عورت پر تشدد اور استحصال

نجمہ عالم  جمعرات 1 دسمبر 2016
najmalam.jafri@gmail.com

[email protected]

خواتین پر تشدد کے خاتمے کے لیے 1990ء سے 25 نومبر تا 10 دسمبر کے دن منائے جاتے ہیں، گویا تقریباً 25 برس سے یہ ایام منائے جارہے ہیں۔ یوں تو تاریخ کے ہر دور میں خواتین کی حالت زار کے قصے مل جاتے ہیں مگر ماضی کی عورت نہ تعلیم یافتہ تھی اور نہ اپنے حقوق سے واقف، حتیٰ کہ اسلام نے عورت و مرد کو حقوق کے سلسلے میں برابر قرار دیا، مگر مردوں نے ان کو اس سے لاعلم ہی رکھا، خواتین کو پڑھنے لکھنے سے محروم رکھنے کا ماضی میں یہ جواز پیش کیا جاتا تھا کہ وہ غیر مردوں کو خط لکھیں گی، حالانکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ پڑھنا آ گیا تو اپنے حقوق سے واقف ہوجائیںگی۔ مگر اب دنیا بدل چکی ہے، خواتین علمی میدان میں مردوں سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کررہی ہیں۔

ان کی معلومات میں بھی بے حد اضافہ ہوچکا ہے اور اپنے حقوق سے بھی بڑی حد تک واقف ہیں، اس کے باوجود عورت پر تشدد نہ صرف بڑھتا جارہا ہے بلکہ تشدد کی نوعیت بھی سنگین تر ہوتی جارہی ہے، زندہ گاڑ دینا، جلا دینا اور آدھا زمین میں گاڑ کر ان پر بھوکے کتے چھوڑ دینا، قتل کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختلف علاقوں میں پھینک دینا، جیسے لرزہ خیز واقعات ذرایع ابلاغ میں گردش کرتے رہتے ہیں۔

جب خواتین کے لیے کوئی آواز نہیں اٹھائی جاتی تھی تب شاید اتنے بھیانک واقعات نہیں ہوتے تھے، جب کہ اب حکومتی سطح پر بھی اور سول سوسائٹی کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کافی اقدامات کیے جارہے ہیں، مگر ظلم و تشدد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ کیوں؟ اس سلسلے میں جو بھی قانون سازی ہوئی یا جو بھی اقدامات کیے گئے دراصل ان میں صحیح سمت کا تعین ہی نہیں کیا گیا۔

قانون بنانا الگ بات ہے اور اس کو قابل عمل بنانا الگ۔ دنیا کو چھوڑیے ہمارے ملک میں کون سا قانون ہے جس پر سختی سے عمل کیا یا کرایا جارہا ہے؟ بڑے بڑے جرائم کے مجرم ناکافی ثبوت اور غیر سنجیدہ تحقیقات کے باعث الزامات سے بری ہوجاتے ہیں اور پھر جرائم کرتے پھرتے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اگر کسی بھی مجرم کو قرار واقعی سزا ملتی اور اس کو سب کے لیے نشان عبرت بنایا جاتا تو شاید کسی پر کوئی اثر بھی ہوتا مگر حصول انصاف کی جو صورتحال ہے ہم سب اس سے واقف ہیں۔خواتین پر تشدد اور ان کے استحصال پر تقریر و تحریر، بیانات وغیرہ میں جن نکات کو مدنظر رکھا جاتا ہے وہ کم و بیش ہر فورم، قانون ساز اداروں، سیمیناروں اور گفت و شنید کے تمام مواقعے پر یکساں ہوتے ہیں، خواتین کو تشدد اور استحصال سے بچانے کے لیے تجاویز بھی تقریباً اب سب کو ازبر ہوچکی ہیں، جو کچھ یوں ہیں کہ خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ دی جائے۔

ان کو معاشی طور پر خود مختار کیا جائے، کیونکہ ان کے تمام مسائل کی جڑ ان کا معاشی طور پر خود مختار نہ ہونا ہے، جب کہ ہمارے نیم خواندہ و نیم ترقی یافتہ معاشرے میں جہاں ہر بات اسلام سے شروع ہوکر اسلام پر ختم ہوتی ہے وہاں دور دور تک اسلامی روایات اور معاشرے کا نفاذ نظر نہیں آتا۔ یہاں شہری خواتین سے زیادہ دیہی ان پڑھ خواتین مردوں کی نسبت زیادہ محنت و مشقت کرتی ہیں۔ کھیتوں کھلیانوں سے لے کر بچوں کی پرورش، گھر اور برادری کی تمام ذمے داری ان پر ہی عاید ہوتی ہے۔ مگر ذرا شہروں کا منظر بھی دیکھیے تو اندازہ ہوگا کہ حالات یہاں بھی کچھ مختلف نہیں، شہری خواتین تعلیم یافتہ اور خاصی تعداد میں برسر روزگار ہونے کے باوجود گھریلو ذمے داریوں کے ساتھ صبح سے شام تک اپنی پیشہ ورانہ ذمے داری پوری کرنے پر انھیں کسی قسم کی رعایت نہیں دی جاتی، حتیٰ کہ بچوں کا ہوم ورک اور تمام کارکردگی پر توجہ دینا بھی اسی کی ذمے داری ہوتی ہے۔ مرد حضرات (شوہر) تو ملازمت سے آ کر شدید تھکن کا شکار ہوجاتے ہیں لہٰذا انھیں چائے بھی ملازمت پیشہ بیوی بناکر دیتی ہے۔

بچوں کے یونیفارم اور شوہر کے کپڑے استری کرکے خود اپنی بھی صبح کے لیے تیاری کرتی ہے۔ پڑھی لکھی ملازمت پیشہ خواتین کا استحصال یوں بھی ہوتا ہے کہ صبح سے رات تک تہری ذمے داری اٹھانے پر اس کی تنخواہ پر میاں یا گھر والوں کا قبضہ ہوتا ہے۔ وہ اپنی کمائی کو اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق استعمال کے حق سے بھی محروم کردی جاتی ہے۔ میرے علم میں کئی ایسی ملازمت پیشہ خواتین ہیں، جن کی چیک بک تک ان کے شوہروں کے قبضے میں ہوتی ہے، وہ جب چاہیں ان سے بلینک چیک پر دستخط کرالیتے ہیں۔

طویل عرصے کام کرنے کے باوجود ان کے اکاؤنٹ میں تنخواہ آنے اور نکالے جانے کے کبھی کچھ پس انداز نہیں ہوتا۔ ہوشیار شوہر بیوی کی ساری تنخواہ نکلواکر اپنے اکاؤنٹ میں ڈال لیتے ہیں، بیوی کو اپنی ضروریات کے لیے میاں کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑتے ہیں، تو عموماً جواب ملتا ہے کہ تمہاری ضروریات تو پوری ہورہی ہیں تمہیں پیسے کیوں چاہئیں۔ اس سے بڑھ کر عورت کا اور کیا استحصال ہوگا۔ معاشی طور پر عورت کے مستحکم ہونے اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کی بات کی جاتی ہے تو اس صورتحال میں اس کو معاشی خود مختاری کہاں حاصل ہوسکتی ہے بلکہ یہ صورتحال تو ذہنی و معاشی تشدد اور استحصال کی بدترین شکل ہے کہ معاشرتی ذمے داری کے بعد ملازمت بھی کریں اور اپنی آمدنی سے بھی محروم رہتیں، اوپر سے ساس، نندیں گھر میں دلچسپی نہ لینے اور ہر وقت گھر سے باہر رہنے کے طعنے الگ دیں اور صاف مکر جائیں کہ ہمیں تمہارے پیسوں کی ضرورت نہیں۔ سارا گھر تو ہمارا بیٹا (بھائی) چلارہا ہے۔

میرا موقف یہ ہے کہ تمام تر قانون سازی، سول سوسائٹی کی کوشش اپنی جگہ، لیکن عورت کو اگر واقعی تشدد و استحصال سے بچانا ہے تو ابتدائی تعلیم ہی سے لڑکوں کے ذہن نشین کرانا ہوگا کہ عورت صرف ماں اور بہن کے روپ میں ہی قابل احترام نہیں بلکہ بیوی اور بیٹی بھی آپ کے احترام، محبت اور توجہ کی حق دار ہے، پھر وہ جو محاورہ ہے کہ ’’عورت کی دشمن خود عورت ہے‘‘ ساس، نند یا بہو کے روپ میں تو ایک طرف خود ماں اپنی بیٹی کی کیسی دشمن ہوجاتی ہے۔ محض غیر اسلامی و غیر انسانی رسم و رواج کو مذہب کے ہم پلہ قرار دینے کے باعث لاہور میں عدالت کے سامنے حاملہ فرزانہ کو اینٹوں اور پتھروں سے پولیس کی موجودگی میں مار مار کر ہلاک کرنے والوں میں اس کی ماں بھی شریک تھی۔ گزشتہ دنوں لاہور ہی میں پسند کی شادی کرنے پر لڑکی کو خود اس کی ماں نے بہانے سے گھر بلاکر پلنگ سے باندھ کر پٹرول چھڑک کر زندہ جلادیا۔ کئی دن یہ خبر ذرایع ابلاغ کی زینت بنی رہی پھر کیا ہوا؟ کچھ معلوم نہیں۔

عرض یہ کرنا ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود ناخواندہ ہی نہیں پڑھے لکھے لوگ بھی عورت کا طرح طرح استحصال اور اس پر تشدد کررہے ہیں، کسی لمبے چوڑے اخراجات کے بجائے محض آگاہی مہم پر بھرپور توجہ دی جائے اور اسلام کے قلعے (پاکستان) میں اسلامی اصولوں اور قوانین پر افسوس ناک حد تک عمل نہیں ہورہا ہم اسلامی اصولوں پر عمل کرنے والے ممالک میں سب سے پیچھے ہیں۔ ہر وقت اسلامی انقلاب کا نعرہ لگانے والوں کو چاہیے کہ اسلام کو اس کی حقیقی روح اور اصولوں کے مطابق پیش کریں۔ معاشرے کو نفرت و تعصب کی آگ میں دھکیلنے کے بجائے اسلامی انصاف کے حصول و اطلاق کو ہر تعصب سے بد تر ہوکر نافذ کرانے کی کوشش کریں یاد رکھیے کہ اسلامی معاشرہ عورت کے احترام اور حقوق کی ادائیگی کے بغیر قائم نہیں ہوسکتا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔