام اگرچہ ایک عام بات ہے اور ہتھیار تیار کرنے والے ملک ہتھیاروں کے خریدار پیدا کرنے کے لیے اس قسم کی نمائشوں کا اہتمام کرتے ہیں کہ ان کے تیار کردہ ہتھیاروں کی فروخت سے زرمبادلہ حاصل کرسکیں لیکن ہتھیاروں کی نمائشوں اور ہتھیاروں کی فروخت کرنے والوں کے ذہنوں کے کسی گوشے میں یہ بات نہیں آتی کہ ہتھیار خواہ چھوٹا ہو یا بڑا، ایک ٹی ٹی ہو یا F-16، ان سب سے انسانوں کو مارنے ہی کا کام لیا جاتا ہے۔

لوگ آپس کی چھوٹی چھوٹی لڑائیوں میں اگر ایک دوسرے کو زخمی بھی کردیتے ہیں تو ان کے خلاف قانون حرکت میں آجاتا ہے، فریقین کو گرفتار کرکے ان کے خلاف مقدمات بنادیے جاتے ہیں اور مجرموں کو جیلوں میں بند کیا جاتا ہے لیکن انتہائی خطرناک ہتھیاروں کے ذریعے جو جنگیں لڑی جاتی ہیں ان جنگوں میں بے شمار لوگ مارے جاتے ہیں اور بے جگری سے دشمن کو نقصان پہنچانے والے فوجیوں کو قومی ایوارڈ سے نوازا جاتا ہے۔

آج کل ہمارے اکابرین اور ماہر نفسیات بچوں کے ہاتھوں میں نقلی ہتھیار کو خطرناک قرار دے کر نقلی ہتھیاروں کی فروخت پر پابندیوں کے مطالبے کررہے ہیں اور ماں باپ کو سمجھا رہے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو نقلی ہتھیاروں سے دور رکھیں، کیوںکہ جو بچے آج نقلی ہتھیار استعمال کرکے تفریح حاصل کرتے ہیں کل بڑے ہوکر اسی نفسیات کے تحت بڑے ہتھیار استعمال کرکے مجرموں کی صفوں میں شامل ہوسکتے ہیں۔

ہمارے ملک کے مختلف حصوں سے دشمنیوں سمیت مختلف حوالوں سے ہر روز خون خرابے کی خبریں میڈیا میں آتی رہتی ہیں، یہ خون خرابہ کتابوں، کاپیوں، قلموں کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ ہتھیاروں کے ذریعے ہی کیا جاتا ہے اور ہر ملک میں ہتھیار بنانے کے کارخانے موجود ہیں، جو سرکار کی اجازت سے ہتھیار تیار کرتے ہیں، مارکیٹوں میں ہتھیار فروخت کرنے کی دکانیں موجود ہوتی ہیں جنھیں حکومتیں ہتھیار فروخت کرنے کا لائسنس دیتی ہیں۔ ہتھیاروں کی اس قانونی فروخت کے علاوہ ہر ملک میں غیر قانونی فروخت کے بڑے بڑے اڈے موجود ہیں ۔

جہاں سے جرائم پیشہ لوگ ہتھیار خرید کر جرائم بلکہ سنگین جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں ایک طرف ہتھیاروں کی قانونی اور غیر قانونی فروخت کا کاروبار ہے تو دوسری طرف قانون اور انصاف کا نظام ہے جو مجرموں کا احتساب کرتا ہے۔ اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہتھیار خواہ ایک ٹی ٹی ہو یا F-16 یا کوئی ٹینک یا میزائل سب انسانوں کے خلاف ہی استعمال ہوتے ہیں۔

مغربی ملکوں میں ہتھیاروں کی صنعت میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اور کھربوں ڈالر کا اسلحہ خریدا اور بیچا جارہا ہے، ملکوں کے درمیان اربوں ڈالرز کے ہتھیار کی خریداریاں ہورہی ہیں، یہ سب جائز اور قانونی ہیں، جب کہ ہتھیار بیچنے والے، ہتھیار بنانے والے اور ہتھیار خریدنے والے اس حقیقت سے پوری طرح واقف ہیں کہ ہتھیاروں کی صنعت میں کھربوں کی سرمایہ کاری کرنے والوں کو صرف منافع سے کام ہوتا ہے۔ آج ہتھیاروں کی صنعت سے سرمایہ کار اربوں کا منافع کمارہے ہیں لیکن کسی ایک سرمایہ کار، کسی ایک ہتھیار بنانے والے کے ذہن میں یہ خیال تک نہیں آتا کہ ہتھیار خواہ کس قدر بڑا ہو یا کس قدر چھوٹا ہو صرف انسانوں کو مارنے ہی کے کام آتا ہے۔

انسانی تاریخ جنگوں اور خون خرابوں سے بھری ہوئی ہے، ماضی میں جنگیں تلواروں، نیزوں، خنجروں وغیرہ سے لڑی جاتی تھیں، اب ترقی یافتہ دور میں ہزاروں قسم کے ایسے جدید اور ترقی یافتہ ہتھیار بنائے گئے ہیں کہ منٹوں میں صرف انسانوں کو ہی نہیں شہروں کو بھی تباہ کردیتے ہیں۔ اسے کمال کہیں یا بدقسمتی کہ انسانی ذہن نے ایٹمی ہتھیار بنالیے ہیں جو پلک جھپکتے میں لاکھوں جیتے جاگتے انسانوں کو لاشوں میں بدل دیتے ہیں، ویسے تو پوری انسانی تاریخ ہی جنگوں سے بھری ہوئی ہے لیکن پہلی اور دوسری عالمی جنگوں میں کروڑوں انسان قتل کردیے گئے، ان جنگوں کو جائز اور قانونی قرار دیا گیا، جس طرح ایک انسان کا قتل ہر حوالے سے غیر قانونی ہوتا ہے اسی طرح جنگوں میں ہونے والے قتل عام کو بھی غیر قانونی اور سنگین جرم قرار دیا جانا چاہیے۔

جنگیں عموماً قومی مفادات کے تحفظ کے حوالے سے لڑی جاتی ہیں جو اصل میں اقتصادی مفادات ہی ہوتے ہیں اس حوالے سے ہمارے سامنے ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں پر ہونے والی لڑائی ہے جس کا اصل مرکز مسئلہ کشمیر ہے اور مسئلہ کشمیر دو مذاہب کے فرق کا مسئلہ ہے۔ فلسطین میں بھی نصف صدی سے زیادہ عرصے سے قتل و غارت کا بازار گرم ہے۔

ملک و ملت زبان رنگ نسل دین دھرم کے اختلافات جنگوں، خون خرابوں کا سبب بنے ہوئے ہیں کیا ایٹم بم بنانے والا انسان ایسا میکنزم ایسے طریقے نہیں نکال سکتا کہ ملک و ملت دین دھرم اور قومی مفادات کا تحفظ پر امن طریقوں سے مذاکرات کے ذریعے انجام دیا جاسکے؟ ایسا بالکل ممکن ہے لیکن اس کے لیے کرۂ ارض پر بسنے والے انسان کو ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی، امریکی، روسی، چینی، ہندوستانی، پاکستانی سے پہلے انسان بننا ہوگا جب انسان تعصب اور نفرت پیدا کرنے کے ہر حوالے سے آزاد ہوکر صرف اور صرف انسان بن جائے گا تو نہ ہتھیاروں کی ضرورت ہوگی نہ جنگوں کی لیکن یہ کام سیاست دان انجام نہیں دے سکتے، اس بڑے کام کو ہم آئیڈیاز 2050 کا نام دے سکتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔