<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/" xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/" xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom" xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/" xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/" version="2.0"><channel>
                        <title>The Express News</title>
                        <atom:link href="https://www.express.pk/feed" rel="self" type="application/rss+xml"/>
                        <link>https://www.express.pk/feed</link>
                        <description>The Express News keeps you up to date with all the latest happenings from Pakistan and across the world!</description>
                        <lastBuildDate>Sat, 01 Aug 26 03:42:54 +0500</lastBuildDate>
                        <language>en-US</language>
                        <sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
                        <sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
                        <generator>https://laravel.com/</generator><item>
			<title>سعودی عرب میں برصغیر کے عظیم گلوکار محمد رفیع کی 46ویں برسی کے موقع پر تقریب کا انعقاد</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825076/event-held-in-saudi-arabia-to-mark-the-46th-death-anniversary-of-the-legendary-south-asian-singer-mohammed-rafi-2825076/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825076/event-held-in-saudi-arabia-to-mark-the-46th-death-anniversary-of-the-legendary-south-asian-singer-mohammed-rafi-2825076/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 17:29:10 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825076</guid>
			<description>
				<![CDATA[شرکا کا کہنا تھا کہ یہ یادگار محفل اس بات کا ثبوت ہے کہ موسیقی سرحدوں کی محتاج نہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں برصغیر کے عظیم گلوکار محمد رفیع کی 46ویں برسی کے موقع پر یادوں کا سفر کے عنوان سے ایک خصوصی موسیقی کی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں پاکستانی اور بھارتی کمیونٹی سمیت موسیقی سے محبت رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تقریب میں مقامی گلوکار رحیم اوپلہ، کبیر، نوفل، زنحا، جینو، منیشاء اور دیگر فنکاروں نے محمد رفیع کے لازوال نغمے پیش کیے جنہوں نے حاضرین کو ماضی کی حسین یادوں میں پہنچا دیا۔ فنکاروں کی شاندار پرفارمنس پر شرکا نے بھرپور داد دی۔

اس موقع پر شرکا کا کہنا تھا کہ محمد رفیع کی آواز آج بھی کروڑوں دلوں پر راج کرتی ہے اور ان کے گائے ہوئے نغمے موسیقی کی دنیا کا ایسا سرمایہ ہیں جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

تقریب کے اختتام پر محمد رفیع کی فنی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ شرکا کا کہنا تھا کہ یہ یادگار محفل اس بات کا ثبوت ہے کہ موسیقی سرحدوں کی محتاج نہیں اور محمد رفیع کی آواز آج بھی پاکستان، بھارت اور دنیا بھر کے مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/copy-of-untitled-2026-08-01t032348-4371785537005-0/copy-of-untitled-2026-08-01t032348-4371785537005-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اقوام متحدہ کے سربراہ نے غزہ امن معاہدے میں پیشرفت کو بڑی خوشخبری قرار دے دیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825075/the-un-chief-has-hailed-the-progress-on-the-gaza-peace-deal-as-great-news-2825075/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825075/the-un-chief-has-hailed-the-progress-on-the-gaza-peace-deal-as-great-news-2825075/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 17:13:41 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825075</guid>
			<description>
				<![CDATA[سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل اور حماس دونوں پر زور دیا کہ وہ طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کریں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیل کے غزہ سے انخلا سے متعلق اعلان کردہ معاہدے کو حالیہ دنوں کی بڑی خوشخبری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ مزید جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

جمعہ کو شام، اردن اور قبرص کے اپنے حالیہ دوروں کے حوالے سے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ اقوام متحدہ نے کہا کہ خطے میں ہر محاذ پر جاری لڑائی فوری طور پر بند ہونی چاہیے۔

انہوں نے اسرائیل اور حماس دونوں پر زور دیا کہ وہ طے شدہ معاہدے پر مکمل عمل درآمد کریں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ معاہدے کے اہداف پر عمل درآمد کے لیے ایک واضح روڈ میپ کا اعلان کیا جا چکا ہے جس پر بغیر کسی شک، ہچکچاہٹ یا اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کے مکمل عمل کیا جانا چاہیے۔

ادھر وزیراعظم شہباز شریف نے بھی غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے تخفیفِ اسلحہ کے عمل پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ &nbsp;اس پیش رفت کے حصول میں ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک امریکا، مصر، قطر اور ترکیہ خصوصی داد کے مستحق ہیں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/copy-of-untitled-2026-08-01t031546-0551785536248-0/copy-of-untitled-2026-08-01t031546-0551785536248-0.png" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اب کوئی رفعت النساء نہیں مرے گی؟</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825074/ab-koi-rafat-un-nisa-nahin-mare-gi-2825074/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825074/ab-koi-rafat-un-nisa-nahin-mare-gi-2825074/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 16:12:46 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[راؤ منظر حیات]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825074</guid>
			<description>
				<![CDATA[شہزادی نیلو فر ‘ ترکی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔1916ء میں استنبول کے بلندپایہ محل میں پیدا ہوئی۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[شہزادی نیلو فر &lsquo; ترکی کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔1916ء میں استنبول کے بلندپایہ محل میں پیدا ہوئی۔ سلطنت عثمانیہ کا &lsquo;اس دور میں تین براعظموں پر حکم چلتا تھا ۔ کمال اتا ترک نے جب خلافت کا خاتمہ کیا تو نیلوفر اپنی والدہ کے ساتھ فرانس کے ایک متمول شہر نیس میں پناہ گزین ہو گئی۔ شہزادی صاحبہ خوبصورتی میں بے مثال تھی ۔ حیدر آباد کے نظام کے بیٹے معظم جاہ نے نیلوفر کو پہلی بار دیکھا تو دل ہار بیٹھا ۔ فوراً نکاح کرنے کی خواہش ظاہر کی ۔ آپ حیران ہوں گے کہ ترک شاہی خاندان ہی کے ایک فرد شہزادہ عثمان اور ان کی اہلیہ شہزادی کریمہ خاتون نے خواہش ظاہر کی کہ معظم جاہ سے رشتہ کروانے کے عوض انھیں پچیس ہزار برطانوی پاؤنڈ سالانہ ملیں گے۔اور ایسے ہی ہوا۔ شہزادی نیلوفر کی طلاق 1952ء میں ہوئی ۔

اس وقت تک یہ پیسے شہزادہ عثمان کو ملتے رہے۔ معظم جاہ سے شادی فرانس کے ایک محل Villa Carabacelمیں منعقد ہوئی ۔ یورپ کے تمام اخبارات اور جریدوںنے اس شاہی تقریب کا ذکر کیا ۔ بارہ دسمبر 1931ء میں یہ حددرجہ نمایاں جوڑا ہندوستان کی ریاست حیدر آباد پہنچ گیا ۔ ذہن میں رہنا چاہیے کہ پورے برصغیر میں حیدر آباد امیر ترین ریاست تھی ۔ حیدر آباد کے نظام نیلو فر کی بہت قدر کرتے تھے۔ یہ خاتون بغیر برقعے کے &lsquo; ہر شاہی تقریب اور دیگر مجالس میں شامل ہوتی تھی۔نیلو فر واحد خاتون تھی جو نظام کو پاپا کہہ کر مخاطب کرتی تھی۔ باقی تمام لڑکیاںنظام کو سرکار کے خطاب سے بات کرتی تھیں۔شہزادی نیلوفر کو دنیا کی دس خوبصورت ترین خواتین میں شامل کیا گیا۔

انھیں حیدر آباد کا کوہ نور قرار دیا گیا۔ مگر قسمت دیکھئے کہ معظم جاہ اور شہزادی صاحبہ کبھی بھی صاحب اولاد نہ ہو سکے۔رفعت النساء بیگم شہزادی صاحبہ کی قریبی ترین ملازمہ تھی۔ نیلوفر صاحبہ اس پر بھرپور اعتماد کرتی تھیں۔ ملازمہ کا تعلق مقامی علاقے ہی سے تھا۔ اس کی شادی کے تمام اخراجات شاہی خاندان نے ادا کیے ۔ مگر قسمت دیکھئے کہ رفعت النساء زچگی کے دوران مناسب طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے فوت ہو گئی۔ جب نیلو فرکو یہ خبر سنائی گئی تو اس نے زارو قطار رونا شروع کر دیا ۔ تھوڑی دیر بعد اپنے حواس پر قابو پا کر کھڑی ہوئی اور اس نے ایک تاریخی جملہ کہا &lsquo; اب کوئی رفعت النساء طبی امداد نہ ہونے کی وجہ سے کبھی نہیں مرے گی ۔

&nbsp;نظام کے پاس گئی اور اسے سارا ماجرہ سنایا ۔ اس زمانے میں بچوں کی پیدائش گھروں میں ہوتی تھی ۔ خدانخواستہ اگر کسی حاملہ ماں کو کوئی مسئلہ ہو جائے &lsquo; تو موت کے علاوہ اور کوئی حل نہیں تھا۔ نظام کو درخواست کی کہ پوری ریاست میں ایک بھی زچہ بچہ اسپتال نہیں ہے۔بادشاہ نے کمال فیاضی کرتے ہوئے شہر کے بہترین علاقے میں اسپتال کے لیے زمین عطیہ کر دی۔ اس بیش قیمت علاقے کا نام ریڈ ہلز تھا۔ ساتھ ہی خطیر رقم بھی دی تاکہ خواتین اور بچوں کے لیے ایک بہترین اسپتال بنایا جا سکے ۔

ابتدا ء میں اس اسپتال میں سو خواتین مریضوں کی گنجائش تھی۔ 1953ء میں بننے والا اسپتال آج بھی قائم ہے ۔ 2026ء میں اس میں پندرہ سو مریضوں کے جدید ترین علاج کی سہولت موجود ہے۔اسپتال کا نام نیلوفر اسپتال ہے۔ جو آج بھی لوگوں کی خدمت کے لیے کام کر رہا ہے ۔معظم جاہ اور نیلو فر کی شادی زیادہ دیر نہ چل سکی ۔ اولاد نہ ہونے کا علاج شہزادی صاحبہ یورپ اور امریکا کے بہترین اسپتالوں میں کرواتی رہیں ۔ مگرکوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل پایا۔ چنانچہ معظم جاہ نے رضیہ بیگم سے دوسری شادی کی۔اس کے بعد نیلوفر فرانس میں اپنی والدہ کے ساتھ منتقل ہو گئیں۔

حیدر آباد کے شاہی خاندان میں شہزادی صاحبہ کے ساتھ &lsquo; ترکی کے شاہی خاندان ہی کی ایک اور شہزادی بھی شادی کے بعد منتقل ہوئی تھیں جن کا نام درشہوار تھا۔ در شہوار کے والد نیلوفر کے قریبی عزیز تھے۔ جب ان کے والد کا انتقال ہوا تو ترک حکومت نے تدفین کی اجازت نہیں دی۔ خلافت اور بادشاہت کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اب در شہوار کے والد کو کہاں دفن کیا جائے؟آپ حیران ہوں گے کہ یہ معاملہ پاکستان کی حکومت نے حل کیا۔ نیلو فر شہزادی نے ملک غلام محمد کو فون کیا جو اس وقت گورنر جنرل پاکستان تھے۔

پاکستان آنے سے پہلے وہ نظام کی حکومت میں ایک اہم عہدے پر تعینات تھے ۔ اس واسطے سے نیلوفر نے پاکستان کے گونرجنرل کو درخواست کی کہ در شہوار کے والد اور ان کے قریبی عزیز کی باعزت تدفین کا بندوبست کیا جائے۔ ملک غلام محمد نے سعودی عرب کے فرمانروا سعود بن عبدالعزیز سے درخواست کی کہ ترکی کے ایک شہزادے کو سعودی عریبیہ میں دفن ہونے کی اجازت دی جائے۔ ایسا ہی ہوا۔ نیلوفر کی درخواست پر &lsquo; در شہوار کے والد کو سعودی عرب کے جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔ نیلوفر اسپتال آج بھی حاملہ عورتوں کی زندگی بچا رہا ہے۔ ساتھ ساتھ بچوں کے تمام امراض کا کامیابی سے علاج بھی جاری ہے۔ نیکی کا یہ عمل کوہ نور ہیرے کی طرح ہندوستان کے شہر حیدر آباد میں دمک رہا ہے۔

&nbsp;طالب علم کا سوال یہ ہے کہ حقوق العباد میں دراصل نیکی کی تعریف کیا ہے ؟ مکمل طور پر مغرب زدہ نیلو فر نے وہ کام کیا جس کی طرف پہلے کسی نے توجہ نہیں دی۔ بلند مرتبے پر بیٹھ کر انسان اپنے سے کم استطاعت والے لوگوں کے لیے کیا کام کرتا ہے &lsquo; یہی نیکی ہے۔ جو ہمیشہ قائم و دائم رہتی ہے۔ عجیب بات ہے کہ برصغیر میں عام لوگوں کے لیے سہولتیں پہنچانے کے کام میں مسلمان کافی پیچھے رہ گئے ۔ بٹوارے سے پہلے کا معاملہ دیکھیں ۔ تو آپ کو لاہور شہر میں اسپتال &lsquo; کلینک اور دیگر رفاعی کام ہندوؤں اور سکھوں کے دم قدم سے ہوتے معلوم پڑیں گے۔ گنگا رام اسپتال سے لے کر پنجاب یونیورسٹی کی عمارتیں بنانے میں کسی مخیر مسلمان کا حصہ نہیں۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے مسلمانوں میں امیر آدمی بہت کم تھے۔

شاید یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مالی اسباب نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں میں آسانیاں تقسیم نہ کر پائے ۔اس ساری صورت حال کے برعکس 1947ء کے بعد تمام مالیاتی &lsquo; انتظامی اور کاروباری اختیارات ہمارے اپنے ہاتھ میں چلے گئے۔ یعنی یہ تمام کام ہم مسلمانوں کے پاس تھے اور ہیں۔ حکومت پاکستان نے کاروبار کو ترقی دینے کے لیے &lsquo;ایسا ماڈل ترتیب دیا جو پوری دنیا میں کہیں نہیں تھا۔ حکومت کے محکمے &lsquo; اپنے پیسوں سے کارخانے اور ملیں تعمیر کرتی تھی ۔ اس کے بعد انھیں پرائیویٹ لوگوں کے سپرد کر دیا جاتا تھا۔

حکومتی سیڑھی کو معدودے چند افراد نے بھرپور استعمال کیا۔بقول ڈاکٹر محبوب الحق &lsquo; پاکستان کا سرمایہ بائیس خاندانوں کے ہاتھوں میں چلا گیا۔ مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ حکومتی امداد پر پیسہ کمانے والے یہ بائیس خانوادے کون تھے؟ المیہ یہ ہے کہ آج سے پچاس سال پہلے &lsquo; حکومتی مدد سے امیر ہونے والے ان خاندانوں میں سے کسی ایک نے بھی عام شہریوں کے لیے سہولتیں پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ دو چار اسپتال ضرور بنے مگر مجموعی طور پر &lsquo; امراء کا یہ ٹولہ صرف اپنے پیٹ بھرتا رہا۔ دولت کو بلا روک ٹوک ملک سے باہر لے جا کر اپنے ہی خاندان کو مزید امیر کرنے میں مصروف رہا ۔ چلیں چھوڑیئے! پچاس ساٹھ سال پہلے کے اس المیہ کو کیا دہرانا۔ موجودہ حالات کی طرف نظر دوڑائے ۔ چند شعبوں کا ذکر کرتا ہوں ۔ اس کے بعد تفصیل عرض کروں گا۔ بجلی بنانے کے نجی کارخانے &lsquo; سیمنٹ اور چینی بنانے کی ملیں &lsquo; وہ سونے کے انڈے دینے والی مرغیاں ہیں جنہوں نے پاکستان کے چند خاندانوں کو ہیرے اور جواہرات میں تول دیا ہے۔ پاکستان کے موجودہ سیاسی شاہی خاندان اس وقت تمام منافع بخش کاروبار کے واضح یا چھپے ہوئے مالک ہیں۔

ان کے پاس غیر معمولی دولت جمع ہو چکی ہے کہ یہ ملک کے وسائل پر قابض ہیں۔ ان امیر لوگوں نے آج تک &lsquo; نیلو فر شہزادی کی طرح کوئی فلاحی کام کرنے کی تکلیف گوارہ نہیں کی۔ ان کی ہوس کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ معاشرے میں ہر طرف دیکھتا ہوں۔امیر لوگ&lsquo;متوسط اور غریب طبقے سے بہت دور رہتے ہیں۔زیادہ سے زیادہ&lsquo; کچھ لوگوں کو مفت کھانا فراہم کر کے باقی تمام خدمت کے کاموں سے مبرا نظر آتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کسی بھی بڑے خاندان میں آج نیلو فر شہزادی موجود نہیں ہے۔ جو بے اختیار کہہ اٹھے کہ میں ایک ملازمہ رفعت النساء کو مرنے نہیں دوں گی۔اس کے لیے ہر طرح کی طبی سہولتیں اور اسپتال مہیا کرونگی۔ سچ تو یہ ہے اس بنجر معاشرے میں جو بھی فلاحی کام کرنے کی کوشش کرے گا۔وہ نظام کے لیے خطرہ بن جائے گا ۔پھر اسے راستے سے ہمیشہ کے لیے ہٹا دیا جائے گا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/untitled-design-21766353473-0/untitled-design-21766353473-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>مانیٹری پالیسی اور معیشت</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825073/monetary-policy-aur-maeeshat-2825073/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825073/monetary-policy-aur-maeeshat-2825073/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 16:10:49 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[محمد ابراہیم خلیل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825073</guid>
			<description>
				<![CDATA[معاشی حالات آئندہ چل کر کیا رخ اختیار کرتے ہیں فی الحال تو پاکستان مہنگائی کے شدید کرب میں مبتلا ہے۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[معیشت اس وقت ایک ایسی کشتی ہے جو دو طوفانوں کے بیچ میں ہے اور ایک اوپر سے بھی بم گر رہا ہے، ایک طوفان باہر سے آ رہا ہے برینٹ کا ، اس وقت 87 ڈالر پر اچھلنا۔ دوسرا اندر سے پٹرول کی قیمت کا روزانہ طے ہونا اور اوپر سے جو بم گرایا جا رہا ہے وہ ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر بجلی کی قیمت میں 1.20 روپے اضافے کی خبر ہے۔

اس دوران اسٹیٹ بینک کی تازہ مانیٹری پالیسی جو پاکستانی معیشت کی کشتی کا ملاح ہے اس نے سوچ رکھا ہے کہ شرح سود 11.5 پر ہی برقرار رکھنا ہے، اگر ہرمز کھل گیا اور امریکا نے ہرمز کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا تو بہت سی معیشتوں میں جشن کی کیفیت بپا ہو جائے گی اور پہلے جیسی قیمت 70 ڈالر فی بیرل تک پہنچتے ہی اسٹیٹ بینک بھی شرح سود پر نظرثانی کر پائے گا، اگر تنازع نہ بڑھا تو اسٹیٹ بینک کی رپورٹ سے معلوم دے رہا ہے کہ اگلے دو مہینوں میں مہنگائی میں کچھ کمی ہو سکتی ہے۔

فی الحال تو رپورٹ بتاتی ہے کہ مہنگائی بڑھنے کے خطرات موجود ہیں جن میں عالمی قیمتوں کا ملکی توانائی قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر منتقل ہونا، بجلی اور گیس کے ٹیرف میں ایڈجسٹمنٹ کے مطالبات اور میرا خیال ہے کہ جس طرح سے ہندوستان اپنے اسپلز کھولتا چلا جا رہا ہے چونکہ پچھلے سال جو کچھ ہم پر گزری اس سے سبق حاصل نہ کرسکے۔ اسی طرح 2022 میں جس طرح سندھ کا بڑا حصہ ڈوب گیا تھا، ہم نے کچھ بھی نہ سیکھا۔ اس طرح زرعی پیداوار کی کمی مہنگائی لا سکتی ہے۔ کم از کم آئندہ کیلیے پالیسی ہو کہ جتنا بھی سیلابی پانی آئے ان کو ذخیرہ کرنے کی کوئی نہ کوئی تدبیر ہونی چاہیے۔

زرعی سائنسدان، فلڈ واٹر مینجمنٹ سے متعلق انجینئرز اس کا فوری حل نکال سکتے ہیں۔ فروری کے آخر میں امریکا، ایران کشیدگی کے ساتھ ہی جس طرح برینٹ 72 ڈالر سے چھلانگ لگا کر 120 ڈالر کی چوٹی تک گیا تھا اور جولائی میں واپسی کا عمل شروع ہوا پھر اضافہ اب پھر کمی کا رجحان۔ ہمارے ملک میں تو رات 12 بجے نئی قیمتوں کا اطلاق ہوتا ہے۔ عالمی تیل مارکیٹ میں صورتحال مزید نازک ہے۔ وہاں پر تو صبح کچھ شام کچھ اور آج کی صورت حال یہ رہی کہ برینٹ نے تین دن کی 16 فی صد گراوٹ کے بعد دوبارہ 3 فی صد کی چھلانگ لے کر 87 ڈالر فی بیرل کو چھو لیا۔ وجہ اب یہ بنی کہ آبنائے ہرمز کے ساتھ عراق پر حملہ اور سپلائی میں خلل کا خوف حوثیوں کی طرف سے پھر احکامات۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ عالمی تیل کی قیمتوں میں نرمی آئے گی یا آ رہی ہے لیکن قیمتیں تو 72 ڈالر کے مقابلے میں اس وقت 87 ڈالر ہیں، اگر حالات پرامن ہو جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ تیل کی عالمی طلب میں کچھ کمی آ سکتی ہے، کیونکہ ان ملکوں نے جنھوں نے دوران جنگ کچھ اسٹاک ذخیرہ کر لیے تھے وہ ان کو استعمال کریں گے جس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی طلب میں کمی ہوگی۔ ایسے میں کئی ممالک اپنا تیل زیادہ بیچنے کی خاطر تیل کی قیمت کو کم کر سکتے ہیں لیکن ایسا جب ہی ہوگا جب دنیا جنگ کے خوف سے باہر نکل آئے گی۔

معاشی حالات آئندہ چل کر کیا رخ اختیار کرتے ہیں فی الحال تو پاکستان مہنگائی کے شدید کرب میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت میں اضافے نے ملکی غذائی اشیا کی ترسیل کو مہنگا کر دیا ہے۔ ہر چیز ادھر سے ادھر ٹرکوں، کہیں سوزوکی پر لاد کر پہنچائی جاتی ہے اور ان کے کرائے بڑھنے کی وجہ سے بھی اور کرائے بڑھتے رہے تو کسان سوچنے پر مجبور ہوگا کہ قریبی منڈی لے جا کر اونے پونے فروخت کر دے یا پھر سستی فصل کو کھیت میں دبا دے یا پھر ان اشیا کی کاشت میں کمی کر دے۔ حکومت ڈیزل کی قیمت بڑھاتی ہے تو اس طرح کے عوامل کو بھی مدنظر رکھا کرے۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمت میں اضافہ براہ راست عوام کی جیب پر بھاری قیمت لے کر اترتا ہے۔ پھر حکومت ٹیکس لیوی وصول کرتی ہے کسی قسم کی سبسڈی دینے پر آئی ایم ایف کی طرف سے پابندی ہے۔ فروری میں ڈیزل 281 پر تھا اب 388 پر ہے۔ یعنی ڈیزل مہنگا تو ٹرانسپورٹ کے کرائے مہنگے اور ہر شے مہنگی ہوتی چلی جا رہی ہے، لہٰذا ہرمز سے اٹھنے والی بلند لہر پاکستان میں مہنگائی کی بلند لہر سے بدل کر دکھ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارچ میں مہنگائی 7.3 فی صد سے مہنگائی بڑھانے کیلیے بجلی کا زخم لگایا جانے والا ہے۔ حکومت اس کا فوری نوٹس لے اور کوشش کرے کہ جو معاملہ حکومت نمٹا سکتی ہے اسے تو حل کرے۔

1.20 روپے فی یونٹ اضافے کو منظور کر لیا گیا تو اگست کا بجلی بل عوام کیلیے آگ بگولا ہو جائے گا۔ اس وقت جو مہنگائی چل رہی ہے وہ مشرق وسطیٰ تنازع سے براہ راست متاثر ہو کر ملکی توانائی کی قیمت بڑھا رہی ہے۔ چاہے وہ تیل ہو یا گیس ہو، لیکن اب اگر بجلی کے نرخ بھی بڑھا دیتے ہیں تو پھر غریب عوام کا کیا بنے گا؟ یعنی بجلی کی قیمت میں اضافہ یہ دوسرا راؤنڈ ایفیکٹ ہوگا جو مہنگائی کو مزید ہوا دے گا اور معیشت کی شرح نمو میں کمی لے کر آئے گا، کیونکہ بھاری بھرکم بجلی بل بھرنے کے بعد عوام کے پاس جو رقم بچے گی اس سے وہ بازار سے کیا خریدے گا اور گھر کیا لے کر جائے گا؟

ہرمز سے جو ہوائیں چل رہی ہیں حکومت ان کو روکنے سے تو قاصر ہے لیکن شاید آئی ایم ایف کی پابند ہے کہ عوام پر جو برق گرتی ہے اسے گرنے دیا جائے۔ پہلے ہی بجلی بل کیا کم ہیں کہ اب اس میں مزید اضافے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حکومت کچھ بڑھتے ہوئے بجلی بلوں کو کم کرنے کی کوشش کرے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2722893-muhammadibrahimkhalil-1728674485/2722893-muhammadibrahimkhalil-1728674485.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>انکل انکل اگلی لاٹھی کب مارو گے؟</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825072/ankal-ankal-agli-lathi-kab-maroge-2825072/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825072/ankal-ankal-agli-lathi-kab-maroge-2825072/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 16:08:53 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[وسعت اللہ خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825072</guid>
			<description>
				<![CDATA[اس صورتِ حال کا غلط اندازہ لگانے کے بارے میں حکومت بے چاری کا بھی کوئی قصور نہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے گذشتہ دس برس میں کبھی منہ کی کھائی ہی نہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[جنتر منتر نے نئی نسل کے ماتھے سے یہ داغ شائد دھو ڈالا ہے کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں ، اپنے آپ میں مگن رہتے ہیں ، نہ پڑھتے لکھتے ہیں ، نہ دیکھتے سنتے ہیں ، سوشل میڈیا کے ان اسیروں کو کیا معلوم سیاسی جدوجہد کیا بلا ہوتی ہے ، نظریہ کس پرندے کا نام ہے اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی قیمت کیا ہے۔ایسے تمام مفروضوں کا جیسا کرارا جواب ان بچوں نے اپنی پینتیس روزہ تحریک میں دیا اس کے بعد ہم جیسے افلاطونی بڈھوں کو گویا چپی سی لگ گئی ، ساری دانش دھری کی دھری رہ گئی ہے۔

اس تحریک سے جو بنیادی سبق حاصل ہوا وہ شائد کسی بھی آمر کی سمجھ میں فوری طور پر نہ آئے اور سبق یہ ہے کہ جب تم کسی طبقے کی اجتماعی توہین کرتے ہو اور اس سے حقارت برتتے ہو تو ایک دن خود بھی ایسی ہی توہین اور حقارت برداشت کرنے کے لیے تیار رہو۔

ان بچوں کی کوئی مرکزی قیادت نہیں تھی بلکہ مستقبل کی بے یقینی ہی انھیں فیصلہ کن قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی تھی۔راتوں رات انٹرنیٹ پر تشکیل پانے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی خودرو قیادت نے بس ایک علامتی پلیٹ فارم فراہم کر دیا۔ان میں سے کسی کو نہیں معلوم تھا کہ وہ جس راہ پر چل نکلے ہیں وہ کہاں تلک لے جائے گی۔جس کے ہاتھ گتا آیا اس نے اس گتے پر من کی بات لکھ دی ، جس کے ذہن میں کوئی نیا نعرہ آیا اس نے کھڑے کھڑے وہیں لگا دیا۔کسی نے گا کر تو کسی نے تھالی بجا کر دل کی بھڑاس نکالی۔

ان ہزاروں بچوں میں سے کسی نے بھی نام نہاد قومی میڈیا کے کیمرے دیکھ کر وکٹری کا نشان نہیں بنایا بلکہ یہ سب دوغلے میڈیا سے انتہائی بیزار نظر آئے اور اپنا میڈیا خود بن گئے۔بظاہر وزیرِ تعلیم نشانہ تھے مگر سب جانتے تھے کہ یہ وزرا تو وہ روبوٹ ہیں جن کا ریموٹ صرف وزیرِ اعظم کے ہاتھ میں ہے۔لہذا جتنے بھی نعرے لگ رہے تھے یا پلے کارڈ اٹھ رہے تھے۔ نوے فیصد کا نشانہ مودی کی ذات تھی۔وہ مودی جس کی ناقابلِ تسخیر شخصیت کا سحر بہت محنت اور احتیاط سے پیسے ، میڈیا اور ٹرول بریگیڈز کے اشتراک سے پچھلے دس برس میں گھڑا گیا تھا۔یعنی مودی کبھی غلط نہیں ہو سکتا ، مودی مقبول ترین لیڈر تھا اور رہے گا ، مودی ہے تو ممکن ہے ، مودی ہی بھارت کو وشو گرو بنائے گا۔مودی سیاسی بونوں کے درمیان واحد قد آور ہے وغیرہ وغیرہ۔

مگر مشکل یہ ہے کہ آج کل کے مست مگن بچوں کو یہ سب معلوم نہیں۔انھیں تو بس یہ پتہ ہے کہ سسٹم گل سڑ رہا ہے اور وہ کچھ بھی کرلیں ان کی میرٹ پر ڈاکہ ڈال کر انھیں گرا کر آگے بڑھنے والوں کا راج مضبوط تر ہو رہا ہے اور یہ سب کرنے والے خود کو خدا سمجھ رہے ہیں۔چنانچہ ان غیر سنجیدہ بچوں نے مودی اینڈ کمپنی کو اپنے طنز اور غصے کی انی پر رکھ کے اچھال دیا۔

کوئی بھی ریاست و حکومت اکیسویں صدی کے بچوں کی نفسیات اب تک نہیں سمجھ پائی۔ لہذا لکیر کی فقیر ریاست نے حسبِ معمول ان بچوں کو تتر بتر کرنے ، دبانے اور خوفزدہ رکھنے کے لیے انہی فرسودہ نوآبادیاتی ہتھکنڈوں کا سہارا لیا جو ان بچوں کے باپ دادا پر کارگر ہو جاتے تھے۔

مگر یہ نسل صرف بزرگوں کی ہی نہیں سنتی بلکہ بدتمیزی کی حد تک منہ پھٹ بھی ہے ، بزرگی کے رعب کے آگے نظریں جھکانے کے بجائے منہ در منہ بحث پر اتر آتی ہے اور ضد کرتی ہے کہ جذباتی بلیک ملینگ کے بجائے انھیں عقلی دلائل سے قائل کیا جائے تو شائد وہ سمجھ جائیں۔مگر پھٹیچر دماغ کی بوڑھی ریاست کو یہ بات کبھی سمجھ میں نہیں آ سکتی لہذا نتیجہ مزید بے عزتی کی شکل میں نکلتا ہے۔

&nbsp;شائد یہ سب کچھ اتنا جلدی اور اتنے بڑے پیمانے پر نہ ہوتا اگر بھارت کے چیف جسٹس ان بچوں کو کاکروچ سے تشبیہہ نہ دیتے۔اس توہین نے جیسے نئی نسل کے دل کو چیر کے رکھ دیا اور اس نسل نے بزرگانہ تکبر رد کرتے ہوئے بیک آواز اقبالِ جرم کیا کہ ہاں ہم کاکروچ ہیں اور تمہیں بتاتے ہیں کہ کاکروچ کیا کیا کر سکتے ہیں۔ کچھ تو اتنے غصے میں تھے کہ والدین کو بھی نہیں بتایا کہ کہاں جا رہے ہیں۔ جنتر منتر محض ہجوم نہیں تھا بلکہ ایسے ہم خیالوں کا مجمع تھا جو ایک دوسرے سے پہلی بار ملنے کے باوجود ایک دوسرے کی نفسیات اور خواب خوب اچھے سے جانتا تھا۔یہی اس مجمع کی بنیادی قوت تھی۔

اس صورتِ حال کا غلط اندازہ لگانے کے بارے میں حکومت بے چاری کا بھی کوئی قصور نہیں۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس نے گذشتہ دس برس میں کبھی منہ کی کھائی ہی نہیں۔ہندوتوا کی چھتری تلے اکثریت اور اقلیت کے درمیان سماجی و سیاسی دراڑ پیدا کر کے اپنا ہندو ووٹ بینک مستحکم کرنے میں بظاہر کامیابی حاصل کی۔الیکشن انجینیرنگ اور جوڑ توڑ میں مہارت کا زبردست مظاہرہ کیا۔ہر ریاستی ادارے پر بظاہر بھگتوں کا تسلط ہو گیا۔

عدلیہ ایک آزاد ادارے سے سرکار کے طفیلی میں بدلتی چلی گئی۔دلی میں پچھلی ایک دہائی میں جتنے بھی دھرنے ہوئے بھلے وہ شاہین باغ کا دھرنا ہو یا کسانوں کی تحریک۔سب سے کامیابی سے نپٹ لیا گیا۔کامیابیوں کے نشے میں چور کسی ہاتھی کو بھلا کیسے معلوم ہو کہ برا وقت پڑنے پر اسے بے بس کرنے کے لیے ایک چیونٹی بھی کافی ہوتی ہے۔

حکومت کے تصور میں ہی نہیں تھا کہ کوئی نسل ایسی بھی نمودار ہو سکتی ہے جو پولیس سے خود پوچھے انکل اگلا لاٹھی چارج کب کرو گے ، انکل آنسو گیس کا ایک گولا اور چلاؤ نا۔انکل مزہ نہیں آ رہا دو چار لاٹھیاں اور مارو۔ایسے ماحول میں روائیتی تشدد کی عادی انتظامیہ بھی بے چاری کیا کرے۔اس کی تو سمجھ میں ہی نہیں آیا کہ ان کاکروچوں سے نپٹنے کے لیے کیا نیا اسپرے استعمال کرے کہ جنہوں نے پورے سسٹم کو ہی مذاق بنا کے رکھ دیا۔

یہ مناظر اور تجربات ان تمام حکمرانوں کے لیے عقل کی نشانیاں لیے ہوئے ہیں جو خود کو عقلِ کل سمجھتے ہوئے اس زعم میں مبتلا ہیں کہ ہم سے بہتر اس ملک و قوم کے لیے کوئی نہیں جانتا اور جو ہماری مخالفت کرے گا دراصل ریاست کی مخالفت کرے گا اور ریاست کی مخالفت کی تو ایک ہی سزا ہے یعنی&hellip;

&nbsp;جینزیز نے کھل کے بتا دیا ہے کہ ریاست مستقل ہے اور حکومت آنی جانی۔

(وسعت اللہ خان کے دیگر کالم اور مضامین پڑھنے کے لیے bbcurdu.com اورTweeter @WusatUllahKhan.پر کلک کیجیے)]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2729260-wusatullahkhanNEW-1729531899/2729260-wusatullahkhanNEW-1729531899.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825071/sarfaroshi-ki-tamanna-ab-hamare-dil-mein-hai-2825071/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825071/sarfaroshi-ki-tamanna-ab-hamare-dil-mein-hai-2825071/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 16:00:21 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ڈاکٹر توصیف احمد خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825071</guid>
			<description>
				<![CDATA[سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے
دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[بھارت میں جین زی نے انقلاب برپا کردیا۔ نئی دہلی کے علاقے جنتر منتر میں چند نوجوانوں نے 26دن سے زیادہ بھوک ہڑتال کرکے اور پولیس کی شیلنگ اور لاٹھی چارج کے بعد احتجاج جاری رکھ کر مودی حکومت کو مجبور کردیا کہ وہ اپنے وزیر تعلیم کو برطرف کردے، اگرچہ مودی حکومت کے وزراء نے وعدہ کیا تھا کہ احتجاجی طلبہ کے خلاف مقدمات درج نہیں ہونگے مگر بھارت کی ریاست بہار میں پولیس نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو گرفتار کرنا شروع کردیا تو نوجوانوں کی کاکروچ جنتا پارٹی نے حکومت کو الٹی میٹم دیا کہ بہار کے دارالحکومت پٹنہ میں گرفتار کیے جانے والے طلبہ کو رہا کردیا جائے، ورنہ احتجاج کا سلسلہ پھر شروع ہوجائے گا۔

اس احتجاج میں تبت سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن سونم ونگ چوک بھی شامل ہوئے، انھوں نے بھی 26 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ پولیس نے ایک مختصر آپریشن کے ذریعے سونم ونگ چوک کو اغواء کرکے اسپتال میں داخل کیا تھا اور انھیں زبردستی دوائیاں کھلانے کی کوشش کی تھی مگر سونم نے اس دباؤ کوقبول کرنے سے انکار کیا تھا۔ طلبہ کے اس احتجاج میں عام طالب علم بھی شامل ہوگئے تھے۔

عظیم انقلابی شاعر کیفی اعظمی کی صاحبزادی اور معروف دانشور جاوید اختر کی اہلیہ اور آرٹ فلموں کی ہیروئن شبانہ اعظمی بھی طلبہ کے اس احتجاج میں شریک ہوئیں۔ ان کے علاوہ ایک اور عظیم اداکار نصیرالدین شاہ نے سوشل میڈیا پر طلبہ کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔ اس تحریک کے تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ کمیونسٹ پارٹیوں کی ذیلی تنظیموں اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا، آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کے کارکنوں اور رہنماؤں نے اس تحریک کو منظم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

جب سے جنتر منتر میں طلبہ نے بھوک ہڑتال شروع کی تو نوجوان طالبہ کامریڈ نیہا بورا کا مضبوط کردار ابھر کر سامنے آیا۔ نیہا بورا ہندوستان کی نئی نسل کی نمایاں طلبہ رہنماؤں میں شمار ہوتی ہیں، وہ جواہر لعل یونیورسٹی میں Ph.D کی طالبہ ہیں اور آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی مرکزی صدر ہیں۔ یہ ایسوسی ایشن کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسٹ کا طلبہ ونگ ہے۔ نیہا کا تعلق بھارت کی ریاست اتراکھنڈ سے ہے۔ وہ تھیٹر اور پرفارمنس اسٹڈیز سے وابستہ ہیں۔ انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے بی اے اور امیڈکر یونیورسٹی سے ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے رہنما سجاد ظہیر سولنگی نے اپنی وال پر نیہا بورا کے بارے میں لکھا ہے کہ نیہا بورا کا پس منظر ہندوستان کی بائیں بازو کی طلبہ سیاست سے جڑا ہوا ہے۔

وہ انقلابی ،سیاسی و نظریاتی دھارے میں سرگرم رہی ہیں۔ نیہا بورا کے ایجنڈے میں طلبہ کے حقوق، ہر فرد کو مساوی تعلیم کا حق، سماجی انصاف اور جمہوری آزادیوں جیسے موضوعات شامل ہیں۔ کامریڈ سجاد ظہیر نے مزید لکھا ہے کہ وہ محض یونیورسٹی کیمپس تک محدود نہیں رہیں بلکہ تعلیم، امتحانی نظام اور ڈگری کے حصول تک فعال ہیں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق سوالات کو عوامی بحث کا حصہ بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔ ان کا واضح موقف رہا ہے کہ سماجی مساوات اور مواقعے کی منصفانہ تقسیم سے نوجوانوں کا مستقبل جڑا ہوا ہے اور اسی بناء پر طبقاتی نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کی اس تحریک میں بھارت میں مختلف کمیونسٹ پارٹی کے طلبہ ونگ نے اہم کردار ادا کیا۔

کمیونسٹ پارٹی سے منسلک طلبہ کی سب سے قدیم تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن 12 اگست، 1936ء کو لکھنو میں قائم ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بیرسٹر محمد علی جناح اس تنظیم کے قیام کی افتتاحی تقریب کے صدر تھے اور پنڈت جواہر لعل نہرو اس تقریب میں مہمان خصوصی تھے۔ اس تنظیم کے بنیادی مقاصد میں سیکولرازم، جمہوریت اور وطن پرستی اور سامراج کے خلاف جدوجہد کو شامل کیا گیا تھا۔ یہ تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا سے منسلک ہے۔ اس تنظیم نے اپنے قیام کے بعد سے آزادی، امن اور ترقی کے نعروں کی ترویج کی ہے۔ اس AISF کے قومی صدر ویراج ڈیونگ جب کہ سیکریٹری جنرل دنیش سری رنگاراج ہیں۔ اس تنظیم کے کارکنوں نے ہندوستان کی آزادی کے پیغام کو نوجوانوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ جب 1937ء میں برطانوی ہند حکومت نے بنگال اور مدراس میں آزادی کا مطالبہ کرنے والے لوگوں پر بیہمانہ تشدد کیا تو اس طلبہ تنظیم کے کارکنوں نے بنگال اور مدراس کے حریت پسندوں سے یکجہتی کے لیے ایک طویل بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔ جب 1942ء میں کانگریس نے &rsquo;&rsquo;ہندوستان چھوڑدو تحریک &lsquo;&lsquo; شروع کی تو طلبہ اس تحریک میں شامل رہے۔

انگریز حکومت نے بہت سے طلبہ کو گرفتار کیا اور کچھ کو یونیورسٹیوں سے نکال دیا گیا۔ بھارت کی آزادی کے بعد اس تنظیم نے &rsquo;&rsquo;تعلیم حق ہے نا کہ رعایت&lsquo;&lsquo; کے سماجی انصاف اور سیکولرازم کے لیے طویل جدوجہد کی۔ جب عظیم شاعر مخدوم محی الدین نے تلنگانہ میں کسانوں کو منظم کرکے جاگیرداروں کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی تھی تو AISF کے کئی رضاکار اس تحریک کا حصہ بنے تھے۔ میڈیکل کالجوں کے داخلہ کے امتحانات کے پرچے افشاء ہونے کے بعد وزیر تعلیم کے استعفیٰ کی مہم میں AISF کے کارکنوں نے بھرپور حصہ لیا۔ اس تحریک میں ایک اور تنظیم کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) کی ذیلی تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کے کارکنوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔

SFI کا قیام 30 دسمبر 1970ء کو ہوا۔ اس تنظیم کا بنیادی نعرہ &rsquo;&rsquo;آزادی، جمہوریت اور سوشلزم&lsquo;&lsquo; ہے۔ یہ تنظیم مفت جمہوری عوامی تعلیمی نظام کے قیام کے لیے نوجوانوں میں آگاہی کا کام کرتی ہے تاکہ ہر فرد کو تعلیم تک رسائی حاصل ہو اور منصفانہ اور استحصال سے پاک سماجی انصاف میسر آئے۔ ایس ایف آئی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بھارت کے لاکھوں طالب علم اس تنظیم سے منسلک ہیں۔ ایس ایف آئی نے بھارت کی مختلف ریاستوں کریالہ، تری پورا، ہماچل پردیش اور مغربی بنگال کے تعلیمی اداروں کی طلبہ یونینوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس تنظیم نے نیشنل ٹیسٹنگ سروس میں خامیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف مختلف ریاستوں میں مہم چلائی اور یونائیٹڈ اسٹوڈنٹس آف انڈیا جو طلبہ تنظیموں کا متحدہ محاذ ہے اس محاذ کے تحت مختلف ریاستوں میں احتجاجی پرچوں کے آؤٹ ہونے کے خلاف تحریک منظم کی۔

ان تحریکوں میں شریک طلبہ پھر جنتر منتر پر جمع ہوئے اور ایک انتہائی کامیاب تحریک چلائی گئی۔ SFI برطانیہ میں قائم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا سے منسلک ہے۔ جب طلبہ دہلی میں بھوک ہڑتال کررہے تھے تو اس تنظیم کے ہمدردوں نے برطانیہ کے مختلف شہروں میں بھارتی ہائی کمشنر کے دفاتر کے سامنے مظاہرے کیے۔ اسی طرح اس مہم میں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) نے بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ یہ ایسوسی ایشن 9 اگست، 1990ء کو قائم ہوئی۔ یہ تنظیم ایک اور کمیونسٹ پارٹی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسٹ) لبریشن سے منسلک ہے۔ یہ تنظیم بھارتی مختلف ریاستوں دہلی، بہار، اتر پردیش، اتر کھنڈہ، مغربی بنگال اور آسام میں خاصی سرگرمِ عمل ہے۔

&nbsp;اگرچہ امتحانی بدعنوانیوں کے خاتمے اور وزیر تعلیم کے استعفیٰ کے لیے کاکروچ جنتا پارٹی کے پلیٹ فارم سے بھوک ہڑتال کی مہم چلائی گئی مگر اس مہم کو منظم کرنے میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کلیدی کردار ادا کیا۔ نیہا بورا اس تحریک میں اپنی تقاریر اور نعروں کی بناء پر ابھر کر سامنے آئیں۔ اس پوری تحریک میں عظیم شاعر فیض احمد فیض، حبیب جالب، ساحر اور مجاز کی نظموں نے انقلابی ماحول پیدا کیے رکھا اور بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں کے کارکن انقلابی نعرے لگاتے رہے، یوں یہ ایک ایسی سیکولر تحریک بن گئی جس میں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے طلبہ، سوشل ایکٹیوسٹ، سیاست دان، فنکار اور سیاسی کارکن شریک تھے۔ کچھ طلبہ جو اس تحریک میں شریک ہوئے، انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کے والدین نے مودی کی جماعت کو ووٹ دیا تھا، اب ان کے خیالات میں تبدیلی آگئی ہے۔ اس تحریک میں شریک ایک طالبہ نے ایک صحافی سے کہا کہ&rsquo;&rsquo; بھگت سنگھ ان کے ہیرو ہیں اور وہ آج بھی بھگت سنگھ کی زندگی کے بارے میں کتاب پڑھ رہی ہیں۔&lsquo;&lsquo; اس تحریک میں جو سب سے مقبول نعرہ تھا وہ محمد حسن بسمل کی نظم کے یہ اشعار تھے۔

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2727437-toseefahmedkhannew-1729273230/2727437-toseefahmedkhannew-1729273230.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایک نظریاتی دوست کی رخصتی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825070/aik-nazriyati-dost-ki-rukhsati-2825070/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825070/aik-nazriyati-dost-ki-rukhsati-2825070/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 16:00:19 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[سلمان عابد]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825070</guid>
			<description>
				<![CDATA[ابھی وقت نہیں تھا تیرے جانے کا
تو نے جانے میں بہت جلدی کی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی

تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

برادرم امیر العظیم کمال کی شخصیت تھے۔ان کی شخصیت میں بردباری ،ملنساری،شگفتگی،مسکراہٹ ،جرات،نظریاتی پختگی،مدد کرنے کاجذبہ یا کسی کی غمی اور دکھ میں کھڑے ہونے کی صلاحیت بہت خوب تھی۔جو لوگ قریب سے برادرم امیر العظیم کو جانتے تھے وہ اس بات کی گواہی لازمی دیں گے ان میں محبت کا پہلو اور دوستی نبھانے کا پہلو بہت مضبوط تھا۔ایک بار ان کے پاس جو آیا وہ ان کا گرویدہ ہوگیا اور آخر تک ان کا دوست ہی رہا۔امیر العظیم بنیادی طور پر ایک مجلسی آدمی تھے اور ان کی مجلس کی خوبی میں دائیں اور بائیں بازو کی محفلیں یا نشستیں بھی تھیں جہاں وہ مخالف کا موقف سنتے اور اپنا موقف دلیل اور منطق کی بنیاد پر پیش کرتے۔کمال یہ تھا کہ مخالف کے نقطہ نظر سے اختلاف کے باوجود وہ دوسروں کا شخصی احترام کرتے اور ان کی بات کو مکمل سنا کرتے تھے۔ایک محفل میںمعروف دانشور اور لکھاری فرخ سہیل گوئندی کے دفتر میں ان سے طویل مکالمہ ہوا اور محسوس ہی نہیں ہوا کہ دو مختلف نظریات کے لوگ کتنے مہذب انداز میں اپنا اپنا سیاسی مقدمہ ایک دوسرے کو پیش کررہے ہیں۔نہ کوئی تلخی اور نہ کوئی ٹکراو اور نہ کوئی الزامات کی بارش اور اس پر امیر العظیم کا یہ جملہ یاد ہے کہ اب لاہورمیںایسی علمی و فکری مجالس کہاں جہاں ہم آزادانہ طور پر اور ایک دوسرے کے احترام کے ساتھ بات چیت ہوسکے۔ وہ پکے لاہوری تھے اور ان کی پیداش کرشن نگر میں ہوئی اور لاہور میں ان کے حمایتی اور مخالفین انھیں شہر کے ماتھے کا جھومر سمجھتے تھے ،کیونکہ لاہور کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں میں امیر العظیم کی موجودگی ہر جگہ دیکھنے کو ملتی تھی۔

بردارم سلمان غنی سے ان کا مسلسل رابطہ رہا اور آخری بار ان کے بقول ان کی صحت اب کافی بہتر ہے ۔اللہ تعالی ان کی مدد کرے گا۔لیکن آج ان کے انتقال کی خبر نے مجھ سمیت سب کو ہی اداس کردیا۔یہ ہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال پر ان کی مخالف سیاسی جماعتوں اور ان کی قیادت کو بھی سب نے دیکھا۔واحد وجہ یہ تھی ان کے تعلقات سب ہی جماعتوں سے بہتر تھے اور سب سے احترام کے ساتھ ملنا ان کی خوبی تھی ۔ان کے بقول نظریات اپنی جگہ لیکن ہمیں انسانی قدروں کا بھی احترام کرنا چاہیے۔

برادرم طارق احسن اور تنویر شہزاد کے گھر مختلف ناشتوں اور کھانوں میں امیر العظیم خوب گفتگو کرتے اور خوش خوراک بھی تھے۔میاں محمود الرشید کے سیاسی ڈیرے پر دوپہر کے دیسی کھانے میں ان کی آمد مجلس کو اور زیادہ سجا دیتی تھی۔سلمان غنی ،مجیب الرحمن شامی ،سجاد میر،حفیظ اللہ نیازی کی مجلس میاں محمود الرشید کے ڈیرے پر سیاسی بیٹھک بن جایا کرتی تھی۔پچھلے کئی برسوں سے وہ کینسر کے مرض کا شکار ہوئے اور بڑی بہادری اور استقامت کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کیا۔مگر اپنی بیماری کو نہ اپنے اوپر طاری کیا اور نہ ہی اپنے کام پر اور اسی بنیاد پر آخری دم تک کام کرتے رہے، وہ اللہ تعالی کے حضور پیش ہوگئے۔ہم سب کی دعا ہے کہ اللہ تعالی ان کی مغفرت کرے اور ان کی محنت کو قبول کرے آمین۔

امیر العظیم ان لوگوں میں سے تھے جو طلبہ سیاست کی بنیاد پر منظر عام پر آئے اور اسلامی جمعیت طلبہ اور مولانا مودودی کی فکر سے متاثر تھے۔ یہ وہ دور تھا جب پورے ملک میں دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی جنگ تھی اور اس جنگ میں طلبہ تحریک ہراول دستہ تھی۔اس نظریاتی کشمکش میں طلبہ تحریک کو بہت عروج ملا اور اس کا دائرہ کار ہمیں قومی سیاسی تحریکوں میں بھی دیکھنے کو ملا۔امیر العظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے ایک کارکن سے اس تنظیم کے پاکستان کے سربراہ بنے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امیر العظیم 1986میں جیل میں تھے جب جمعیت کی شوری نے ان کو پاکستان کا ناظم اعلی منتخب کیا اور حلف نظامت بھی انھوں نے جیل میں پڑھا۔اسی طرح جامعہ پنجاب کی طلبہ یونین جمعیت کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔طلبہ تنظیموں پر لگنی والی پابندی کا مقدمہ بھی خوب لڑا اور کافی عرصہ تک جیل میں رہے۔

اسی دوران ایک روزنامہ کی سرخی بھی بنی جو جنرل ضیا الحق کے نام سے لگی کہ کوئی امیر العظیم ہو یا امیر الاعظم،میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔حالانکہ اس وقت یہ ہی کہا جاتا تھاکہ جماعت اسلامی کی پالیسی جنرل ضیا کے قریب تھی اور امیر جماعت میاں طفیل محمد مرحوم ان کے قریب تھے ۔لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان ہی برسوں میں اسلامی جمعیت طلبہ نے جنرل ضیا کی مخالفت میں طلبہ یونین پر پابندی کا مقدمہ خوب لڑا اور سڑکوں پر جنرل ضیا کی مخالفت میں خوب نعرے بھی لگتے تھے ۔ایک بار نجی فکری مجلس میں دوران گفتگو انھوں نے اعتراف کیا کہ جمعیت میں ہم سے بہت غلطیاں بھی ہوئی ہیں اور ان غلطیوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔طلبہ سیاست کے بعد ان کا میدان عملا جماعت اسلامی پاکستان تھا اور آخری سانس تک اس کے ساتھ بطور سیکریٹری جنرل پاکستان وابستہ رہے۔

برادرم عبدالغفار عزیز جو جماعت اسلامی کے امور خارجہ کے سربراہ تھے اور برادرم حافظ سلمان بٹ کی بیماری سے لے کر وفات تک امیر العظیم نے کمال کی خدمات انجام دی۔بنیادی طور پر وہ خود ایڈورٹائزنگ کے شعبہ سے وابستہ تھے اور اس کام میں ان کی خوب گرفت تھی ۔لیکن جماعت اسلامی کی وجہ سے ان کا کام بھی متاثر ہوتا تھا تو وہ کہتے تھے گھر کا نظام تو اللہ تعالی چلارہے ہیں اور تحریک کو بھی وقت دینا ہے۔ان سے ابتدا میں کچھ ملاقاتیں برادرم مرحوم تاثیر مصطفی کی مدد سے ہوئی اور وہ کمال کی نشستیں تھیں جہاں ان کے کام سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے اور پھر اس کے بعد سیاسیات میں ماسٹرز کیا تھا۔طلبہ تحریک میں ان کی جدوجہد کمال کی تھی اور جنرل ضیا الحق کے دور میں جب طلبہ یونین پر پابندی لگی تو وہ اس پابندی کے خلاف چلنے والی تحریک میں سب سے آگے تھے۔

ان کا تعلق کیونکہ جماعت کے شعبہ نشرواشاعت یعنی سیکریٹری اطلاعات کے طور پر بھی رہا تو خود دائیں اور بائیں بازو کے صحافیوںسے ان کے تعلقات مثالی تھے اور اپنے خاص نظریات کے باوجود وہ سب سے ہی رابطے میں رہتے تھے۔ان کو جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد مرحوم،سید منور حسن مرحوم سمیت سابق امیر سراج الحق اور اب موجودہ امیر حافظ نعیم الرحمن کے ساتھ مختلف ذمے داریوں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ مختلف امیر جماعت کے ساتھ صحافیوں کی فکری نشستوں کا اہتمام بھی امیر العظیم ہی کیا کرتے تھے اور ان نشستوں میں دائیں اور بائیں بازو دونوں سے تعلق رکھنے والے صحافی ہوتے اور خوب مجلس کو سجایا جاتا۔

امیر العظیم ان سیاسی لوگوں میں سے ہیں جن کی پوری زندگی کسی بھی آلودگی کا شکار نہیں رہی اور ان کے سخت سے سخت مخالف بھی ان پر گواہی دیں گے کہ وہ ایک صاف ستھری زندگی کے ساتھ رخصت ہوئے ہیں ۔جماعت اسلامی سمیت دیگر سیاسی کارکن ان پر فخر کرسکتے ہیں اور ان کے خیالات یا فکر پر تنقید بھی کرسکتے ہیں مگر ان کی بہتر شخصیت کی گواہی سب ہی دیں گے۔آج پاکستان کی سیاست کا جو حال ہے اور اس پر جو ماتم کیا جاتا ہے اس کی ایک بڑی وجہ امیر العظیم سمیت تمام جماعتوں میں سے اچھے لوگوں کا اقتدار کی سیاست میں پیچھے رہ جانا ہے ۔اگر اس طرزکے لوگ سیاست میں اوپر آتے تو آج ہماری سیاست کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔

ابھی وقت نہیں تھا تیرے جانے کا

تو نے جانے میں بہت جلدی کی]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2726760-SalmanAbid-1729190119/2726760-SalmanAbid-1729190119.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>مشرق وسطیٰ بحران کے دور رس اثرات</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825069/mashriq-wusta-bohran-ke-door-ras-asraat-2825069/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825069/mashriq-wusta-bohran-ke-door-ras-asraat-2825069/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 15:43:31 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ایڈیٹوریل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[رائے]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825069</guid>
			<description>
				<![CDATA[پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر ایسی کشیدگی کی گرفت میں آ چکا ہے جس کے اثرات کسی ایک ملک یا چند ریاستوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست، بین الاقوامی تجارت، توانائی کی رسد اور عالمی سلامتی کے پورے ڈھانچے پر مرتب ہوں گے۔ ایران پر امریکی فضائی حملوں، تہران کی جوابی کارروائیوں، بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات سے متعلق متضاد دعوؤں، بحری ناکہ بندی کے تسلسل، باب المندب اور بحیرہ احمر میں نئی عسکری صف بندی، آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتی ہوئی بے یقینی اور غزہ میں جاری انسانی المیے نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کر دیا ہے کہ دنیا ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، سفارت، اطلاعات اور تزویراتی مفادات کے ہر محاذ پر بیک وقت لڑی جا رہی ہے۔ ایسے ماحول میں کسی ایک واقعے کو الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں، کیونکہ ہر نئی پیش رفت دوسری پیش رفت کو متاثر کر رہی ہے اور یہی باہمی ربط موجودہ بحران کو غیر معمولی بنا رہا ہے۔

امریکا اور ایران دونوں اپنی اپنی عسکری کامیابیوں کے دعوے کر رہے ہیں۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں اور فوجی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچایا گیا، جب کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ان دعوؤں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر رہی ہے کہ نہ صرف اس کے جنگی وسائل محفوظ ہیں بلکہ ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت کو بھی نمایاں حد تک کمزور کر دیا گیا ہے۔

جنگی حالات میں اس قسم کے متضاد بیانات کوئی نئی بات نہیں۔ جدید دور کی جنگوں میں اطلاعات بھی ایک ہتھیار بن چکی ہیں اور ہر فریق اپنے عوام، اتحادیوں اور مخالفین پر نفسیاتی برتری قائم رکھنے کے لیے اپنی کامیابیوں کو نمایاں اور مخالف کے نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ معلومات کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ تاہم اس تمام اطلاعاتی جنگ کے باوجود ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ پورے خطے کو ایک ایسی غیر یقینی کیفیت میں دھکیل رہا ہے جس کے نتائج دور رس ہو سکتے ہیں۔

&nbsp;امریکی وزارتِ خزانہ کی جانب سے ایران سے منسلک افراد اور کمپنیوں پر نئی پابندیاں بھی اسی دباؤ کی پالیسی کا تسلسل ہیں جس کے ذریعے واشنگٹن تہران کی اقتصادی اور عسکری صلاحیت کو محدود کرنا چاہتا ہے۔ دوسری طرف ایران یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ جوابی کارروائی کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اس کشمکش میں اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کس فریق کے دعوے زیادہ درست ہیں، بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ تصادم مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات کہاں تک جائیں گے۔ عراق، شام، لبنان اور یمن پہلے ہی مختلف نوعیت کے تنازعات کا شکار ہیں۔ ایسے میں کسی بھی نئی جنگ کے شعلے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں، جس کا براہِ راست اثر عالمی توانائی کی منڈیوں، مالیاتی نظام اور تجارتی سرگرمیوں پر پڑے گا۔

یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں باب المندب، بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے تحفظ کیلیے چودہ ممالک پر مشتمل بحری دفاعی اتحاد کا قیام معمول کا واقعہ نہیں بلکہ ایک اہم تزویراتی پیش رفت ہے۔ دنیا کی بڑی تجارتی شاہراہوں میں شمار ہونے والے یہ بحری راستے صرف مشرقِ وسطیٰ کیلیے نہیں بلکہ ایشیا، یورپ اور افریقہ کی معیشتوں کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

عالمی تجارت کا ایک بڑا حصہ انہی راستوں سے گزرتا ہے، جب کہ تیل اور گیس کی بڑی مقدار بھی انہی گزرگاہوں کے ذریعے عالمی منڈی تک پہنچتی ہے، اگر ان آبی راستوں میں بدامنی پیدا ہوتی ہے تو اس کا نتیجہ صرف جہازرانی کی مشکلات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، اشیائے ضروریہ کی لاگت میں بڑھوتری اور عالمی سپلائی چین میں تعطل کی صورت میں بھی سامنے آئے گا۔ اسی لیے مختلف عرب، افریقی اور اسلامی ممالک نے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ اجتماعی طور پر بحری سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔

پاکستان کی اس اتحاد میں شمولیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ بحیرہ عرب اور بحرہند میں پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے قدرتی طور پر ایک اہم بحری ریاست بناتا ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی بحری صلاحیت میں مسلسل اضافہ کرے، کیونکہ مستقبل میں اقتصادی سرگرمیوں کا بڑا انحصار سمندری تجارت پر ہوگا۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ متوازن رہی ہے۔ ایک طرف اس کے سعودی عرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری طرف ایران کے ساتھ بھی طویل سرحد اور ہمسائیگی کا رشتہ موجود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے سب سے موزوں راستہ یہی اپنایا ہے کہ وہ کسی نئی علاقائی محاذ آرائی کا حصہ بننے کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور کشیدگی میں کمی کی ہر ممکن کوشش کرے۔

موجودہ بحران کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ خلیجی ممالک پہلی مرتبہ اس شدت سے آبنائے ہرمز کے مسئلے پر چین کے کردار کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ کئی دہائیوں تک خطے میں سلامتی کے ضامن کے طور پر امریکا کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، لیکن حالیہ جنگ نے عرب ریاستوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ صرف عسکری طاقت ہر مسئلے کا حل نہیں۔ چین آج ایران کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے اور خلیجی ممالک کے تیل کا سب سے بڑا خریدار بھی۔ یہی اقتصادی تعلقات اسے ایک منفرد سفارتی حیثیت دیتے ہیں، اگر بیجنگ اپنے معاشی اثرورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ عالمی سیاست میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کی واضح علامت ہوگی۔ چین کی خارجہ پالیسی عمومی طور پر فوجی مداخلت کے بجائے اقتصادی روابط اور سفارتی مفاہمت پر مبنی رہی ہے، اسی لیے خلیجی ممالک کو توقع ہے کہ وہ تہران پر ایسا سفارتی اثر ڈال سکتا ہے جو کسی فوجی دباؤ سے ممکن نہیں۔

یہ صورت حال اس حقیقت کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ اکیسویں صدی میں عالمی طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔ اب صرف فوجی قوت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں رہی بلکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، بندرگاہیں، بحری راستے اور سفارتی اثرورسوخ بھی اتنی ہی اہم حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران میں ہر بڑی طاقت اپنی عسکری حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دے رہی ہے، جب کہ اس پوری کشمکش کی سب سے بڑی قیمت ہمیشہ کی طرح عام شہری ادا کر رہا ہے۔

&nbsp;موجودہ بحران نے ایک اور حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ عالمی نظام بتدریج یک قطبی سے کثیر القطبی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ امریکا بدستور ایک بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت ہے، لیکن چین کی معاشی قوت، روس کی تزویراتی اہمیت اور علاقائی طاقتوں کے بڑھتے ہوئے کردار نے عالمی سیاست کو زیادہ پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اب کسی ایک طاقت کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ تنہا کسی بڑے بحران کا حل مسلط کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران، خلیجی ممالک، چین، امریکا، روس اور یورپی ممالک سب اپنے اپنے مفادات کے مطابق نئی صف بندیاں کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں سفارت کاری کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، کیونکہ اگر مختلف طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کو مکمل طور پر نظر انداز کریں گی تو تصادم کے امکانات بھی بڑھتے جائیں گے۔

&nbsp;پاکستان کے لیے یہ تمام پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک طرف ملک توانائی کی ضروریات، بیرونی تجارت اور سمندری راستوں کے تحفظ سے براہ راست وابستہ ہے، دوسری طرف اس کے ایران، سعودی عرب، چین، ترکیہ اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ متوازن تعلقات موجود ہیں۔

ایسے میں پاکستان کو انتہائی محتاط اور متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔ کسی بھی علاقائی کشیدگی کا پہلا اثر تیل کی قیمتوں، درآمدی اخراجات، زرمبادلہ کے ذخائر اور مہنگائی پر پڑتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عوام کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے پاکستان کے لیے صرف سفارتی توازن ہی نہیں بلکہ معاشی تیاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ توانائی کے متبادل ذرائع، علاقائی تجارت، بندرگاہوں کی استعداد، بحری سلامتی اور اقتصادی خود انحصاری جیسے شعبوں پر فوری توجہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

&nbsp;مشرقِ وسطیٰ آج صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کا محور بن چکا ہے۔ یہاں ہونے والا ہر فیصلہ، ہر حملہ، ہر پابندی اور ہر سفارتی پیش رفت پوری دنیا کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔ اسی لیے عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ امن صرف طاقت کے توازن سے نہیں بلکہ انصاف کے توازن سے بھی قائم رہتا ہے، اگر انصاف، قانون اور انسانی جان کی حرمت کو عالمی فیصلوں کا حقیقی مرکز بنا لیا جائے تو شاید آنے والی نسلیں ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم دنیا دیکھ سکیں، لیکن اگر طاقت ہی واحد معیار بنی رہی تو یہ بحران وقتی وقفوں کے ساتھ نئے ناموں اور نئے محاذوں پر دوبارہ جنم لیتا رہے گا اور اس کی سب سے بھاری قیمت ہمیشہ وہ عام انسان ادا کرے گا جس کا جنگ کے فیصلوں میں کبھی کوئی کردار نہیں ہوتا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/207173-IranAmerica-1386973172/207173-IranAmerica-1386973172.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>سری لنکا؛ سابق پولیس چیف، سینئر عہدیدار کو بم دھماکے روکنے میں ناکامی پر سزائے موت</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825068/sri-lanka-former-police-chief-senior-official-sentence-to-death-failing-to-prevent-bomb-blasts-2825068/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825068/sri-lanka-former-police-chief-senior-official-sentence-to-death-failing-to-prevent-bomb-blasts-2825068/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 15:31:27 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825068</guid>
			<description>
				<![CDATA[سری لنکا میں 2019 میں دھماکوں میں 279 افراد ہلاک، 500 زخمی ہوئے تھے، مقدمہ سابق اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف درج کیاگیا تھا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سری لنکا کی عدالت نے پولیس کے سابق سربراہ پوجتھ جے سندرا اور سابق سینئر دفاعی عہدیدار ہیماسری فرنینڈو کو 2019 کے ایسٹر بم دھماکوں کے مقدمے میں انٹیلیجینس کے خبردار کے باوجود حملے روکنے میں ناکامی پر سزائے موت سنا دی گئی۔ 

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سری لنکا کے نشریاتی ادارے اڈا دیرانا نے بتایا کہ خصوصی عدالت پرمننٹ ٹرائل ایٹ بار نے دونوں سابق عہدیداروں کو متعدد الزامات میں قصوروار قرار دیا اور انٹیلی جنس کی جانب سے خبردار کرنے کے باوجود حملوں کو روکنے میں ناکامی، مجرمانہ غفلت، قتل اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت سزا سنائی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ وزارت دفاع کے سابق سیکریٹری ہیماسری فرنینڈو اور سابق پولیس چیف پوجتھ جے سندرا کے وکلا کا اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

خیال رہے کہ سری لنکا میں سزائے موت قانونی طور پر برقرار ہے تاہم کئی برسوں سے اس پر عملی طور پر عمل درآمد معطل ہے اور عموماً سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کر دیا جاتا ہے۔

سری لنکا کے دونوں سابق اعلیٰ عہدیداروں کو2022 &nbsp;میں ہائی کورٹ کے تین رکنی بینچ نے مذکورہ الزامات سے بری کر دیا تھا تاہم سپریم کورٹ نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا، جس کے بعد مارچ میں نئے سرے سے مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تھی۔

یاد رہے کہ21 اپریل 2019 کو سری لنکا میں ہوئے حملوں میں تین گرجا گھروں اور تین ہوٹلوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو سری لنکا کی تاریخ کے بدترین حملے تھے، جن میں 279 افراد ہلاک اور 500 افراد زخمی ہوئے تھے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/021785530385-0/021785530385-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کامن ویلتھ گیمز، جیولن تھرو میں ارشد ندیم گولڈ میڈل کا دفاع کرنے میں ناکام، مقابلے سے باہر ہوگئے</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825067/arshad-nadeem-out-common-wealth-games-2825067/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825067/arshad-nadeem-out-common-wealth-games-2825067/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 15:14:19 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825067</guid>
			<description>
				<![CDATA[ارشد ندیم 77.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ 9ویں نمبر پر رہے اور اگلے مرحلے میں کوالیفائی نہیں کرسکے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کامن ویلتھ گیمز کے جیولن کے فائنل میں ایتھلیٹ ارشد ندیم گولڈ میڈل کا دفاع کرنے میں ناکام رہے اور دوڑ سے باہر ہو گئے۔

گلاسگو میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں جیولن تھرو کے مقابلے میں پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم کی پہلی تھرو فاؤل قرار پائی۔

ان کی دوسری تھرو 77.41 میٹر اور تیسری تھرو 75.39 میٹر رہی۔&nbsp;پہلے راؤنڈ میں بہترین کھیل پیش کرنے والے&nbsp;8 ایتھلیٹس نے اگلے مرحلے کے لیے کوالیفائی کرلیا&nbsp;تاہم ارشد ندیم&nbsp;77.41 میٹر کی تھرو کے ساتھ 9ویں نمبر پر رہے اور اگلے مرحلے سے باہر ہوگئے۔&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/arshad1785411499-0/arshad1785411499-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>براڈ پیک میں برفانی تودہ گرنے کا واقعہ، 3 غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد، مزید کی تلاش جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825066/avalanche-incident-in-broad-peak-bodies-of-3-foreign-climbers-recovered-2825066/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825066/avalanche-incident-in-broad-peak-bodies-of-3-foreign-climbers-recovered-2825066/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:46:30 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825066</guid>
			<description>
				<![CDATA[ کوہ پیما ٹیم سے آخری رابطہ 30 جولائی کو صبح 9 بجے ہوا تھا، مرنے والوں میں عمان، امریکا اور نیپالی کوہ پیما شامل ہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[براڈ پیک میں مہم جوئی کے دوران برفانی تودہ گرنے کے واقعے میں اب تک تین غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں برآمد ہوئیں جبکہ مزید کی تلاش جاری ہے۔

کمشنر بلتستان نے بتایا کہ&nbsp;براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے کا&nbsp;واقعہ پیش آیا جس کے بعد&nbsp;سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اُن کے مطابق&nbsp;کوہ پیما ٹیم سے آخری رابطہ 30 جولائی کو صبح 9 بجے ہوا تھا۔

کمشنر کے مطابق&nbsp;&nbsp;رات 8 بجے اطلاع ملی کہ کیمپ-ٹو سے تھری کی جانب پیش قدمی کے دوران 10 کوہ پیماؤں پر مشتمل ٹیم کو برفانی تودے کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹور آپریٹرز کی باضابطہ درخواست پر 31 جولائی کو صبح 8:30 بجے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا، جس کے تحت&nbsp;&nbsp;پاک فوج کی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے تین رکنی سول ریسکیوٹیم کوبراڈ پیک بیس کیمپ پہنچایا گیا۔&nbsp;

ریسکیو ٹیم کو بیس کیمپ سے کیمپ-ٹو کی جانب پیدل پیش قدمی کے دوران تین غیر ملکی کوہ پیماؤں کی لاشیں مل گئیں،&nbsp;جاں بحق ہونے والے کوہ پیماؤں میں عمان، امریکہ اور نیپال سے تعلق رکھنے والے کوہ پیما شامل ہیں۔

کمشنر بلتستان کے مطابق&nbsp;برآمد ہونے والی میتوں کو&nbsp;پاک فوج کے&nbsp;ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے سی ایم ایچ سکردو منتقل کر دیا گیا ہے جہاں اُن&nbsp;کی &nbsp;شناخت اور دیگر قانونی کارروائی جاری ہے۔

انتظامیہ نے&nbsp;خراب موسمی حالات کے باعث سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن عارضی طور پر معطل کر دتے ہوئے&nbsp;&nbsp;موسم سازگار ہونے پر کل ریسکیو آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا جس میں دیگر کوہ پیما بھی &nbsp;معاونت کریں گے۔

کمشنر نے بتایا کہ&nbsp;&nbsp; ڈرون فوٹیج کے ذریعے مزید چند کوہ پیماؤں کی موجودگی کی بھی نشاندہی ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق&nbsp;سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج، مقامی کوہ پیماؤں اور ریسکیو ٹیموں کے باہمی تعاون سے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کیا گیا۔

حکومتِ گلگت بلتستان نے&nbsp;جاں بحق کوہ پیماؤں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے میتیں متعلقہ ممالک منتقل کرنے کے عمل میں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/302914-Kmountain-1416067189/302914-Kmountain-1416067189.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اسپین کی سرحد پر 50 ہزار سے زائد تارکین وطن آمد، 57 افراد ہلاک</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825065/spain-border-more-than-50-thousand-migrants-arrived-57-bodies-recovered-2825065/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825065/spain-border-more-than-50-thousand-migrants-arrived-57-bodies-recovered-2825065/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:42:46 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825065</guid>
			<description>
				<![CDATA[گزشتہ چند روز کے دوران سرحد پر 60 ہزار افراد کی آمد ہوئی تاہم 48 ہزار سے زائد واپس جاچکے ہیں، ہسپانوی حکام]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[اسپین کی حکومت نے کہا ہے کہ شمالی افریقہ کی جانب سے زمینی اور سمندری راستے سے 50 ہزار سے زائد تارکین وطن داخل ہوئے تاہم ان میں سے اکثر رضاکارانہ طور پر واپس چلے گئے جبکہ 50 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیوٹا میں اسپین کی حکومت کے نمائندے بتایا کہ اسپین کی سرحد پر 50 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور مراکش کی طرف مزید ہلاکتوں کا خدشہ ہے، ان میں سے متعدد افراد کی موت سمندر میں ڈوبنے سے ہوئی ہے اور کئی سرحد پر لگی باڑ عبور کرتے ہوئے کچل کر جاں بحق ہوئے ہیں۔

اسپین کی وزارت داخلہ نے کہا کہ جمعرات کی صبح سے اب تک تقریباً 50 ہزار افراد نے سرحد عبور کی اور ایک اندازے کے مطابق 48 ہزار 300 افراد آج واپس جاچکے ہیں۔

سیوٹا کی مقامی حکومت کے سربراہ جووان ویواس کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دنوں کے دوران 60 ہزار کے قریب افراد کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے جبکہ سرحد پر بڑی تعداد میں لوگ کی آمد کے حوالے سے یورپی ممالک میں تقسیم نظر آئی اور یورپی یونین کے متعدد ممالک کی قیادت نے اسپین کو حادثے سے بچنے کے لیے اقدامات یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔



دوسری جانب مراکش کی حکومت نے اسپین سے واپس آنے والے تارکین وطن کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے ہیں اور پولیس نے آنسو گیس فائر کیے اور لاٹھی چارج کیا۔



اٹلی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسپین کے ساتھ یورپی یونین کے بارڈر فری شینگن انتظامات معطل کر رہے ہیں، جس سے دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کو ہوائی جہاز یا کشتی دونوں ذرائع سے سفری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ اسپین نے اس قدام کو یورپی یونین کے معاہدوں کیخلاف ورزی قرار دیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/migrants1785527582-0/migrants1785527582-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>واٹس ایپ کا اینڈرائیڈ صارفین کیلئے نئے فیچر پر کام جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825064/whatsapp-introduces-2825064/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825064/whatsapp-introduces-2825064/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:13:53 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[سائنس/ٹیکنالوجی]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825064</guid>
			<description>
				<![CDATA[یہ فیچر فی الحال بِیٹا ورژن استعمال کرنے والے اینڈرائیڈ صارفین کو مرحلہ وار فراہم کیا جا رہا ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[انسٹنٹ میسجنگ ایپلی کیشن واٹس ایپ نے اینڈرائیڈ صارفین کے لیے ایک نیا فیچر متعارف کرانا شروع کر دیا ہے، جس کی مدد سے چینلز سے ڈاؤن لوڈ ہونے والی میڈیا فائلوں کو زیادہ آسانی سے منظم اور حذف کیا جا سکے گا، تاکہ فون میں خالی جگہ بنائی جا سکے۔

ٹیکنالوجی ویب سائٹ واٹس ایپ بِیٹا انفو کے مطابق چینل اسٹوریج کلین اپ نامی یہ فیچر فی الحال بِیٹا ورژن استعمال کرنے والے اینڈرائیڈ صارفین کو مرحلہ وار فراہم کیا جا رہا ہے، اس لیے تمام بیٹا صارفین کو یہ سہولت فوری طور پر دستیاب نہیں ہوگی۔

اس سے پہلے صارفین کو چینلز کی میڈیا فائلیں حذف کرنے کے لیے واٹس ایپ کی سیٹنگز میں جا کر ہر فائل کو الگ الگ منتخب کرنا پڑتا تھا۔ نئے فیچر کے ذریعے میڈیا کو تصاویر، ویڈیوز، اسٹیکرز اور وائس نوٹس جیسی مختلف اقسام میں فلٹر کیا جا سکے گا جس سے غیر ضروری فائلیں حذف کرنا کہیں زیادہ آسان اور تیز ہو جائے گا۔

واٹس ایپ نے اس فیچر تک رسائی کے دو طریقے بھی متعارف کرائے ہیں۔ پہلا طریقہ چینل انفو اسکرین کے ذریعے ہے، جہاں صارف کسی ایک چینل کی محفوظ میڈیا فائلیں دیکھ کر منتخب مواد حذف کر سکتے ہیں۔

دوسرا طریقہ اپ ڈیٹس ٹیب میں دستیاب ہوگا، جہاں صارف ایک یا ایک سے زیادہ چینلز کو منتخب کرکے &rsquo;کلیئر میڈیا فائلز&lsquo; کے آپشن کے ذریعے متعدد چینلز کی میڈیا فائلیں ایک ساتھ ڈیلیٹ کر سکیں گے۔

یہ فیچر خاص طور پر ان صارفین کے لیے مفید ثابت ہوگا جو متعدد فعال واٹس ایپ چینلز کو فالو کرتے ہیں اور جن کے فون میں میڈیا فائلوں کی وجہ سے اسٹوریج تیزی سے بھر جاتی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/wa1785525443-0/wa1785525443-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے، ایرانی دعوے جھوٹے ہیں، امریکی سینٹکام</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825063/strait-of-hormuz-remain-open-irani-claims-false-sentcom-2825063/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825063/strait-of-hormuz-remain-open-irani-claims-false-sentcom-2825063/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:12:59 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825063</guid>
			<description>
				<![CDATA[آبنائے ہرمز سے کمرشل جہازوں کی آمد ورفت بدستور کھلی ہوئی ہے اور ایران کا کنٹرول نہیں ہے، امریکی فوج]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھلی ہوئی اور بندش کے حوالے سے ایران کی دعوے جھوٹے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا کہ ایرانی حکومت کی جانب سے ایک دفعہ پھر آبنائے ہرمز بند کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور یہ جھوٹ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ حقیقت یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کمرشل جہازوں کی آمد ورفت کے لیے بدستور کھلی ہوئی ہے اور اس پر ایران کا کنٹرول نہیں ہے۔

امریکی فوج نے کہا کہ گزشتہ 4 ماہ سے بین الاقوامی گزرگاہ سے ہزاروں جہاز گزر چکے ہیں۔



🚫 CLAIM: Once again, the Iranian government claims it has closed the Strait of Hormuz. This is FALSE.

✅ FACT: The Strait of Hormuz remains open for commercial vessel transit. Iran does not control it. Thousands of ships have sailed through the international waterway over the&hellip; pic.twitter.com/sdDJ08MLHo
&mdash; U.S. Central Command (@CENTCOM) July 31, 2026



اس سے قبل ایران کی پرشین گلف اسٹریٹ اتھارٹی (پی جی ایس اے) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت جہازوں کے گزرنا ناممکن ہے کیونکہ امریکی فوج کی جانب سے خطے میں مسلسل جارحانہ اقدامات جاری ہیں اور یہاں سے گزرنے کے لیے اجازت کا جائزہ صرف اس وقت لیا جائے گا جب استحکام بحال ہوتا ہے۔

پی جی ایس اے نے کہا تھا کہ جب آبنائے ہرمز میں امن بحال ہوگا تو اس کے بعد درخواست کا جائزہ ترتیب سے ہی لیا جائے گا، جیسے ہی استحکام اور امن بحال ہوتا ہے بتدریج اجازت دی جائے گی۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان امریکی بیسز پر جوابی حملوں کے دعووں کے بعد سامنے آیا تھا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/strait-of-hormuz1785525336-0/strait-of-hormuz1785525336-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی میں بینک ڈکیتی کے دوران سائرن بجنے پر ملزمان گارڈ کا اسلحہ لے کر فرار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825062/during-a-bank-robbery-in-karachi-the-suspects-fled-with-the-guards-weapon-2825062/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825062/during-a-bank-robbery-in-karachi-the-suspects-fled-with-the-guards-weapon-2825062/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:08:32 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[منور خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825062</guid>
			<description>
				<![CDATA[نیو کراچی میں نجی بینک کے اندر ڈکیتی کی ناکام کوشش، سیکیورٹی گارڈ پر ڈاکوؤں کا تشدد]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی: شہر قائد کے علاقے نیو کراچی میں نجی بینک کے اندر ڈکیتی کی ناکام کوشش کے دوران ڈاکو سیکیورٹی گارڈ کا اسلحہ چھین کر فرار ہوگئے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق بینک میں واردات کے دوران الارم بجنے پر ڈاکو واردات چھوڑ کر بھاگ نکلے جبکہ&nbsp;ڈاکوؤں کے تشدد سے سیکیورٹی گارڈ زخمی بھی ہوگیا۔

جمعے کی دوپہر نیو کراچی سندھی ہوٹل کے قریب قائم نجی بینک میں&nbsp;موٹرسائیکل پر 3 ڈاکو آئے، اس حوالے علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق 2 ڈاکوؤں نے ہیلمٹ جبکہ ایک نے ڈاکو برقع پہنا ہوا تھا اور بینک میں داخل ہو رہے تھے۔

اس دوران بینک کے داخلی دروازے پر سیکیورٹی گارڈ نے انھیں روکنے کی کوشش جس پر ڈاکوؤں نے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنا کر اس سے اسلحہ چھین لیا اس دوران سیکیورٹی الارم بجنے پر تینوں ڈاکو بینک لوٹے بغیر سیکیورٹی گارڈ کا چھینا گیا اسلحہ لیکر فرار ہوگئے۔

ترجمان ڈسٹرکٹ سینٹرل پولیس نے واردات کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اور فوری طور پر کرائم سین یونٹ کو طلب کر کے شواہد حاصل کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے واردات میں ملوث ڈاکوؤں کا سراغ لگانے کی کوششیں کر رہی ہے۔&nbsp;

ایس ایچ او بلال کالونی راؤ شبیر نے بتایا واردات کا مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ (ایس آئی یو) کو منتقل کر دیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/157440-karachibankrobbery-1375440666/157440-karachibankrobbery-1375440666.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>گوجر خان میں لڑکا 120 فٹ گہرے کنویں میں گر گیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825061/boy-falls-into-120-foot-deep-well-in-gujar-khan-2825061/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825061/boy-falls-into-120-foot-deep-well-in-gujar-khan-2825061/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:45:28 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[صالح مغل]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[راولپنڈی]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825061</guid>
			<description>
				<![CDATA[رضاکاروں نے اینٹوں سے تعمیر شدہ کنویں سے 30 سالہ وقاص کو ریسکیو کرلیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[راولپنڈی کے علاقے&nbsp;گوجرخان&nbsp;میانہ پھمبل میں 120 فٹ گہرے کنویں میں ایک شخص گرگیا،&nbsp;ریسکیو 1122 نے کامیاب آپریشن کرکے گرنے والے شخص کو باحفاظت نکال لیا۔

تفصیلات کے مطابق حادثے کی اطلاع ملنے پر&nbsp;ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں اور امدادی کاموں کا آغاز کیا۔

رضاکاروں نے&nbsp;اینٹوں سے تعمیر شدہ گہرے کنویں میں پھنسے 30 سالہ وقاص نامی متاثرہ شخص تک رسائی حاصل کر کے اسے بحفاظت باہر نکال لیا۔

متاثرہ شخص کو موقع پر ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی جبکہ&nbsp;بروقت اور پیشہ ورانہ ریسکیو کارروائی کے باعث ایک قیمتی جان کو محفوظ بنا لیا گیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/rawalpindi21785524170-0/rawalpindi21785524170-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران کی فوجی صلاحیت تباہ کردی، مزید سخت حملے کریں گے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825060/iran-military-capacity-destroyed-hitting-hard-them-donald-trump-2825060/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825060/iran-military-capacity-destroyed-hitting-hard-them-donald-trump-2825060/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:43:56 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825060</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران کے پاس تھوڑی بہت صلاحیت باقی ہے لیکن جلد ہی وہ بھی نہیں رہے گی، امریکی صدر]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیت کو بڑی حد تک تباہ کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ ایران پر مزید سخت حملے کریں گے۔

کیمپ ڈیوڈ میں اپنی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ میں ایران کی حالت بہت خراب ہوگئی ہے، ایران کے پاس فوجی صلاحیت باقی ہےلیکن وہ بھی جلد ختم ہو جائے گی۔

ایران کے خلاف امریکی فوج کی کارروائیوں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے اور اس کی پیداواری صلاحیت بھی تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

کابینہ خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ہم نے شان دار کام کیا ہے، ہمیں 5 ماہ ہو چکے ہیں اور ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے جبکہ ویتنام میں 20 سال تک رہے تھے۔

ٹرمپ نے کہا کہ دوبارہ کہہ رہا ہوں، ان کے پاس تھوڑی صلاحیت باقی ہے لیکن جلد ہی وہ بھی نہیں رہے گی، ہم ان پر سخت حملے کریں گے۔

جنگ بندی بحال ہونے کے امکانات سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم صرف جیتنا چاہتے ہیں، ایران کے معاملے میں ہماری کارکردگی اچھی ہے، ایرانی فوج کمزور کر دی گئی ہے اور تہران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا۔

انہوں نے مزید بڑی کارروائی کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم ان پر حملے کریں گے اور بہت سخت حملے کریں گے اور ایک وقت پر وہ کہیں گے کہ ہم اب مزید برداشت نہیں کر سکتے اور اگلے دو ہفتوں میں ایران کے خلاف بڑی کارروائی کی تجویز سے متعلق سوال پر اثبات میں جواب دیا۔

ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم بڑی کارروائی کر رہے ہیں، ہم پہلے ہی بڑی کارروائی کر چکے ہیں، ایران کی فوج اور قیادت ختم ہو چکی ہے۔

ایران کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے، وہ ہمیشہ بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اپنا وعدہ توڑ دیتے ہیں، اس لیے میں ان پر اعتماد کھو رہا ہوں کیونکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران نے جو 5 میزائل داغے تھے ہم نے انہیں مار گرایا لیکن ہم اسی دوران مذاکرات کر رہے تھے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس سے خطاب میں مسلح افواج میں استعداد بڑھانے کے لیے بجٹ میں غیرمعمولی اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ افواج میں 1.5 ٹریلین ڈالر کی غیر معمولی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/trump1785524072-0/trump1785524072-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایک اور بڑی کامیابی، پاکستان کو وار رسک انشورنس کی فہرست سے نکال دیا گیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825059/pakistan-removed-from-war-risk-insurance-list-2825059/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825059/pakistan-removed-from-war-risk-insurance-list-2825059/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:39:28 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825059</guid>
			<description>
				<![CDATA[یہ اہم کامیابی حکومت کی مربوط کوششوں اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی مؤثر سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی اور معاشی کامیابی حاصل کرلی، پاکستان کو وار رسک انشورنس کی فہرست سے نکال دیا گیا۔

ترجمان دفترخارجہ کے مطابق&nbsp;پاکستان نے Lloyd&rsquo;s Market Association کی Joint War Committee (JWC) کی جانب سے پاکستان کو وار رسک انشورنس کے لیے حساس علاقوں کی فہرست سے خارج کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ اہم کامیابی حکومتِ پاکستان کی مربوط کوششوں اور لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی مؤثر سفارتی کاوشوں کے نتیجے میں ممکن ہوئی، جو عالمی برادری کے پاکستان پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا مظہر ہے۔

حکومت نے اس عمل کے دوران تعمیری تعاون پر Lloyd&rsquo;s کا بھی شکریہ ادا کیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے سے بحری جہاز رانی اور انشورنس کے اخراجات میں کمی آئے گی، بین الاقوامی تجارت کو فروغ ملے گا اور پاکستان کی معاشی ترقی میں بھی مدد ملے گی۔

اسحاق ڈار کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی اور سفارتی کامیابی ہے &nbsp;&quot;الحمدللہ&quot;۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/warrisk1785523446-0/warrisk1785523446-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں ردوبدل، نوٹیفکیشن جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825058/petrol-diesel-prices-notification-issued-2825058/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825058/petrol-diesel-prices-notification-issued-2825058/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:16:25 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ضیغم نقوی]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825058</guid>
			<description>
				<![CDATA[وزارت توانائی کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں معمولی کردی اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا۔

وزارت توانائی (پیٹرولیم ڈویژن) سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے لیے بنائے گئے طریقہ کار کے تحت نئی قیمتوں کا تعین کیا ہے۔

نوٹیفکیشن میں بتایا گیا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمت کا اطلاق یکم اگست 2026 سے 3 اگست 2026 تک ہوگا۔

اوگرا نے ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں صرف 66 پیسے اور پیٹرول کی قیمت میں 12 پیسے کی کمی کردی ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر نئی قیمت 392 روپے 38 پیسے اور پیٹرول کی قیمت 336 روپے 3 پیسے مقرر کی گئی ہے جبکہ گزشتہ روز بالترتیب 393 روپے 4 پیسے اور 336 روپے 15 پیسے کردی گئی تھی۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/petroleum1774358515-0/petroleum1774358515-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>فیفا ورلڈ کپ: یورپی ممالک کے شرکت نہ کرنے پر سپر کمپیوٹر کی انوکھی پیش گوئی!</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825056/how-world-cup-2030-would-look-with-england-and-uefa-boycotting-2825056/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825056/how-world-cup-2030-would-look-with-england-and-uefa-boycotting-2825056/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:02:34 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[دلچسپ و عجیب]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825056</guid>
			<description>
				<![CDATA[یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے مجوزہ منصوبوں پر بحث جاری ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ایک سپر کمپیوٹر نے پیش گوئی کی ہے کہ اگر مستقبل کے فیفا ورلڈ کپ میں یورپی ممالک شرکت نہ کریں تو نائجیریا پہلی بار سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

یہ پیش گوئی اس وقت سامنے آئی ہے جب فیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کے مجوزہ منصوبوں پر بحث جاری ہے۔

رپورٹس کے مطابق ان منصوبوں کے جواب میں یو ای ایف اے نے عندیہ دیا ہے کہ اگر یہ تجاویز نافذ ہوئیں تو تمام یورپی ممالک (جن میں انگلینڈ بھی شامل ہے) مستقبل کے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کریں گے۔

سپر کمپیوٹر (جسے کسینو ہاکس) سمیولیشن کے مطابق یورپی ٹیموں کی عدم موجودگی چھوٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیموں کے لیے سنہری موقع ثابت ہو سکتی ہے۔

پیش گوئی میں کہا گیا ہے کہ نائجیریا کی سپر ایگلز (جن کی قیادت اسٹرائیکر وکٹر اوسیمین کریں گے) 2030 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل تک پہنچ جائیں گی۔

اگر ایسا ہوتا ہے تو نائجیریا سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی صرف دوسری افریقی ٹیم بن جائے گی۔ اس سے قبل مراکش نے 2022 ورلڈ کپ میں یہ اعزاز حاصل کیا تھا۔

پیش گوئی کے مطابق نائجیریا کا سفر سیمی فائنل میں برازیل کے ہاتھوں اختتام پذیر ہوگا جبکہ فائنل میں ارجنٹینا برازیل کو شکست دے کر عالمی چیمپئن بنے گا۔

واضح رہے کہ یہ تمام اندازے سپر کمپیوٹر کی سمیولیشن پر مبنی ہیں اور ان کا حقیقی نتائج سے مختلف ہونا ممکن ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/worldcup1785522786-0/worldcup1785522786-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی پورٹ میں کارگو ہینڈلنگ کا نیا ریکارڈ قائم، اعداد وشمار جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825055/karachi-port-cargo-handling-new-record-state-issued-2825055/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825055/karachi-port-cargo-handling-new-record-state-issued-2825055/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:44:54 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[بزنس رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825055</guid>
			<description>
				<![CDATA[بندرگاہ سے 55.44 ملین ٹن کارگو گزرا جو گزشتہ مالی سال کے 53.95 ملین ٹن کے مقابلے میں 2.76 فیصد زیادہ ہے، کے پی ٹی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) میں مالی سال 26-2025 کے دوران اپنی کارکردگی میں نمایاں بہتری لاتے ہوئے کارگو، کنٹینرز اور جہازوں کی ہینڈلنگ کے تمام پرانے ریکارڈ ٹوٹ گیے ہیں اور اس حوالے سے اعداد وشمار جاری کردیے گئے ہیں۔

کے پی ٹی کی جانب سے جاری سالانہ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران بندرگاہ سے مجموعی طور پر 55.44 ملین ٹن کارگو گزرا جو گزشتہ مالی سال کے 53.95 ملین ٹن کے مقابلے میں 2.76 فیصد زیادہ ہے، اس اضافے کی بنیادی وجہ درآمدات میں خاطر خواہ اضافہ رہا جبکہ برآمدات میں کچھ کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مالی سال 26-2025 میں درآمدات 35.91 ملین ٹن رہیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.82 فیصد زیادہ ہیں، درآمدات میں اس اضافے کا بڑا سبب ڈرائی بلک کارگو میں 66.8 فیصد اور لیکوئیڈ بلک کارگو میں 4.99 فیصد کا اضافہ ہے۔

دوسری جانب برآمدات 20.01 ملین ٹن سے کم ہو کر 19.53 ملین ٹن رہ گئیں جو 2.44 فیصد کی کمی ظاہر کرتی ہیں، برآمدات میں کمی کی بڑی وجہ ڈرائی جنرل کارگو کی ترسیل میں کمی ہے تاہم لیکوئڈ بلک کی برآمدات میں 17.36 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

مزید بتایا گیا کہ مجموعی طور پر درآمدات اور برآمدات کے درمیان فرق بڑھ کر 16.4 ملین ٹن ہو گیا ہے جو ملکی تجارتی خسارے کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

کے پی ٹی کے مطابق کنٹینر سیکٹر میں بھی نئی تاریخ رقم ہوئی اور رواں سال 2.75 ملین TEUs کنٹینرز ہینڈل کیے جو پچھلے سال کے مقابلے میں 3.67 فیصد زیادہ ہیں، درآمدی کنٹینرز 4.28 فیصد اضافے کے ساتھ 1.422 ملین TEUs اور برآمدی کنٹینرز 3.03 فیصد اضافے کے ساتھ 1.327 ملین TEUs رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ کنٹینر ٹرمینلز میں جنوبی ایشیا پاکستان ٹرمینل لمیٹڈ 59.6 فیصد شیئر کے ساتھ سب سے آگے رہا، کراچی انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل کا حصہ 24.7 فیصد اور کراچی گیٹ وے ٹرمینل لمیٹڈ کا حصہ 15.5 فیصد رہا، تینوں نجی ٹرمینلز نے گزشتہ سال کے مقابلے میں مثبت نمو ظاہر کی۔

کے پی ٹی نے بتایا کہ بندرگاہ پر جہازوں کی آمد میں بھی 7.36 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، مالی سال 26-2025 کے دوران کے پی ٹی پر مجموعی طور پر 2,115 جہاز آئے جبکہ گزشتہ سال یہ تعداد 1,970 تھی، آئل ٹینکرز کی آمد میں 12.83 فیصد اور بلک کیریئرز کی آمد میں 12.96 فیصد اضافہ ہوا جو لیکوئیڈ اور ڈرائی بلک کارگو میں اضافے کی واضح عکاسی کرتا ہے، کنٹینر شپس کی آمد بھی 4.57 فیصد بڑھ کر 1,145 ہو گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی طور پر مالی سال 26-2025 کراچی پورٹ ٹرسٹ کے لیے ایک کامیاب سال رہا جس میں ریکارڈ 55.44 ملین ٹن کارگو ہینڈل کیا گیا، توانائی اور بلک کارگو نے مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/171391-KPTcopy-1378388837/171391-KPTcopy-1378388837.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی؛ ٹریلر نے موٹرسائیکل سواروں کو کچل دیا، نوجوان جاں بحق</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825053/karachi-trailer-crush-motorcyclists-young-boy-killed-2825053/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825053/karachi-trailer-crush-motorcyclists-young-boy-killed-2825053/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:36:13 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[منور خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825053</guid>
			<description>
				<![CDATA[شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں 4 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، حکام]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی کے علاقے موچکو یوسف گوٹھ بس ٹرمینل کے قریب ٹریلر نے موٹر سائیکل سوار 3 افراد کو روند ڈالا جس کے نتیجے میں نوجوان جاں بحق اور 2 افراد زخمی ہوگئے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں 4 پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگئے۔

ایس ایچ او سہیل فاروق نے بتایا کہ ٹریلر کی ٹکر سے جاں بحق نوجوان کی شناخت 18 سالہ رحمان اور زخمیوں کی 23 سالہ شہریار اور 32 سالہ زین کے نام سے شناخت ہوئی ہے، جنہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس نے حادثے کے ذمہ دار ڈرائیور زمان کو گرفتار کر کے ٹریلر اور متوفی کی موٹر سائیکل قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دی اور اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

ادھر گلشن معمار کے علاقے ناردن بائی پاس عباس کٹ کے قریب ٹریفک حادثے میں موٹر سائیکل سوار مدد گار 15 پولیس کا اہلکار خالد زخمی ہوگیا، جسے طبی امداد کے لیے نجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ایس ایچ او گلشن معمار محمد علی نیازی نے بتایا کہ حادثہ رکشے کی ٹکر سے پیش آیا ہے جس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا تاہم پولیس نے رکشا اپنے قبضے میں لے کر ڈرائیور کی تلاش شروع کر دی ہے۔

کلفٹن میں بلاول چورنگی کے قریب ٹریفک حادثے میں ایک اور پولیس اہلکار زخمی ہوگیا، ایس ایچ او بوٹ بیسن ریاض نیازی کا کہنا تھا کہ حادثہ کار کی ٹکر سے پیش آیا ہے جس کے ڈرائیور کو پولیس نے حراست میں لے کر کار قبضے میں لے لی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زخمی کی شناخت ہیڈ کانسٹیبل محبوب کے نام سے ہوئی ہے جو اسپیشل برانچ میں تعینات ہے اور حادثے کے وقت موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

حکام کے مطابق بلدیہ نمبر 2 پولیس چوکی کے قریب ٹریفک حادثے میں پولیس اہلکار 35 سالہ جاوید اور نمائش چورنگی کے قریب ٹریفک حادثے میں نامعلوم گاڑی کی ٹکر سے ٹریفک پولیس اہلکار اکرم زخمی ہوگئے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/011785519499-0/011785519499-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کرکٹر شبھمن گل کی بہن شہنیل ریئلٹی شو میں انٹری کے لیے تیار، بولڈ انداز نے توجہ حاصل کرلی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825051/cricketer-shubman-gill-sister-shahneel-is-ready-to-enter-the-reality-show-2825051/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825051/cricketer-shubman-gill-sister-shahneel-is-ready-to-enter-the-reality-show-2825051/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:29:11 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825051</guid>
			<description>
				<![CDATA[شہنیل گل اب تک زیادہ تر عوامی زندگی سے دور رہی ہیں اور اپنے بھائی کے میچز میں سپورٹ کرتی دکھائی دیتی تھیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[بھارتی کرکٹر شبھمن گل کی بہن شہنیل گل اب ریئلٹی شوز کی دنیا میں قدم رکھنے جا رہی ہیں۔ وہ مقبول ریئلٹی شو &rsquo;دی ٹریٹرز&lsquo; کے دوسرے سیزن کا حصہ بن رہی ہیں، جس کے شرکاء کا باضابطہ تعارف 30 جولائی کو ایک خصوصی تقریب کے دوران کرایا گیا۔

کرکٹ مداحوں کے لیے شہنیل گل کوئی نیا نام نہیں۔ وہ اکثر اپنے بھائی شبھمن گل کے میچز کے دوران ان کی حمایت کرتی دکھائی دیتی رہی ہیں، تاہم اس بار وہ اپنی الگ شناخت کے ساتھ اسکرین پر نظر آنے والی ہیں اور پہلی مرتبہ کسی بڑے ریئلٹی شو میں شریک ہو رہی ہیں۔

رواں برس یہ دوسرا موقع ہے جب کسی بھارتی کرکٹر کے خاندان کا فرد کسی بڑے ریئلٹی پروگرام کا حصہ بنا ہے۔ اس سے قبل شریاس ایئر کی بہن شریستا ایئر بھی نیٹ فلکس کے ریئلٹی شو &rsquo;لاک اپ&lsquo; کے دوسرے سیزن میں شریک ہو چکی ہیں۔

گزشتہ روز &rsquo;دی ٹریٹرز سیزن 2&lsquo; کی لانچ ویڈیو منظر عام پر آئی تو شہنیل گل کے تعارف نے فوری طور پر ناظرین کی توجہ حاصل کر لی۔ ویڈیو میں ان کا جملہ &rsquo;&rsquo;میرا نام گل ہے اور مجھے معلوم ہے کہ وار کیسے کرنا ہے&lsquo;&lsquo; سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہوگیا، جبکہ کرکٹ شائقین نے شبھمن گل کی بہن کے اس نئے اور پراعتماد انداز کو خوب سراہا۔

شہنیل گل اب تک زیادہ تر عوامی زندگی سے دور رہی ہیں اور اپنے بھائی کے میچز میں سپورٹ کرتی دکھائی دیتی تھیں، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ وہ ایک بڑے تفریحی پلیٹ فارم پر بطور شریک سامنے آ رہی ہیں۔

ریئلٹی شو میں شہنیل گل کے ساتھ کئی معروف شخصیات بھی شریک ہوں گی، جن میں ملیکا شیراوت، منور فاروقی، ریا چکرورتی، کرسٹل ڈی سوزا، پارول گلاٹی، معروف شیف رنویر برار، سینئر اداکار دلیپ تاہل، ہرمن سنگھا اور تانیا پوری شامل ہیں۔ مداح اب یہ دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں کہ کرکٹ کے میدان سے جڑی یہ پہچان ریئلٹی شو میں کس حد تک اپنی الگ شناخت بنانے میں کامیاب ہوتی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/shubhman-gil1785519467-0/shubhman-gil1785519467-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>انٹرمیڈیٹ سائنس پری میڈیکل، آرٹس پرائیویٹ، ہوم اکنامکس کے امتحانات نتائج کا اعلان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825050/announcement-of-results-for-intermediate-science-pre-medical-arts-private-and-home-economics-examinations-2825050/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825050/announcement-of-results-for-intermediate-science-pre-medical-arts-private-and-home-economics-examinations-2825050/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:23:06 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[اسٹاف رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کراچی]]></category><category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825050</guid>
			<description>
				<![CDATA[پری میڈیکل گروپ کے امتحانات میں پہلی دو پوزیشنیں سرکاری کالجوں کی طالبات نے حاصل کی، چیئرمین انٹربورڈ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے انٹرمیڈیٹ بارہویں جماعت سائنس پری میڈیکل، آرٹس پرائیویٹ، خصوصی امیدواروں (آرٹس ریگولر) اور ہوم اکنامکس گروپس کے سالانہ امتحانات برائے 2026ء کے نتائج کا اعلان کردیا۔

چیئرمین انٹربورڈ کراچی فقیر محمد لاکھو نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال پری میڈیکل گروپ کے امتحانات میں پہلی دو پوزیشنیں سرکاری کالجوں کی طالبات نے حاصل کی ہیں جو خوش آئند بات ہے، نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ سرکاری کالجوں کی تعلیم پر لوگوں کا اعتماد بڑھ رہا ہے۔

چیئرمین انٹربورڈ نے بتایا کہ پری میڈیکل گروپ کے امتحانات میں بی اے ایم ایم پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج فار ویمن کی طالبہ حفصہ خان بنت محمد عاطف الیاس خان رول نمبر 318315 نے ٹوٹل 1100نمبرز میں سے 1011نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ پہلی پوزیشن، اسی کالج کی طالبہ ہدیٰ سرور بنت محمد سرور خان رول نمبر 318564 نے 1007نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ دوسری پوزیشن جبکہ بحریہ کالج (کارساز) کی طالبہ آمنہ عزیز بنت عبدالعزیز رول نمبر 327073 نے 1004 نمبرزاے ون گریڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔



ناظم امتحانات زرینہ راشد نے نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ پری میڈیکل گروپ کے امتحانات میں 23ہزار 613 نے رجسٹریشن حاصل کی جبکہ23ہزار 7 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 14ہزار &nbsp;134 امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 61.43فیصد رہا،&nbsp;ان امتحانات میں 2255امیدوار اے ون گریڈ، 3490 اے گریڈ، 3812بی گریڈ، 3201سی گریڈ، 1323 ڈی گریڈ میں جبکہ 53امیدوار ای گریڈ میں کامیاب ہوئے۔

چیئرمین بورڈ فقیر محمد لاکھو نے بتایا کہ آرٹس پرائیویٹ گروپ کے امتحانات میں بھی پہلی تینوں پوزیشنز طالبات نے حاصل کیں۔ ان امتحانات میں رافعہ شعیب جالی والا بنت شعیب اقبال جالی والا رول نمبر 474284 نے ٹوٹل 1100نمبرز میں سے 925نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ پہلی پوزیشن حاصل کی۔ الماس فاطمہ بنت محمد خالد رول نمبر 474195 اور خانسا رضا بنت محمد رضا رول نمبر 474427 نے &nbsp;902نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ مشترکہ طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی جبکہ عامرہ شعیب جالی والا بنت محمد شعیب جالی والا رول نمبر &nbsp;474280 نے 901نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔



انہوں نے مزید بتایا کہ ہوم اکنامکس کے امتحانات میں رعنا لیاقت علی خان گورنمنٹ کالج آف ہوم اکنامکس کی طالبہ ازکی عمران بنت محمد عمران رول نمبر 497037 نے ٹوٹل 1200 میں سے 973نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ پہلی پوزیشن، عائلہ انور بنت انور عبدالحئی رول نمبر 497008 نے 968 نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ دوسری پوزیشن اور یمنیٰ شارق بنت شارق لئیق رول نمبر 497183نے 953نمبرز اے گریڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔



&nbsp;

چیئرمین انٹربورڈ نے خصوصی امیدواروں (آرٹس ریگولر) کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ ان امتحانات میں ابصا ہائیرسیکنڈری اسکول کے طالب علم سید حماد علی ولد سید منہاج احمد رول نمبر 85086 نے ٹوٹل 1100میں سے 1004نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ پہلی پوزیشن،دیوا ہائیر سیکنڈری اسکول کے طالب علم طحہٰ احمد ولد واصل احمد رول نمبر 85061 نے 990نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ دوسری پوزیشن اور اسی اسکول کی طالبہ مریم بی بی بنت تنویر احمد رول نمبر 85537 نے 985 نمبرز اے ون گریڈ کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی۔

ناظم امتحانات زرینہ راشد نے نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ آرٹس پرائیویٹ گروپ میں 2ہزار 312امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کی، 2ہزار 236امیدوارامتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 1ہزار 119امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 50.04فیصد رہا۔ان امتحانات میں 7امیدوار اے ون گریڈ، 80اے گریڈ، 200 بی گریڈ، 393 سی گریڈ، 376 ڈی گریڈاور38امیدوار ای گریڈ میں کامیاب قرار پائے جبکہ25امیدوار پاس ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ ہوم اکنامکس گروپ کے امتحانات میں 264 امیدوار رجسٹرڈ ہوئے، 263 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 138امیدوار کامیاب ہوئے اس طرح کامیابی کا تناسب 52.47فیصد رہا۔ ان امتحانات میں 2امیدوار اے ون گریڈ، 21اے گریڈ، 51 بی گریڈ، 44 سی گریڈ، 19ڈی گریڈ اورایک امیدوارای گریڈ میں کامیاب ہوئے۔



انہوں نے مزید بتایا کہ خصوصی امیدواروں (آرٹس ریگولر) کے امتحانات میں 124 امیدواروں&nbsp;نے رجسٹریشن حاصل کی، 121امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 116امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 95.87فیصد رہا۔&nbsp; ان امتحانات میں 36امیدوار اے ون گریڈ، 67 اے گریڈ، 10بی گریڈ، 2سی گریڈ جبکہ 1امیدوار ڈی گریڈ میں کامیاب ہوا۔

نتائج بورڈ کی ویب سائٹ &nbsp;www.biek.edu.pk &nbsp;پر اپ لوڈ کردیئے گئے ہیں۔ امیدوا ر اپنے نتائج اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کی آفیشل اینڈرائڈ ایپ پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ اینڈرائڈ ایپ کو گوگل پلے اسٹور پر BIEK &nbsp;کے نام سے سرچ کر کے موبائل میں انسٹال کیا جاسکتا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2725847-interboardkarachi-1729080348/2725847-interboardkarachi-1729080348.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>عمر، خوبصورتی اور کاسمیٹک سرجری؛ متھیرا نے پہلی بار کھل کر سب کچھ بتا دیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825049/age-beauty-and-cosmetic-surgery-mathira-reveals-everything-openly-for-the-first-time-2825049/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825049/age-beauty-and-cosmetic-surgery-mathira-reveals-everything-openly-for-the-first-time-2825049/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:22:14 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825049</guid>
			<description>
				<![CDATA[متھیرا نے یہ بھی بتایا کہ وہ وقتاً فوقتاً معمولی مقدار میں فلرز اور بوٹوکس کا استعمال کراتی ہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستانی ٹی وی میزبان، اداکارہ اور سوشل میڈیا شخصیت متھیرا نے اپنی عمر اور کاسمیٹک طریقۂ علاج سے متعلق پہلی بار کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی شخصیت، عمر اور زندگی کے ہر مرحلے پر پُراعتماد ہیں۔

حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران متھیرا نے بتایا کہ ان کی عمر 34 برس ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہر بات ایمانداری سے کرنا پسند کرتی ہیں اور انہیں اپنی عمر چھپانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ ان کے بقول وہ آج بھی خود کو پراعتماد خاتون سمجھتی ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ انسان ہمیشہ جوان نہیں رہ سکتا، اس لیے عمر بڑھنے کو فطری حقیقت کے طور پر قبول کرنا چاہیے۔

متھیرا کا کہنا تھا کہ شہرت قسمت سے ملتی ہے اور ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسی نے لانچ نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی شناخت خود بنائی ہے، اسی لیے انہیں نہ مستقبل کی فکر ہے اور نہ ہی بڑھتی عمر کا خوف۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ عوامی شخصیت ضرور ہیں، لیکن اپنی نجی زندگی کو ہمیشہ ذاتی رکھنا پسند کرتی ہیں، جبکہ وزن یا ظاہری شکل پر ہونے والی تنقید بھی انہیں متاثر نہیں کرتی۔

اداکارہ نے اس موقع پر یہ اعتراف بھی کیا کہ انہوں نے چند کاسمیٹک طریقۂ علاج کروا رکھے ہیں۔ ان کے مطابق ایک حادثے کے باعث ان کی ناک کی ہڈی متاثر ہوگئی تھی، جس کے بعد انہوں نے ترکی میں ناک کی سرجری کرائی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ وقتاً فوقتاً معمولی مقدار میں فلرز اور بوٹوکس کا استعمال کراتی ہیں۔



متھیرا نے مزید انکشاف کیا کہ تقریباً 15 سال قبل انہوں نے معمولی لیپوسکشن بھی کروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ خواتین اتنی آسانی سے بوڑھی نہیں ہوتیں اور عمر بڑھنے کو منفی انداز میں پیش کرنا درست نہیں۔

انہوں نے عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ شکیرا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی بھرپور انداز میں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ متھیرا کے مطابق معاشرے نے خواتین کی عمر بڑھنے کو غیرضروری طور پر منفی تصور بنا دیا ہے، حالانکہ یہ زندگی کا ایک فطری مرحلہ ہے اور اسے شرمندگی کے بجائے اعتماد کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/mathira-11785518617-1/mathira-11785518617-1.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>لاہور؛ گھریلوے جھگڑے کے دوران بیٹے کے ہاتھوں بزرگ ماں کا قتل</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825048/lahore-domestic-clash-son-killed-his-mother-2825048/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825048/lahore-domestic-clash-son-killed-his-mother-2825048/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:14:12 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[جرائم]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825048</guid>
			<description>
				<![CDATA[ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں اور مقتولہ کی عمر 80 سال ہے، پولیس]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[لاہور کے علاقے نواب ٹاؤن میں گھریلوے جھگڑے کے دوران بیٹے نے چھری کے وار سے بزرگ ماں کو قتل کردیا۔

لاہور پولیس نے بتایا کہ واقعہ نواب ٹاؤن میں پیش آیا جہاں ملزم نے چھری کے وار سے والدہ کو قتل کیا تاہم ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم ذہنی مریض ہے اور اس کی عمر 55 سال ہے۔

واقعے کے حوالے سے پولیس کا کہنا تھا کہ گھر میں جھگڑے کے دوران ملزم نے چھری ماری جو گردن پر لگی، جس کے بعد ملزم مفرور ہے۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں اور یہ افسوس ناک واقعہ جوڈیشل کالونی کے علاقے میں پیش آیا۔

پولیس نے مزید بتایا کہ مقتولہ 80 سالہ سلمہ لطیف کی لاش مردہ خانہ منتقل کی جارہی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/3-murders1776384220-0/3-murders1776384220-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825045/international-market-oil-prices-increases-2825045/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825045/international-market-oil-prices-increases-2825045/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 11:38:39 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825045</guid>
			<description>
				<![CDATA[ایران نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز روک دیے گئے  جبکہ 4 جہازوں نے روٹ تبدیل کردیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث آج تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

غیرملکی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ ایران کی جانب آبنائے ہرمز سے گزرنے کی کوشش کرنے والے دو جہازوں کو روکنے کے بیان کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں اضافے کا رجحان غالب رہا۔

عالمی مارکیٹ میں برینٹ کی قیمت میں 1.104 ڈالر یا 1.3 فیصد اضافہ ہوا اور فی بیرل قیمت بڑھ کر 90.17 ڈالر ہوگئی ہے۔

قبل ازیں ایران کی خبرایجنسی نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائےہرمز سے گزرنے والے دو آئل ٹینکرز روک دیے ہیں جبکہ دیگر 4 جہازوں نے اپنی سمت تبدیل کردی ہے۔

ایران نے کارروائیوں کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ کویت میں ایئربیس پر حملہ کیا گیا جہاں امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/iranian-petroleum1779312596-0/iranian-petroleum1779312596-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>میر رضا علی قتل کیس میں پیشرفت، مقتول کا موبائل مل گیا، پولیس کی لاش پر تشدد اور جھلسنے کی تردید</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825044/mir-ali-raza-case-development-2825044/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825044/mir-ali-raza-case-development-2825044/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 11:38:25 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ساجد رؤف]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[کراچی]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825044</guid>
			<description>
				<![CDATA[میر علی کو ایک گولی سامنے سے سینے پر ماری گئی، پولیس کا پچاس فیصد کیس حل کرنے کا بھی دعویٰ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی میں اغوا کے بعد بہیمانہ طریقے سے قتل ہونے والے نوجوان میر رضا علی کے کیس میں اہم پیشرفت ہوئی، پولیس نے موبائل اور وقوعہ لاش سے اسلحہ کور برآمد کرلیا جبکہ لاش جھلسی ہوئی یا تشدد زدہ ہونے کی تردید کی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پی ای سی ایچ ایس سوسائٹی کے رہائشی نوجوان اور آئی بی اے کے طالب علم میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کا عمل جاری ہے۔

مقتول نوجوان کی لاش بدھ کو گلستان جوہر بلاک ون میں پہاڑی کے مقام سے ملی تھی جو اپنی رہائش گاہ سے منگل اور بدھ کی درمیانی شب آن لائن ٹیکسی کے ذریعے گیا تھا جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگیا تھا۔

ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کے افسران اور کرائم سین یونٹ نے گزشتہ روز جائے وقوعہ سمیت ملحقہ مقامات کا دورہ کیا جہاں سے پولیس کو مقتول کا آئی فون مل گیا اس کے علاوہ پولیس کو جائے وقوعہ سے اسلحے کا کور (پاؤچ) بھی ملا ہے۔

پولیس مقتول کے موبائل نمبر کا سی ڈی آر حاصل کر کے پولیس اس کا روٹ میپ مرتب کر رہی ہے۔

پولیس سرجن کا کہنا ہے کہ مقتول کو سینے پر لگنے والی گولی دوسری جانب سے پار ہوگئی تھی تاہم جسم پر تشدد یا جھلسانے کے کوئی شواہد موجود نہیں ہے۔

مقتول نوجوان میر رضا علی کے قتل کی تفتیش کے لیے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے والی ٹیم میں ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ایسٹ زیبر نواز شیخ ، ایس پی گلشن اقبال غلام شبیر سرکی ، ایس ایچ او فیروز آباد عدیل افضال سمیت دیگر تفتیشی و کرائم سین ماہرین بھی موجود تھے۔

تفتشی ٹیم اور کرائم سین یونٹ نے جائے وقوعہ کے اطراف سرچنگ کر کے مزید شواہد حاصل کیے، تفتیشی ٹیم کو مقتول نوجوان کا آئی فون جائے وقوعہ سے تقریباً 200 میٹر دور نصیر ٹاور اپارٹمنٹ کے عقب سے مل گیا جس پر پاس وڈ لگا ہوا ہے۔

پولیس موبائل کھلوانے کی کوششیں کر رہی ہے جبکہ کال ڈیٹا ریکارڈ سے سامنے آنے والے 50 نمبروں کی چھان بین کررہی ہے۔

تفتیشی ٹیم نے کال ڈیٹا ریکارڈ (سی ڈی آر) کی مدد سے مقتول کا روٹ میٹ تیار کرنے کے بعد دستیاب سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر کے باریک بینی سے تفتیش شروع کردی۔

تفتیشی حکام نے حاصل شدہ موبائل فون نمبروں سے 50 فیصد سے زائد کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا جبکہ ابتدائی تفتیش کے دوران آن لائن ٹیکسی ڈرائیور، مقتول کے پارٹنر اور کیس سے جڑے دیگر افراد کے بیانات بھی قلم بند کیے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پولیس نے مقتول کی منگیتر کو بھی بیان کے لیے طلب کیا ہے۔ کرائم سین یونٹ کو جائے وقوعہ پر سرچنگ کے دوران پستول کا کور (پاؤچ) بھی ملا ہے جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر مقتول کے قتل میں استعمال کیے جانے والے اسلحے کا ہوسکتا ہے تاہم پولیس اس حوالے سے مزید جائزہ لے رہی ہے۔

پولیس کی جانب سے جائے وقوعہ کے قریب جھاڑیوں کو بھی کاٹ کا مزید شواہد حاصل کیے جا رہے ہیں ، تفتیشی ٹیم واردات میں استعمال کیے جانے والے اسلحے کو بھی سرگرمی سے تلاش کر رہی ہے۔

دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایکسپریس کو بتایا کہ مقتول نوجوان کی لاش نہ جلی ہوئی تھی اور نہ ہی اس کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے، مقتول نوجوان کو سامنے سینے سے گولی لگی دوسری جانب عقب سے پار ہو گئی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کو ایک ہی گولی لگی جو اس کی موت کی وجہ بنی، نوجوان کی لاش ڈی کمپوز ہونا شروع ہو چکی تھی جبکہ مقتول نوجوان کے خون آلود کپڑوں سے خون کے نمونے حاصل کر کے کیمیکل کے لیے بھجوا دیئے گئے ہیںْ

واضح رہے کہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2 کا رہائشی نوجوان میر رضا علی آئی بی اے کا طالب علم اور گزشتہ 5 سال سے اپنا ذاتی کام کر رہا تھا جس کی بہادر آباد اور نارتھ ناظم آباد میں وافلکس کے نام سے آؤٹ لیٹس تھیں اور وہ تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نئی جدت اور آئیڈیاز سے اپنے کاروبار کو تیزی سے فروغ دے رہا تھا۔

اس کے اس بہیمانہ قتل پر اہلخانہ کا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ انھیں انصاف فراہم کیا جائے ان کا اکلوتا بیٹا اب تو اس دنیا میں نہیں رہا لیکن قاتلوں کو کیفر کردار تک ضرور پہنچایا جائے ۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/miraliraza1785517758-0/miraliraza1785517758-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایران میں کرکٹ کی فروغ، پاکستان کے تعاون سے اقدامت کیے جائیں گے</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825043/pak-iran-cricket-2825043/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825043/pak-iran-cricket-2825043/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 11:36:00 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ذبیر نذیر خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825043</guid>
			<description>
				<![CDATA[پاکستان اور ایران کے درمیان کرکٹ تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان کے تعاون سے ایران میں کرکٹ کے فروغ کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ ایشین کرکٹ کونسل اور&nbsp;پی سی بی کی جانب سے ایران میں کھیل کی ترقی کے لیے مختلف شعبوں میں عملی مدد کی جائے گی۔

اس امر کا اصولی فیصلہ پاکستان- ایران کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر حسین مختاری&nbsp; کی&nbsp; پی سی بی کے چیئرمین اور اے سی سی کے صدر محسن نقوی سے ملاقات میں کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق دوران ملاقات پاکستان اور ایران کے درمیان کرکٹ تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اس&nbsp;موقع پر کرکٹ کے اہم شعبوں بشمول تکنیکی تعاون، کوچ اور امپائر کی تربیت، کھلاڑیوں کی صلاحیتوں اور اہلیت میں اضافہ، پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایشین کرکٹ کونسل دونوں کے تعاون سے ایران میں کرکٹ کی ترقی کو تیز کرنے کے اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/cricket1785515917-0/cricket1785515917-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>انگلینڈ میں مسجد کے باہر فائرنگ کے بعد ایک شہری گرفتار</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825042/england-firing-out-side-the-masjid-one-person-arrested-2825042/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825042/england-firing-out-side-the-masjid-one-person-arrested-2825042/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 11:02:14 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825042</guid>
			<description>
				<![CDATA[واقعے کے پیچھے محرکات کے حوالے سے اس وقت کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا، پولیس]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[انگلینڈ کی کاؤنٹی شمالی یارکشائر کے قریب واقع شہر یارک میں واقع یارک مسجدی کے باہر فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک شہری کو گرفتار کرلیا گیا۔

برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ یارک شہر کی مسجد کے باہر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے بعد 44 سالہ شہری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ یارک شہر کے علاقے بل لین پر واقع یارک مسجد اور اسلامی مرکز کے باہر پیش فائرنگ کا واقعہ جمعرات کو پیش آیا تاہم اس واقعے میں کسی نقصان نہیں پہنچا۔

شمالی یارک شائر پولیس نے بتایا کہ فائرنگ کے واقعے کے بعد ایک سفید فام برطانوی شہری کو گرفتار کیا گیا ہے جو مقامی شہری ہے اور واقعے میں استعمال کیا گیا اسلحہ ممکنہ طور پر ایئر گن کی طرح ایئر ویپن تھا اور ملزم ایک سلور رنگ کی گاڑی میں وہاں سے روانہ ہوا، جس کا سراغ لگا کر گرفتار کر لیا گیا۔

پولیس نے بتایا کہ مبینہ طور پر فائرنگ کرنے والا شخص اس وقت تفتیش کے لیے پولیس حراست میں ہے۔

نارتھ یارک شائر پولیس نے کہا کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ اس تشویش ناک واقعے کی کیا وجوہات تھیں تاہم یارک کی مسلمان برادری کو یقین دلایا جا سکتا ہے کہ واقعے کے تمام حالات و وجوہات کا سراغ لگانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہے ہیں۔

پولیس نے بتایا کہ مسجد کے قریبی علاقے میں گشت جاری رکھا جائے گا اور خاص طور پر اس وقت جب لوگ نماز کے لیے آتے ہیں اور اس سلسلے میں پولیس افسران مسجد کے امام سے بھی ملاقات کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عینی شاہدین اور جن کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے یا ایسے ڈرائیور جن کے پاس ڈیش کیم کی ریکارڈنگ ہے، سب سے کہا گیا ہے کہ وہ شمالی یارک شائر پولیس یا کرائم اسٹاپرز کو اس حوالے سے مطلع کریں۔

&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/england-masjid1785513890-0/england-masjid1785513890-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>پی این فلیٹ کلب اوپن انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ کا آغاز</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825041/squash-championship-2825041/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825041/squash-championship-2825041/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 10:48:31 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ذبیر نذیر خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825041</guid>
			<description>
				<![CDATA[چیمپئن شپ کے پہلے روز 8 میں سے 4 میچز میں اپ سیٹ ہوئے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پی این فلیٹ کلب اوپن انٹرنیشنل اسکواش چیمپئن شپ کا آغاز ہو گیا۔

پی این روشن خان، جہانگیرخان انٹرنیشنل اسکواش کمپلیکس پر 41 ہزار ڈالرز کی انعامی رقم کی چیمپئن شپ کے پہلے روز 8میں سے 4 میچز میں اپ سیٹ ہوئے۔

سابق عالمی جونیئر چیمپئن اور عالمی نمبر 129 حمزہ خان نے عالمی نمبر 85 امریکا کے شاہ جہاں خان کو0-3 سے ہرا کر اپ سیٹ کیا۔ سابق قومی چیمپئن اور عالمی نمبر 124 ناصر اقبال نےعالمی نمبر 108 سوئزرلینڈ کے لوائی حفیظ کو 0-3 سے اپ سیٹ مات دی،عالمی نمبر 123جاپان کے ناؤ کی حیاشی نے عالمی نمبر 106مصر کے سیف تیمور کو سخت مقابلے کے بعد 2-3 اور عالمی نمبر 139 مصر کے علی طلبہ نے عالمی نمبر 84 ملائیشیا کے ڈنکن لی کو 0-3 سے اپ سیٹ شکست دی۔

دیگر مقابلوں میں عالمی نمبر 100 برازیل کے ڈیگو گوپی نے عالمی نمبر 138جاپان کےٹوموٹا کو0-3اور عالمی نمبر 112 ملائشیا کے ہی زیان سیو نے عالمی نمبر131 مصر کے خالد لبیب کو 1-3 سے قابو کیا۔

&nbsp;ورلڈ کارڈ انٹری پانے والے پاکستان کے انس خان کو عالمی نمبر 79 ہانگ کانگ کے میتھیو لائی نے سخت جدوجہد کے بعد 2-3سے ہرا دیا جبکہ ورلڈ کارڈ انٹری پانے والے دوسرے پاکستانی عبدالسعید کو عالمی نمبر 119 مصر کے عبداللہ حفیظ نے0-3سے ہرا دیا۔

&nbsp;دوسرے راؤنڈ میں ہفتہ کو ٹاپ سیڈ وعالمی نمبر 29 نور زمان کا ڈیگو گوبی، سیڈ2اور عالمی نمبر 49 مصر کے کریم الحمامی کا ہم وطن علی طلبہ، سیڈ 3و عالمی نمبر 56 مصر کے سلیمان خلیل کا ہی زیان سو،سیڈ 4 و عالمی نمبر 65 سوئزرلینڈ کے ڈیوڈ برنیٹ کا حمزہ خان، سیڈ 5 و عالمی نمبر67 مصر کے یاسین شودی کا حمزہ خان سیڈ 6 و عالمی نمبر 71 مصر کے محمد نصیر کا ناؤ کی حیاشی،سیڈ 7و عالمی نمبر 75 مصر کے یاسین الشافی کا ہم وطن عبداللہ حفیظ اور سیڈ و عالمی نمبر 77 پاکستان کے محمد عاصم خان کا میتھیو لائی سے مقابلہ ہوگا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/raquet1785513092-0/raquet1785513092-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>محسن نقوی نے نظام کی ناکامی کا آج اعتراف کیا اور مولانا کب سے کہہ رہے ہیں، جے یو آئی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825038/mohsin-naqvi-admitted-to-the-systems-failure-today-whereas-maulanaand-the-juihave-been-saying-this-for-quite-some-time-2825038/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825038/mohsin-naqvi-admitted-to-the-systems-failure-today-whereas-maulanaand-the-juihave-been-saying-this-for-quite-some-time-2825038/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 10:35:06 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825038</guid>
			<description>
				<![CDATA[نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین، اسمبلیوں کی خرید و فروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات ملک کو تباہ کررہے ہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[محسن نقوی کے بیان پر جمیعت علمائے اسلام (ف) نے کہا ہے کہ&nbsp;ہائبرڈ نظام کی ناکامی کا اعتراف اس کا خالق خود کر رہا ہے اور مولانا فضل الرحمن پچھلے دو سال سے اس نظام کی ناکامی کا بار بار کہہ رہے ہیں۔

ترجمان جے یو آئی اسلم غوری نے کہا ہے کہ&nbsp;سسٹم کی خرابی اور کمزوری کا تو بچے بچے کو علم ہے،&nbsp;وفاقی وزیر کی اپنی ہی حکومت کے خلاف چارج شیٹ لمحہ فکریہ ہے، طے یہ کرنا ہے کہ اس سسٹم کے خالق کون ہیں اور اس کی خرابی کے ذمہ دار کون ہیں؟

اسلم غوری نے کہا کہ&nbsp;ہائبرڈ &nbsp;نظام کے خالق اور اس کا حصہ بننے والے لوگ، ملک کو اس مقام پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں،&nbsp;ہائبرڈ نظام نے ملک کی جڑیں کھوکھلی کردی ہیں، محسن نقوی کا بیان اعتراف جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

اسلم غوری نے کہا کہ&nbsp;نظام عدل کا کنٹرول، شعائر اسلام کی توہین، اسمبلیوں کی خرید و فروخت ، دھاندلی زدہ انتخابات، آئین پاکستان میں غیر آئینی ترامیم اس نظام کے سیاہ کارنامے ہیں، آئین سے ماورا&nbsp;ہر قدم ملک اور نظام کو تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ&nbsp;جے یو آئی کے خلاف پروپیگنڈا&nbsp;کرکے ہمیں آئین کے تحفظ کی سزا دی جارہی ہے،&nbsp;قیادت کے خلاف جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا&nbsp;کیے جاتے ہیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/jui1781722646-0/jui1781722646-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>طوفانی بارشیں: پنڈی، اسلام آباد میں زندگی درہم برہم، مری میں چار منزلہ عمارت زمین بوس، ویڈیو وائرل</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825037/life-disrupted-in-pindi-islamabad-due-to-torrential-rains-four-storey-building-collapses-in-murree-2825037/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825037/life-disrupted-in-pindi-islamabad-due-to-torrential-rains-four-storey-building-collapses-in-murree-2825037/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 15:21:17 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[عمران اصغر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[اسلام آباد]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825037</guid>
			<description>
				<![CDATA[نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے، گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے اور ایک بچے کے ڈوبنے سے صورتحال سنگین]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[مون سون کی طوفانی بارشوں نے مری، راولپنڈی اور اسلام آباد میں معمولِ زندگی درہم برہم کر دیا، مری میں لینڈ سلائیڈنگ سے چار منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے، متعدد علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں پانی داخل ہونے اور ایک بچے کے برساتی نالے میں ڈوبنے کے واقعے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق&nbsp;ملکہ کوہسار مری میں شدید بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے، جہاں موسلادھار بارش نے ہر طرف جل تھل کر دیا، مری ایکسپریس وے پر لکوٹ کے مقام پر ایک چار منزلہ عمارت زمین بوس ہوگئی، جبکہ جھیکا گلی، کوثر کالونی اور ڈھک کے علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کے باعث متعدد مکانات خطرے کی زد میں آگئے۔&nbsp;








دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی موسلادھار بارش نے معمولِ زندگی متاثر کر دیا۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق صبح 4 بج کر 40 منٹ پر شروع ہونے والے بارش کے اسپیل کے دوران سب سے زیادہ 103 ملی میٹر بارش کچہری چکلالہ میں ریکارڈ ہوئی، بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح 10 فٹ ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد گوالمنڈی پر پری الرٹ نافذ کر دیا گیا۔

ادھر مصریال روڈ کی فرینڈز کالونی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں کھیلتے ہوئے ایک بچہ برساتی نالے میں ڈوب گیا، شدید بارش نے راولپنڈی کے تاریخی راجہ بازار کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ حال ہی میں ماڈل بازار قرار دیے گئے علاقے میں نکاسی آب کا مؤثر انتظام نہ ہونے کے باعث پانی دکانوں میں داخل ہوگیا، جس سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ فوارہ چوک اور اطراف کی شاہراہیں بھی زیرِ آب آگئیں، جبکہ شہریوں کے مطابق موقع پر راولپنڈی میونسپل کارپوریشن کا کوئی اہلکار موجود نہیں تھا

ایم ڈی واسا عزیز اللہ خان کے مطابق صادق آباد، ڈھوک کالا خان، گوالمنڈی، ملت کالونی، جاوید کالونی، جان کالونی، مصریال روڈ، گرجا روڈ، دھمیال اور دیگر نشیبی علاقوں سے پانی نکالنے کے لیے کارروائیاں کی گئیں۔

بارش تھمنے کے بعد نالہ لئی میں پانی کی سطح بتدریج کم ہو کر معمول پر آگئی، تاہم گوالمنڈی سمیت مختلف علاقوں میں پچاس سے زائد گھروں میں پانی داخل ہونے سے فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان کو شدید نقصان پہنچا، متاثرہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گوالمنڈی کے رابطہ نالوں سے تجاوزات ختم کرکے بارشی پانی کا راستہ کلئیر کیا جائے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/rain-221756396474-0/rain-221756396474-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>امن منصوبے کے تحت غزہ میں تخفیفِ اسلحہ کی پیشرفت خوش آئند ہے، وزیراعظم</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825036/pakistan-welcome-gaza-for-development-2825036/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825036/pakistan-welcome-gaza-for-development-2825036/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 10:14:51 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825036</guid>
			<description>
				<![CDATA[یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی اور فلسطینی ریاست قائم ہوگی، شہباز شریف]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان نے غزہ امن منصوبے کے تحت تخفیفِ اسلحہ کے عمل پر پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے غزہ امن منصوبے کے تحت بورڈ آف پیس کی جانب سے تخفیفِ اسلحہ کے عمل پر ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

وزیراعظم &nbsp;نے اپنے بیان میں پیشرفت کو&nbsp;امن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

اس پیش رفت کے حصول میں ثالثی کرنے والے ممالک میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ شامل ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں یہ پیش رفت بورڈ آف پیس کے لیے ایک اہم کامیابی ہے۔

&nbsp;وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ اس پیش رفت کے بعد غزہ امن منصوبے کے تحت کیے گئے تمام وعدوں پر عملی درآمد کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی اور بین الاقوامی قانونی اصولوں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق &nbsp;1967ء سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور متصل ریاستِ فلسطین قائم ہوگی، جس کادارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/pakistangazaboardofpeace1769001711-0/pakistangazaboardofpeace1769001711-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو جدید تربیت فراہم کی جائے گی: صدر پی ایچ ایف</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825035/phf-president-2825035/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825035/phf-president-2825035/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 10:06:09 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[اسٹاف رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[کھیل]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825035</guid>
			<description>
				<![CDATA[انہوں نے اسلام آباد ویمن ہاکی ٹیم کو خراج تحسین کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خیالات کا اظہار کیا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی نے کہا ہے کہ قومی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کو جدید تربیت، فٹنس ایکسرسائز، نیند کے مناسب سائیکل، ریکوری اور غذائی ضروریات کے حوالے سے بھی خصوصی رہنمائی فراہم کی جائے گی، اکتوبر میں تقریباً پورا مہینہ ٹیم کی تیاریوں کے لیے مختص کیا جا رہا ہے۔

نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں انہوں نے اسلام آباد و یمن ہا کی ٹیم کو خراج تحسین کرنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

&nbsp;تقریب میں محی الدین وانی، سابق ایم ڈی پی ٹی وی اختر وقار عظیم شریک ورلڈ چمپئن اینڈ اولمپئن طاہر زمان ، پاکستان ہاکی ٹیم کی کپتان انجم آفتاب،صدر نیشنل پریس کلب عبدالرزاق سیال، سیکرٹری ڈاکٹر فرقان راؤ، فنانس سیکریٹری عابد عباسی،سینئر صحافی ذوالفقار بیگ اور تقریب کے انعقاد میں اہم کردار ادا کرنے والے سینئر اسپورٹس صحافی ناصر اسلم راجہ سمیت خواتین ہاکی کھلاڑیوں اور صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور وفاقی سیکرٹری محی الدین وانی کا تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہاکی چیمپئن شپ کے اعلان کے وقت غیر ملکی دورے کی حتمی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی۔ تاہم، ٹورنامنٹ کا علم ہونے کے بعد مختصر وقت میں ٹیم تیار کی گئی، سات سے آٹھ دن میں ٹیم کھڑی کرکے مقابلوں میں اتارا گیا جس کے باعث تیاری کے لیے مطلوبہ وقت نہیں مل سکا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی کارکردگی پر تنقید اپنی جگہ، لیکن کھلاڑیوں کو موٹیویشن برقرار رکھنا ہوگی، کھیل میں کبھی ٹیم اوپر جاتی ہے اور کبھی نیچے آتی ہے۔ تاہم، کامیابی کے لیے مسلسل محنت اور کوشش ترک نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے تجویز دی کہ یکم ستمبر سے آسٹریلین ٹرینر کی خدمات بھی حاصل کی جائیں اور فٹنس ٹریننگ کے پروگرام کو قومی ٹیم کی تیاریوں کا حصہ بنایا جائے، کھلاڑیوں کو ایسی ورزشیں اور ٹریننگ کرائی جائیں گی جن سے ان کی فٹنس بہتر ہو اور انجری کی صورت میں وہ جلد صحت یاب ہو سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں کھلاڑیوں کو انجری کے بعد ریکوری میں مشکلات کا سامنا رہا ہے، اس لیے اب فٹنس کے ساتھ ساتھ انجری پریوینشن اور ریکوری پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی۔ کھلاڑیوں کے صبح کے ٹریننگ سیشنز کو بھی مانیٹر کیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ عالمی معیار کی ٹیمیں کس نوعیت کی فٹنس اور اسکل ڈرلز کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی سطح کی ٹیموں اور کوچز کی ٹریننگ ویڈیوز سے بھی فائدہ اٹھایا جائے، یوٹیوب سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر دنیا کے بہترین کوچز کے ٹیوٹوریلز دستیاب ہیں جنہیں دیکھ کر جدید ٹریننگ کے طریقہ کار کو اپنایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کی غذائی ضروریات کے حوالے سے بھی خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی، ہر کھلاڑی کی ہائٹ اور جسمانی ضرورت کے مطابق پروٹین اور دیگر غذائی اجزا کی مقدار طے کی جائے گی جبکہ اسٹریچنگ اور دیگر ضروری ایکسرسائزز کو بھی ٹریننگ پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے یقین دلایا کہ قومی ہاکی ٹیم کو عالمی معیار کی تیاری کے لیے وسائل کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔ اگر کسی ایک ذریعے سے مطلوبہ وسائل دستیاب نہ ہوئے تو متبادل ذرائع تلاش کیے جائیں گے لیکن کھلاڑیوں کی تیاری پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ مقصد قومی ٹیم کو مضبوط بنانا اور اسے عالمی سطح پر بہتر کارکردگی کے قابل بنانا ہے، جس کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، کوچز اور کھلاڑیوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ صرف میچ کھیلنا کافی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کی ریکوری، آرام، نیند اور فٹنس سائیکل کو بھی باقاعدہ مانیٹر کرنا ہوگا۔ عالمی سطح کے کھلاڑیوں کی طرح ہمارے کھلاڑیوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ میچ کے بعد ریکوری کیسے کی جاتی ہے اور اگلے مقابلے کے لیے جسم کو کس طرح تیار رکھا جاتا ہے۔

محی الدین وانی نے قومی ٹیم میں منتخب ہونے والی اسلام آباد کی کھلاڑی صالح گلفام سمیت دیگر کھلاڑیوں کو بھی خصوصی ہیٹ پہنا کرانکی حوصلہ افزائی بھی کی۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/phf1785512059-0/phf1785512059-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کوئٹہ کان حادثے کے 34 مزدوروں کا تعلق شانگلہ سے تھا، آبائی علاقوں میں سپرد خاک</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825034/quetta-mine-accident-34-workers-hailed-from-shangla-laid-to-rest-in-their-native-areas-2825034/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825034/quetta-mine-accident-34-workers-hailed-from-shangla-laid-to-rest-in-their-native-areas-2825034/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 10:03:10 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[اسٹاف رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825034</guid>
			<description>
				<![CDATA[کئی گھروں میں ایک سے زائد افراد جاں بحق، پورا خاندان اجڑ گیا، متعدد بچے یتیم اور خواتین بیوہ، پورے شانگلہ میں سوگ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے سپین کاریز(سورینج) میں کوئلہ کان کے ہول ناک حادثے میں شانگلہ کے 34 مزدور جاں بحق ہوئے جن میں سے 32 کان کنوں کی میتیں جمعہ کو آبائی علاقوں میں پہنچا دی گئیں مزید 2 میتوں کی آبائی علاقوں کو بھیجنے کے لیے کاغذی کارروائی جاری ہے۔

المناک سانحہ میں جاں بحق مزدوروں میں ایک ہی گھر کے تین سگے بھائیوں اور ان کے چچا جبکہ دوسرے خاندان سے بھی دو سگے بھائی شامل ہیں، افسوسناک سانحے میں شانگلہ کے علاقے میاں کلے پیرآباد کے 22 کان کن مزدور بھی جاں بحق ہوئے، دیگر جاں بحق مزدوروں کا تعلق ملحقہ دیہات سے ہے۔ متاثرین میں زیادہ تر افراد آپس میں رشتہ دار ہیں۔

کئی گھروں میں ایک سے زائد افراد جاں بحق ہونے کے باعث پورا خاندان اجڑ گیا جبکہ متعدد بچے یتیم اور خواتین بیوہ ہو گئیں۔

ایک ہی روز درجنوں جنازوں کی آمد نے پورے شانگلہ کو اجتماعی سوگ میں مبتلا کر دیا۔ نماز جمعہ کے اجتماعات میں مرحومین کی مغفرت اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی خصوصی دعائیں مانگی گئیں جبکہ نماز جمعہ کے بعد مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کئے گئے جن میں حکومت سے کان کنوں کے جان و مال کے تحفظ اور ان کے بنیادی حقوق یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔

جاں بحق مزدوروں میں بڑی تعداد شانگلہ کے علاقے پیرآباد، دولت کلے، بیلے بابا اور دیگر ملحقہ دیہات سے ہے۔ متوفی مزدوروں کی اجتماعی نماز جنازہ کے بعد آبائی علاقوں میں سپردخاک کر دیا گیا۔

شانگلہ کے سماجی رہنماؤں اور مزدور تنظیموں نے وفاقی اور بلوچستان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئٹہ سورینج سانحے کی شفاف عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جائے، جاں بحق مزدوروں کے ورثاء کو خطیر مالی امداد اور سرکاری ملازمتیں دی جائیں جبکہ تمام کان کن مزدوروں کی لازمی رجسٹریشن، سوشل سکیورٹی، ای او بی آئی، لائف انشورنس اور ہیلتھ انشورنس کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے کہا ہے کہ کوئلہ کانوں میں عالمی معیار کے حفاظتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد، باقاعدہ معائنہ، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے مؤثر قانون سازی ناگزیر ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/shangla1785511199-0/shangla1785511199-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>روس چاہتا ہے مشرق وسطیٰ تنازع جاری رہے تاکہ یوکرین کو امریکی تعاون محدود ہو، زیلنسکی</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825033/zelesnky-claims-russia-wants-middle-east-dispute-to-continue-to-limit-us-support-for-ukraine-2825033/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825033/zelesnky-claims-russia-wants-middle-east-dispute-to-continue-to-limit-us-support-for-ukraine-2825033/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 09:53:56 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825033</guid>
			<description>
				<![CDATA[جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے 15 لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے ہیں، یوکرین کے صدر کا دعویٰ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ روس چاہتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تنازع جاری رہے تاکہ یوکرین کے لیے امریکی تعاون محدود ہو جبکہ دعویٰ کیا جنگ میں اب تک 15 لاکھ روسی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے امریکی میڈیا کو انٹرویو میں ماسکو پر ایران وک ڈرونز فراہم کرنے کا الزام عائد کیا جو مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے خلاف استعمال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں انٹیلی جینس کے ذریعے معلومات ملتی ہیں اور وہ اس بات پر خوش ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ مکمل طور پر ختم نہیں ہو رہی ہے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ جب تک امریکا جنگ میں مصروف رہے گا وہ یوکرین کی اس طرح مدد نہیں کرسکیں گے جیسے پہلے کرتے تھے۔

روس کے خلاف جنگ میں جیت یا ہار کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ نہیں ہار رہا ہے، اپنا ملک اور آزادی نہیں کھونا ہی ہمارے لیے فتح ہے لہٰذا ہم نہیں ہار رہے ہیں اور نہ ہی وہ جیت رہے ہیں۔

زیلنسکی نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک روس کے 15 لاکھ سے زائد فوجی مارے گئے ہیں جبکہ یوکرین کے جانی نقصانات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے تقریباً 50 ہزار فوجی ہلاک ہوئے ہیں اور تقریباً 4 لاکھ زخمی ہیں جبکہ لاپتا فوجیوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔

یاد رہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ 24 فروری 2022 کو شروع ہوئی تھی جب روس نے یوکرین پر حملہ کردیا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں اور فضائی حملوں میں بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/zelensky1785510241-0/zelensky1785510241-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا اعلان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825032/lpg-prices-increase-for-august-2026-2825032/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825032/lpg-prices-increase-for-august-2026-2825032/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:52:02 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[طالب فریدی]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[بزنس]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825032</guid>
			<description>
				<![CDATA[ قیمت میں اضافے کے بعد گھریلو سلنڈر 152 اور کمرشل سلنڈر 585روپے مہنگا ہوجائے گا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت میں 13روپے فی کلو گرام کا اضافہ کر دیا، جس کے بعد ماہ اگست کیلیے قیمت 254 روپے فی کلوگرام تک پہنچ گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق&nbsp;مہنگائی کے ستائے عوام پر حکومت نے ایل پی جی کی قیمت میں اضافے کا بم گرادیا، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ایل پی جی کی قیمت میں 13 روپے فی کلو اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق ایل پی جی کی فی کلو قیمت 241 روپے سے بڑھا کر 254 روپے مقرر کر دی گئی ہے۔ اس اضافے کے بعد گھریلو سلنڈر 2849 روپے کے بجائے 3001 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ کمرشل سلنڈر کی قیمت 10961روپے سے بڑھا کر 11546 روپے پر پہنچ جائے گی۔

نوٹی فکیشن کے مطابق نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اگست کی رات 12 بجے سے ہوگا۔ اس اضافے سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا۔ خصوصاً ان صارفین کیلئے جوکہ مکمل طور پر ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔

ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین جناب عرفان کھوکھر نے کہا کہ مہنگائی سے ستائی غریب عوام کو ریلیف فراہم اور صارفین کو سرکاری قیمت پر ایل پی جی فراہم کی جائے۔

چیئرمین عرفان کھوکھر نے حکومت پاکستان، وزارت پٹرولیم اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ایل پی جی کمپنیوں کو ہدایت جاری کریں کہ اوگرا کے لائسنس یافتہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں میں ایل پی جی مساوی تقسیم کرے، جس سے بلیک مارکیٹنگ اور منافع خوروں کو روکا جائے گا اور غریب عوام کو سستی ایل پی جی فراہم کی جاسکے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں قدرتی گیس کا بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور ایل پی جی واحد سستا ایندھن ہے جو اس کمی کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، ملکی ضرورت کا تقریباً 60 فیصد درآمدی ایل پی جی پر منحصر ہے، تاہم ملک میں وافر مقدار میں ایل پی جی دستیاب ہے اور قیمت میں مزید کمی کا امکان موجود ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ایل پی جی پر عائد ٹیکسوں میں کمی کی جائے اور ایل پی جی پالیسی کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ غریب عوام کو سستی گیس فراہم کی جا سکے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/2695932-lpgx-1725117045/2695932-lpgx-1725117045.webp" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>فہد شیخ معاملے پر ’’بڑا پن‘‘ کا بیان، فیصل قریشی نے مشی خان کی تنقید کا جواب دے دیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825031/faysal-quraishi-aijaz-aslam-respond-to-mishi-khan-criticism-2825031/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825031/faysal-quraishi-aijaz-aslam-respond-to-mishi-khan-criticism-2825031/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:44:27 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825031</guid>
			<description>
				<![CDATA[فیصل قریشی نے کہا کہ ان سے لفظ ’بڑا پن‘ کے استعمال میں غلطی ہوئی ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سینئر اداکار سید محمد احمد سے متعلق تنازع پر اداکارہ مشی خان کی تنقید کے بعد فیصل قریشی اور اعجاز اسلم نے پہلی بار اپنے مؤقف کی وضاحت پیش کر دی، تاہم ان کی وضاحت بھی سوشل میڈیا صارفین کو قائل نہ کر سکی۔

حال ہی میں مشی خان نے ایک ویڈیو پیغام میں فیصل قریشی اور اعجاز اسلم کو آڑے ہاتھوں لیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب فہد شیخ کی معافی کو &rsquo;بڑا پن&lsquo; قرار دیا گیا تو یہ مؤقف درست نہیں تھا، کیونکہ ان کے مطابق معافی مانگنا کسی احسان سے کم نہیں بلکہ غلطی کے بعد بنیادی ذمے داری تھی۔ انہوں نے اعجاز اسلم کے &rsquo;غیر جانبدار&lsquo; رہنے کے مؤقف پر بھی اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ غلط بات کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہوتا ہے۔





&nbsp;


&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;




View this post on Instagram


&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;




&nbsp;

&nbsp;






اس تنقید کے جواب میں فیصل قریشی اور اعجاز اسلم نے فیصل قریشی کی اہلیہ ثنا کی بنائی گئی ایک ویڈیو میں اپنی وضاحت پیش کی۔ فیصل قریشی نے کہا کہ ان سے لفظ &rsquo;بڑا پن&lsquo; کے استعمال میں غلطی ہوئی۔ ان کے مطابق وہ دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ سید محمد احمد نے سب کو معاف کرکے بڑے ظرف کا مظاہرہ کیا، نہ کہ فہد شیخ کی معافی مانگنے کو بڑا پن قرار دیا تھا۔

دوسری جانب اعجاز اسلم نے اپنے &rsquo;نیوٹرل&lsquo; یا غیر جانبدار رہنے کے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد کسی فریق کی حمایت یا مخالفت کرنا نہیں تھا، بلکہ وہ صرف پورے معاملے کا تجزیہ کر رہے تھے، اسی تناظر میں انہوں نے غیر جانبداری کا لفظ استعمال کیا تھا۔





&nbsp;


&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;




View this post on Instagram


&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;




&nbsp;

&nbsp;






اگرچہ دونوں اداکاروں نے اپنے بیانات کی تشریح پیش کر دی، لیکن سوشل میڈیا پر ان کی وضاحت کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ واقعی اصولی مؤقف رکھتے تھے تو ابتدا میں متعلقہ اداکار کا نام سامنے لانے کا مطالبہ کیوں کیا گیا، جبکہ بعض نے کہا کہ عوامی تنقید کے بعد اب مؤقف تبدیل کیا جا رہا ہے۔

کئی صارفین نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ایسے معاملات میں غیر جانبدار رہنے کے بجائے واضح طور پر درست اور غلط کا فرق بیان کرنا چاہیے، کیونکہ خاموشی یا غیر جانبداری مستقبل میں دوسروں کے لیے بھی ایسے رویوں کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/mishi-khan-faisal-aijaz-aslam1785509960-0/mishi-khan-faisal-aijaz-aslam1785509960-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کراچی کے مختلف علاقوں میں زلزلہ، شہری خوفزدہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825030/earth-quake-in-karachi-2825030/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825030/earth-quake-in-karachi-2825030/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:33:09 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[آفتاب خان]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825030</guid>
			<description>
				<![CDATA[شہر کے مضافاتی علاقوں میں جمعے کی دوپہر زلزلے کے جھٹکے محسوس ہوئے، شدت 2.9 ریکارڈ کی گئی]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[کراچی کے مضافاتی علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی ریکٹر اسکیل پر شدت 2.9 ریکارڈ کی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جمعے کی دوپہر شہر کے مضافاتی علاقوں شاہ لطیف ٹاؤن، بھینس کالونی، بن قاسم، گڈاپ، لانڈھی اور قرب و جوار میں شہریوں نے زمین لرزتے ہوئے محسوس کی۔

زلزلے کے جھٹکے محسوس ہونے پر شہری خوفزدہ ہوکر گھروں سے کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکل آئے۔

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 2.9 جبکہ گہرائی 10 کلومیٹر زیر زمین اور مرکز کراچی ہی تھا۔

زلزلے کے نتیجے میں خوش قسمتی سے کسی بھی قسم کا جانی و مالی نقصان نہیں ہوا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/earthquake1758247969-0/earthquake1758247969-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ایپل کو آئی فون کی پیداوار برقرار رکھنے میں مشکلات کا خدشہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825029/apple-is-running-out-of-iphones-2825029/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825029/apple-is-running-out-of-iphones-2825029/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 14:33:01 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[سائنس/ٹیکنالوجی]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825029</guid>
			<description>
				<![CDATA[کمپنی آئی فونز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اضافی ذخیرہ جمع کرنے اور تیزی سے انتظامات کرنے میں مصروف ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ٹیکنالوجی کمپنی ایپل نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے استعمال ہونے والی میموری چپس کی عالمی قلت کے باعث کمپنی آئی فونز کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے اضافی ذخیرہ جمع کرنے اور تیزی سے انتظامات کرنے میں مصروف ہے۔

کمپنی کے تازہ مالی نتائج کے مطابق ایپل نے اپنی تاریخ کی بہترین تقابلی سہ ماہی کارکردگی ریکارڈ کی۔ اس دوران آئی فون کی فروخت میں 22 فی صد جبکہ میک کمپیوٹرز کی فروخت میں 29 فی صد اضافہ ہوا، جو توقعات سے بہتر رہا۔

تاہم، عالمی سطح پر میموری چپس کی کمی، جسے بعض ماہرین ریماگیڈون (RAMageddon) بھی قرار دے رہے ہیں، الیکٹرانکس صنعت کے لیے بڑا چیلنج بن گئی ہے۔ اے آئی سسٹمز کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث دیگر ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں کو چپس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں کئی مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھ چکی ہیں۔

ایپل نے گزشتہ ماہ اپنی متعدد مصنوعات کی قیمتوں میں 20 فی صد یا اس سے زیادہ اضافہ کیا تھا، اگرچہ آئی فونز کی قیمتوں میں فی الحال کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ کمپنی ستمبر میں متوقع نئے آئی فون ماڈلز کی لانچ کے ساتھ قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

ایپل کے چیف ایگزیکٹو ٹِم کُک نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر میموری چپس کی قلت برقرار رہی تو کمپنی کے لیے بڑھتی ہوئی طلب کے مطابق آئی فونز تیار کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/apple1785508679-0/apple1785508679-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آزاد کشمیر انتخابات، بلاول بھٹو کا الیکشن کمیشن سے عوامی سماعت کا مطالبہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825028/bilawal-bhutto-demand-public-hearing-ajk-elections-2825028/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825028/bilawal-bhutto-demand-public-hearing-ajk-elections-2825028/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 09:32:35 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825028</guid>
			<description>
				<![CDATA[الیکشن کمیشن 2 اگست سے پہلے عوامی سماعت کرے اور تمام ریکارڈ جاری کرے، کشمیری عوام کے ووٹ کا تحفظ کیا جائے، بلاول]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے&nbsp;آزاد کشمیر کے پہلے انتخابی مرحلے کے حوالے سے اہم بیان جاری کردیا۔

بلاول بھٹو نے اپنے بیان میں کہا کہ&nbsp;کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے کی شفافیت&nbsp;کا فیصلہ انصاف سے ہوگا، اس کے لیے ضروری ہے کہ&nbsp;الیکشن کمیشن دو اگست سے پہلے دھاندلی سے متعلق تمام شکایات کی کھلی عدالت میں سماعت کرے۔

انہوں نے کہا کہ&nbsp;الیکشن کمیشن پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج، بیلٹس اور انتخابی ریکارڈ عوام کے سامنے رکھے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ&nbsp;الیکشن کمیشن کی ذمہ داری کسی ایک سیاسی جماعت کو جتوانا نہیں بلکہ کشمیر کے عوام کے ووٹ کا تحفظ کرنا ہے۔&nbsp;ہمیں کسی کا احسان نہیں بلکہ ہمیں ہمارا حق چاہیے۔

بلاول بھٹو نے مزید کہا کہ&nbsp;ہمیں صرف صاف و شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات چاہئیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/bilawalajk11784297083-0/bilawalajk11784297083-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>اسرائیلی فوج میں بغاوت کا خوف، 14 اہلکار ڈیوٹی سے برطرف، قید کی سزا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825027/israel-military-mutiny-14-soldiers-dismissed-sent-to-jail-2825027/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825027/israel-military-mutiny-14-soldiers-dismissed-sent-to-jail-2825027/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:58:03 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹر نیشنل]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825027</guid>
			<description>
				<![CDATA[اسرائیل فوج کے اس بیس میں فوجیوں پر فلسطینی قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک سمیت قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[اسرائیلی فوج نے بغاوت کے خدشے کے پیش نظر 14 اہلکاروں کو جنگی ڈیوٹی سے برطرف کردیا اور سزا دیتے ہوئے ایک مہینے کے لیے فوجی جیل بھیج دیا گیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ گیواتی بریگیڈ کے ٹزابر بٹالین کو سزا دی گئی ہے اور نہیں 30 روز کے لیے فوجی جیل بھیج دیا گیا ہے، جو جمعرات کو جنوبی اسرائیل میں سدی تیمان فوجی بیس پر اجتماعی طور پر بغیر اجازت ڈیوٹی چھوڑنے کے واقعے میں شامل تھے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے بتایا گیا کہ گیوتی بریگیڈ کے کمانڈر نے ان فوجیوں کو جنگی ڈیوٹی سے مستقل طور پر برطرف کردیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی کے درجنوں فوجیوں نے نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کرنے والے ایک سینئر کمانڈر کے ساتھ تنازع پر اپنے ہتھیار چھوڑ کر فوجی بیس سے واک آؤٹ کیا تھا۔

مزید بتایا گیا کہ اس فوجی بیس پر تعینات فوجیوں پر قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام ہے، جس میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک روا رکھنے کا الزام ہے۔

اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ کمانڈ اسٹاف نے فیصلہ کیا کہ بٹالین کی کمپنیوں کی جانب سے آویزاں کیے گئے نشانات اتارنے اور تباہ کیا جائے اور کمانڈر نے فوجیوں کی طرف سے مخالفت کے باوجود اس فیصلے پر عمل درآند پر زور دیا۔

رپورٹ کے مطابق جب دونوں فریق اتفاق کرنے میں ناکام ہوئے تو فوجیوں نے یونٹ چھوڑ دیا اور بیس سے واک آؤٹ کیا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/israeili-army1785506389-0/israeili-army1785506389-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>آئی پیک گروپ کا یورپی مارکیٹ میں توسیع کا اعلان</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825026/ipec-group-announces-expansion-into-the-european-market-2825026/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825026/ipec-group-announces-expansion-into-the-european-market-2825026/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 08:53:10 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[بزنس]]></category><category><![CDATA[کراچی]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825026</guid>
			<description>
				<![CDATA[پرتگال میں ذیلی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[انٹرنیشنل پیکیجنگ فلمز لمیٹڈ (آئی پیک) نے&nbsp;یورپی مارکیٹ میں توسیع کا اعلان کرتے ہوئے پرتگال میں اپنی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کمپنی نے فیصلہ کیا ہے کہ&nbsp;مجوزہ ذیلی کمپنی آئی پیک کنیکٹ پیکیجنگ میٹریلز ٹریڈنگ ایف زیڈ سی او (IPAK Connect Packaging Materials Trading FZCO) کے ذریعے قائم کی جائے گی، جو متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں قائم آئی پیک گروپ کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔

رجسٹریشن کے بعد پرتگال میں قائم ہونے والی یہ کمپنی آئی پیک گروپ کا حصہ ہوگی اور یورپی یونین میں گروپ کے تجارتی پلیٹ فارم کے طور پر خدمات انجام دے گی۔ اس منصوبے پر عمل درآمد تمام متعلقہ قانونی، ریگولیٹری اور کارپوریٹ منظوریوں سے مشروط ہوگا۔

یہ توسیع آئی پیک گروپ کی بین الاقوامی ترقی کی حکمتِ عملی میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پرتگال میں ذیلی کمپنی کے قیام سے گروپ یورپی یونین میں اپنی موجودگی مزید مستحکم کرے گا اور خطے میں موجودہ اور ممکنہ صارفین تک اپنی رسائی مزید مؤثر بنا سکے گا۔

اعلامیے کے مطابق پرتگال میں قائم ہونے والی کمپنی یورپی یونین میں آئی پیک گروپ کی کاروباری سرگرمیوں کے لیے ایک خصوصی مرکز&nbsp;کے طور پر کام کرے گی، جس کے ذریعے صارفین، پیکیجنگ کنورٹرز، ڈسٹری بیوٹرز اور صنعت سے وابستہ دیگر کاروباری شراکت داروں کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا جبکہ&nbsp;کمپنی کی مصنوعات اور تجارتی حکمتِ عملی کو یورپی مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھنے میں مدد ملے گی۔

کمپنی کے مطابق، پرتگال میں ذیلی کمپنی کا قیام آئی پیک گروپ کے وسیع تر عالمی وژن کا حصہ ہے، جس کے تحت پاکستان میں اپنی مضبوط مینوفیکچرنگ صلاحیتوں کو بیرونی منڈیوں میں تیزی سے فروغ پاتے تجارتی نیٹ ورک سے ہم آہنگ کرتے ہوئے پیکیجنگ فلمز کے شعبے میں اپنی عالمی موجودگی کو مزید مستحکم کیا جا رہا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/ipack11785507324-0/ipack11785507324-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>راولپنڈی تھانہ ریس کورس قتل کیس کا فیصلہ، مجرم کو سزائے موت کا حکم</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825025/verdict-in-rawalpindi-race-course-police-station-murder-case-convict-sentenced-to-death-2825025/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825025/verdict-in-rawalpindi-race-course-police-station-murder-case-convict-sentenced-to-death-2825025/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:18:01 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[کورٹ رپورٹر]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825025</guid>
			<description>
				<![CDATA[مجرم نے لین دین کے جھگڑے پر نوجوان کو قتل کیا، اس وقت تک پھانسی پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت نہ   آجائے، عدالت]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[عدالت نے&nbsp;تھانہ ریس کورس قتل کیس کا فیصلہ سنادیا،&nbsp;مجرم شہاب کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی گئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق پنڈی کی مقامی عدالت نے تھانہ ریس کورس قتل کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مجرم کو سزائے موت اور آٹھ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ&nbsp;مجرم کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک موت نہ آجائے، مجرم نے لین دین کے جھگڑے پر نوجوان کو فائرنگ سے قتل کیا۔

عدالت نے تین منشیات سپلائرز کو بھی 28 سال قید اور اڑھائی لاکھ جرمانے کی سزائیں سنادیں،&nbsp;ملزم حامد رضا کو 10سال قید ایک لاکھ روپے جرمانے جب کہ عابد اور نبیل کو نو، نو سال قید اور 80 ہزار روپے جرمانے کی سزادئیں دی گئیں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/court-order-cancil1737504213-0/court-order-cancil1737504213-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>سندھ حکومت کا 4 اگست کو اسکولوں کی تعطیل کا اعلان، نوٹی فکیشن جاری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825024/sindh-government-announce-holiday-4-august-2026-2825024/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825024/sindh-government-announce-holiday-4-august-2026-2825024/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:16:10 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825024</guid>
			<description>
				<![CDATA[چہلم امام حسینؓ کے موقع پر صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکولز بند رہیں گے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سندھ حکومت نے چہلم امام حسینؓ کے موقع پر تعلیمی اداروں میں تعطیل&nbsp;کا اعلان کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ نے چہلم حضرت امام حسینؓ کے موقع پر سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کردیا۔

اس حوالے سے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے نوٹی فکیشن بھی جاری کیا جس کے مطابق 4 اگست بروز منگل 20 صفر 1148 ہجری کو صوبے کے تمام سرکاری و نجی اسکول بند رہیں گے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/schoolcloase11785504156-0/schoolcloase11785504156-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کالج کے اساتذہ کا وزیراعلیٰ سندھ ہاؤس کے باہر دھرنے کا عندیہ</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825023/sapla-hint-to-protest-in-front-of-cm-sind-house-2825023/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825023/sapla-hint-to-protest-in-front-of-cm-sind-house-2825023/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 08:15:09 +0000</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[صفدر عباس رضوی]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category><category><![CDATA[کراچی]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825023</guid>
			<description>
				<![CDATA[خالی اسامیوں پر بھرتیاں، اگلے گریڈ میں ترقی نہ دینے پر مرحلہ وار احتجاج اور پھر آخری میں دھرنا دیا جائے گا، سپلا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[سندھ کے کالج اساتذہ کا صبر جواب دے گیا اور انہوں نے11 اگست کو وزیراعلیٰ ہاؤس یا سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنے کا عندیہ دے دیا۔

یہ اعلان کالج اساتذہ کی نمائندہ تنظیم سپلا کی جانب سے کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ&nbsp;گریڈ 18، 19 اور 20 میں سینکڑوں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود ترقیوں میں تعطل افسوسناک ہے۔

سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا) کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اہم اجلاس مرکزی صدر پروفیسر منور عباس کی صدارت میں منعقد ہوا۔

اجلاس میں تینوں رینجز کے صدور، سیکرٹریز اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی اور شرکا نے سندھ بھر کے کالج اساتذہ اور ملازمین میں پائی جانے والی شدید بددلی اور مایوسی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

رہنماؤں کا کہنا تھا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ میں گریڈ 18، 19 اور 20 کی سینکڑوں اسامیاں طویل عرصے سے خالی پڑی ہیں مگر حکومت سندھ ٹال مٹول سے کام لے کر اساتذہ کو ان کے جائز حق سے محروم کر رہی ہے۔

شرکا نے کہا کہ لیکچررز کو 14 سال گزرنے کے باوجود اگلے گریڈ میں ترقی نہیں دی گئی جبکہ 14 جولائی کو ہونے والی ڈی پی سی (DPC) کو بھی ہوا میں لٹکایا ہوا ہے جبکہ&nbsp;سینیارٹی لسٹوں کا بہانہ بنا کر اسسٹنٹ پروفیسرز کو گریڈ 19 میں ترقی دینے سے روکا ہوا ہے اور گریڈ 20 کی 80 فیصد جگہیں خالی ہونے کے باوجود وزیراعلیٰ سندھ کی مصروفیات کا عذر پیش کر کے بورڈ ون کا اجلاس بار بار مؤخر کیا جا رہا ہے۔

سپلا کے رہنماؤں نے واضح کیا کہ جائز حقوق کی فراہمی تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس حوالے سے مندرجہ ذیل لائحہ عمل طے کیا گیا ہے۔

سپلا کا اعلیٰ سطح کا وفد مرکزی صدر کی قیادت میں سیکرٹری کالجز اور دیگر اعلیٰ حکام سے رابطہ کر کے ترقیوں کا عمل فوری بحال کرانے کی کوشش کرے گا۔

مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں کالجز کھلتے ہی احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا، اس کے بعد 3 اگست کو کراچی ریجن جبکہ 5 اگست کو حیدرآباد ریجن اور 6 اگست &nbsp;کو سکھر ریجن میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے اور&nbsp;اساتذہ بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر تدریسی عمل جاری رکھیں گے۔

سپلا نے کہا کہ تمام مراحل کے باوجود مطالبات پر عمل نہ ہونے کی صورت میں11 اگست کو سندھ بھر کے کالج اساتذہ وزیراعلیٰ ہاؤس یا سندھ سیکریٹریٹ کے سامنے دھرنا دیں گے، جس میں سول سوسائٹی اور ملازمین کی تنظیموں کو بھی دعوت دی جائے گی۔&nbsp;

اجلاس میں تنظیمی امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور سپلا کے آئین کے تحت اگست سے نئی ممبرشپ اور یونٹ الیکشنز کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ، الیکشن کمیٹیز اور دیگر امور پر غور کے لیے سپلا کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا اگلا اجلاس 15 اگست کو سکھر/کراچی میں طلب کیا گیا ہے۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/sapla11785505696-0/sapla11785505696-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>ہانیہ عامر کا جڑواں بھائی؟ اعجاز اسلم نے تصویر شیئر کرکے مداحوں کو حیران کردیا</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825021/hania-aamir-twin-brother-ijaz-aslam-surprises-fans-by-sharing-picture-2825021/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825021/hania-aamir-twin-brother-ijaz-aslam-surprises-fans-by-sharing-picture-2825021/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 13:00:28 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825021</guid>
			<description>
				<![CDATA[اعجاز اسلم نے ہانیہ عامر کے ساتھ ایک نوجوان کی تصویر شیئر کی، جو اداکارہ کا ہم شکل دکھائی دے رہا ہے]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[پاکستان شوبز کے سینئر اداکار اعجاز اسلم نے اداکارہ ہانیہ عامر سے مشابہت رکھنے والے ایک نوجوان کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کرکے مداحوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد اس دلچسپ موازنے نے آن لائن خوب توجہ حاصل کر لی۔

اعجاز اسلم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری میں ایک نوجوان کی تصویر کے ساتھ ہانیہ عامر کی تصویر بھی شیئر کی اور مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا یہ ہانیہ عامر کا جڑواں بھائی ہے؟ انہوں نے ساتھ ہی لکھا کہ دونوں کے درمیان مشابہت واقعی حیران کن دکھائی دیتی ہے۔

اداکار کی یہ پوسٹ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین نے نوجوان اور ہانیہ عامر کے چہرے کے نقوش، گھنگریالے بالوں، مسکراہٹ اور خاص طور پر ڈمپلز میں غیرمعمولی مماثلت کی نشاندہی کرنا شروع کر دی، جبکہ کئی افراد نے اس پر دلچسپ تبصرے بھی کیے۔





&nbsp;


&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;




View this post on Instagram


&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;




&nbsp;

&nbsp;






بعض صارفین نے مزاحیہ انداز میں یہ سوال بھی اٹھایا کہ کہیں ہانیہ عامر کا کوئی جڑواں بھائی تو نہیں، جبکہ دیگر نے دونوں کی مشابہت کو واقعی حیران کن قرار دیتے ہوئے تصاویر کا موازنہ شیئر کرنا شروع کر دیا۔

اعجاز اسلم کی اس دلچسپ پوسسٹ کے بعد ہانیہ عامر اور اس نوجوان کے درمیان مماثلت سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گئی اور صارفین نے اس غیرمتوقع تقابل سے خوب لطف اٹھایا۔

واضح رہے کہ اعجاز اسلم گزشتہ کئی دہائیوں سے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا نمایاں نام ہیں اور متعدد مقبول ڈراموں میں اپنی اداکاری کے باعث پہچانے جاتے ہیں، جبکہ ہانیہ عامر بھی موجودہ دور کی کامیاب اور مقبول اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں، جنہوں نے کئی ہٹ ڈراموں کے ذریعے لاکھوں مداحوں کے دل جیت رکھے ہیں۔
&nbsp;]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/aijaz-aslam1785503121-0/aijaz-aslam1785503121-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>کنسرٹ کے دوران کیٹی پیری دیوہیکل پانی کی بوتل میں پھنس گئیں، ویڈیو وائرل</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825019/katy-perry-gets-stuck-in-a-giant-water-bottle-during-a-concert-video-goes-viral-2825019/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825019/katy-perry-gets-stuck-in-a-giant-water-bottle-during-a-concert-video-goes-viral-2825019/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:39:34 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[انٹرٹینمنٹ]]></category><category><![CDATA[خاص خبریں]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825019</guid>
			<description>
				<![CDATA[وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیٹی پیری بوتل کے اندر اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہیں]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[امریکی پاپ گلوکارہ کیٹی پیری مالٹا میں ہونے والے اپنے کنسرٹ کے دوران ایک منفرد اسٹیج اسٹنٹ کے باعث غیر متوقع صورتِ حال کا شکار ہوگئیں، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کر رہی ہے۔

41 سالہ کیٹی پیری اپنی پرفارمنس کے دوران ایک دیوہیکل پھولنے والی پانی کی بوتل کے اندر داخل ہوئیں۔ منصوبے کے مطابق مداحوں کو اس بڑی بوتل کو ہجوم کے اوپر سے گزارتے ہوئے اسٹیج کے قریب نصب ایک بڑے اسٹرا تک پہنچانا تھا، تاہم معاملہ اس وقت بگڑ گیا جب بوتل کو اسٹیج کی طرف واپس لانے کے بجائے شائقین اسے مزید ہجوم کے اندر لے گئے۔

وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیٹی پیری بوتل کے اندر اپنا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔ جب انہیں احساس ہوا کہ وہ مسلسل اسٹیج سے دور جا رہی ہیں تو انہوں نے بلند آواز میں مداحوں سے کہا کہ انہیں واپس اسٹیج کی جانب لے جایا جائے۔

چند منٹ تک جاری رہنے والی اس غیر معمولی صورتحال کے بعد شائقین نے بالآخر دیوہیکل بوتل کا رخ موڑا اور کیٹی پیری کو بحفاظت اسٹیج تک پہنچا دیا، جس کے بعد انہوں نے اپنی پرفارمنس دوبارہ جاری رکھی۔





&nbsp;


&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;




View this post on Instagram


&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;



&nbsp;

&nbsp;

&nbsp;




&nbsp;

&nbsp;






بعد ازاں سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے گلوکارہ نے اس واقعے کو ہنسی مذاق میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر اس دیوہیکل پھولنے والی پانی کی بوتل کے ذریعے ہجوم میں جاتی ہیں، مگر اس بار وہ معمول سے کہیں زیادہ دور نکل گئی تھیں اور ایک لمحے کے لیے انہیں یہ فکر لاحق ہوگئی تھی کہ شاید وہ اسٹیج تک واپس نہ پہنچ سکیں۔

واقعے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر میمز اور دلچسپ تبصروں کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا۔ کئی صارفین نے کیٹی پیری کے مشہور گانوں کے بولوں کو مزاحیہ انداز میں تبدیل کرکے شیئر کیا، جبکہ بعض افراد نے اس منفرد اسٹنٹ کے حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتنے بڑے پروپ کو واضح نگرانی اور رہنمائی کے بغیر ہجوم کے حوالے کرنا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/kety-perry1785501690-0/kety-perry1785501690-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item><item>
			<title>محسن نقوی کا بیان انکی ذاتی رائے ہے نئے صوبوں کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے، احمد شریف چوہدری</title>
			<link>https://www.express.pk/story/2825018/mohsin-naqvis-statement-regarding-new-provinces-is-his-personal-opinion-ahmed-sharif-chaudhry-2825018/</link>
			<comments>https://www.express.pk/story/2825018/mohsin-naqvis-statement-regarding-new-provinces-is-his-personal-opinion-ahmed-sharif-chaudhry-2825018/#comments</comments>
			<pubDate>Fri, 31 Jul 26 12:34:48 +0500</pubDate>
			<dc:creator>
				<![CDATA[ویب ڈیسک]]>
			</dc:creator>
			<category><![CDATA[پاکستان]]></category>
			<guid isPermaLink="false">https://www.express.pk/?p=2825018</guid>
			<description>
				<![CDATA[گڈ گورننس ملکی استحکام و سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے، آبادی بڑھ گئی اور صوبے وہیں ہیں تو گڈ گورننس کیلیے سوچنا ہوگا]]>
			</description>
			<content:encoded>
				<![CDATA[ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ نئے صوبوں سے متعلق محسن نقوی کا بیان انکی ذاتی رائے ہے، نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے۔

دوران پریس کانفرنس صحافی نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے نئے صوبوں یا انتظامی یونٹ بنانے کے بیان سے متعلق سوال کیا۔ جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ محسن نقوی کی ذاتی رائے ہے میں اس پر رائے زنی نہیں کرنا چاہتا تاہم پھر بھی اتنا ضرور کہوں گا کہ گڈ گورننس پاکستان کے استحکام اور سیکیورٹی کے لیے ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات موجود ہیں جس پر تمام سیاسی جماعتوں کے دستخط ہیں اس پر عمل کیوں نہیں ہورہا؟ ایک پوائنٹ یہاں ڈسکس کرلیا، بقیہ 13 نکات بھی تو ہیں جن میں نارکوٹکس، اسمگلنگ، افغان مہاجرین ہیں، مدارس کی رجسٹریشن ہے اور دیگر نکات ہیں، یہ سب گڈ گورننس پر منحصر ہے اسے بہتر کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوسکتے۔

میجر جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ 1972ء میں جب&nbsp;آبادی 7 کروڑ تھی تو صوبے چار تھے، اب 24 کروڑ ہے تب بھی صوبے چار ہیں، آبادی بڑھ گئی اور صوبے وہیں کے وہیں ہیں آگے کیسے چلنا ہے تو گڈ گورننس کو بہتر کرنے کے لیے ہمیں سوچنا ہوگا،سیاست دانوں سمیت تمام جماعتوں کی خواہش ہے کہ مسائل حل ہوں مگر نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کا فیصلہ ہمیں نہیں عوام کو کرنا ہے عوام اگر گورننس سے مطمئن ہیں تو ٹھیک ورنہ آئین کے مطابق فیصلہ کریں۔]]>
			</content:encoded>
			<image>
				    <img src="https://img.express.pk/media/images/mohsin-naqavi-and-dgispr1785501650-0/mohsin-naqavi-and-dgispr1785501650-0.jpg" class="featured_image"/>
            </image>
			</item>	</channel>
                </rss>
