آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے
Updated Aug 12, 12:57

ایران امریکا کشیدگی کا عالمی منڈی پر وار، تیل کی قیمتوں میں اضافے کا نیا الرٹ جاری

واشنگٹن: امریکا کی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن نے آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل میں جاری رکاوٹوں کے باعث رواں سال عالمی خام تیل کی قیمتوں کے اندازوں میں نمایاں اضافہ کردیا ہے۔

الجزیرہ کے مطابق امریکی ادارے نے رواں سال برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت کا تخمینہ 81.91 ڈالر سے بڑھا کر 86.81 ڈالر فی بیرل کردیا ہے۔ ای آئی اے کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل میں نمایاں رکاوٹیں اگست کے دوران بھی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

امریکی ادارے نے ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت کا اندازہ بھی بڑھا دیا ہے۔ گزشتہ ماہ اس کی اوسط قیمت 76.26 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیش گوئی کی گئی تھی، جسے اب بڑھا کر 80.88 ڈالر فی بیرل کردیا گیا ہے۔

ای آئی اے کے مطابق آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم خطرہ بنی ہوئی ہے۔ اس آبی گزرگاہ سے تیل کی بڑی مقدار عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہے، اس لیے یہاں آمدورفت میں طویل رکاوٹ عالمی قیمتوں پر براہِ راست اثر ڈال سکتی ہے۔

ادارے نے اگلے سال کے لیے تیل کی قیمتوں کا نسبتاً کم تخمینہ پیش کیا ہے۔ جس کے مطابق 2027 میں برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 69.39 ڈالر فی بیرل جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی اوسط قیمت 65.39 ڈالر فی بیرل رہنے کی توقع ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت معمول پر آتی ہے اور عالمی تیل کی سپلائی بحال ہوتی ہے تو اگلے سال قیمتوں میں کمی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اگر کشیدگی اور نقل و حمل میں رکاوٹیں طویل ہوئیں تو قیمتوں کے دوبارہ بڑھنے کا خطرہ برقرار رہے گا۔

عالمی توانائی کی منڈی اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تیل کی عالمی رسد پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ صورتحال میں معمولی تبدیلی بھی خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

Updated Aug 12, 11:14

امریکی فوج ہماری توقع سے کہیں کمزور نکلی، ایرانی کمانڈر کے مشیر کا بڑا دعویٰ

تہران: پاسداران انقلاب کے کمانڈر کے مشیر محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری جنگ کے دوران ایران نے اہم فوجی تجربہ حاصل کیا ہے اور امریکی فوج اسے پہلے کے مقابلے میں کمزور دکھائی دی ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں محمد رضا نقدی نے کہا کہ ایران اب تک جنگ میں کامیاب رہا ہے اور مستقبل میں بھی اپنی کامیابی کا سلسلہ جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جتنی طویل جنگ جاری رہے گی، ایران کو اتنا ہی زیادہ فوجی تجربہ حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق ایران نے اس سے قبل امریکا کے ساتھ ایسی براہِ راست اور حقیقی جنگ کا تجربہ نہیں کیا تھا، جس سے اسے امریکی فوج کے خلاف جنگی حکمت عملی سیکھنے کا موقع مل سکے۔

محمد رضا نقدی کے مطابق گزشتہ پانچ ماہ کے دوران ایرانی افواج نے جنگ کے میدان میں بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس عرصے میں ایران نے یہ بھی دیکھا کہ امریکی فوج اس سے زیادہ کمزور ہے جتنا تہران نے پہلے اندازہ لگا رکھا تھا۔

ایرانی عہدیدار نے کہا کہ جنگ کے دوران حاصل ہونے والا تجربہ مستقبل میں ایران کی فوجی حکمت عملی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق ایرانی فورسز نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کو آزمایا بلکہ امریکی فوج کی جنگی حکمت عملی اور صلاحیتوں کا بھی مشاہدہ کیا۔

محمد رضا نقدی نے مزید کہا کہ ایران خود کو موجودہ جنگ میں فاتح سمجھتا ہے اور مستقبل میں بھی کامیابی حاصل کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

تاہم ایرانی عہدیدار کے یہ دعوے ان کا اپنا مؤقف ہیں۔ امریکی فوج یا امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان طویل فوجی کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں، جنگی حکمت عملی اور آئندہ اقدامات پر عالمی سطح پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔

Updated Aug 12, 10:52

ایران کا عراق میں کرد ٹھکانوں پر بڑا حملہ، میزائل اور ڈرونز داغ دیے گئے

اربیل: ایران نے عراق کے نیم خودمختار کرد علاقے کے دارالحکومت اربیل کے اطراف میں کرد پوزیشنز کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی فورسز نے اربیل میں موجود کرد ٹھکانوں کی جانب میزائل اور ڈرونز داغے۔ حملے کے نتیجے میں علاقے میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی حملوں کے بعد اربیل صوبے میں چار ڈرونز گر کر تباہ ہوگئے۔ تاہم ابتدائی اطلاعات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ ڈرونز کس فریق کے تھے اور انہیں کس طرح نشانہ بنایا گیا۔

ایرانی حملوں کا ہدف عراق کے کرد علاقے میں موجود کرد پوزیشنز کو بتایا جا رہا ہے تاہم حملے میں ہونے والے جانی یا مالی نقصان کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اربیل اور اس کے اطراف کا علاقہ پہلے بھی ایران اور کرد مسلح گروہوں کے درمیان کشیدگی کا مرکز رہا ہے۔ ایران ماضی میں عراق کے کرد علاقوں میں موجود بعض ایرانی کرد گروہوں کے ٹھکانوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتا رہا ہے۔

حالیہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پورے مشرق وسطیٰ میں فوجی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ عراق بھی اس کشیدگی سے متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے، جہاں مختلف مسلح گروہوں اور غیر ملکی افواج کی موجودگی کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو چکی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اربیل میں ایرانی حملوں سے عراق کے کرد علاقے میں سکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر خطے میں اس نوعیت کی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات عراق کی داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران، امریکا اور دیگر علاقائی طاقتوں کے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

تاحال حملوں سے ہونے والے نقصانات، ہلاکتوں یا زخمیوں کے بارے میں مزید سرکاری تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

Updated Aug 12, 10:14

ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا خدشہ، ٹرمپ کے گالف کلب پر فضائی دفاعی نظام تعینات

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سکیورٹی کے پیش نظر نیو جرسی میں واقع ان کے نجی گالف کلب کے اطراف فضائی دفاعی نظام تعینات کر دیا گیا ہے۔ امریکی دفاعی ویب سائٹ دی وار زون کے مطابق یہ اقدام ایران کی جانب سے ممکنہ ڈرون اور میزائل حملوں کے خدشات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیو جرسی کے علاقے بیڈمنسٹر میں واقع ٹرمپ کے گالف کلب کی حالیہ ویڈیوز اور تصاویر میں فضائی دفاعی نظام واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ مناظر اس وقت کے ہیں جب صدر ٹرمپ گالف کلب میں موجود تھے اور وہاں ایک گالف ٹورنامنٹ کا فائنل راؤنڈ جاری تھا۔

امریکی دفاعی ویب سائٹ کے مطابق فوٹیج میں ٹرمپ کے پس منظر میں مختصر فاصلے تک فضائی اہداف کو نشانہ بنانے والا ایونجر ایئر ڈیفنس سسٹم نظر آ رہا ہے۔ اس کے علاوہ علاقے میں سینٹینل ایئر ڈیفنس ریڈار بھی نصب دکھائی دیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے ان ویڈیوز اور تصاویر کی اصلیت کی تصدیق کی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر کی موجودگی کے دوران گالف کلب کے اطراف سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔

ٹرمپ کی سکیورٹی کے حوالے سے صورتحال اس وقت مزید نمایاں ہوگئی جب صدر کی موجودگی کے دوران گالف کلب کے گرد قائم عارضی نو فلائی زون میں دو سویلین طیارے داخل ہوگئے۔

نارتھ امریکن ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ کے مطابق امریکی ایف-16 لڑاکا طیاروں نے دونوں طیاروں کو روکا اور انہیں بحفاظت ممنوعہ فضائی حدود سے باہر نکال دیا۔

نورڈا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں پائلٹس پر زور دیا کہ وہ ہر پرواز سے قبل فضائی حدود سے متعلق تازہ ترین سرکاری ہدایات کا لازمی جائزہ لیا کریں۔

امریکی میڈیا کے مطابق دونوں سویلین طیارے ٹرمپ کے نجی گالف کلب کے قریب موجود تھے، جہاں صدر نے ہفتے کے اختتام پر قیام کیا تھا۔

اس سے قبل یکم اگست کو وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بھی صدر ٹرمپ کو بیڈمنسٹر میں امریکی فوجیوں سے گفتگو کرتے دیکھا گیا تھا۔ ویڈیو کے پس منظر میں ایک ایونجر فضائی دفاعی نظام بھی موجود تھا۔

Updated Aug 12, 09:39

آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے، ایران کے ساتھ معاملات ٹھیک چل رہے ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اس وقت کوئی دوسرا ملک اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکا کے مقابلے میں مؤثر کنٹرول نہیں رکھتا۔

اوہائیو کے دورے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی موجودہ صورتحال کو بھی اپنے لیے مثبت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے حالات ’بالکل ٹھیک‘ جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے بارے میں کہا کہ ’’ہم مکمل طور پر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتے ہیں، کوئی اور نہیں، صرف ہم۔‘‘

ٹرمپ نے ایران کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تہران نے کسی مرحلے پر کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو اسے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال امریکا خطے میں ایک ’’بہت اچھی پوزیشن‘‘ میں ہے۔

امریکی صدر نے ایران کو مشرق وسطیٰ میں طویل عرصے سے ایک طاقتور اور اثرانداز ملک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں اپنی طاقت کا استعمال کرتا رہا ہے، تاہم ان کے بقول اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب مشرق وسطیٰ میں پہلے جیسی بالادست حیثیت نہیں رکھتا اور امریکا نے خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط کر لی ہے۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتی ہیں، اس لیے اس علاقے میں کشیدگی کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں اور بحری تجارت پر پڑتا ہے۔

ٹرمپ کا تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان شدید کشیدگی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت بھی عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازع کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے خدشات برقرار ہیں۔

Updated Aug 12, 07:19

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں تیزی آ گئی ہے، امریکی حکام کا دعویٰ

امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیل دوبارہ بڑھتے ہوئے تقریباً 90 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ گئی ہے۔

کرس رائٹ کے مطابق خلیجی اتحادیوں اور امریکی فوج کی مشترکہ کوششوں کے باعث تیل کی نقل و حمل میں بہتری آئی جبکہ جدید پائپ لائنز اور برآمدی سہولیات کے ذریعے مزید 50 سے 70 لاکھ بیرل یومیہ تیل خطے سے باہر بھیجا جا رہا ہے۔

امریکی وزیر توانائی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ خلیجی خطے سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرل تیل عالمی مارکیٹ تک پہنچ رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ صرف اتوار کے روز خلیجی ممالک سے 2 کروڑ بیرل سے زائد تیل برآمد کیا گیا جو کشیدگی سے قبل کی اوسط برآمدات سے بھی زیادہ ہے۔

دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے رکن محسن رضائی نے پہلے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز امریکا کے رویے میں تبدیلی اور ایرانی شرائط پوری ہونے تک بند رہے گی۔

Updated Aug 12, 07:17

آبنائے ہرمز کا غیر واضح مستقبل، عالمی منڈی میں خام تیل مزید مہنگا ہو گیا

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کی وجہ آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر جاری غیر یقینی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایشیائی مارکیٹ میں پیر کی صبح ٹریڈنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی۔

برینٹ خام تیل کی قیمت ایک فیصد سے زائد اضافے کے بعد 84 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت میں بھی ایک فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے کے مستقبل سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ عمان کے ساتھ نئے بحری راستوں کے تعین کے حوالے سے معاہدہ آخری مراحل میں ہے تاہم امریکا کو اس حوالے سے مزید شرائط پوری کرنا ہوں گی۔

Updated Aug 12, 06:53

خلیج فارس سے امریکی جنگی بحری موجودگی ختم ہوچکی، پاسداران انقلاب

ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ خلیج فارس میں اس وقت امریکا کا کوئی جنگی بحری جہاز موجود نہیں ہے۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کا کہنا ہے کہ ایران پر عائد کی گئی جنگ کے بعد خطے میں امریکی بحری طاقت کی موجودگی ختم ہوگئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے اپنے بیان میں کہا کہ رمضان کے دوران ایران کے خلاف جنگ کے وقت خلیج فارس میں امریکا کے 30 سے 40 جنگی بحری جہاز موجود تھے جبکہ ایران عراق جنگ کے دوران امریکا نے 100 سے زائد جنگی جہاز خطے میں تعینات کیے تھے۔

ایرانی ترجمان نے تاہم خلیج فارس میں موجود امریکی بحری جہازوں یا ان کے انخلا سے متعلق کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

حسین محبی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے جوابی اقدامات کے باعث مخالف قوتوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور دشمن کے لیے جنگ کو اسی شدت کے ساتھ جاری رکھنا مشکل ہوگیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکا نے ایران کی ساؤتھ پارس گیس فیلڈ اور اسالویہ انرجی حب کو نشانہ بنایا جس کے جواب میں امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔

پاسداران انقلاب کے ترجمان نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کو دوبارہ خطرات کا سامنا ہوا تو خطے میں امریکی اور دیگر ممالک کے توانائی نظام سمیت عالمی انٹرنیٹ انفرااسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

Updated Aug 12, 00:46

ایرانی حملے کے ڈر سے ٹرمپ کو کیٹرنگ کنٹینر میں خفیہ طور پر جہاز تک لے جایا گیا؛ رپورٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو گزشتہ ماہ ترکی میں نیٹو اجلاس کے بعد ایران سے مبینہ قاتلانہ حملے کے خطرے کے باعث انتہائی خفیہ سیکیورٹی آپریشن کے تحت ایئر فورس ون سے اتار کر ایک چھوٹے فوجی طیارے میں منتقل کیا گیا تھا۔

اس بات کا انکشاف امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا جس کے مطابق اسرائیلی انٹیلی جنس نے امریکا کو اطلاع دی تھی کہ ایران ٹرمپ کے طیارے کو کندھے پر رکھ کر داغے جانے والے میزائل سے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کرسکتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیلی انٹیلی جنس کی اسی اطلاع کے بعد امریکی خفیہ سروس اور قومی سلامتی کے حکام نے صدر کے سفر کا منصوبہ تبدیل کیا تھا۔

ٹرمپ کو کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے نکالا گیا

تازہ انکشاف کے مطابق ٹرمپ نے 8 جولائی کو انقرہ میں نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر میڈیا کے سامنے بظاہر پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہوئے تاہم اصل منصوبہ اس سے کہیں مختلف تھا۔

رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کو چند اہلکاروں کے ساتھ طیارے کے ایک حصے سے ایئرپورٹ کے کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر باہر نکالا گیا۔ یہ ٹرک انہیں ایک چھوٹے امریکی فوجی طیارے C-32A تک لے گیا، جس کے ذریعے صدر کو ترکی سے برطانیہ منتقل کیا گیا۔

اس دوران پرانا ایئر فورس ون بطور ڈیکائے یعنی گمراہ کن طیارہ کے استعمال ہوتا رہا تاکہ ممکنہ حملہ آور یہ سمجھیں کہ صدر اسی طیارے میں موجود ہیں۔

صحافیوں اور وائٹ ہاؤس کے بعض اہلکاروں کو بھی مبینہ طور پر اس خفیہ منصوبے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔ حتیٰ کہ ایئر فورس ون میں موجود بعض افراد یہ سمجھ رہے تھے کہ ٹرمپ بھی اسی طیارے پر سوار ہیں۔

اسرائیلی انٹیلی جنس نے کیا بتایا؟

یاد رہے کہ یہ انکشاف اُس رپورٹ کے تقریباً ایک ماہ بعد سامنے آیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اسرائیل نے امریکا کو ایران کی جانب سے ٹرمپ کو قتل کرنے کی ایک نئی مبینہ سازش سے متعلق انٹیلی جنس فراہم کی تھی۔

اسرائیلی انٹیلی جنس کی اطلاع کے بارے میں امریکی سفیر برائے اسرائیل مائیک ہکابی نے بھی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل نے واشنگٹن کو ٹرمپ کے خلاف ایک بہت مخصوص منصوبے سے متعلق معلومات فراہم کی تھیں۔

تاہم اس معاملے میں امریکی حکام کے بیانات مکمل طور پر یکساں نہیں رہے۔

امریکی ذرائع نے اسرائیلی دعوے کے بعد کہا تھا کہ موصول ہونے والی معلومات کسی مکمل اور منظم قاتلانہ منصوبے کی بجائے ایرانی حکام کے درمیان ٹرمپ کو قتل کرنے کے امکان پر ہونے والی عمومی گفتگو سے متعلق تھیں۔

یعنی اسرائیلی اور بعض امریکی ذرائع کے بیانات میں اس خطرے کی نوعیت کے حوالے سے فرق موجود رہا ہے۔

نئے طیارے کے بجائے پرانا ایئر فورس ون کیوں؟

ٹرمپ ترکیہ پہنچے تو ان کے لیے قطر کی جانب سے فراہم کیا گیا نیا بوئنگ 747-8 استعمال کیا گیا تھا لیکن واپسی پر اچانک فیصلہ کیا گیا کہ وہ اس طیارے کے بجائے پرانے ایئر فورس ون سے سفر کریں گے۔

اس وقت سرکاری طور پر اس فیصلے کی واضح وجہ سامنے نہیں آئی تھی۔ بعد میں امریکی حکام نے بتایا کہ نئے طیارے میں پرانے صدارتی طیارے کے مقابلے میں بعض جدید دفاعی صلاحیتیں موجود نہیں تھیں اور ایرانی خطرے کے تناظر میں پرانا طیارہ زیادہ محفوظ سمجھا گیا۔ 

بعد ازاں یہ بھی سامنے آیا کہ حقیقت میں ٹرمپ نے ترکیہ سے برطانیہ تک سفر C-32A فوجی طیارے میں کیا، جبکہ پرانا ایئر فورس ون ایک ڈیکائے کے طور پر روانہ ہوا۔ 

صحافیوں کو بھی لاعلم رکھا گیا

رپورٹ کے مطابق آپریشن کی رازداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پرانے ایئر فورس ون پر موجود صحافیوں کو پرواز کے دوران کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

بعد میں ٹرمپ برطانیہ کے اڈے پر دوبارہ میڈیا کے سامنے پرانے ایئر فورس ون سے اترتے دکھائی دیے، جس سے یہی تاثر قائم رہا کہ انہوں نے ترکی سے اسی طیارے پر سفر کیا تھا۔ خفیہ فوجی طیارہ اس سے کچھ دیر پہلے برطانیہ پہنچ چکا تھا۔

ایران سے ٹرمپ کو مسلسل خطرات

ٹرمپ کو ایران کی جانب سے خطرات کا پس منظر کئی سال پرانا ہے۔ 2020 میں امریکی حملے میں ایرانی پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی شہادت کے بعد ایرانی حلقوں میں ٹرمپ کے خلاف انتقامی کارروائی کی دھمکیاں سامنے آتی رہی ہیں۔

حالیہ جنگ کے دوران بھی ایرانی حلقوں میں امریکی صدر کے خلاف سخت بیانات سامنے آئے۔ اسی پس منظر میں امریکی حکام ایرانی حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے ممکنہ حملے کے خطرے کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ 

صدر ٹرمپ نے خود بھی جولائی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایرانی ہدفی فہرستوں میں شامل ہیں اور انہیں اپنی جان کو لاحق خطرے کا علم ہے۔ 

وائٹ ہاؤس کی جانب سے کیا کہا گیا؟

تازہ رپورٹس کے مطابق امریکی حکام نے سیکیورٹی اقدامات کی تفصیلات کی مکمل تصدیق نہیں کی تاہم انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ صدر کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور خطرات کے پیش نظر سفر کے طریقہ کار میں تبدیلی معمول کی سکیورٹی احتیاط کا حصہ ہوسکتی ہے۔

امریکی خفیہ سروس نے مخصوص آپریشن پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔ 

یوں ترکیہ سے ٹرمپ کی واپسی کا معاملہ محض طیارہ تبدیل کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ تازہ انکشافات نے ظاہر کیا ہے کہ امریکی سیکیورٹی اداروں نے مبینہ ایرانی خطرے سے نمٹنے کے لیے صدر کی موجودگی کو بھی خفیہ رکھا اور ایک طیارے کو بطور ڈیکائے استعمال کرتے ہوئے انہیں دوسرے فوجی طیارے سے ملک سے باہر نکالا۔

تاہم ایران کی جانب سے اس مخصوص مبینہ سازش کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

Updated Aug 12, 00:45

ایران امریکا معاہدے کی کوششیں تیز؛ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر سے اہم ملاقات

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے خاتمے اور کسی ممکنہ معاہدے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششیں مزی تیز ہوگئیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق وزیر داخلہ *محسن نقوی نے تہران میں ایرانی صدر مسعود پزیشکیان سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور ایران امریکا مذاکرات میں پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے محسن نقوی سے ملاقات کے دوران اس خواہش کا اظہار کیا کہ ایران پاکستان کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم اور وسیع کرنا چاہتا ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون باہمی مفادات کو آگے بڑھانے کے ساتھ خطے میں امن، استحکام اور سکیورٹی کے فروغ میں بھی مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے پاکستان کی جانب سے بات چیت، سفارت کاری اور جنگ کے خاتمے کے لیے کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی، ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر پٹرولیم محسن پاک نژاد سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ایرانی حکام کے ساتھ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی صورتحال، توانائی، سیکیورٹی اور ایران امریکا کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر بات چیت ہوئی۔

پاکستانی وزیر داخلہ کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان اعلیٰ سطحی سفارتی رابطے مسلسل جاری ہیں۔ محسن نقوی اس سے قبل بھی ایرانی صدر، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرچکے ہیں۔

محسن نقوی کے دورۂ تہران کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بلو برگ کو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران اور امریکا کسی نہ کسی قسم کے سمجھوتے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔

خواجہ آصف کے بقول گزشتہ دو تین روز کے دوران ملنے والے اشارے بتاتے ہیں کہ معاملات دوبارہ امن معاہدے یا کسی سمجھوتے کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان اس سے قبل بھی ایران اور امریکا کے درمیان پیغامات پہنچانے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرتا رہا ہے۔ رواں سال مئی میں ایرانی حکام نے بھی تصدیق کی تھی کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان پیغامات کا تبادلہ پاکستانی ثالثی کے ذریعے ہورہا ہے۔

Updated Aug 12, 00:44

حوثیوں کا سعودی فوج کا ساز و سامان لے جانے والے جہاز پر حملے کا دعویٰ

آبنائے ہرمز کو جہاں ایران نے بند رکھا ہے تو اس کی حمایت میں یمن کے حوثیوں نے بان المندب میں سعودی جہازوں پر پابندی عائد کررکھی ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرۂ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی اہم آبی گزرگاہ باب المندب میں سعودی عرب کے لیے فوجی سازوسامان لے جانے والے ایک بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

حوثیوں کے زیرانتظام خبر رساں ادارے سبا کے مطابق حملہ سعودی جہاز کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ گروپ نے اسے سعودی عرب کے خلاف اپنی حالیہ بحری کارروائیوں کا حصہ قرار دیا ہے۔

تاہم عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آزاد ذرائع سے فوری طور پر حوثیوں کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی جہاز کی سعودی ملکیت یا اس پر فوجی سازوسامان کی موجودگی کی تصدیق ہوسکی ہے۔

یاد رہے کہ حوثیوں نے گزشتہ ماہ سعودی بحری جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد سے سعودی تیل بردار جہازوں کو بھی نشانہ بنانے کے دعوے کیے ہیں۔

اسی دوران بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ منگل کو باب المندب میں ایک چھوٹے کارگو جہاز پر حوثیوں نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 ارکان جاں بحق ہوگئے تھے جن میں دو پاکستانی ہیں

رائٹرز کے اعداد و شمار کے مطابق اگست کے آغاز میں سعودی تیل سے لدے دو ٹینکر باب المندب سے گزرنے میں کامیاب ہوئے، تاہم اس آبی راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی مجموعی تعداد پہلے کے مقابلے میں کم رہی۔

Updated Aug 12, 00:43

امریکا اپنا رویہ درست کرے اور ہمارے تمام مطالبات مانے تب آبنائے ہرمز کھلے گی؛ ایران

ایران نے واضح کردیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق کوئی سمجھوتا بھی طے پا جائے اس کے باوجود آبنائے ہرمز مکمل طور پر نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم نہیں کرتا۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نو تعینات سیکریٹری محسن رضائی نے نیم سرکاری خبررساں ادارے تسنیم سے گفتگو میں کہا کہ امریکا کو پہلے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا اور ایران کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

محسن رضائی نے یاد دلایا کہ ایران کے مطالبات میں جنگ کا خاتمہ اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی بھی شامل ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق ممکنہ معاہدہ خود بخود آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی ضمانت نہیں دے گا۔

قبل ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا تھا کہ ایران اور عمان نے ایک ممکنہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کرلیا اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

تاہم ترجمان ایران نے بھی یہ واضح کیا تھا کہ ایسا معاہدہ آبنائے ہرمز میں مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دے گا۔

ایران کی شرائط کیا ہیں؟

ایرانی حکام حالیہ دنوں میں امریکا کے سامنے متعدد شرائط رکھ چکے ہیں۔ جن میں خطے میں امریکی فوج کی موجودگی و جنگ کا خاتمہ، ایران کی بحری ناکہ بندی ختم کرنا، منجمد اثاثے بحال اور پابندیاں ختم کرنا شامل ہیں۔

علاوہ ازیں ایران نے خطے میں اپنے اتحادیوں جیسے حماس، حزب اللہ، حوثی اور دیگر پر امریکا یا اسرائیل کی جانب سے حملے بند کرنے کی بھی شرط رکھی تھی۔

 

Updated Aug 12, 00:41

قطر میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل

قطر کا کہنا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظامات سے متعلق مذاکرات ایڈوانس مرحلے میں پہنچ گئے.

عرب میڈیا کے مطابق قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے درمیان بات چیت اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ہم خطے میں کشیدگی کم کرنے کی تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

ماجد الانصاری نے مزید کہا کہ قطر کی خواہش ہے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد دوبارہ کھولا جائے اور تجارتی جہازوں کی معمول کی آمدورفت بحال ہو۔ قطر اس معاملے میں ثالثی اور سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

قبل ازیں پاکستانی وزیر دفاع بھی امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے قریب پہنچنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔

قطر نے ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت سے متعلق جاری مذاکرات میں اہم پیش رفت کی تصدیق کی ہے۔

خیال رہے کہ ایران اور عمان کے درمیان بنیادی مذاکرات آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستے اور مستقبل کے انتظامات پر مرکوز ہیں۔

رائٹرز کے بقول ایران نے گزشتہ ہفتے بتایا تھا کہ دونوں ممالک نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ایک مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر اتفاق کرلیا اور مشترکہ اعلان کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

تاہم ایران نے ساتھ ہی واضح کیا تھا کہ ایران اور عمان کے درمیان کسی انتظام پر اتفاق ہوجانا بذاتِ خود آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کی ضمانت نہیں ہوگا۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا ہے کہ عمان کے ساتھ معاہدہ حتمی مراحل کے قریب ہے لیکن آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو ایران کے دیگر مطالبات پورے کرنا ہوں گے۔

ان مطالبات میں امریکی پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے متعلق معاوضے سمیت دیگر امور شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران کے دورے پر تہران پہنچے ہیں جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

Updated Aug 12, 00:41

ٹرمپ نئی مشکل میں پھنس گئے؛ انسانی حقوق کی تنظیموں نے مقدمہ دائر کردیا

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف عائد پابندیوں کے خلاف چار امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں نے نیویارک کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مقدمہ دائر کرنے والی تنظیموں میں ہیومن رائٹس واچ، امریکن فرینڈز سروس کمیٹی، سینٹر فار کانسٹی ٹیوشنل رائٹس اور اوپن سوسائٹی انسٹی ٹیوٹ شامل ہیں۔

101 صفحات پر مشتمل درخواست میں تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی حکومت کا آئی سی سی کے ججوں، پراسیکیوٹرز اور عدالت سے تعاون کرنے والے دیگر افراد و اداروں کو نشانہ بنانا امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دی گئی آزادیِ اظہار کی ضمانت سمیت دیگر قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

ان تنظیموں نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پابندیاں نہ صرف بنیادی آئینی حقوق کو متاثر کرتی ہیں بلکہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے متاثرین کے لیے انصاف تک رسائی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی تنظیموں کے لیے آئی سی سی اور اس سے وابستہ افراد کے ساتھ قانونی اور انسانی حقوق کے معاملات پر کام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

تنظیموں کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت کے اقدامات کا اثر بالخصوص ان متاثرین پر پڑ رہا ہے جو نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے عالمی فوجداری عدالت سے رجوع کرنا چاہتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق امریکی حکومت نے بعد کے اقدامات میں آئی سی سی کے آٹھ ججوں، تین پراسیکیوٹرز، اقوام متحدہ کے ایک خصوصی ماہر اور تین انسانی حقوق کی تنظیموں کو بھی پابندیوں کا نشانہ بنایا۔ 

جون 2025 میں امریکا نے آئی سی سی کے چار ججوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جبکہ بعد میں مزید ججوں اور عدالت سے منسلک افراد کو فہرست میں شامل کیا گیا۔ 

اقوام متحدہ کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق سے متعلق خصوصی نمائندہ فرانچسکا البانیز بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ چکی ہیں۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 6 فروری 2025 کو ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا تھا جس کے تحت آئی سی سی کے ایسے حکام اور دیگر افراد کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیا گیا جو امریکی شہریوں یا امریکا کے اتحادیوں کے خلاف عدالت کی تحقیقات میں معاونت کر رہے ہوں۔

صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے کے تحت عائد ان پابندیوں میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے ججز اور دیگر افراد کے اثاثے منجمد کرنا، مالی پابندیاں اور امریکا میں داخلے پر پابندیاں شامل ہیں۔ 

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف تھا کہ آئی سی سی کو امریکی شہریوں یا ایسے ممالک کے شہریوں کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں جنہوں نے عدالت کے دائرۂ اختیار کو قبول نہیں کیا۔

امریکا خاص طور پر عدالت کی جانب سے امریکی اہلکاروں اور اسرائیلی حکام سے متعلق تحقیقات اور کارروائیوں کی مخالفت کرتا ہے۔

آئی سی سی نے غزہ جنگ سے متعلق تحقیقات کے دوران اسرائیلی حکام کے خلاف بھی کارروائی کی ہے۔

یہ پابندیاں تب عائد کی گئیں جب عالمی فوجداری عدالت نے نومبر 2024 میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

اسرائیل نے عالمی عدالت کے ان الزامات کو مسترد کیا تھا جبکہ امریکا نے آئی سی سی کے اس اقدام کو اپنے اتحادی کے خلاف غیر قانونی اور سیاسی کارروائی قرار دیا تھا۔ 

بعد ازاں ٹرمپ انتظامیہ نے آئی سی سی کے حکام اور عدالت کے ساتھ تعاون کرنے والے دیگر افراد و اداروں پر پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا تھا۔

Updated Aug 12, 00:40

محسن نقوی اہم دورے پر ایران پہنچ گئے؛ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز پر بات چیت متوقع

وزیر داخلہ محسن نقوی آج تہران پہنچ گئے جہاں وہ ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں امریکا ایران کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پاکستانی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی سفارتی مشن پر تہران آمد سے امریکا کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کی بحالی اور آبنائے ہرمز کی بندش ختم ہونے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

محسن نقوی کا دورۂ امریکا اور ایران کے درمیان رابطے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ پاکستانی وزیر داخلہ ایرانی حکام کے ساتھ خطے میں امن و استحکام، جاری تنازع کے خاتمے اور ہرمز کی صورتحال پر تبادلہ خیال کریں گے۔

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی آج اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران آبنائے ہرمز کے معاملے پر کسی نہ کسی سمجھوتے کے قریب پہنچ سکتے ہیں۔

ان کا یہ بیان محسن نقوی کے تہران پہنچنے کے بعد سامنے آیا ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد کو دونوں فریقوں کے درمیان سفارتی پیش رفت کی کچھ امید نظر آ رہی ہے۔ تاہم حتمی معاہدے کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئی ہیں۔

محسن نقوی کا تہران پہنچنا ایسے وقت میں خاص اہمیت رکھتا ہے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایران اور عمان کے درمیان بھی بات چیت جاری ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران اور عمان نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے مجوزہ راستے کے جغرافیائی نقاط پر باہمی سمجھوتا کرلیا ہے تاہم اس پیش رفت کو ابھی مکمل سکیورٹی معاہدہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔

قبل ازیں ایران کا مؤقف رہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو اس کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔ ان شرائط میں پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے سمیت دیگر مطالبات شامل ہیں۔

یاد رہے کہ پاکستان گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے رابطہ کاری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسلام آباد نے اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی میزبانی بھی کی اور خود کو ایک غیر جانب دار ثالث اور سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔

رائٹرز کے بقول جولائی میں بھی پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوششیں تیز کی تھیں۔ اس وقت چین کی جانب سے بھی سفارتی رابطوں کی حوصلہ افزائی کی جا رہی تھی۔

واضح رہے کہ پاکستانی حکومت نے پہلے بھی واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتی ہے۔ اپریل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وزیر داخلہ محسن نقوی بھی پاکستانی وفد کا حصہ تھے۔

Updated Aug 12, 00:38

امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کی ایران کے قریب ایک بحری جہاز پر فائرنگ

خلیج عمان میں امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کرنے والے مال بردار جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے پاناما پرچم بردار تجارتی جہاز کے رڈر یعنی پتوار کو نشانہ بنایا۔ فوری طور پر کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

خیال رہے کہ رڈر (پتوار) جہاز کی سمت تبدیل کرنے میں مدد دینے والا اہم حصہ ہوتا ہے اس لیے اسے نشانہ بنانا جہاز کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش تصور کی جا رہی ہے۔

امریکا نے الزام عائد کیا کہ اس جہاز نے ایرانی بندرگاہوں کے گرد عائد امریکی بحری ناکہ بندی پر مامور اہلکاروں کی وارننگز کو نظر انداز کیا اور آگے بڑھنے کی کوشش کی۔

برطانوی میری ٹائم رسک مینجمنٹ گروپ وینگارڈ اور دیگر بحری سلامتی کے ذرائعوں نے بھی تصدیق کی کہ امریکی ہیلی کاپٹر نے جس جہاز کو نشانہ بنایا اس کی شناخت ویلا نوا کے نام سے ہوئی ہے۔

ابتدائی اطلاعات میں بتایا گیا کہ جہاز خلیج عمان میں پاکستان کے ساحل سے تقریباً 71 ناٹیکل میل دور تھا جب اسے میزائل سے نشانہ بنائے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ سمندری سلامتی کے ذرائع کے مطابق جہاز کو میزائل لگنے کے بعد اس میں آگ بھڑک اٹھی جس پر بعد میں قابو پا لیا گیا۔

یاد رہے کہ اس واقعے کو پہلے میزائل حملہ قرار دیا جا رہا تھا تاہم بعد میں امریکی ذریعے نے بتایا کہ امریکی فوجی ہیلی کاپٹر نے جہاز کو نشانہ بنایا تھا۔ اس لیے واقعے کی تفصیلات ابھی مزید واضح ہونا باقی ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حملے کے بعد جہاز کا عملہ ایک دوسرے شہری بحری جہاز پر منتقل ہونے کی کوشش کرتا دکھائی دیا۔

اس واقعے میں فوری طور پر کسی ہلاکت یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ بعض ابتدائی رپورٹس میں جہاز پر موجود 17 افراد کے محفوظ ہونے کی اطلاع بھی دی گئی ہے۔

خیال رہے کہ خلیج عمان اس وقت بحیرہ عرب، آبنائے ہرمز اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم بحری راستہ ہے۔ یہاں کسی تجارتی جہاز کو امریکی فوج کی جانب سے براہ راست نشانہ بنائے جانے کی خبر نے خطے میں پہلے سے موجود بحری کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس کارروائی سے امریکا کی ایران کی بحری ناکہ بندی تاحال جاری ہونے بلکہ اس کے سخت ترین ہونے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے جو صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششں ہے۔

واقعے کی مزید تفصیلات اور امریکی فوج کی جانب سے باضابطہ بیان سامنے آنے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ جہاز نے امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی تھی یا نہیں اور کارروائی کے دوران کس نوعیت کا ہتھیار استعمال کیا گیا۔

Updated Aug 11, 14:49

باب المندب میں تجارتی جہاز پر حوثی حملہ، 2 پاکستانیوں سمیت 3 ملاح جاں بحق

یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے باب المندب آبنائے میں ایک تجارتی جہاز پر حملے کے نتیجے میں عملے کے تین ارکان ہلاک ہوگئے ہیں جن میں دو پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔

ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو نے یمن کے حکومت نواز نشریاتی ادارے الجمهوریہ ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو پاکستانی اور ایک انڈونیشی شہری جاں بحق ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے تجارتی جہاز کی شناخت فوری طور پر سامنے نہیں آسکی۔ اسی طرح جہاز کے مالک یا اس پر موجود دیگر عملے کے بارے میں بھی تاحال تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یمنی حکومت سے وابستہ نشریاتی ادارے کے مطابق ہلاکتوں کی اطلاعات ابتدائی نوعیت کی ہیں اور واقعے سے متعلق مزید معلومات سامنے آنے کا انتظار ہے۔

حوثیوں کی جانب سے فوری ردعمل نہیں دیا گیا اور نہ ہی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری یا اس میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے کوئی تفصیلات جاری کی ہیں۔

باب المندب آبنائے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کو ملانے والی انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ ایشیا، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے درمیان تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اس راستے کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔

اس علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو سیکیورٹی خدشات کا سامنا رہا ہے۔ متعدد کمپنیوں نے خطرات کے پیش نظر اپنے بحری جہازوں کے راستے تبدیل کیے ہیں، جس سے سفر کا وقت اور اخراجات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق باب المندب میں کسی بھی نئے حملے سے نہ صرف بحری جہازوں کی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوسکتا ہے بلکہ عالمی تجارت اور خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی بھی مزید متاثر ہوسکتی ہے۔

واقعے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت، ان کے آبائی علاقوں اور جہاز کی مکمل تفصیلات کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔

Updated Aug 11, 13:16

امریکا نے ایران سے مذاکرات شروع کرنے کیلئے بھیک مانگی، عباس عراقچی کا بڑا دعویٰ

تہران: ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز کے تقریباً 20 روز بعد مذاکرات کی بھیک مانگی حالانکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران سے "غیر مشروط ہتھیار ڈالنے" کا مطالبہ کیا تھا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی ایک پریس کانفرنس میں عباس عراقچی نے کہا کہ جنگ کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر صرف دو الفاظ لکھے تھے، "غیر مشروط ہتھیار ڈالنا"، اور امریکا اس وقت ایران سے مکمل طور پر سرنڈر کرنے کا مطالبہ کر رہا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق صورتحال چند ہی ہفتوں میں تبدیل ہوگئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 20 روز بعد امریکا نے ایران سے مذاکرات کے لیے رابطہ کیا اور بات چیت کی درخواست کی۔

انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے اور اپنے مؤقف پر قائم رہا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اسی پریس کانفرنس کے دوران دعویٰ کیا کہ ایران نے حالیہ جنگ کے دوران دنیا کے سامنے خود کو ایک "سخت اور ناقابلِ شکست طاقت" کے طور پر ثابت کیا۔

ان کے مطابق مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور حکام نے ان سے کہا کہ ایرانی مزاحمت نے دنیا کو حیران کر دیا، کیونکہ کسی کو توقع نہیں تھی کہ ایران امریکا کے خلاف اتنی دیر تک مزاحمت کر سکے گا۔ امریکا کو اسرائیل، مغربی ممالک اور بعض دیگر ممالک کی حمایت حاصل تھی، اس کے باوجود ایران نے جنگ کے دوران مزاحمت جاری رکھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے ثابت کیا کہ اس کے خلاف فوجی دباؤ کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا آسان نہیں ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے، جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کی صورتحال سمیت مختلف معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔

تہران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ کسی بھی مذاکرات میں ایران کی خودمختاری اور قومی مفادات کا احترام ضروری ہے، جبکہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کے حوالے سے اپنے مطالبات پر زور دیتا رہا ہے۔

تاہم امریکا کی جانب سے ایرانی وزیر خارجہ کے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Updated Aug 11, 12:46

آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت خطرناک حد تک کم، صرف 6 جہاز گزر سکے

دبئی: امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کی امیدیں کمزور پڑنے کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا ہو گئی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق شپنگ ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیر کے روز آبنائے ہرمز سے صرف 6 تجارتی جہاز گزرے، جبکہ گزشتہ 10 دنوں کے دوران روزانہ اوسطاً تقریباً 11 جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرتے رہے تھے۔

شپنگ کمپنی کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کی صبح تک چار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے۔ ان میں دو خالی آئل پروڈکٹ ٹینکر بھی شامل تھے۔

دوسری جانب صرف دو جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکلے جن میں ایک مائع پٹرولیم گیس سے بھرا ہوا چھوٹا ٹینکر اور ایک ایسا جہاز شامل تھا جو باقی ماندہ ایندھن لے جا رہا تھا۔

ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی سے قبل آبنائے ہرمز دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی تھی، جہاں سے روزانہ تقریباً 130 سے 140 جہاز گزرتے تھے۔

آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے اور دنیا کی بڑی مقدار میں خام تیل اسی راستے سے بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

بحری آمدورفت میں اس غیر معمولی کمی سے ظاہر ہوتا ہے کہ جہاز مالکان اور شپنگ کمپنیاں اب بھی سکیورٹی خدشات کے باعث محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں اسی طرح محدود رہیں تو اس کے اثرات عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ اخراجات اور توانائی کی سپلائی پر پڑ سکتے ہیں۔

جہازوں کی کم آمدورفت سے انشورنس اخراجات میں اضافہ اور بحری نقل و حمل میں تاخیر بھی پیدا ہو سکتی ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کا انحصار امریکا، ایران اور عمان کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔

Updated Aug 11, 12:24

آبنائے ہرمز کی بحالی کیلئے امریکا کو اپنی جارحانہ کارروائیاں ختم کرنا ہوں گی، ایرانی وزیر خارجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے اور بحری آمدورفت معمول پر لانے کے لیے امریکا کو اپنی مبینہ جارحانہ کارروائیاں اور غیر قانونی مداخلت ختم کرنا ہوگی۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق عباس عراقچی نے جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان وادے فول سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر ہونے والی تازہ پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جرمن ہم منصب کو عمان کے ساتھ جاری مشاورت کے بارے میں آگاہ کیا۔ ان کے مطابق ایران اور عمان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک محفوظ بحری راستہ قائم کرنے کے طریقہ کار پر بات چیت کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی نے مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز میں موجودہ غیر یقینی اور عدم تحفظ کی بنیادی وجہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو آبنائے ہرمز کی بندش کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سکیورٹی اور اقتصادی اثرات پر امریکی حکومت کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق صرف محفوظ بحری راستے کے انتظامات طے کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ آبنائے ہرمز میں مستقل سکیورٹی کی بحالی کے لیے ان اقدامات کا خاتمہ بھی ضروری ہے جنہیں ایران امریکی جارحیت اور غیر قانونی مداخلت قرار دیتا ہے۔

انہوں نے خاص طور پر امریکی بحری ناکہ بندی اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا کی جانب سے کی جانے والی مبینہ خلاف ورزیوں کا ذکر کیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ جب تک یہ معاملات حل نہیں ہوتے، آبنائے ہرمز میں مکمل اور معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنا مشکل رہے گا۔

ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات گزشتہ کچھ عرصے سے جاری ہیں۔ دونوں ممالک ایک ایسے نظام پر اتفاق کی کوشش کر رہے ہیں جس کے ذریعے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جا سکے اور سمندری آمدورفت کے لیے ضروری انتظامات کیے جائیں۔

ایرانی حکام پہلے بھی واضح کر چکے ہیں کہ عمان کے ساتھ ہونے والی بات چیت اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا معاملہ الگ الگ موضوعات ہیں۔

Updated Aug 11, 11:08

ٹرمپ کا بڑا فیصلہ، ایران جنگ کے دوران امریکی تیل سپلائی کے لیے اہم پابندی میں نرمی کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث توانائی کی ترسیل میں پیدا ہونے والی مشکلات اور بڑھتی لاگت کے پیش نظر ایک اہم شپنگ رعایت میں مزید 90 روز کی توسیع کردی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس رعایت کے تحت غیر ملکی بحری جہازوں کو امریکا کی مختلف بندرگاہوں کے درمیان تیل اور دیگر اہم اشیا کی نقل و حمل کی اجازت ملتی ہے۔

یہ رعایت امریکی جونز ایکٹ سے متعلق ہے۔ اس قانون کے تحت عام حالات میں امریکا کی ایک بندرگاہ سے دوسری امریکی بندرگاہ تک تجارتی سامان پہنچانے کے لیے امریکی ملکیت، امریکی پرچم بردار اور امریکی عملے والے جہازوں کا استعمال ضروری ہوتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق اس مرتبہ 90 روزہ رعایت کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ محدود رکھا گیا ہے اور اس میں خاص طور پر توانائی سے متعلق اشیا کی نقل و حمل کو ترجیح دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ٹیلر راجرز نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد امریکی فوج اور اہم صنعتی شعبوں کو ضروری وسائل کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔

ان کے مطابق دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس رعایت کے نتیجے میں ملک کے اندر ضروری اشیا کی ترسیل میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جن میں پٹرول، ڈیزل اور طیاروں کا ایندھن شامل ہیں۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے ساتھ جاری جنگ نے عالمی اور امریکی توانائی کی سپلائی کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز اور مشرق وسطیٰ کے دیگر اہم بحری راستوں میں کشیدگی کے باعث تیل کی ترسیل، شپنگ انشورنس اور نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔

امریکی حکومت کو خدشہ ہے کہ اگر عالمی توانائی کی سپلائی میں مزید رکاوٹ پیدا ہوئی تو امریکا میں پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے ملکی سطح پر توانائی کی ترسیل کو برقرار رکھنے کے لیے جونز ایکٹ کی بعض پابندیوں میں عارضی نرمی کا فیصلہ کیا ہے۔

نئی رعایت 90 روز تک نافذ رہے گی اور اس کے ذریعے بعض غیر ملکی بحری جہاز امریکی بندرگاہوں کے درمیان ضروری توانائی مصنوعات منتقل کر سکیں گے۔

تاہم اس مرتبہ رعایت کا دائرہ پہلے کے مقابلے میں محدود ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکومت فوری طور پر توانائی کے شعبے میں درپیش مشکلات کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ جونز ایکٹ کے بنیادی ڈھانچے کو بھی برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

Updated Aug 11, 10:44

ایرانی خطرے نے ٹرمپ کا سفر خفیہ بنا دیا، ترکیے سے نکلنے کی حیران کن کہانی سامنے آگئی

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ترکیے سے روانگی کے دوران مبینہ ایرانی خطرے کے پیش نظر ایک خفیہ فوجی پرواز کے ذریعے سفر کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس وقت بتایا گیا تھا کہ صدر ایئر فورس ون میں سوار ہیں۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیے کے دارالحکومت انقرہ پہنچے تھے۔ یہ نئے اور قطر کی جانب سے فراہم کیے گئے خصوصی طیارے کا پہلا بین الاقوامی سفر تھا، تاہم ترکیے سے واپسی کے وقت صدر نے اچانک پرانے ایئر فورس ون طیارے کا استعمال کیا۔

رپورٹ کے مطابق اس اچانک تبدیلی نے نئے طیارے کی سکیورٹی کے حوالے سے سوالات پیدا کیے۔ بعد میں سامنے آنے والی معلومات میں بتایا گیا کہ صدر کو خفیہ طور پر ایک چھوٹے امریکی فوجی طیارے C-32A کے ذریعے ترکیے سے برطانیہ منتقل کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق انقرہ ایئرپورٹ پر ٹرمپ کی پرانے ایئر فورس ون میں سوار ہونے کی تصاویر بھی بنائی گئیں۔ تاہم اس کے بعد صدر کو ایک ایئرپورٹ کیٹرنگ ٹرک کے ذریعے خفیہ طور پر ایک دوسرے مقام تک منتقل کیا گیا، جہاں سے وہ امریکی فوج کے C-32A طیارے میں سوار ہوئے۔

یہ طیارہ بعد میں برطانیہ روانہ ہوا اور تقریباً رات 10 بج کر 20 منٹ پر وہاں پہنچ گیا۔ کچھ ہی دیر بعد پرانا ایئر فورس ون اور اس کے ساتھ موجود میڈیا نمائندے بھی برطانیہ پہنچ گئے۔

رپورٹ میں امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ خفیہ پرواز کا فیصلہ ایرانی خطرے کے پیش نظر کیا گیا تھا۔ اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان فوجی کشیدگی میں اضافہ ہو رہا تھا اور ترکیے کی سرحد ایران سے ملتی ہے، جس کے باعث امریکی حکام صدر کی سکیورٹی کے حوالے سے اضافی احتیاط کر رہے تھے۔

ٹرمپ نے اس وقت اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ وہ انقرہ سے برطانیہ جانے کے لیے پرانا نیلا ایئر فورس ون طیارہ استعمال کریں گے۔ انہوں نے اس کی وجہ "پرانے وقتوں کی یاد" قرار دی تھی۔

ٹرمپ کے مطابق نیا طیارہ بھی برطانیہ کے ایک فوجی اڈے پر موجود رہے گا تاکہ وہاں تعینات امریکی فوجی اس کا دورہ کر سکیں۔

تاہم نئی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر کے سفر سے متعلق اصل انتظامات اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ تھے اور ان میں ایک تیسرے طیارے کا خفیہ استعمال بھی شامل تھا۔

خفیہ پرواز سے متعلق سوال پر وائٹ ہاؤس نے براہ راست اس آپریشن کی تفصیلات پر تبصرہ نہیں کیا۔ وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیو چیونگ نے کہا کہ قطر کی جانب سے فراہم کردہ نئے طیارے میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے سکیورٹی نظام نصب کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کے بہت سے دشمن صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں اور حکومت ایسے خطرات سے نمٹنے کے لیے دستیاب تمام وسائل استعمال کرتی ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے اس رپورٹ پر فوری طور پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ماہرین کے مطابق اگر خفیہ پرواز کی تفصیلات درست ہیں تو یہ واقعہ امریکی صدر کے بیرون ملک سفر کے دوران سکیورٹی خطرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکی صدر کی نقل و حرکت کے لیے معمول سے زیادہ حفاظتی اقدامات کیے جانے کا امکان موجود ہے۔

Updated Aug 11, 10:28

آبنائے ہرمز کا تنازع طول پکڑ گیا، تیل کی قیمتیں اچانک 5 فیصد بڑھ گئیں

لندن: امریکا اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے معاملے پر اختلافات برقرار رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوگیا۔

بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکا اور ایران آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے کسی قابلِ قبول طریقہ کار پر تاحال اتفاق نہیں کرسکے۔

رپورٹس کے مطابق عالمی بینچ مارک برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 87.72 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

اسی طرح امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت میں بھی تقریباً 5.1 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 82.13 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز سے متعلق غیر یقینی صورتحال ہے۔ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والی آبنائے ہرمز سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی کسی بھی رکاوٹ کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈی پر پڑتا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان جاری اختلافات کے باعث سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے میں مزید تاخیر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی رسد متاثر ہوسکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دنوں آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات کم ہونے کے بعد مارکیٹ میں دوبارہ تشویش پیدا ہوگئی ہے۔

آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف تیل کی قیمتوں بلکہ عالمی تجارت، شپنگ انشورنس اور بحری نقل و حمل کے اخراجات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اگر تجارتی جہازوں کی آمدورفت محدود رہی تو عالمی مارکیٹ میں توانائی کی سپلائی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں تیل کی قیمتوں کا انحصار امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت پر ہوگا۔ اگر فریقین کسی قابلِ قبول انتظام پر پہنچ جاتے ہیں تو قیمتوں میں دوبارہ کمی آسکتی ہے، تاہم کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں خام تیل مزید مہنگا ہونے کا امکان موجود ہے۔

Updated Aug 11, 02:03

سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق ایرانی صدر کا بڑا بیان سامنے آگیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں اپنے والد کی جگہ اس منصب پر فائز ہونے کے بعد سے تاحال منظر عام پر نہیں آئے ہیں جس کے باعث قیاس آرائیاں جنم لے رہی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’اِسنا‘ کے مطابق صدر مسعود پزیشکیان جنھوں نے اس قبل یہ بیان دیا تھا کہ سپریم لیڈر سے بالمشافہ ملاقات اب بہت مشکل ہوگئی ہے، نے ایک اہم بیان جاری ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے انھیں مکمل طور پر صحت مند قرار دیا۔

انھوں نے بتایا کہ حال ہی میں مجتبیٰ خامنہ ای سے ایک انتہائی اچھی ملاقات ہوئی جس کے دوران دونوں نے تقریباً 7 سے 8 گھنٹے تک گفتگو کی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ جو شخص مسلسل کئی گھنٹے بیٹھ کر گفتگو کرسکتا ہو اسے صحت کے مسائل لاحق نہیں ہوسکتے۔

خیال رہے کہ اتوار کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نیوز نے بھی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں مجتبیٰ خامنہ ای ایک وفد سے گفتگو کر رہے ہوتے ہیں اور صحت مند دکھائی دے رہے تھے۔

تاہم اس ویڈیو کی تاریخ اور مقام واضح نہ ہونے کے باعث مزید قیاس آرائیوں نے جنم لیا تھا جس کے بعد اب ایرانی صدر کی سپریم لیڈر سے ملاقات اور صحت سے متعلق بیان نے ابہام دور کردیا ہے۔

واضھ رہے کہ یہ ویڈیو ایسے دعووں کے بعد سامنے آئی تھی جن میں اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر کی حالت تشویش ناک ہے اور انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

 

Updated Aug 11, 02:03

امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں صاف کرکے مکمل کنٹرول حاصل کرلیا؛ ٹرمپ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز میں ایران کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو مکمل طور پر ہٹا دیا ہے اور اب اس اہم آبی گزرگاہ پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے۔

ان بات کا انکشاف صدر ٹرمپ نے اپنے اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا، انھوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز اب کھلا ہے اور اس وقت اس پر صرف امریکی بحریہ کا کنٹرول ہے۔

ٹرمپ کے بقول ایران کبھی کبھار آبنائے میں بارودی سرنگیں بچھا دیتی ہے تاہم امریکی بحریہ انہیں تلاش کرکے صاف کردیتی ہے اور امریکی بحریہ نے پورے آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے پاک کردیا ہے۔

امریکی صدر نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکا کو آبنائے ہرمز پر 100 فیصد کنٹرول حاصل ہوچکا ہے اور کسی بھی حصے میں ایران کی کوئی عمل داری نہیں ہے۔

خیال رہے کہ آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔

عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے جس کے باعث اس خطے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کا عالمی توانائی کی منڈی پر فوری اثر پڑتا ہے۔

Updated Aug 11, 02:01

ایران کا مذاکرات کیلیے 2029 میں ٹرمپ کا دور صدارت ختم ہونے کا انتظار کرنے کا عندیہ

ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت ختم ہونے تک ان کی انتظامیہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات نہ کرنے کا عندیہ دے دیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق یہ عندیہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ اور اسپیکر پارلیمنٹ محمد باقر قالیباف کے مشیر مجید شاکری نے میڈیا سے گفتگو میں دیا۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی حکومت نے موجودہ امریکی حکومت کے ساتھ معاہدے کے بجائے ٹرمپ کی مدت پوری ہونے کا انتظار کرے گا۔

ترجمان ایرانی اسپیکر مجید شاکری نے مزید کہا کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکیں گے کیوں کہ ان کی مدتِ صدارت ختم ہونے تک ایران موجودہ پالیسی جاری رکھے گا۔

مجید شاکری کا کہنا تھا کہ ایران کی موجودہ حکمت عملی نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی فوری معاہدہ بلکہ ایسے حالات کو منظم کرنا ہے جن میں نہ جنگ ہو اور نہ امن، یہاں تک کہ ایران اپنے مقاصد حاصل کرلے۔

ایرانی عہدیدار کے بقول امریکا کے ساتھ مذاکرات کی باضابطہ تصدیق کرنا ایران کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ ایران کے لیے بہتر حکمت عملی مذاکرات سے انکار، ابہام برقرار رکھنا اور تزویراتی صبر ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے لیے ایران نے اپنی بنیادی شرائط میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ان میں 300 ارب ڈالر ہرجانہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور خطے سے امریکی افواج کا انخلا شامل ہیں۔

Updated Aug 11, 02:00

عمان؛ بڑے آئل ٹینکر سے سمندر میں کئی سو کلومیٹرز تک تیل پھیل گیا

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران عمان کے ساحل کے قریب ایک بحری جہاز سے بڑے پیمانے پر تیل کے اخراج کا انکشاف ہوا ہے۔

عمانی سرکاری میڈیا کے مطابق جنوبی صوبے ظفار کے ساحل کے قریب سمندر میں تقریباً 390 کلومیٹر کے علاقے میں تیل پھیل چکا ہے اور اس کا پھیلاؤ شمال مشرقی سمت میں جاری ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران تیل مزید 121 کلومیٹر تک پھیل سکتا ہے جس سے سمندری حیات اور ساحلی ماحول کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

میری ٹائم سیکیورٹی سے وابستہ ذرائع کے مطابق تیل کا اخراج ایک ایسے بحری جہاز سے ہوا جو روسی خام تیل لے کر جا رہا تھا۔ جہاز کے عملے نے 8 جون کو یمن کی مکلا بندرگاہ سے رابطہ کرکے مشکلات سے آگاہ کیا تھا۔

ابتدائی جائزوں میں امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ تیل بردار جہاز میں دھماکا ہوا جس کے نتیجے میں جہاز سے تیل کا اخراج شروع ہوا۔ تاہم واقعے کی حتمی وجہ اور جہاز کو پہنچنے والے نقصان کی نوعیت کے بارے میں مزید تحقیقات جاری ہیں۔

 

Updated Aug 11, 01:59

ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سیاسی مشیر کا بھی اعلان کردیا

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے فوجی قیادت کے ساتھ ساتھ اپنے اہم سیاسی مشیر اور قومی سلامتی کونسل میں اپنے نمائندہ مقرر کرنے کا اعلان کردیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اعلیٰ سطح پر دو اہم تقرریاں کرتے ہوئے محمد باقر ذوالقدر کو اپنا سیاسی مشیر اور ڈاکٹر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کردیا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ میں ان دونوں شخصیات کے نام الگ الگ پیغامات جاری کیے گئے بیان میں ان کی تقرریوں کا اعلان کیا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے محمد باقر ذوالقدر کے نام پیغام میں ان کے طویل تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں اپنا سیاسی مشیر مقرر کرنے کا اعلان کیا۔

ذوالقدر ایران کے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات میں طویل عرصے سے فعال کردار ادا کرتے رہے ہیں اور ماضی میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری کے منصب پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

ذوالقدر کا شمار ایران کے اہم سکیورٹی اور سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے۔ مختلف اہم حکومتی اور سکیورٹی ذمہ داریوں پر کام کرنے کے باعث انہیں ایرانی ریاستی نظام کے حساس معاملات کا وسیع تجربہ حاصل ہے۔

دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای نے ڈاکٹر محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کردیا ہے۔ تقرری کے پیغام میں سپریم لیڈر نے رضائی کے تجربے کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا۔

محسن رضائی ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں ایک نمایاں شخصیت رہے ہیں اور پاسداران انقلاب سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔ وہ ایران کے اہم سکیورٹی اور قومی پالیسی معاملات میں طویل عرصے تک کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کی جانب سے بیک وقت دونوں اہم تقرریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران کو خطے میں سکیورٹی اور سیاسی سطح پر کئی چیلنجز کا سامنا ہے اور انھوں نے نئی فوجی قیادت کا بھی اعلان کیا ہے۔

Updated Aug 11, 01:59

مجتبیٰ خامنہ ای نے ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے نئے سربراہان کی تعیناتی کردی

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب اور مسلح افواج میں اعلیٰ سطح پر نئی تقرریاں کرتے ہوئے فوجی قیادت میں اہم تبدیلیاں کردی ہیں۔

ایرانی سپریم لیڈر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری تحریری بیان کے مطابق 6 نئے فوجی کمانڈرز کا تقرر جنرل اسٹاف ، پاسداران انقلاب اور بسیج میں کی گئی ہے جن میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر ان چیف کی تقرری بھی شامل ہے۔

بیان میں اعلان کیا گیا ہے کہ میجر جنرل پائلٹ علی عبداللہی کو ایرانی مسلح افواج کا چیف آف اسٹاف مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے قبل خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔

خیال رہے کہ خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈکوارٹرز دراصل ایرانی مسلح افواج کی مختلف شاخوں کے درمیان فوجی کارروائیوں میں رابطہ اور کوآرڈی نیشن کا اہم مرکز ہے۔

اسی طرح بریگیڈیئر جنرل احمد واحدی کو میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دیکر پاسداران انقلاب اسلامی کا کمانڈر ان چیف مقرر کیے جانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے جبکہ مصطفیٰ ایزدی ان کے نائب ہوں گے۔

ریئر ایڈمرل علی عظمایی کو پاسداران انقلاب کی نیوی کا کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جب کہ حسین طائب کو بسیج فورس کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے میجر جنرل علی عبداللہی کے نائب کے طور پر بریگيڈير جنرل کیومرث حیدری کی تعیناتی کی گئی ہے۔

ایران میں فوجی قیادت کی یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ملک کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد سکیورٹی کے شدید چیلنجز کا سامنا ہے اور اس جنگ کے دوران ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب کے متعدد اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت کے بعد ملک کے دفاعی اور فوجی ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔

Updated Aug 11, 01:58

جنگ میں امریکیوں کے جانی نقصان پر ایران سے ہرجانے کا مطالبہ؛ ٹرمپ نے نئی شرط رکھ دی

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ ایران سے جنگ میں امریکی شہریوں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے عوض ہرجانہ ادا کرنے کی شرط بھی معاہدے میں شامل کریں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ایرانی نمائندے رواں سال ہونے والی پانچ ماہ کی فوجی جنگ کے دوران ایران کو پہنچنے والے نقصانات پر امریکا سے معاوضے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اس قبل مذاکرات یا ملاقاتوں کے دوران ایران کی جانب سے ایسا مطالبہ پہلے کبھی سامنے نہیں آیا۔ اگر ایران اپنے نقصانات کے لیے معاوضے کا مطالبہ کرسکتا ہے تو امریکا بھی ایسا کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ امریکا بھی اب ایران سے ان تمام امریکی شہریوں کے لیے ہرجانہ طلب کرے گا جو جنگ کے دوران ایرانی کارروائیوں میں ہلاک یا شدید زخمی ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے بقول انھوں نے اپنے نمائندوں کو واضح ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ آئندہ ہونے والے ہر مذاکرات میں معاوضے کا مطالبہ بھی شامل کیا جائے۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ لبنان، شام، یمن اور غزہ میں ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی ذمہ داری بھی ایران پر عائد ہونی چاہیے اور امریکا ایران سے ان نقصانات کا معاوضہ طلب کرے گا۔

امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کے امکانات محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔

دونوں ممالک کے درمیان رواں سال ہونے والی طویل فوجی کشیدگی کے بعد سفارتی رابطے جاری رکھنے کی کوششیں کی جارہی ہیں تاہم اہم معاملات پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک روز قبل ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی کو نسبتاً محتاط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ کم شدت سے اور صرف نیم مذاکرات کر رہا ہے۔

ان کے بقول امریکا ایران کے ساتھ مکمل اور باضابطہ مذاکرات کی بجائے محدود سطح پر رابطے جاری رکھے ہوئے ہے۔

Updated Aug 11, 01:57

ہم سے بہتر شطرنج کا کھلاڑی کا کوئی اور نہیں؛ ایران کا ٹرمپ کو جواب

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور گھمسان کی جنگ کے دوران امریکا اور ایران ایک دوسرے پر لفظی گولہ باری بھی جاری کیے ہوئے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات اور دباؤ کی حکمت عملی کو شطرنج کا کھیل قرار دیا تھا جس پر ایران نے بھی بھرپور جواب دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ روشنی ہو یا اندھیرا، ایرانیوں نے ثابت کردیا کہ وہ شطرنج کے پیشہ ور کھلاڑی ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ جب تک امریکی بحری ناکہ بندی جاری رہے گی اور امریکا کی جانب سے دیگر خلاف ورزیاں ہوتی رہیں گی. آبنائے ہرمز کو محفوظ آبی گزرگاہ قرار دینے کے لیے مطلوبہ شرائط موجود نہیں ہوں گی۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے بجائے اقتصادی دباؤ کو مزید وقت دینے کا عندیہ دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز ایران کے حوالے سے اپنی حکمت عملی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ مکمل مذاکرات نہیں کر رہا بلکہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حکمت عملی کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے۔

ایرانی ترجمان نے تاہم واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے بحری ناکہ بندی اور دیگر خلاف ورزیاں جاری رہنے تک آبنائے ہرمز کو محفوظ آبی گزرگاہ قرار دینے کے لیے ضروری حالات پیدا نہیں ہوسکتے۔

ایران نے اس سے قبل آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے متعدد مطالبات پیش کیے تھے جس کے بعد خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی تھی۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور خلیج سے عالمی منڈیوں تک تیل کی ترسیل کے لیے اس کی غیر معمولی اہمیت ہے۔

 

Updated Aug 10, 15:52

جنگ سے پہلے والا آبنائے ہرمز اب کبھی بحال نہیں ہوگا، ایران کا بڑا اعلان

تہران: ایران کے نائب اسپیکر علی نیکزاد نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں آئے گی اور خطے میں اب بحری آمدورفت کے حوالے سے ایک نیا نظام تشکیل پائے گا۔

ایرانی خبر رساں اداروں نے رپورٹ کیا کہ علی نیکزاد نے ایرانی پارلیمنٹ میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ہی اپنے مخالفین کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی تھی کہ آبنائے ہرمز پہلے کی طرح نہیں رہے گی۔

علی نیکزاد کے مطابق ایران نے بارہا واضح کیا کہ جنگ کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے معاملات ماضی کے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائے جائیں گے، تاہم ان کے بقول مخالف فریق نے اس انتباہ کو نظر انداز کیا۔

انہوں نے کہا کہ وقت گزرنے کے ساتھ حقیقت واضح ہوگئی ہے اور امریکا اور اسرائیل اب اس نتیجے تک پہنچ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔

ایرانی نائب اسپیکر نے دعویٰ کیا کہ خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس نئی صورتحال کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز سے متعلق مجوزہ نظام کی عملی شکل کیا ہوگی۔

حالیہ عرصے میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔ ایران کی جانب سے پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ محفوظ بحری راستے کا تعین اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا دو الگ معاملات ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق مستقبل میں بحری جہازوں کی آمدورفت، سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر بحری خدمات کے لیے نئے طریقہ کار وضع کیے جا سکتے ہیں۔

علی نیکزاد نے اپنی گفتگو میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کے ساتھ ساتھ ایران کی موجودہ ترجیحات میں ملک کے معاشی مسائل کا حل سب سے اہم ہے۔

ان کے مطابق جنگ اور طویل کشیدگی کے باعث ایرانی معیشت کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے موجودہ صورتحال میں اقتصادی مسائل کم کرنا اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

Updated Aug 10, 15:18

امریکا کے ساتھ فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہورہے، ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، ایران

تہران: ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز کے حوالے سے جاری مذاکرات کا بنیادی مقصد فوری طور پر آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنا نہیں بلکہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستے اور آمدورفت کے طریقہ کار پر اتفاق کرنا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات مثبت اور تعمیری انداز میں جاری ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بحری جہازوں کی آمدورفت کے نقشے سے متعلق بنیادی سمجھوتا ہو چکا ہے جبکہ مشترکہ اعلامیے کے بعض تکنیکی نکات پر بات چیت جاری ہے۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ محفوظ بحری راستے کا تعین اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کا معاملہ دو الگ امور ہیں۔ ان کے مطابق ہرمز کی موجودہ صورتحال کی اصل وجہ دیگر عوامل ہیں اور اس بحران کے خاتمے کے لیے امریکا کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ ضروری ہوگا۔

ایرانی ترجمان نے بالخصوص اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی امریکا کی جانب سے مبینہ خلاف ورزیوں اور جاری بحری ناکہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کے لیے ان معاملات کا حل ضروری ہے۔

آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات میں ممکنہ ٹرانزٹ فیس کے سوال پر اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس مرحلے پر ایران اور عمان کے درمیان فیس کی تقسیم یا رقم کے بارے میں کوئی حتمی بات چیت نہیں ہو رہی۔

تاہم انہوں نے بتایا کہ مجوزہ نظام کے تحت محفوظ بحری آمدورفت کی نگرانی، ماحولیاتی تحفظ، بحری خدمات کی فراہمی اور سمندری جرائم کے خلاف کارروائی کے لیے مختلف طریقہ کار وضع کیے جائیں گے۔

ان کے مطابق جب کسی فریق کی جانب سے بحری خدمات فراہم کی جاتی ہیں تو ان خدمات کے عوض معاوضہ وصول کرنا ایک معمول کی بات ہے۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مستقبل میں جہازوں سے کتنی فیس وصول کی جائے گی یا اس رقم کا تعین کس طریقے سے ہوگا۔

اسماعیل بقائی نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی اطلاعات کی بھی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہا، تاہم موجودہ مسائل پر ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ ایک فطری عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ اقدامات کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا، جبکہ فی الحال ایران کی توجہ عمان کے ساتھ بحری راستے کے تعین سے متعلق مذاکرات پر مرکوز ہے۔

دوسری جانب اسماعیل بقائی نے پاکستان اور ایران کے تعلقات کو بھی موجودہ حالات میں خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنگ شروع ہونے کے بعد ایران اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات پہلے سے بھی زیادہ اہم ہو گئے ہیں اور پاکستان اس معاملے میں ایک اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

پاکستان کی جانب سے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کو دورہ پاکستان کی دعوت کے حوالے سے سوال پر بقائی نے کہا کہ یہ دورہ مناسب وقت آنے پر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات انتہائی اہم ہیں اور دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی دورے اچھے دوطرفہ تعلقات کا فطری حصہ ہیں۔

Updated Aug 10, 15:01

آبنائے ہرمز کھلنے کی امید کو دھچکا، تیل کی قیمتیں پھر دباؤ میں آگئی

لندن: ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کے لیے امریکا سے متعدد مطالبات پورے کرنے کی شرط سامنے آنے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں دن کے آغاز پر اضافہ ہوا، تاہم بعد میں ایران کے مؤقف کے باعث یہ تیزی ختم ہوگئی۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ آبنائے ہرمز کی فوری بحالی کے امکانات پہلے سے کم ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستانی وقت کے مطابق صبح 11 بج کر 43 منٹ پر برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 83.54 ڈالر فی بیرل رہی، جو تقریباً ایک فیصد کمی کے برابر ہے۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 15 سینٹ یا 0.2 فیصد کمی کے بعد 78.03 ڈالر فی بیرل پر آگئی۔

عالمی مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہوئی تھی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ امید تھی کہ ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے اور دونوں ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق گزشتہ ہفتے برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں بینچ مارک کی قیمتوں میں 7 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی۔

تاہم ایران کی جانب سے یہ واضح کیے جانے کے بعد کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے امریکا کو بعض مطالبات پورے کرنا ہوں گے، سرمایہ کاروں کی امیدوں کو دھچکا لگا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو خطے میں امریکا کے رویے اور ایرانی مطالبات سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں یہ خدشہ پیدا ہوا ہے کہ اہم بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔

Updated Aug 10, 13:05

پاک سعودی ترک دفاعی معاہدہ خطے میں امریکا کیلئے بدلتی سوچ کی علامت ہے، ایرانی وزارت خارجہ

تہران: ایران نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان ہونے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کو خطے میں امریکا کے حوالے سے بدلتی ہوئی سوچ کی علامت قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تین اہم علاقائی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی کے معاملات میں نئے انداز سے سوچ رہے ہیں۔

ایرانی خبر رساں ادارے فارس کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران خطے کے ممالک اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سکیورٹی کوئی ایسی چیز نہیں جسے "غلط یا جعلی ثالثوں" سے خرید کر حاصل کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک نے اپنے تجربات سے یہ سمجھا ہے کہ خطے کی سلامتی کے لیے بیرونی طاقتوں پر مکمل انحصار کے بجائے حقیقت پر مبنی اور علاقائی سطح پر قابلِ عمل اقدامات ضروری ہیں۔

اسماعیل بقائی کے مطابق ایسا کوئی بھی منصوبہ جو زمینی حقائق کو مدنظر رکھتا ہو اور خطرات کی درست نشاندہی کرتا ہو، خطے میں سکیورٹی کے قیام اور عدم استحکام کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کے بقول ایسے اقدامات خطے کو اسرائیلی خطرے سے پیدا ہونے والے عدم استحکام سے بھی محفوظ رکھنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان حالیہ دفاعی تعاون کو خطے میں بدلتے ہوئے سکیورٹی منظرنامے کے تناظر میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایرانی ترجمان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران اس معاہدے کو صرف تین ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے طور پر نہیں دیکھ رہا بلکہ اسے خطے میں سکیورٹی کے حوالے سے وسیع تر سیاسی تبدیلیوں کے تناظر میں بھی اہم سمجھتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا یہ ردعمل اس لیے بھی اہم ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ تینوں ممالک امریکا کے ساتھ مختلف نوعیت کے دفاعی، سیاسی اور اقتصادی تعلقات رکھتے ہیں، تاہم اب وہ اپنی علاقائی سکیورٹی کے لیے باہمی تعاون بڑھا رہے ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق خطے کے ممالک اگر اپنی دفاعی صلاحیتوں اور باہمی تعاون کو مضبوط کرتے ہیں تو اس سے بیرونی طاقتوں پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس معاہدے کے عملی اور طویل المدتی اثرات آنے والے دنوں میں مزید واضح ہوں گے۔

Updated Aug 10, 12:51

جنگ سے زیادہ ڈوبتی معیشت کا خوف، ایران کو مذاکرات پر لانے کا امریکی منصوبہ سامنے آگیا

واشنگٹن: اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایران پر بڑھتا ہوا معاشی دباؤ تہران کو مذاکرات میں مزید رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی معاشی پالیسیوں نے ایرانی معیشت کو شدید متاثر کیا ہے۔

مائیک والٹز نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی نمائندے مذاکرات کی میز پر بار بار مالی معاملات اور رقم تک رسائی کی بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے نمائندے مذاکرات کے دوران بار بار "پیسے، پیسے اور پیسے" کی بات کرتے ہیں، کیونکہ ان کے بقول تہران بمباری کا سامنا تو کر سکتا ہے لیکن موجودہ معاشی دباؤ اس کے لیے زیادہ مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

امریکی سفیر نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایرانی قیادت اس وقت امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے مقابلے میں زیادہ خوفزدہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے لیے معاشی دباؤ ایک ایسے ہتھیار کی شکل اختیار کر چکا ہے جو اسے مذاکرات میں تبدیلی پر مجبور کر سکتا ہے۔

مائیک والٹز نے دعویٰ کیا کہ ایرانی قیادت کو اس وقت اپنی فوجی صورتحال سے زیادہ ملکی معیشت، کرنسی کی قدر میں کمی اور مہنگائی کی بلند شرح کی فکر ہے۔ ان کے مطابق ایرانی کرنسی شدید دباؤ کا شکار ہے جبکہ مہنگائی کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران مسلسل بیرون ملک منجمد کیے گئے اپنے اثاثوں تک رسائی اور نقد رقم کی فراہمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ والٹز کے مطابق امریکا کی جانب سے مالی وسائل محدود کرنا اور ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ برقرار رکھنا واشنگٹن کی مذاکراتی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے۔

امریکی سفیر نے کہا کہ معاشی دباؤ کے ساتھ ایران کے خلاف جاری بحری ناکہ بندی بھی تہران پر دباؤ بڑھا رہی ہے۔ ان کے مطابق امریکا کی حکمت عملی یہ ہے کہ معاشی اور دیگر دباؤ کو اس حد تک برقرار رکھا جائے کہ ایران بالآخر اپنے مؤقف میں تبدیلی اور رعایتوں پر آمادہ ہو جائے۔

امریکی مؤقف کے مطابق ایران کی معیشت اس وقت کئی محاذوں پر دباؤ کا سامنا کر رہی ہے، جن میں کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی، مالی پابندیاں اور بیرون ملک اثاثوں تک محدود رسائی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ امریکا کی پابندیاں اور اقتصادی اقدامات ایرانی عوام کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ تہران نے ماضی میں بھی مطالبہ کیا ہے کہ منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور ایرانی تیل سمیت دیگر اقتصادی سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے معاشی دباؤ کو مذاکراتی حکمت عملی کے طور پر استعمال کرنا ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک اہم عنصر ہے۔ اگر تہران کو اقتصادی مشکلات میں مزید اضافہ محسوس ہوا تو یہ مستقبل کے مذاکرات میں اس کے مؤقف اور ترجیحات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تاہم ایران کی جانب سے امریکی سفیر کے تازہ دعووں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

Updated Aug 10, 12:20

حوثیوں کے خلاف امریکا کا بڑا اعلان، یمن کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کردیا

ریاض: امریکا نے حوثی حملوں کے خلاف یمن کی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ یمن میں بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائی واشنگٹن کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔

انادولو نیوز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں امریکی مشن برائے یمن کے ناظم الامور نیل ہوپ نے یمنی صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران نیل ہوپ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یمن سے متعلق پالیسی ترجیحات سے آگاہ کیا اور کہا کہ امریکا یمن کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی حکام کے مطابق اس تعاون میں خاص طور پر بحری سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور خطے کے دیگر اہم سمندری راستوں میں محفوظ بحری آمدورفت کو یقینی بنانا انتہائی اہم ہے۔

امریکی سفارتخانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ نیل ہوپ نے یمنی قیادت کے ساتھ ملاقات کے دوران امریکا اور یمن کے درمیان شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر بھی بات چیت کی۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی فورسز کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ رہی ہے۔ حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر اور دیگر اہم سمندری راستوں میں حملوں کے باعث عالمی بحری تجارت اور خطے کی سکیورٹی کو بھی مسلسل خدشات کا سامنا ہے۔

امریکا کا کہنا ہے کہ یمن میں بحری سلامتی کو بہتر بنانا نہ صرف یمنی عوام بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن عالمی تجارت کے اہم سمندری راستوں میں شمار ہوتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کی جانب سے یمن کی حمایت کا تازہ اعلان خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہم ہے۔ اگر حوثی حملوں اور یمنی حکومت کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی بحری تجارت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Updated Aug 10, 11:52

سعودی عرب پھر نشانے پر، حوثیوں کا آرامکو ریفائنری کے بعد یمن کی بندرگاہ پر بھی بڑا حملہ

ریاض/صنعا: یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی جازان ریفائنری پر ڈرون حملے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ سعودی حکام نے ریفائنری میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ آگ پر قابو پا لیا گیا اور واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ گروپ نے سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے جازان میں واقع آرامکو ریفائنری کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا۔

سعودی وزارت توانائی کے مطابق ریفائنری میں آگ لگی تھی جسے بعد میں بجھا دیا گیا۔ وزارت نے آگ لگنے کی وجہ واضح نہیں کی، تاہم متعلقہ ادارے واقعے سے نمٹنے اور دیگر ضروری کارروائیاں مکمل کر رہے ہیں۔

جازان ریفائنری سعودی عرب اور عالمی توانائی کی منڈی کے لیے انتہائی اہم تنصیب ہے۔ یہ ریفائنری روزانہ تقریباً 4 لاکھ بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پٹرول کے علاوہ الٹرا لائٹ سلفر ڈیزل جیسی مصنوعات تیار کرتی ہے۔

یہ حوثیوں کی جانب سے جازان میں آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے قبل بھی جازان اور بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع یَنبُع میں آرامکو کی تنصیبات کو حملوں کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

رپورٹس کے مطابق 27 جولائی کو بھی ایک حوثی حملے کے بعد جازان ریفائنری کو عارضی طور پر بند کرنا پڑا تھا۔ اس حملے میں ریفائنری کے انٹیگریٹڈ گیسفیکیشن کمبائنڈ سائیکل کمپلیکس اور ٹینک فارم کے بعض حصوں کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

دوسری جانب یمن کے ریڈ سی ساحلی شہر المخا میں حوثیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

یمنی حکومتی فورسز اور طبی ذرائع کے مطابق حملوں میں بندرگاہ، شہری تنصیبات اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ابتدائی فوجی اعداد و شمار کے مطابق کم از کم 7 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 3 شہری اور 4 فوجی اہلکار شامل تھے، جبکہ تقریباً 30 افراد زخمی ہوئے۔

بعد کی طبی اور بین الاقوامی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 11 بتائی گئی، جن میں 3 شہری اور 8 فوجی اہلکار شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کی تعداد تقریباً 32 تک پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ تاہم مختلف ذرائع کے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے۔

یمنی فوج کے مطابق حملوں کے دوران فضائی دفاعی نظام نے حوثیوں کے 11 ڈرونز مار گرائے۔ بندرگاہ پر حملوں کے نتیجے میں شہری اور تجارتی انفراسٹرکچر کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب خطے میں پہلے ہی ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے باعث سکیورٹی صورتحال انتہائی حساس ہے۔

حوثیوں نے گزشتہ ماہ سعودی عرب کے خلاف بحیرہ احمر میں بحری ناکہ بندی کا اعلان کرتے ہوئے اسے یمن کے خلاف سعودی اقدامات کا جواب قرار دیا تھا، جبکہ سعودی عرب اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب نے ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ ایک نئے دفاعی معاہدے پر بھی دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔

Updated Aug 10, 11:34

ایران پر ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام، آبنائے ہرمز میں کشیدگی پھر بڑھ گئی

مسقط/تہران: آبنائے ہرمز میں عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر کو میزائل حملوں کا نشانہ بنائے جانے اور جہاز میں آگ لگنے کی غیر مصدقہ اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم تاحال کسی معتبر سرکاری ادارے نے اس واقعے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔

رپورٹس کے مطابق یہ دعویٰ سوشل میڈیا پر سرگرم ایک اکاؤنٹ کی جانب سے سامنے آیا، جس نے رات کے وقت سمندر میں آگ یا دھماکے جیسی روشنی دکھائی دینے والی ایک ویڈیو بھی شیئر کی۔ بعد میں بعض دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی اس خبر کو آگے بڑھایا۔

غیر مصدقہ اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے جنوبی علاقے سِریک سے متعدد اینٹی شپ کروز میزائل داغے گئے، جنہوں نے عمان کے ساحل کے قریب آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے سے گزرنے والے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کے مطابق میزائل حملے کے بعد ٹینکر میں آگ بھڑک اٹھی۔ بعض پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ جہاز کو متعدد میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

ابھی تک متاثرہ آئل ٹینکر کا نام، جھنڈا، ملکیت، اس میں موجود تیل کی مقدار، عملے کی تعداد یا کسی ممکنہ جانی نقصان کے بارے میں بھی قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

اہم بات یہ ہے کہ برطانوی میری ٹائم سکیورٹی ادارے، امریکی سینٹرل کمانڈ، ایرانی سرکاری میڈیا یا بڑے عالمی خبر رساں اداروں کی جانب سے اس مخصوص واقعے کی تاحال تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اسی وجہ سے اس خبر کو فی الحال ایک غیر مصدقہ دعوے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں رپورٹ ہوا ہے جب آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور ایران و عمان کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ سے متعلق نئے بحری انتظامات پر مذاکرات جاری ہیں۔

Updated Aug 10, 11:07

ایران کی ناکہ بندی سخت، امریکا نے 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑ دیا

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد کے دوران امریکی فورسز نے اب تک 55 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا دو جہازوں کو ناکارہ بنایا اور دو دیگر بحری جہازوں پر سوار ہو کر کارروائی کی ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی بحری افواج ایران کے خلاف عائد ناکہ بندی کو سختی سے نافذ کر رہی ہیں۔ کمانڈ کے مطابق امریکی اہلکار خطے میں تعینات جنگی بحری جہازوں کے ذریعے سمندری سرگرمیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔

سینٹکام کے مطابق امریکی اہلکار یو ایس ایس راس نامی جنگی بحری جہاز پر بھی تعینات ہیں، جو مشرق وسطیٰ میں جاری امریکی فوجی مشنز میں حصہ لینے والے 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہازوں میں شامل ہے۔

امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ ان بحری کارروائیوں کا مقصد ایران کے خلاف جاری ناکہ بندی کو مؤثر بنانا اور تجارتی بحری آمدورفت پر نظر رکھنا ہے۔ تاہم بیان میں ان 55 جہازوں کی شناخت، ان کے جھنڈے یا ان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

اسی طرح امریکی حکام نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ دو تجارتی جہازوں کو کس نوعیت کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا یا دو دیگر جہازوں پر سوار ہو کر امریکی اہلکاروں نے کس بنیاد پر کارروائی کی۔

امریکی بحری موجودگی میں اضافے سے خطے میں پہلے ہی موجود کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ آبنائے ہرمز اور خلیج کے دیگر اہم سمندری راستے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہیں، اس لیے یہاں تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث حالیہ عرصے میں خطے میں تجارتی جہازوں کی آمدورفت پہلے ہی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں اور تیل بردار جہازوں کے مالکان کو سکیورٹی صورتحال کے باعث اضافی خطرات اور اخراجات کا سامنا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے تازہ بیان میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم 55 تجارتی جہازوں کے رخ موڑنے، دو کو ناکارہ بنانے اور دو پر سوار ہونے کا دعویٰ خطے میں جاری امریکی بحری کارروائیوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

Updated Aug 10, 10:33

امریکا ایران سے جنگ ہار چکا ہے، امریکی سینیٹر کرس مرفی کی ٹرمپ پر شدید تنقید

واشنگٹن: امریکی ڈیموکریٹ سینیٹر کرس مرفی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جاری جنگی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا یہ جنگ ہار چکا ہے اور مسلسل لڑائی سے امریکا کمزور جبکہ ایران مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق کرس مرفی نے این بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ صورتحال میں جنگ جاری رکھنے سے امریکا کو فائدے کے بجائے نقصان ہو رہا ہے۔ ان کے بقول ایران کے ساتھ طویل جنگ امریکی طاقت اور وسائل کو متاثر کر رہی ہے۔

کرس مرفی نے گفتگو کے دوران کہا کہ ’’امریکا کمزور ہو رہا ہے جبکہ ایران مضبوط ہو رہا ہے‘‘۔ انہوں نے موجودہ جنگی صورتحال کو صدر ٹرمپ کے لیے ایک ناکام حکمت عملی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑائی کو مزید طول دینے کے بجائے اسے ختم کرنے کی کوشش ہونی چاہیے۔

سینیٹر مرفی کے مطابق اگر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کسی معاہدے کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ ایک ایسے معاہدے کی بھی حمایت کریں گے جسے وہ خود ’’برا معاہدہ‘‘ سمجھتے ہوں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش یا محدود آمدورفت سے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے، جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ اس اہم آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے کی قیمت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔

کرس مرفی کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں تعطل کی وجہ سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے اور جنگ ختم کرنے میں تاخیر کا براہِ راست اثر آبنائے ہرمز کی بحری آمدورفت پر پڑ رہا ہے۔

امریکی سینیٹر نے زور دیا کہ موجودہ حالات میں واشنگٹن کو جنگ جاری رکھنے کے بجائے سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر کسی سمجھوتے کے ذریعے لڑائی ختم ہوتی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھل جاتی ہے تو اسے جنگ جاری رکھنے سے بہتر سمجھا جانا چاہیے۔

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں کا دفاع کرتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور امریکی مفادات کا تحفظ ہے۔

ایران کی جانب سے بھی امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے حوالے سے مختلف مواقع پر محتاط مؤقف سامنے آتا رہا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی صورتحال دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کا ایک اہم مسئلہ بنی ہوئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق کرس مرفی کا بیان امریکا کے اندر ایران جنگ کے حوالے سے بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو امریکی حکومت پر داخلی سیاسی دباؤ کے ساتھ ساتھ فوجی اخراجات اور عالمی توانائی کی قیمتوں کے حوالے سے بھی دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔

Updated Aug 10, 09:06

ایک بھی امریکی فوجی ایران میں داخل ہوا تو زندہ نہیں بچے گا، ایرانی فوج کی امریکا کو سخت دھمکی

تہران: ایرانی بری فوج کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے امریکا کو سخت خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی امریکی فوجی نے ایرانی سرزمین پر قدم رکھنے کی کوشش کی تو اسے بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی مسلح افواج دشمن کی کسی بھی کارروائی کا مؤثر اور بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر نے واضح کیا کہ ملک کی زمینی افواج مکمل جنگی تیاری کی حالت میں ہیں اور ایران کی سرحدوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مکمل طور پر بروئے کار لائے گی۔

جنرل علی جہانشاہی نے کہا کہ ایران اپنی سرزمین کے دفاع کے معاملے میں کسی قسم کی غفلت نہیں برتے گا۔ ان کے مطابق اگر دشمن کی جانب سے کوئی کارروائی کی گئی تو ایرانی فوج اس کا فوری اور مؤثر جواب دے گی۔

ایرانی فوجی قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں اور ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے مسلسل صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔

ایرانی بری فوج کے کمانڈر کے مطابق ملک کی سرحدوں پر سکیورٹی انتظامات مسلسل فعال ہیں اور فوجی یونٹس کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔

ایرانی حکام ماضی میں بھی متعدد مرتبہ خبردار کر چکے ہیں کہ ایران کی سرزمین پر براہ راست زمینی کارروائی کی صورت میں امریکی افواج کو شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنرل جہانشاہی کا تازہ بیان ایران کی جانب سے امریکا کو یہ پیغام دینے کی کوشش ہے کہ تہران اپنی سرزمین پر کسی بھی زمینی فوجی مداخلت کو انتہائی سنجیدگی سے لے گا۔

دوسری جانب خطے میں جاری کشیدگی کے باعث کسی بھی نئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں ایرانی اور امریکی حکام کے بیانات کو عالمی سطح پر بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔

Updated Aug 10, 06:17

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں کو پر لگ گئے، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں بہتری

خلیج میں امن مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں آج مجموعی طور پر بہتری دیکھی گئی اور بیشتر حصص کی قیمتیں اوپر گئیں 

امریکی روزگار کے حالیہ کمزور اعداد و شمار کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے یہ توقع بڑھ گئی ہے کہ امریکی فیڈرل ریزرو فوری طور پر شرح سود میں اضافہ نہیں کرے گا جس کے باعث وال اسٹریٹ کے مثبت رجحان کا اثر ایشیائی مارکیٹوں پر بھی پڑا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال بدستور غیر یقینی کا شکار ہے۔ ایران نے اتوار کو کہا کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کے لیے نئے راستوں کے تعین سے متعلق معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔

تاہم تہران نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے دیگر شرائط پوری کیے جانے تک آبی گزرگاہ کو دوبارہ معمول کے مطابق نہیں کھولا جائے گا۔

آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل انتہائی محدود رہنے کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں۔

برینٹ خام تیل کی قیمت 0.9 فیصد اضافے کے بعد 84.32 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی خام تیل 0.7 فیصد اضافے کے ساتھ 78.74 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔

ایندھن کی قیمتوں میں تازہ اضافے نے امریکا کے بدھ کو جاری ہونے والے جولائی کے کنزیومر پرائس انڈیکس کے اعداد و شمار کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔

تجزیہ کاروں کو توقع ہے کہ مجموعی مہنگائی میں 0.1 فیصد جبکہ بنیادی مہنگائی میں 0.2 فیصد اضافہ ہوسکتا ہے۔

Updated Aug 10, 00:26

محسن رضائی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری، سپریم لیڈر کے نمائندے مقرر

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر میجرجنرل محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کردیا، جس کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے انہیں کونسل کا نیا سیکریٹری تعینات کردیا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی جانب سے جاری حکم نامے میں بتایا گیا کہ پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر میجرجنرل محسن رضائی کو سپریم لیڈر نے سپریم نیشنل کونسل میں اپنا نمائندہ مقرر کیا ہے۔

سپریم لیڈر نے اعلامیے میں محسن رضائی کے حوالے سے کہا کہ آپ کے بیش بہا تجربے کی روشنی میں سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل میں آپ کو اپنا نمائندہ مقرر کرتا ہوں اور آپ مقدس دفاع کا 8 سالہ تجربہ رکھنے والی اہم شخصیات میں سے ایک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم ذمہ داری کو پوری کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہوں گے۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے اس موقع پر محمد باقر ذوالقدر کا شکریہ ادا کیا جو نئی تعیناتی سے قبل سپریم لیڈر کے نمائندے تھے۔

ایرانی میڈیا نے بتایا کہ اس پیش رفت کے بعد صدر مسعود پزشکیان نے محسن رضائی کو سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا نیا سیکریٹری جنرل تعینات کردیا۔

ایرانی صدر کے ترجمان مہدی طباطبائی نے نئی تعیناتی کا اعلان کیا اور بتایا کہ محمد باقر ذوالقدر نئی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے اپنے موجودہ عہدے سے سبکدوش ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق محمد باقر ذوالقدر کو مارچ 2026 میں ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کا سیکریٹری تعینات کردیا گیا تھا۔

Updated Aug 09, 23:47

ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر مذاکرات جاری ہیں، ٹرمپ کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ محدود پیمانے پر مذاکرات جاری ہیں اور فی الحا ہم معاملے کو جارحانہ انداز میں آگے نہیں بڑھا رہے ہیں۔

امریکی ویب سائٹ ایکسوئس کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کےخلاف ایک نئی فوجی کارروائی کا حکم دینے کے بجائے ان پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے تیار ہیں جبکہ ایران ان خبروں کی مسلسل تردید کر رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایک ہفتہ قبل بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کا حکم دینے کو تیار تھے اور انٹرویو کے دوران ایسی کسی نئی مہم جوئی کے حوالے سے دھمکی نہیں دی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بتایا کہ فی الحال ہم اس معاملے کو کم نمایاں کر رہے ہیں اور ان کے ساتھ صرف محدود پیمانے پر مذاکرات کر رہے ہیں، ہم ایران کو صرف دیکھ رہے ہیں جہاں مہنگائی بہت زیادہ ہے اور ان کے پاس کوئی پیسہ نہیں ہے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران معاشی لحاظ سے بہت خراب حالت میں ہے اور اس کے پاس اپنی فوج کو تنخواہ دینے کے لیے بھی پیسہ نہیں ہے، امریکی بحری ناکا بندی نے ایرانی حکومت کے معاشی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تیل کی قیمت 75 ڈالر فی بیرل سے کچھ زیادہ رہنے کے باعث امریکی صارفین جنگ کے معاشی اثرات کو کسی حد تک کم محسوس کر رہے ہیں۔

امریکی صدر نے ایران کے ساتھ جاری کشمکش کے بارے میں کہا کہ یہ معاملہ حل ہوگا، اس کا حل ہمیشہ نکل آتا ہے، یہ شطرنج کے کھیل کی طرح ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیداروں نے بتایا کہ ایک ہفتہ قبل ٹرمپ ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کی طرف مائل تھے، تاہم انہیں فی الحال کشیدگی کم کرنے پر آمادہ کرلیا گیا۔

امریکی عہدیدار کا کہنا تھا کہ لڑائی کی وجہ سے ایرانی حکومت نے جنگ کے نتائج، بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان اور پیدا ہونے والے شدید معاشی بحران سے نمٹنے کا گر سیکھ لیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ایران جنگ میں مصروف نہیں ہوتا تو وہ سنگین حقیقت کا سامنا کرنے پر مجبور ہوتا ہے جبکہ اس کے پاس کوئی حقیقی حل بھی موجود نہیں ہوتا ہے

اس موقع پر امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکی فوج سے رابطے اور تعاون کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے جنوبی راستے سے ہر رات کو تقریباً80  لاکھ بیرل تیل خلیج سے باہر بھیجا جا رہا ہے اور جب تک معاہدہ نہیں ہوتا، اس وقت تک امریکا مزید تیل نکالنے کی کوشش جاری رکھے گا۔

Updated Aug 09, 06:33

ایران کے صدر نے موجودہ وقت کو مذاکرات کیلئے بہترین قرار دے دیا

ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکا تہران کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے لیے مجبور ہوا ہے جو ہماری سفارتکاری کی کامیابی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ایران و عمان کی جانب سے مشترکہ تیار کردہ نکات پر عمل کرنے کا پابند تھا مگر واشنگٹن نے ایسا نہیں کیا اسی لیے ہمیں اپنا ردعمل دینا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے خصوصی ٹیم کی ضروت ہوتی ہے اور ہماری ٹیم اس بحران پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ہم پُرامید ہیں کہ ایران اپنے وقار، عزم اور فخر کے معیار کے ساتھ آگے قدم بڑھائے گا۔

ایرانی صدر نے پریس کانفرنس میں واشگاف الفاظوں میں امریکا کو مجرم اور استعماری حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے خلاف ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔

انہوں نے ایرانی قوم باخبر رکھتے ہوئے کہا امریکا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ جنگ کے ذریعے تہران کو جھکنے پر مجبور نہیں کر سکا ہے اسی لیے اب وہ مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ایرانی قوم میں تقسیم اور تنازعات کو بھڑکا کر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جس سے ایرانی قوم کو خبردار رہنا ہو گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا قوم کو اس مرحلے پر اتحاد کی ضرورت ہے ہمیں اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے باہم ایک ہونا ہو گا۔

Updated Aug 09, 01:15

ایران نے آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نہ لینے کی یقین دہانی کرائی ہے؛ امریکی نائب صدر

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے یقین دہانی کرائی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں پر کوئی ٹول یا فیس عائد کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

یہ بات نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔ اُن کے بقول ایرانی نظام کے بعض حلقوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنے کی بات ضرور ہوئی تھی تاہم فی الحال ایسا نہیں ہو رہا ہے۔

جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا کو جنگ سے پہلے جس مقدار میں تیل اور گیس خلیجی خطے سے عالمی منڈیوں تک پہنچ رہی تھی۔ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی تقریباً اتنی ہی مقدار میں ترسیل کی توقع ہے۔

یاد رہے کہ جے ڈی وینس کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی اور سخت شرائط پیش کی ہیں۔

ایرانی کونسل کے مطابق آبنائے اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا۔

کونسل نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستقبل میں ایران کو کسی بھی قسم کی دھمکی نہ دے، ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جنگ مستقل طور پر ختم کرے، ایرانی بندرگاہوں کی مبینہ بحری ناکہ بندی اٹھائے اور خطے سے اپنی فوج واپس بلائے۔

علاوہ ازیں ایران نے 2025 اور 2026 کی جنگوں میں ہونے والے نقصانات کا مکمل معاوضہ، تمام امریکی پابندیوں کا خاتمہ اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی غیر مشروط واپسی بھی اپنے مطالبات میں شامل کی ہے۔

Updated Aug 09, 01:14

امریکا اپنے رویے کی اصلاح کرے؛ ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کی سخت شرائط رکھ دیں

ایران کی سپریم نیشنل سiکیورٹی کونسل نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے امریکا کے سامنے نئی اور سخت شرائط رکھ دی ہیں۔

ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے کونسل کے سیکریٹری اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد باقر ذوالقدر کا بیان نشر کیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنے رویے کی اصلاح نہیں کرتا۔

ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے زور دیکر کہا کہ امریکا کو مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی دینے سے مستقل طور پر گریز کرنا ہوگا۔

کونسل نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ امریکا ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف جنگ مکمل طور پر ختم کرے۔ جس میں حزب اللہ، حماس اور حوثی شامل ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ خطے میں جاری امریکی فوجی دباؤ اور کارروائیوں کے خاتمے کے بغیر آبنائے ہرمز کو معمول کے مطابق کھولنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

علاوہ ازیں ایران نے امریکا سے ایرانی بندرگاہوں کی مبینہ بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور خطے سے اپنی فوج واپس بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے امریکا سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ 2025 اور 2026 کی جنگوں کے دوران ایران کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا مکمل معاوضہ ادا کیا جائے۔

اس کے علاوہ ایران نے ایران پر عائد تمام امریکی پابندیاں ختم کرنے اور بیرونِ ملک منجمد کیے گئے تمام ایرانی اثاثے کسی شرط کے بغیر فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبات ایران اور امریکا کے درمیان کسی بھی وسیع تر معاہدے کے لیےایران کی سابقہ شرائط سے مماثلت رکھتے ہیں تاہم اب انہیں صرف آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے بھی پیش کیا گیا ہے۔

اسرائیلی چینل 12 کے واشنگٹن نمائندے باراک راوید نے ایرانی مطالبات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایسی شرائط ہیں جنہیں امریکا کے لیے قبول کرنا واضح طور پر مشکل ہوگا۔

خیال رہے کہ ایران کے یہ مطالبات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

ایرانی حکام اس سے قبل واضح کرچکے ہیں کہ عمان کے ساتھ تکنیکی یا انتظامی معاہدہ طے پانے کا مطلب لازماً یہ نہیں ہوگا کہ آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔

Updated Aug 09, 01:13

ایران؛ سپریم لیڈر بننے کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی پہلی ویڈیو جاری کردی گئی

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سے تاحال منظرعام پر نہیں آئے ہیں ان کے بیانات بھی پڑھ کر سنائے جاتے ہیں اس لیے ان کے بارے میں تشویش ظاہر کی جاتی رہی ہے۔

ایران کے نیم سرکاری خبر رساں ادارے مہر نے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں وہ ایک وفد سے گفتگو کر رہے ہیں اور مکمل صحت یاب دکھائی دے رہے ہیں۔

اس ویڈیو پر کوئی تاریخ درج نہیں ہے البتہ سرکاری میڈیا نے اسے اس طرح وائرل کیا ہے کہ جیسے یہ ویڈیو مجتبیٰ خامنہ ای کے سپریم لیڈر بننے کے بعد کی ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے یہ بھی نہیں بتایا کہ یہ ویڈیو کہاں، کس مقصد کے لیے اور کب ریکارڈ کی گئی تھی۔

ایران کا نیم سرکاری خبر رساں ادارہ مہر سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے کے قریب سمجھا جاتا ہے تاہم اس ویڈیو کو ایران کے دیگر بڑے سرکاری ذرائع ابلاغ نے نمایاں طور پر نشر نہیں کیا۔

سی این این کے مطابق ویڈیو دیکھنے پر لگتا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ایک گروپ کو کوئی مذہبی درس دے رہے ہیں اور اندازہ ہوتا ہے کہ یہ فوٹیج حالیہ جنگ سے پہلے ریکارڈ کی گئی تھی۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت اور موجودہ مقام سے متعلق خدشات ختم ہونے کے بجائے مزید قیاس آرائیوں نے جنم لیا ہے۔

یاد رہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ میں ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کیا گیا تھا۔

نئے منصب پر فائز ہونے کے بعد سے وہ عوامی سطح پر کسی تقریب، خطاب یا براہِ راست ٹیلی وژن نشریات میں نظر نہیں آئے۔ ان کے نام سے پیغامات سرکاری میڈیا پر پڑھ کر سنائے جاتے رہے ہیں۔

یہاں تک کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ اور تدفین میں بھی شرکت نہیں تھی۔

سپریم لیڈر کی یہ غیر معمولی خاموشی گزشتہ کئی ماہ سے ان کی صحت اور سیکیورٹی سے متعلق سوالات کا باعث بنی ہوئی ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیوں کی ایک بڑی وجہ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر شروع کی گئی بمباری کے دوران ان کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

سی این این سے بات کرنے والے ذرائع نے مارچ میں دعویٰ کیا تھا کہ حملوں کے پہلے روز مجتبیٰ خامنہ ای کے پاؤں میں فریکچر ہوا تھا اور چہرے پر معمولی زخم بھی آئے تھے۔

بعد میں ایرانی حکام کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آتے رہے۔ بعض ایرانی حکام نے ان کی صحت کو درست قرار دیا جبکہ دیگر رپورٹس میں ان کے زخمی ہونے کی بات کی گئی۔

مئی میں بھی ایک ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ’مکمل صحت‘ میں ہیں اور اپنے دفتر سے امور چلا رہے ہیں۔

Updated Aug 09, 01:12

عمان سے معاہدہ طے ہو جانے کا مطلب آبنائے ہرمز کا کھلنا نہیں ہے؛ ایران

ایران نے کہا ہے کہ عمان کے ساتھ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے نئے طریقہ کار پر اتفاق قریب ہے تاہم اس معاہدے کا مطلب یہ نہیں کہ اہم آبی گزرگاہ فوری مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ان خیالات کا اظہار ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے میڈیا سے گفتگو میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اور عمان کی آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے راستے، قانونی حیثیت اور انتظامی طریقہ کار پر بات چیت آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

عباس عراقچی نے بتایا کہ آبنائے میں جہازوں کی آمدورفت کے راستے سے متعلق بعض تکنیکی اور قانونی پیچیدگیاں اب بھی موجود ہیں اس لیے ایران اور عمان ایک عارضی راستہ وضع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسی راستے کو مستقبل میں آبنائے ہرمز کے مستقل یا مرکزی بحری راستے کی بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے لیے صرف عمان کے ساتھ سمجھوتا کافی نہیں ہوگا بلکہ امریکا کے ساتھ وسیع تر معاملات بھی حل کرنا ہوں گے۔

وزیر خارجہ عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ان شرائط میں امریکا کی جانب سے سابقہ مفاہمت کی مبینہ خلاف ورزیوں کا ازالہ بھی شامل ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان پاسدارانِ انقلاب کے حالیہ مؤقف کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز صرف اس وقت کھولی جائے گی جب امریکا ایران کی تمام شرائط تسلیم کرے گا۔

پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے کو محض ایک تجارتی راستہ قرار دینے کے بجائے اسے ایران کے لیے ایک اہم تزویراتی ذریعہ قرار دیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس معاملے میں کسی بیرونی مداخلت سے مذاکرات پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

ایران اور عمان کے درمیان مفاہمت کہاں تک پہنچی؟

رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے ایک قابلِ عمل راستہ طے کرنا ہے۔

مجوزہ انتظام میں ایران اور عمان کے زیرِ اختیار سمندری علاقوں سے گزرنے والے جہازوں کے راستوں کو الگ کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور رہی ہے۔

اس کا مقصد موجودہ کشیدگی کے دوران جہازوں کی آمدورفت کو منظم کرنا اور حادثات یا تصادم کے خطرے کو کم کرنا ہے۔

تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی نئے انتظام کے باوجود آبنائے میں جہازرانی کی مکمل بحالی کے لیے سکیورٹی اور دیگر سیاسی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔