’سادگی‘ قومی وقار کی بحالی ہمارے مسائل کا حل

نعیم الغفور  جمعـء 2 دسمبر 2016
آج کل پیدل چلنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا عیب تصور کیا جاتا ہے۔ فوٹو : فائل

آج کل پیدل چلنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا عیب تصور کیا جاتا ہے۔ فوٹو : فائل

سادگی سے مراد زندگی گزارنے کا وہ طریقہ ہے جس میں حیثیت سے بڑھ کر نہ اپنے لیے مشکلات پیدا کی جائیں اور نہ ہی دوسروں کے لیے مشکل کا باعث بنا جائے۔ تصنع، تکلف اور خود نمائی سے اجتناب سادگی کا دوسرا نام ہے۔

قوموں کی ترقی کا دار و مدار اخراجات پر ہوتا ہے، آمدن اور خرچ میں توازن کے بغیر معاملات کی انجام دہی ناممکن ہے۔ اقوام کی تقدیر میں نمود و نمائش زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ جب بھی کوئی قوم برتری کے زعم میں حکومت کے خزانوں کو لٹانا شروع کر دیتی ہے تو جلد ہی ملک و ملت پر بوجھ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے۔ قرضوں کے بارِ گراں سے بالٓاخر قومی وقار ملیامیٹ ہو جاتا ہے۔ سادگی کی بہ دولت ملک و ملت کو وقار، ترقی و خوش حالی نصیب ہو تی ہے۔

سادگی وہ بنیا دی وصف ہے جو ملکی تعمیر و ترقی میں خصوصی کردار ادا کرتا ہے۔ چین کی ترقی میں سادگی کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے۔ پاکستان سے بعد میں آزادی حاصل کرنے والے اس ملک نے محنت، سادگی اور مساوات کی بنیاد پر ترقی کی منازل طے کرنے کے بعد اپنے آپ کو دورِ جدید کے ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کر کھڑا کیا ہے۔ چینی عوام سادہ، محنتی اور ہر قسم کے غیر ضروری تکلفات سے بے نیاز ہیں۔ سادہ خوراک استعمال کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مشروبات کے لیے بے جا اخراجات کی جگہ سادہ اُبلا ہوا پانی صحت کے لیے مفید ہے۔

چین کے تمام افراد بلا تفریق محنت کرتے ہیں اور اس میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے۔ سادگی کی عادت بہت نفیس خصلت ہے۔ جس قوم نے بھی سادگی کو اپنا شعار بنایا وہ کام یابی سے ہم کنار ہو ئی۔ علاوہ ازیں سادگی زندگی کے ہر شعبے میں راحت و سکون کا باعث بنتی ہے۔ اگر خوراک، پوشاک، سامان ِزندگی، رہن سہن اور ہر موقع پر بے جا تکلفات سے بچا جائے تو سادگی کی بہ دولت زندگی راحت ہی راحت ہے۔

سادگی اسلامی تہذیب کا جوہر ہے۔ اسلام اپنے پیروکاروں کو سادگی و قناعت کی تلقین کرتا ہے۔ کیوں کہ دنیاوی آرام و آسائش کی عادی قوم موت کا سامنا کرنے سے ڈرتی ہے اور بزدل ہو جاتی ہے۔ قوم اسبابِ تکلف کی بہ دولت میدانِِ جنگ میں شرکت سے کتراتی ہے، انسانی ضروریات کو جتنا بھی بڑھایا جائے اس میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ انسانی ضروریات اس قدر لامحدود ہو جاتی ہے کہ انہیں پورا کرنا انسانیت کے بس سے باہر ہو جاتا ہے، لیکن خود پر جبر کرتے ہوئے ان میں صرف ضروری حاجات پوری کرنا اور باقی کو ترک کرنا ہی دراصل زندگی ہے۔ ہوس و حرص کا غلام بن جانے سے انسان پستی میں گرِ جاتا ہے اگرچہ وہ بہ ذاتِ خود اپنے آپ کو ترقی یافتہ تصور کرتا ہے۔

آئے روز نت نئے فیشن کی وجہ سے لباس بھی ایک مسئلہ بن چکا ہے لباس کی تیاری اور بلا ضرورت خریداری پر بے انتہا سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔ حالاں کہ لباس ایسا ہونا چاہیے جس سے انسان کی دو بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکیں اول ستر یعنی جسم کا ڈھانپنا۔ دوم فرائض کی ادائی میں رکاوٹ نہ بننا۔ زیب ِ تن لباس کو صرف فیشن کی وجہ سے بدلنے کا عمل اسراف کہلاتا ہے جو ایک شیطانی فعل ہے۔

قرآن مجید نے فضول خرچ کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔
ارشادِ ربانی ہے: ’’فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ ‘‘

اسلام سادگی کا پرچارک اور حضور اکرم ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ آپؐ اپنے جوتوں کی خود مرمت کر لیتے تھے اور گھر کے دوسرے امور بھی خود نمٹا لیتے تھے۔ آپؐ اپنی ازواج ِ مطہراتؓ کو بھی سادگی کا حکم دیتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے دروازے پر نقش و نگار والا کپڑا لٹکا دیا۔ آپؐ دیکھ کے خفا ہو ئے اور اتار دیا، پھر ارشاد فرمایا ’’ اﷲ تعالیٰ نے ہمیں اینٹ پتھر کو کپڑے پہنانے کا حکم نہیں دیا ‘‘
( ابوداؤد، کتاب اللباس )

خلفائے راشدین ؓ کی زندگی سادگی و قناعت کا مرقع تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ وقت ہونے کے باوجود بکریوں کا دودھ دوہتے۔ حضرت عمر ؓ کو غیر ملکی سفیر نے درخت کے نیچے آرام فرماتے پایا۔ حضر ت عثمان غنیؓ نے امارت کے باوجود سادہ زندگی بسر کی۔ حضرت علی ؓ کی زندگی سادگی کا کامل نمونہ تھی۔

افسوس! امت مسلمہ آج دیگر اقوام کی اندھا دھند تقلید میں لگی ہوئی ہے۔ شادی بیاہ و دیگر تقریبات میں بے ہودہ رسموں کی پیروی کی جا رہی ہے۔ جب ایک قوم دوسری قوم کی تقلید میں بدعادات اختیار کر لیتی ہے تو نتیجے میں وہ اپنا تشخص کھو بیٹھی ہے اور ’’ کوّا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھو ل گیا ‘‘ کے مصداق اپنی روایات کو بھی تکلفات کے سبب بگاڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ دین اسلام سادگی کا امین ہے۔ بد قسمتی سے ہم نے شادی اور غمی میں ایسی رسومات کو اختیار کر لیا ہے جن کا مذہب سے دور تک کوئی واسطہ نہیں۔

اس تکلف کا ایک بڑا سبب قناعت کا فقدان ہے۔ ہر شخص جائز و ناجائز ذرائع استعمال کر کے ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ محنت کی عظمت کے بہ جائے راتوں رات امارت کے خواب نے معاشرے میں تباہی و بربادی پیدا کر دی ہے۔ انسان بنیادی طور پر حریص ہے اس لیے اُس کی خواہشات کی تکمیل ناممکن ہے۔ یہاں تک کہ انسان اپنی زندگی کا خاتمہ کر بیٹھتا ہے۔

اگر ہر شخص صبر و شکر سے کام لے اور امارات کی بجائے قناعت پر راضی ہو جائے تو بہت سے مسائل خود بہ خود حل ہو جائیں۔ اس کے بارے میں حضور اکرم ﷺ نے خوب صورت ارشاد فرمایا : ’’ امارت میں اپنے سے کم تر کو دیکھو اور نیکیوں میں اپنے سے بلند تر کو دیکھو۔‘‘

ہمیں میانہ روی اور سادہ طرز زندگی اپنانا چاہیے۔ لیکن صد افسوس کہ آج کل دنیا میں سادگی اور قناعت نظر نہیں آتی۔ آج کل پیدل چلنا اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا عیب تصور کیا جاتا ہے، خواتین گھریلو کام سے گریز کرتی ہیں اور جھوٹی اَنا کا شکار ہو کر وقت کے ساتھ ساتھ مختلف بیماریوں مثال کے طور پر بلڈ پریشر، ذیابیطس وغیرہ کا شکار ہوجاتی ہیں۔ کیوں کہ کام نہ کرنے کی وجہ سے اعضاء اپنا کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اندرونی نظام سست پڑ جاتا ہے اور معمول کا کام کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ جو خواتین مصروف زندگی گزارنے کے ساتھ سادگی اور قناعت پر یقین رکھتی ہیں وہ تمام عمر تن درست و توانا زندگی بسر کرتی ہیں۔

سادگی ماحول میں آسودگی اور دلوں میں خوشی پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیں۔ اگر ہم صحت مند زندگی گزارنا چاہتے ہیں اور اپنے معاشی و معاشرتی مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ہر حالت میں قناعت اور سادگی کو اختیار کرنا ہوگا اور اسی میں ہمارے مسائل کا حل مضمر ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔